آئینہ شکنی

وطنِ عزیز میں ’’آئین شکنی‘‘ تو مانوس و معروف اصطلاح ہے لیکن ’’آئینہ شکنی‘‘ اپنا ٹھوس وجود رکھنے کے باوجود ابھی تک کسی سیاسی یا سماجی اصطلاح میں نہیں ڈھل سکی۔ آئین شکنی کو ہمارے دستور میں جرمِ کبیرہ قرار دیا گیا ہے جسے عرفِ عام میں غداری کہا جاتا ہے۔ 

پاکستان میں یہ جرم بہ تکرار ہوتا رہا ہے لیکن کسی آئین شکن کو ملامتی یا علامتی سزا نہیں دی جا سکی۔ پرویز مشرف کے بارے میں ایک خصوصی عدالت نے یہ کوشش ضرور کی لیکن یہ غیر حقیقت پسندانہ اور بُری حد تک گستاخانہ فیصلہ لاہور کی بڑی عدالت نے کالعدم قرار دے کر تاریخ کو اُسی صراطِ مستقیم پر ڈال دیا جس پر وہ برس ہا برس سے چل رہی تھی۔

آئین شکنی اور آئین شکنوں پر تو کچھ نہ کچھ لکھا جاتا رہا ہے بلکہ بڑی مستند اور جامع رپورٹس بھی مرتب ہوئی ہیں جنہیں قدیم قلمی مخطوطوں کی طرح ہم نے نہایت مضبوط فولادی الماریوں میں محفوظ کر رکھا ہے لیکن آئینہ شکنی پر کچھ کام نہیں ہوا۔

آئینہ کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اپنے مدِمقابل کھڑے شخص کے حقیقی خدوخال جوں کے توں دکھا دیتا ہے۔ آئینہ اگر اصلی اور نسلی ہو تو وہ کسی کا لحاظ نہیں کرتا۔ مروت نام کی کوئی شے اس میں نہیں ہوتی، سو وہ سامنے کھڑے شخص کے مقام و مرتبہ کو خاطر میں لائے بغیر سب کچھ سچ سچ، بلا کم و کاست بتا دیتا ہے۔ میڈیا کو بھی آئینے سے تشبیہ دی جاتی ہے جو اگر اپنے بنیادی وظیفے سے واقف ہو تو حکمرانوں اور زور آوروں کو اُن کی حقیقی تصویر دکھانے سے نہیں ڈرتا۔ 

کچھ لوگ تو نہ چاہتے ہوئے بھی سب کچھ برداشت کر لیتے ہیں لیکن حکومتیں چونکہ حکومتیں ہوتی ہیں، اس لئے وہ آئینے کی اس گستاخی یعنی میڈیا کی حق گوئی و بےباکی کو پسند نہیں کرتیں۔ اگر حکومتِ وقت کی باگ ڈور کسی بیحد حساس اور اپنی ذات سے نرگسیت کی حد تک پیار کرنے والی شخصیت کے ہاتھ میں ہو تو آئینے کے بارے میں حساسیت بھی کئی گناہ بڑھ جاتی ہے۔ آئینے کے سامنے کھڑے شخص کی آرزو ہوتی ہے کہ آئینہ اس کے چہرے کے خدوخال وہ نہ دکھائے جو فی الواقع ہیں بلکہ وہ دکھائے جو اُسے پسند ہیں، مثلاً آنکھیں اگر چندھی چندھی اور بجھی بجھی سی ہیں تو آئینہ اُن میں صبحِ خوش جمال کی تابش سمو دے۔ 

چہرے کا رنگ اگر پھیکا پڑ گیا ہے تو آئینہ اس میں شفق کی تمازتیں بو دے۔ عارض و رخسار کی پیلاہٹ میں سرخ گلابوں کی رعنائیاں بکھیر دے۔ ماتھے کی شکنوں کو تحلیل کرکے ماہِ کمال کی چاندنی بھر دے۔ بالوں میں اگر چاندی بھرنے لگی ہے تو آئینہ از خود سرمئی گھٹائوں کی سرماہٹ سے کام لے۔ غرضکہ ادھیڑ عمری یا بڑھاپے یا کسی بھی اور وجہ سے بےڈول اور بےڈھنگے ہو جانے والے چہرے میں عہدِ شباب کی تمام تر رعنائیاں سمو کر اُسے جوانِ رعنا بنا دیا جائے۔

بظاہر ایسا ممکن نہیں۔ آئینہ اگر واقعی آئینہ ہے تو وہ فوٹو شاپ جیسے کرتب نہیں جانتا۔ وہ ڈینٹر پینٹر کے فن سے بھی ناآشنا ہوتا ہے۔ وہ مصور بھی نہیں ہوتا کہ کسی چہرے کے پوٹریٹ کو اُس کے من پسند خدوخال میں ڈھال دے۔ تاہم دور جدید میں جس طرح بہت سے ناقابلِ یقین انقلابات آ گئے ہیں، اسی طرح ایسے طلسماتی آئینے بھی ایجاد ہو گئے ہیں جو اپنی سچی، بےلاگ اور حقیقی رائے دینے کے بجائے، اپنے سامنے کھڑے شخص کے دل میں بُکل مارے بیٹھی آرزوئوں کو پڑھ لیتے اور اس کے خدوخال کو عین اس کی مرضی کے مطابق ڈھال دیتے ہیں۔ 

سو میرے جیسا ایک گیا گزرا شخص بھی اپنے آپ کو مرقع حسن و جمال سمجھنے لگتا ہے۔ سمجھنے ہی نہیں لگتا، صدقِ دل سے اس پر ایمان بھی لے آتا ہے۔ وہ آئینے کی اس منافقانہ ہنرکاری کو ہرگز فریب کاری نہیں سمجھتا۔ اُسے کامل یقین ہوتا ہے کہ وہ واقعی اتنا حسین و جمیل ہے جتنا یہ آئینہ بتا رہا ہے۔ 

سو ایسے آئینے بےحد عزیز ہوتے ہیں اور انہیں سونے کے فریم میں جڑ کر رکھا جاتا ہے۔ اگر کسی دوسری دیوار پہ سجا کر کوئی آئینہ، زمینی حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے، مدِمقابل کو اس کے حقیقی نقوش دکھانے کی کوشش کرے تو اس کا لہو کھول اٹھتا ہے۔ 

وہ اپنے سامنے پڑی کوئی بھی شے آئینے پر پھینکتا اور اُسے کرچیاں کر دیتا ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ اس قتلِ ناروا کے بعد بھی آئینے کی ہر کرچی سچ بولتی رہتی ہے۔

میں (بقول برادر محترم عطاء الحق قاسمی) اپنی شاعری کو اپنے عیبوں کی طرح چھپائے رکھتا ہوں۔ حال ہی میں کہی گئی غزل جو میں نے قاسمی صاحب کو بھی بھیجی تھی، کا ایک شعر ہے؎

آئین شکن کوئی تو کوئی آئینہ شکن

ہر راہبر میں فطرتاً بےراہ روی سی ہے

یہ بے راہ روی واقعی حکمرانوں کی فطرت کا حصہ ہوتی ہے۔ حکمرانوں ہی کو کیا مطعون کرنا، ہر شخص کی جبلت میں یہ بات شامل ہے کہ اس کی شخصیت کی کوئی کجی یا کمزوری آشکار نہ ہو۔ البتہ وہ اپنی اس خواہش کے مطابق ’’آئینہ سازی‘‘ یا ’’آئینہ شکنی‘‘ کی قدرت نہیں رکھتا سو صبر شکر کر کے بیٹھ رہتا ہے۔ 

حکمران اور زور آور لوگ اپنی کارگاہِ فن میں ایسے اجزائے ترکیبی رکھتے ہیں کہ اپنی پسند کے آئینے ڈھال لیں اور اُن کے چہرے کی من پسند تشکیل نہ کرنے والے آئینوں کو عبرت کا نشان بنا دیں۔ سو ایک زمانے سے یہ روایت چلی آ رہی ہے کہ میڈیا کے نگار خانے کا کوئی آئینہ، اگر سچ بولتا یا کم از کم اپنی ساکھ قائم رکھنے کے لئے بقدر ہمت و توفیق، حکمرانوں کے حقیقی خدوخال دکھانے کو اپنی پیشہ ورانہ عصمت کا تقاضا خیال کرتا ہے تو اُسے نشانے پہ دھر لیا جاتا ہے۔ 

ہمارے ہاں جس طرح تسلسل کے ساتھ دستورِ پاکستان کے پرزے رزقِ خس و خاشاک ہوتے رہے اسی طرح گستاخانہ روش سے باز نہ آنے اور خود پرستی کی حد تک خود پسند حکمرانوں کو اُن کے چہرے کے حقیقی خدوخال دکھانے والے آئینے بھی کرچیاں ہوتے رہے۔

میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری سے میرے حافظے میں تاریخ کا ایک اور نامطلوب سا ورق کھل گیا۔ یہ اپریل 2014ء کا ذکر ہے۔ برادرم حامد میر پر کراچی میں قاتلانہ حملہ ہوا۔ واقعات نے کچھ ایسی کروٹ لی کہ حامد میر، اُس کے زخم اور اس کے جسم میں پیوست گولیاں سب کچھ پس منظر میں چلا گیا۔ پھر کیا تھا، گویا دبستاں کھل گیا۔ 

یہ کہانی ابھی تک پوری طرح سامنے نہیں آئی۔ شاید کبھی پرویز رشید سنا دے یا فواد حسن فواد اپنی یادداشتیں مرتب کرے تو بتا دے۔ مجھے وہ میٹنگ یاد آ رہی ہے جب پرویز رشید کی آنکھیں آنسوئوں سے چھلکنے لگی تھیں۔ جیو کی بندش کو تقاضائے مصلحت باور کرانے والے موسم شناس حکمت کاروں کو ٹوکتے ہوئے پرویز‘ وزیراعظم نواز شریف سے مخاطب ہوا ’’جناب وزیراعظم! اگر اس توہین آمیز انداز میں جیو کو بند کیا گیا تو میں ایک منٹ بھی وزیر نہیں رہوں گا‘‘۔ میر صاحب کو یاد ہوگا کہ کس طرح وزیراعظم کی ہدایت پر پرویز رشید، فواد اور میں دبئی پہنچے تھے۔ کس طرح اُن سے ہماری پے درپے ملاقاتیں ہوئی تھیں۔ 

کس طرح ہم نے وسیع تر قومی مفاد کا واسطہ دیتے ہوئے میر صاحب اور اُن کی مشاورتی ٹیم کو قائل کیا تھا کہ وہ مشکل کی اس گھڑی میں ایک معذرت نامہ دے دیں۔ اُس وقت جنگ جیو ہی شکنجے میں نہ تھے، حکومت بھی چوبِ صلیب پہ ٹنگی تھی۔ معذرت نامہ تیار ہو گیا۔ ہم خوشی خوشی اسلام آباد آئے۔ وزیراعظم نواز شریف کا خیال تھا کہ لفظوں کا انتخاب اچھا نہیں۔ یقیناً آپ لوگوں نے دبائو ڈال کر یہ تحریر لی ہو گی۔ 

ہم نے بتایا کہ ایسی بات نہیں۔ میر صاحب اس سلسلے کو آگے نہیں بڑھانا چاہتے۔ وزیراعظم کی ہدایت پر ہم اگلے دن دوسرے فریق سے ملے۔ بہرحال یہ معذرت نامہ مسترد کر دیا گیا۔ باقی سب کہانی ہے۔

میر صاحب اس وقت نیب کی حراست میں ہیں۔ ان کے پاس غور و فکر کا کافی وقت ہوگا۔ میں کم و بیش دس برس جنگ میں کالم لکھتا رہا۔ ایک بار بھی انہوں نے نہیں کہا کہ یہ لکھو اور یہ نہ لکھو۔ حالانکہ بیشتر زمانہ مارشل لا کا تھا لیکن ’’آئین شکن‘‘کے اس عہدِ نامراد میں بھی ’’آئینہ شکنی‘‘ کا چلن عام نہ ہوا تھا۔ 

میر صاحب کے وسائل اگر اجازت دیتے ہوں تو وہ جنگ/جیو کے نگار خانے کو ایسے موسم شناس، معاملہ فہم، مصلحت کیش اور حقیقت پسند آئینوں سے آراستہ کریں جو بوقت ضرورت اپنا زاویہ بدل کر کسی بد ہیئت شخص کو بھی ’’ملکہ حُسن‘‘ کے انداز ’’شہزادۂ حسن‘‘ قرار دے ڈالیں۔

 ایسا نہ ہوا تو اسیری کی جو روایت میر خلیل الرحمٰن مرحوم سے چلتی ہوئی میر شکیل الرحمٰن تک آن پہنچی ہے، وہ خدانخواستہ کل میر ابراہیم تک بھی پہنچ سکتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *