افسر نامی ایک مخلوق!

افسر ایک عجیب و غریب مخلوق ہے لیکن اس کی اعلیٰ قسمیں صرف دو ہیں۔ نمبر ایک سی ایس ایس والے اور نمبر دو پی سی ایس والے! میرے دوستوں میں دونوں اقسام کے افسر شامل ہیں۔ ان میں سے جو میرے دوست نہیں ہیں یا جن سے میرا تعارف نہیں ہے میں انہیں بھی ایک نظر میں پہچان لیتا ہوں کہ ان میں سے سی ایس پی کون ہے اور پی سی ایس کون؟ پی سی ایس کی ایک نشانی یہ ہے کہ اس نے اپنے دفتر کی کرسی پر تولیہ لٹکایا ہوگا نیز اسے اس کے صوبے میں بھی عموماً کھڈے لائن لگایا جاتا ہے چنانچہ اس کے چہرے پر مظلومیت کے آثار ہوتے ہیں جبکہ سی ایس پی کے چہرے پر اِس طرح کے یا ’’اُسترا‘‘ کے کوئی آثار نہیں ہوتے۔ سی ایس پی افسر چائے پلاتا ہے، وعدہ کرتا ہے، کام نہیں کرتا۔ پی سی ایس افسر چائے پلائے نہ پلائے، کام کر دیتا ہے۔ سی ایس پی اور پی سی ایس افسروں میں ایک قدر مشترک ہے اور وہ یہ کہ دونوں کے چند مخصوص دوست ہوتے ہیں اور دونوں مصاحبین بھی پالتے ہیں۔ البتہ پی سی ایس افسر مصاحبین کی زیادہ قدر افزائی کرتے ہیں۔ سی ایس پی افسر جب ریٹائرڈ ہوتا ہے تو بہت اداس رہنے لگتا ہے۔ پی سی ایس افسر اداس نہیں ہوتا کیونکہ وہ اپنی سروس کے دوران اداس رہنے کا عادی ہو چکا ہوتا ہے۔ میرے نزدیک افسروں کی یہ دونوں قسمیں بہت مظلوم ہیں۔ اسسٹنٹ کمشنر بظاہر اپنے علاقے کا بادشاہ ہوتا ہے لیکن جب ڈپٹی کمشنر دورے پر آتا ہے تو اسسٹنٹ کمشنر کو کورنش بجا لانے والے اسے کہنیاں مارتے ہوئے ڈپٹی کمشنر تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کمشنر دورے پر آئے تو ڈپٹی کمشنر کو کہنیاں پڑتی ہیں۔ چیف سیکرٹری کے دورے کے موقع پر کمشنر صاحب کو لوگ کہنیوں سے پرے دھکیلتے ہیں۔

چیف سیکرٹری اور کمشنر عموماً سی ایس پی ہوتے ہیں، تاہم آج بھی اگر کوئی پی سی ایس ان مناصب تک پہنچے تو وہ خوشی کے مارے میانی صاحب پہنچ جاتا ہے، اس کی یہ پروموشن اور قبرستان کی ٹائمنگ ایک ہی ہوتی ہے۔ پی سی ایس کا کہنیاں کھانے کا تجربہ سی ایس پی افسر سے قدرے مختلف ہوتا ہے۔ ان افسروں کی ’مظلومیت‘ کا تعلق حکومت کی تبدیلی سے بھی ہوتا ہے۔ انتہائی قابل اور دیانتدار افسروں پر بھی سابقہ حکومت کے ’وفادار‘ ہونے کا ٹھپہ لگ جاتا ہے چنانچہ ’’بلا امتیازِ رنگ و نسل و مذہب و ملت‘‘ ان سب کو ’او ایس ڈی‘ بنا دیا جاتا ہے اور یہ الف لیلہ کے ابوالحسن بن جاتے ہیں جو سویا تو محل میں تھا لیکن جب آنکھ کھلی تو خود کو جھونپڑی میں پایا۔

افسروں کی ایک کلاس اور بھی ہے جو خود کو کبھی افسر نہیں سمجھتی۔ ان میں سے زیادہ تر کا تعلق فنونِ لطیفہ کے کسی شعبے سے ہوتا ہے چنانچہ ان کی نظروں میں اپنی یا کسی اور کی ’شانِ سکندری‘ جچتی ہی نہیں۔ یہ لوگ اپنے منصبی فرائض پوری اہلیت سے انجام دینے کے باوجود ذاتی زندگی درویشوں کی طرح بسر کرتے ہیں اور ان کی دوستیاں اپنی کلاس کے لوگوں سے زیادہ ادیبوں، شاعروں، مصوروں اور فنونِ لطیفہ سے وابستہ دوسرے شعبوں کے لوگوں سے ہوتی ہیں جس کے نتیجے میں ان کی اپنی کلاس کے لوگ انہیں افسر سمجھنا چھوڑ دیتے ہیں چنانچہ جو سمجھدار ہوتے ہیں وہ اپنی یہ ’’کمزوری‘‘ اپنے کولیگز سے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں خصوصاً اپنے باس سے کہ ایسے لوگوں کی اے سی آر میں ’فنونِ لطیفہ سے وابستگی‘ منفی ریمارکس میں شامل ہوتی ہے۔

عام تاثر یہی ہے کہ افسروں میں اکڑفوں بہت ہوتی ہے، وہ انسان کو انسان ہی نہیں سمجھتے۔ مجموعی طور پر یہ تاثر صحیح ہے مگر پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں۔ میں ایسے بہت سے افسروں کو جانتا ہوں جو انسان دوست ہیں اور اگر کوئی انسان دوست نہیں تو اسے راہِ راست پر لانے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کی افسری کی بتی بنا کر اس کے ہاتھ میں پکڑا دیں تاکہ وہ اس سے کان کی میل صاف کیا کرے اور آپ کی بات سنے، سمجھے اور آپ کی عزت کرنا سیکھ سکے۔

میں نے اس طرح کا ایک افسر محکمہ تعلیم میں دیکھا تھا۔ اسکولوں کے ماسٹر اور استانیاں اس کی فرعونیت اور مردم آزاری سے ’’رون ہاکے‘‘ نظر آتے تھے۔ اس طرح کے افسروں کا انجام بہت عبرتناک ہوتا ہے۔ جب یہ ریٹائر ہوتے ہیں تو لوگوں کے دلوں میں ان کی وہ سب فائلیں جاگ جاتی ہیں جو موصوف نے اپنی مردم آزاری کی وجہ سے دورانِ ملازمت دبا رکھی تھیں چنانچہ ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں نہ کوئی سلام کرنے والا ہوتا ہے اور نہ سلام کا جواب دینے والا بلکہ ان کے سابقہ ماتحت ان کا فون بھی نہیں سنتے چنانچہ یہ ریٹائرمنٹ کے بہت کم عرصے کے بعد ہی زندگی سے روٹھ جاتے ہیں! اور ہاں افسروں کی ایک قسم اور بھی ہے۔ یہ لوئر کیڈر کے لوگ ہیں اور انہوں نے دورانِ ملازمت پرائز پوسٹیں انجوائے کی ہوتی ہیں اور وہ سب کام کیے ہوتے ہیں جن پر ریٹائرمنٹ کے بعد وہ اپنی خودنوشت یا اپنے کالموں میں تنقید کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کے دل میں قوم کا درد ریٹائرمنٹ کے بعد ہی جاگتا ہے بلکہ دنیاوی خواہشات سے بھرے ہوئے دل کے ساتھ اپنے بےنیاز قلم سے دنیا کی بےثباتی کی کہانیاں تحریر کرتے رہتے ہیں۔ یہ ہر وقت ’’میں میں‘‘ کرتے رہتے ہیں کیونکہ ان کے اندر کی بکری ممیانے سے باز نہیں رہ سکتی۔ ابھی افسروں کی کچھ اور قسمیں بھی میرے ذہن میں ہیں، فی الحال اس پہلی قسط پر اکتفا کریں!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *