حج پالیسی 2020: کیا پاکستان میں حج عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو رہا ہے؟

’حج کرنا جو ایک فرض عبادت اور ایک مذہبی خواہش ہے اب ایک خواب بنتا جا رہا ہے، حکومت نے ہر سال کی طرح اس برس بھی حج بہت مہنگا کر دیا ہے۔‘

یہ کہنا ہے روالپنڈی کے رہائشی 61 برس کے عمیر درانی کا جنھوں نے گذشتہ برس بھر سرکاری حج سکیم میں اپنی اہلیہ کے ہمراہ درخواست دی تھی اور اس برس بھی حج کی سعادت حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

انھوں نے حکومت کی جانب سے حج پالیسی 2020 کے اعلان کے بعد اپنا پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’حکومت نے حج کو غریب اور متوسط طبقے کی پہنچ سے دور کر دیا ہے۔‘

عمیر درانی کا کہنا تھا کہ ’گزشتہ برس بھی حج درخواست جمع کروائی تھی لیکن نام نہ آیا تو سوچا کوئی بات نہیں اگلے برس چلے جائیں گے، لیکن اب اتنا مہنگا کر دیا گیا ہے کیا کریں جیسا بھی ہے کوشش کریں گے کچھ نہ کچھ انتظام کریں لیکن بہت مشکل لگ رہا ہے۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ’حج کے لیے ہم پورا سال پیسے جمع کرتے ہیں، کچھ رقم بچے دے دیتے ہیں لیکن پھر بھی ہر بار کچھ نہ کچھ پیسے کم پڑ جاتے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ 'اس برس میری اور اہلیہ کی حج فیس میں فی کس کم از کم 40 ہزار روپے کا فرق پڑا ہے اور وہ اضافہ الگ ہے جو روپے کی قدر میں کمی کے باعث سعودی عرب جا کر برداشت کرنا پڑیں گے۔'

عمیر درانی ایک نجی کمپنی میں ماہانہ 50 ہزار روپے تنخواہ پر ملازت کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں' آپ بتائیں ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا کیسے حج کر سکتا ہے؟ حج کو سستا کرنا حکومت کی پالیسی میں ہونا چاہیے، اگر سعودی عرب نے وہاں سہولیات کے پیسے بڑھائیں ہیں تو حکومت اس پر سبسڈی دے، یہ دیگر تمام چیزوں پر سبسڈی دے سکتی ہے تو حج پر کیوں نہیں؟'

عمیر درانی کے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے ، تین بچے شادی شدہ ہیں جبکہ ایک بیٹا ابھی زیر تعلیم ہے۔

انھوں نے بتایا کہ 'گذشتہ برس سے دو سال قبل بھی درخواست دی تھی تب حج اخراجات آج کے مقابلے میں تقریباً نصف تھے لیکن تب بھی نام نہیں آیا، حکومت کا سرکاری کوٹہ بہت کم ہے۔'

عمیر درانی کہتے ہیں کہ 'حکومت کی حج پالیسی کا دوسرا بڑا مسئلہ سرکاری حج اور نجی حج ٹور آپریٹرز کا کوٹہ ہے۔'

'نجی حج آپریٹرز بہت مہنگے ہیں وہ لوٹ مار کرتے ہیں، گذشتہ برس پرائیویٹ حج 13 لاکھ روپے تک کا تھا، عام آدمی تو یہ سوچ بھی نہیں سکتا۔'

ان کے نزدیک 'حکومت کو اس کوٹے کو کم کرنا چاہیے، 40 فیصد نجی آپریٹرز کو دینا غریب آدمی کے ساتھ زیادتی ہے، یہ کوٹہ صرف 20 فیصد ہو۔ تاکہ زیادہ سے زیادہ متوسط کے صاحب استطاعت افراد حج کا فریضہ ادا کر سکیں۔'

حج کے لیے صاحب استطاعت کون؟

اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان کے چیئر پرسن پروفیسر ڈاکٹر قبلہ ایاز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی احکامات کے مطابق حج اس شخص پر فرض ہے جس کی استطاعت ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ 'صاحب استطاعت ایک بہت جامع اصطلاح ہے اور اس کی تعریف کچھ یوں کی جا سکتی ہے کہ اس کی مالی حالت کیسی ہے؟ فریضہ حج کے دوران اس کے خاندان کی کفالت اور مالی نظم و نسق کا انتظام کیا ہے، کیا وہ حج کے سفری اخراجات برداشت کرنے کے قابل ہے اور اس سے اس کے زیر کفالت افراد کو کوئی پریشانی تو لاحق نہیں ہو گی اور وہ باعزت طریقے سے رہنے کے قابل ہیں، ایسے شخص پر حج فرض ہے۔'

پاکستان میں بڑھتی مہنگائی اور عام آدمی کے موجودہ معاشی وسائل کے تناظر میں ملک میں صاحب حیثیت شخص کون ہے کا جواب دیتے ہوئے پروفیسر قبلہ ایاز کا کہنا تھا کہ 'یقیناً جب ملک میں مہنگائی بڑھ جائے اور ضروریات زندگی کی قیمت بڑھ جائے تو معاشرہ میں صاحب استطاعت افراد کا معیار اور درجہ بندی بھی بڑھ جاتی ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'قرآن میں جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں ان کی حکمت بھی یہ ہی ہے کہ مختلف ادوار میں جو بھی صورتحال ہو اسی پر ایک شخص یہ طے کرے کہ آیا وہ اس حیثیت میں ہے کہ حج کے فریضہ کی ادائیگی کی جو شرائط ہیں کیا وہ ان پر پورا اترتا ہے۔'

'اس وقت ملک میں جو مہنگائی کی صورتحال ہے تو اس نے صاحب استطاعت کی تعریف زیادہ مشکل اور بلند کر دی ہے۔'

حکومت کی حج پالیسی 2020

حج
اسلام آباد میں وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان اور وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے حج پالیسی 2020 کا اعلان کیا

حکومت نے رواں ہفتے 11 فروری کو حج پالیسی اور پلان برائے 2020کی منظوری دی ہے، جس کے تحت گزشتہ برس کی نسبت حج اخراجات میں تقریباً 7.35 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ جس کے بعد اس برس حج چار لاکھ 90 ہزار کا ہو گا۔

اسلام آباد میں وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے کہا کہ رواں برس ایک لاکھ 79 ہزار 210 پاکستانی حج کرنے جائیں گے۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس حج اخراجات چار لاکھ 56 ہزار تھے۔ جبکہ سعودی عرب نے 5 ہزار اضافی عازمین کی اجازت دی تھی جس کے تحت ایک لاکھ 84 ہزار 210 پاکستانیوں نے حج ادا کیا تھا۔

وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سال 2020 میں پاکستان کے لیے مخصوص حج کوٹہ 60:40 کی شرح سے سرکاری اور نجی شعبے کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ ساٹھ فیصد کوٹہ سرکاری طور پر جبکہ چالیس فیصد نجی ٹور آپریٹرز میں تقسیم ہو گا۔

انھوں نے بتایا کہ ’سعودی عرب کے ’روڈ ٹو مکہ‘ منصوبے کے تحت اس برس پاکستانی عازمین کی امیگریشن پاکستان میں ہی ہو گی۔ گزشتہ برس یہ سہولت صرف اسلام آباد سے سفر کرنے والے عازمین کے لیے تھی تاہم اس بار کوشش ہو گی کہ یہ سہولت لاہور، کراچی سمیت دیگر شہروں سے سفر کرنے والے مسافروں کو بھی فراہم کی جائے۔‘

حج اخراجات میں اضافے پر وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اس میں اضافے کی بنیادی وجہ سعودی ائیر لائن کے کرائے میں اضافہ، کرنسی کی قیمت میں کمی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ’حکومت نے خود سے ایک روپے کا اضافہ بھی نہیں کی لیکن سعودی عرب نے چند فیسوں کو لازمی قرار دیا ہے جن میں 300 ریال ویزا فیس اور 110 ریال ہیلتھ انسورنش فیس شامل ہے۔‘

’منیٰ میں ٹرین کی فیس 250ریال سے بڑھ کر 500ریال ہو گئی ہے۔ مکہ مکرمہ میں بلڈنگز کے کرائے بھی بڑھ گئے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ 'ہم نے گذشتہ برس ساڑھے پانچ ارب روپے حاجیوں کو واپس کئے۔'

حج پالیسی 2020 کے تحت دس ہزار نشتیں 70 برس کی عمر سے زائد بزرگوں کے لیے مختص کی جائیں گی۔

ایسے افراد جوگزشتہ تین برسوں (2017، 2018اور2019) میں سرکاری سکیم کے تحت حج کی سعادت حاصل نہیں کرسکے ان کو یہ سعادت فراہم کی جائے گی بشرطیکہ انھوں نے ان برسوں میں نجی سیکٹر کے ذریعے حج کی سعادت حاصل نہ کی ہو۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *