امریکی صدر کا اسٹیٹ آف یونین سے خطاب 'میں اپنے وعدوں پر عمل کرتا ہوں'

کانگریس اور مواخذے کی کارروائی کی وجہ سے تقسیم ہونے والی قوم کے سامنے کھڑے ہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز اپنے اسٹیٹ آف دی یونین کے خطاب کو 'عظیم امریکی کی واپسی' کے بیانیے کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق دوبارہ انتخاب کے لیے مواخذے کا سامنا کرتے ہوئے دوبارہ انتخابات میں حصہ لینے والے پہلے امریکی صدر نے دوبارہ عہدہ سنبھالنے کے لیے اپنا کیس پیش کیا جبکہ ریپبلکن ارکان اسمبلی نے 'مزید چار سال' کا نعرہ لگایا جبکہ ایوان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے خطاب ختم ہونے پر ٹرمپ کی تقریر کی کاپی پھاڑ دی۔

تقسیم کا سامنا کرنے والی ڈیموکریٹک پارٹی ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے پر اعتماد ایوان نمائندگان میں کھڑے رہے جہاں دسمبر کے مہینے میں انھیں عہدے کے ناجائز استعمال کرنے کے الزام میں بلایا گیا تھا۔

اور انہوں نے ایوان کے اسپیکر نینسی پیلوسی سے ہاتھ نہ ملا کر واضح کیا کہ وہ مخالفین کی گرفت میں آنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

ڈیموکریٹس بدلے میں خاموشی سے اپنی نشست پر بیٹھے رہے جبکہ ریپبلکنز بار بار کھڑے ہوکر ان کی ستائش کرتے رہے۔

اس سے امریکا میں نومبر کے مہینے ہونے والے انتخابات سے قبل پیدا ہونے والے اختلاف رائے کا منظر سامنے آیا۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ 'امریکا کے دشمن بھاگ رہے ہیں، امریکا کی خوش قسمتی عروج پر ہے اور امریکا کا مستقبل روشن ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'صرف تین سالوں میں ہم نے امریکا کے زوال کی سوچ کو ختم کردیا ہے، ہم ایک ایسی رفتار سے آگے جارہے ہیں جو کچھ ہی عرصہ قبل ناقابل تصور تھا اور ہم کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے'۔

دوسری مدت کے لیے ملک کی معاشی کامیابی کو اہمیت نہ دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر ان کے انتخابی جلسوں میں کی گئی تقریروں جیسی ہی رہی تاہم اس میں ان کی آواز تھوڑی دھیمی تھی، جس میں ان کے سیاسی حلقوں کے لیے کوئی نہ کوئی بات موجود تھی۔

انہوں نے کہا کہ ' مجھ سے پہلے آنے والے بہت سے لوگوں کے برعکس، میں اپنے وعدوں پر عمل کرتا ہوں'۔

مواخذے کا ذکر تک نہیں

ٹرمپ انتظامیہ کے لیے یہ سب سے اہم ہفتہ ثابت ہوگا کیونکہ امریکی تاریخ میں ہونے والے تیسرے مواخذے کی کارروائی پر سینیٹ کا فیصلہ بدھ کے روز سامنے آنے والا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ہمیشہ سے اس کارروائی کے خلاف باتیں کرتے رہے ہیں اور اسے 'وِچ ہنٹ' قرار دیتے ہیں۔

ان کے خطاب کے دوران کئی ڈیموکریٹک قانون ساز ان کا مذاق اڑاتے رہے جبکہ ریپبلکنز ان کی تعریف کرتے رہے۔

ٹرمپ کے بالکل پیچھے بیٹھیں نینسی پیلوسی نے بھی تقریر کے دوران متعدد مرتبہ بھنویں چڑھائیں اور مسکرا کر ان کے دعووں پر اعتبار نہ ہونے کا اظہار کیا۔

تاہم جہاں ڈیموکریٹس ایوان نمائندگان میں اکثریت رکھتے ہیں وہیں ڈونلڈ ٹرمپ کے ریپبلکنز سینیٹ میں اکثریت رکھتے ہیں اور وہ تمام انہیں مواخذے کی کارروائی میں مجرم نہیں ٹھہراتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ 20 صفحات پر مشتمل تیار کردہ خطاب میں ایک مرتبہ بھی 'مواخذے' کا لفظ استعمال نہیں کیا۔

مہمانوں کی جنگ

ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز اپنا زیادہ تر وقت پہلے ہی ڈیموکریٹس پر تنقید کرتے ہوئے گزارا تھا اور کہا تھا کہ آئیووا میں ووٹوں کی گنتی میں تاخیر نے ان کی نا اہلی ثابت کردی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا کہ 'جس طرح یہ ملک چلاتے ہیں، کچھ بھی کام نہیں کرتا'۔

نومبر میں صدارتی انتخابات سے قبل ملک میں تلخ فضا کی عکاسی کرتے ہوئے معروف نوجوان داہنی بازو کے قانون سازوں الیگزنڈریا اوکاسیو-کورٹیز اور ایاننا پریسلے ان چند ڈیموکریٹس میں سے تھے جنہوں نے اسٹیٹ آف دی یونین کا بائیکاٹ کیا۔

الیگزینڈیا اوکاسیو-کورٹیز کا کہنا تھا کہ 'ریاستی تقریب میں ٹرمپ کے غیر قانونی اقدام کو عام کرنے کے لیے میں اپنی موجودگی ظاہر نہیں کروں گا'۔

اس اہم تقریب کے حوالے سے مہمانوں کا انتخاب بھی انتخابی مہم کے تیز ہوتے ہی اپنی الگ الگ کہانیاں سناتی ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب کے لیے سینیئر بارڈر پیٹرول آفیسر جن کے بھائی کو غیر قانونی مہاجرین نے 2018 میں قتل کردیا تھا، کاراکس کے پولیس سربراہ جو وینزویلا میں کئی سال تک جیل میں رہے تھے، وینزویلا کے اپوزیشن لیڈر سمیت دیگر کو مدعو کیا۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنماؤں کی مہمانوں کی فہرست میں 80 ڈاکٹر، مریض و دیگر افراد شامل تھے جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہین ٹرمپ انتظامیہ صحت کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کو منگل کے روز ایک اور خوشخبری یہ ملی کہ گیلپ کے سروے میں ان کی منظوری پہلے سے زیادہ، 49 فیصد، بتائی گئی۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ ڈیموکریٹس کی اکثریت پر مبنی ایوان نمائندگان نے اختیارات کے ناجائز استعمال اور تحقیقات میں کانگریس کی راہ میں رکاوٹ بننے پر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی کارروائی مکمل کی تھی۔

امریکی صدر کو تقریباً یقین ہے کہ وہ سینیٹ سے بری ہوجائیں گے جہاں ریپبلکنز کو 2 تہائی اکثریت حاصل ہے، لیکن یہ ٹرائل ان کے دوبارہ انتخاب پر کس طرح اثر انداز ہوگا یہ بات واضح نہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *