تولیدی صلاحیت میں اضافے کے لیے مفت علاج کا اعلان

ہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوربان نے اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت سرکاری کلینکس میں جوڑوں کو مفت ان وٹرو فرٹیلائزیشن (آئی وی ایف) علاج کی سہولت فراہم کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ تولیدی صلاحیت (بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت) ’بہت اہمیت‘ کی حامل ہے۔ گذشتہ مہینے ان کی حکومت نے ہنگری کے فرٹیلٹی کلینکس کا انتظام سنبھال لیا تھا۔

وکٹر اوربان، دائیں بازو کے ایک قوم پرست ہیں۔ وہ ایک طویل عرصے سے ملک کی آبادی میں کمی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے ’امیگریشن کی بجائے افزائش نسل‘ کے نقطہ نظر کی حمایت کرتے ہیں۔

چار دہائیوں سے مسلسل ہنگری کی آبادی کم ہو رہی ہے۔

مسٹر اوربان نے دسمبر میں چھ فرٹیلٹی کلینکس کو ریاستی کنٹرول میں لانے کے بعد جمعرات کے روز آبادی بڑھانے کے منصوبے کی تفصیلات بتائیں۔ یکم فروری سے آئی وی ایف کی مفت فراہمی کا آغاز کر دیا جائے گا لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ اس کا حقدار کون کون ہو گا۔

وزیرِ اعظم اوربان نے یہ بھی کہا کہ حکومت ان خواتین کے لیے انکم ٹیکس چھوٹ پر غور کر رہی ہے جن کے تین یا اس سے زیادہ بچے ہیں۔

اس مہینے سے کم از کم چار بچوں والوں کو استثنیٰ دے دیا گیا ہے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا ’اگر ہم تارکین وطن کی بجائے ہنگری کے بچے چاہتے ہیں اور اگر ہنگری کی معیشت ضروری مالی معاونت ​​فراہم کر سکتی ہے تو اس کا واحد حل یہ ہے کہ ہمیں بچے پیدا کرنے والے خاندانوں کی زیادہ سے زیادہ معاونت پر خرچ کرنا چاہیے۔‘

اوربان سنہ 2010 سے وزیراعظم ہیں اور ان کی انتخابی مہمیں تارکینِ وطن کی مخالفت پر مبنی رہی ہیں۔

ہنگری
وزیر اعظم اوربان 2010 سے وزیر اعظم ہیں اور ان کی انتخابی مہمات تارکینِ وطن کی مخالفت پر مبنی ہیں

گذشتہ سال ستمبر میں آبادیاتی امور سے متعلق ایک بین الاقوامی اجلاس میں ان کا کہنا تھا کہ دوسرے یورپی رہنماؤں کا خیال ہے امیگریشن ہی آبادی کی گرتی ہوئی تعداد کا حل ہے لیکن وہ اسے مسترد کرتے ہیں۔

اس کے بعد وزیراعظم نے دائیں بازو کے ’گریٹ ریپلیسمنٹ‘ یعنی ’عظیم متبادل‘ کے نظریے کا ذکر کیا جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ آہستہ آہستہ غیر یورپی نسل کے لوگ، سفید فام یورپی آبادی کی جگہ لے رہے ہیں۔

وزیر اعظم اوربان نے اس وقت کانفرنس کو بتایا تھا ’اگر مستقبل میں یورپی باشندے، یورپ کو آباد نہیں کر رہے، اور ہم اس کے بارے میں کچھ نہیں کرتے، تو دراصل ہم آبادیوں کے تبادلے کی بات کر رہے ہیں، یورپی آبادی کو دوسری آبادیوں کے ساتھ تبدیل کرنا۔‘

’یورپ میں ایسی سیاسی قوتیں موجود ہیں جو نظریاتی یا دیگر وجوہات کی بنا پر آبادی کی تبدیلی چاہتے ہیں۔‘

ہنگری
وزیرِ اعظم اوربان نے یہ بھی کہا کہ حکومت ان خواتین کے لیے انکم ٹیکس چھوٹ پر غور کر رہی ہے جن کے تین یا اس سے زیادہ بچے ہیں

آبادی پر توجہ دیں

فی خاتون شرح پیدائش 1.48 کے ساتھ، ہنگری کا شمار بہت سے ایسے مشرقی یورپی ممالک میں ہوتا ہے جنھیں کم شرح پیدائش اور کام کرنے والے لوگوں کی یورپی یونین کے دیگر ممالک میں نقل مکانی کے باعث آبادی میں کمی کے مسائل کا سامنا ہے۔

ان ممالک میں سے کچھ نے شرح پیدائش میں اضافے کی ترغیب دینے کے لیے اپنی اپنی پالیسیاں نافذ کیں ہیں۔ مثال کے طور پر پولینڈ میں 500 پلس پالیسی کے تحت والدین کو ہر ماہ فی بچہ 500 زلوٹی (£100) کی ادائیگی کی جاتی ہے۔

کروشیا جس نے گذشتہ ہفتے یورپی یونین کی صدارت سنبھالی ہے، گذشتہ سال کہا تھا کہ یورپی یونین کی آبادی میں اضافہ ان کے لیے ’ایک اہم سوال‘ ہو گا۔

کروشیا کے وزیر ویسنا بیدیکوچ نے نومبر میں ایک یورپی معاشی اور سماجی کمیٹی کی کانفرنس میں بتایا تھا ’تمام ممبر ممالک کی ترقی کو محفوظ رکھنے کے لیے یورپی یونین کی پالیسیوں پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔‘

’فی الحال شرح پیدائش اوسطا 1.59 ہے۔۔۔ اسی وجہ سے اپنی ترقی کے لیے کروشیا نے آبادیاتی اعداد و شمار کو ایک اہم سوال کے طور پر تسلیم کیا ہے۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *