بلوچستان میں جنگلی حیات خطرے میں

'' ساجـد یعقوب بلوچ جیونی ''

 پہلے زمانے انسان جنگلی جانورون ـ پرندوں کا شکار اپنے بھوک مٹانے کیلئے کرتے تھے ـ اب جب دنیا زرعی و معاشی حوالے سے ترقی کرگیا باآسانی غزائـی اجناس میسرہیں. لیکن لوگوں کے اندر وہی بھوک وحیشت اب تک نکلا نہیں. جن کے حوص و شوق بے زبانوں کو ختم کرنے پر تلا ہواہے  انہیں کیا پتہ کہ اِن معصوم پرندوں و خرگوش کے بچوں کی زندگیاں اُجھاڑ دیتی اور قُدرتی نظام کو بھی بگاڈ دیتے ہیں خداوندتعالیٰ نے نے ہر وہ اس جاندار شے کو کسی نا کسی فائدے/مقصد کیلئے پیدا کیا ہےـ پھر ہم کون ہوتے ہیں کہ قدرت کے بنائے نظام میں خلل پیدا کرنے والے. بلوچستان کے دیگر علاقوں کیطرح جیونی کے اردگرد کے پہاڑوں و کھیتوں میں لوکل پرندے (جنکی پرورش اسی علاقوں میں ہوتی ہے) جنگلی خرگوش جیونی سے لیکر روبار گنز و دشت تک بڑی تعداد میں ہوتاہےـ خرگوش اکثر رات کو دیکھے جاتے ہیں (دن کو شاید اس لیے نہیں نکلتے کہ بھوکے انسانوں کے ہتھے نہ چڑھ جائیں) لیکن بے رحم شکاریوں نے رات کو ان کا جینا حرام کیا ہے کا بے. ساری رات موٹرسائیکلوں سے انکے پیچھے پڑے رہتے ہیں. خرگوش کی ایک بری کمزوری ہے کہ وہ روشنی پڑنے پر تس سے مس نہیں ہوسکتا اور بنی نوع انسان جسے خداوند تعالیٰ نے عقل و دماغ سے نوازا ہے کی مجبوری کا فائدہ اٹھاکر انکا شکار کرتے ہیں.اسی طرح لوکل پرندے جن میں تہتر جسے بلوچی زبان میں کپینجر کہتے ہیں جو اپنی سُریلی آواز کی بدولت لوگوں میں خاصی مقبول و اہمیت رکھتی ہے اسکے علاوہ مقامی پرندوں میں شانتُل (بلوچی لفظ) و دیگر شامل ہیں کا بے دردی سے شکار کرتے ہیں. اس وقت جیونی شہر و قرب جوارکے کھیتوں میں شاذ و نادر ہی آپ کو تہتر کی سُریلی آواز سُنائی دے. جنوری کے مہینے ایک گروہ نے ایک ہی دن دس سے بارہ تہتر کا شکار کیاـ جنہیں زرا برابر بھی خیال نہین ہوا. اس گھناونی عمل میں مقامی چند لوگوں کے علاوہ علاقے میں موجود اعلی سرکاری عہدیدار بھی اس شوق میں پڑکر ان کے ساتھ ہیں ان لوگوں کو نا علاقے کے نیچر سے واستہ ہے نا کہ معاشرے کے لوگوں فکر ہے چاہے کوئی اسکی جتنی مخالفت کریں لیکن وہ اپنے شوق کے بادشاہ بنے ہوئے ہیں.جو چاہیں کرسکتے ہیں ـ سائیبیریا سے آنے والے پرندوں کو تو دیکھتے ہی یہ شکاری طبقہ کُتوں کی طرح انکے پیچھے پڑجاتے ہیں. وہ پرندے یا تو علاقہ کو چھوڈ دیتے یا انکے بے رحم بندوک کے ہتھے چڑتے ہیں ـ جنگلی خرگوش جو بلوچستان میں بہت کم علاقوں میں دیکھے جاتے ہیں بلوچستان میں موسمیاتی تبدیلیون و سالانہ کم بارشوں و طویل خشک سالی کیوجہ سے زمین سوکھ گئی تھی درخت مرگئے تھے انسان کو مشکل حالات کا سامنا رہا اسی طرح جنگلی جانوروں پرندوں کی پرورش بھی نہ ہونے کے برابر رہی گزشتہ برس سے بلوچستان میں اچھی بارشوں کی وجہ سے کھیت و کلیان بھرنے کی وجہ سے کھیت و بنجر زمینیں سربز و شاداب ہوگئے ہیں. انسان کے ساتھ چرند پرند نے بھی سُکھ کا سانس لیا ہے اور پرندوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے صبح صبح پرندوں کی چھرچھراہٹ دلوں کو تاھیر بخشتی. پرندے کسی بھی علاقے یا جنگلات کی رونق ہوتے ہیں. ان کے بغیر یہ جنگلات ویران پڑتے ہیں۔ ہمارے محکمہ جنگلات کے ذمہ داران خواب خرگوش میں ہیں. پرندوں و جانوروں کے تحفظ کے لیے نظر نہیں رکھتے اس کھیل میں محکمہ جنگلات کو بے قصور نہیں کہا جاسکتا کیونکہ یہ سب محکمہ کے آنکھوں کے سامنے ہورہا ہے. اور وہ بھی تماش بین بنے بیٹھے ہیں یا تو انہیں یہ پتہ نہیں کہ انکے محکمہ کا کام کیا ہے محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کا قیام اس لیے عمل میں لایا گیا ہے کہ وہ جنگلات سمیت جنگل میں رہنے والے ہر زندہ شے کو تحفظ دینے میں کردار ادا کرے لیکن یہاں گنگا اُلٹی بہتی ہے شکار کرنے کے بعد لوگ انٹرنیٹ پر بڑے فخریہ انداز سے تصاویر کو سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرتے آج تو یہ ایک رواج بن چکا ہے انکو دیکھ کر دیگر لوگ بھی یہی سوچتے کہ وہ بھی شکار کرکے تصاویر کو فیس بُک و انسٹاگرام پہ اپلوڈ کریں  تاکہ کُچھ لوگوں سے داد وصول کریں اگر انتظامیہ محکمہ جنگلات و جنگلی حیات بلوچستان نے ان پر سختی یا ان شکاریوں کو چیلنج نہ کیا گیا تو ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ ہم ان پرندوں خرگوش کو صرف تصاویر میں دیکھ سکتے ہیں.

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *