حکومتی ’’رولز آف بزنس‘‘ کی زد میں آئے یوٹیوبز

بدھ کی رات سے اکیلا بیٹھا دیوانوں کی طرح ہنسے چلاجارہا ہوں۔بہت دنوں سے میرے چند بہت ہی پُرخلوص چاہنے والے اصرار کئے چلے جارہے تھے کہ دیگر کئی صحافیوں کی طرح میں بھی اپنا یوٹیوب چینل شروع کردوں۔میں بڑھاپے کی وجہ سے شدید تر ہوئی اپنی کاہلی کو اس ضمن میں پیش قدمی نہ لینے کا جواز بتاتا رہا۔کئی مہینوں سے میرے دل میں بسی اداسی نے منیر نیازی کے اٹھائے ’’مل بھی گیا تو پھر کیا ہوگا‘‘ والے سوال کی اہمیت بھی سمجھادی ہے۔علاوہ ازیں پنجابی کا ایک محاورہ یہ حقیقت یاددلاتا رہتا ہے کہ ’’(حکمران اشرافیہ کا) گھونسا‘‘ بسااوقات آپ کے لئے ’’ربّ‘‘ سے بھی زیادہ قریب ہوجاتا ہے۔’’اس سے بچنے کی فکر کر‘‘۔وطنِ عزیز ویسے بھی گزشتہ کئی برسوں سے ’’نیا‘‘ ہوئے چلے جارہا ہے۔یہ خود کو اغیار کی سازشوں کی زد میں آیا محسوس کرتا ہے۔’’بیانیے‘‘ کی جنگ ہر صورت جیتنا چاہتا ہے۔اخبارات Digitalانقلاب کے باعث اس کے لئے اتنی اہمیت کے حامل نہیں رہے۔ 24/7چینل کا دور آگیا۔ تحریک انصاف نے مگر بالآخر دریافت یہ کیا کہ ٹی وی سکرینوں پر ’’لفافوں‘‘ کا راج ہے۔اس ’’راج‘‘ کے خلاف وہ اس وقت سے دہائی مچانا شروع ہوگئی جب عمران خان صاحب کی قیادت میں 126دنوں تک تبدیلی کے خواہش مندو ں کا دھرنا جاری رہا۔ اس دھرنے کو مسلسل کئی گھنٹوں تک Liveدکھایا جاتا تھا۔ اس کی خاطر ان پروگراموں کو روک دیا جاتا جن کے وقفے میں دکھائے اشتہارات کی بکنگ کئی ہفتے قبل ہوچکی ہوتی تھی۔ میں آج تک سمجھ نہیں پایا کہ اشتہارات کی قربانی دیتے ہوئے ہمارے تمام ٹی وی نیٹ ورکس بیک وقت عمران خان صاحب کے دھرنے پر Liveکیمرے کیوں فکس رکھا کرتے تھے۔ہمارے بلند آہنگ،حق گو اور Ratingsکے شیر تصور ہوتے ہوئے اینکرخواتین وحضرات کی اکثریت ویسے بھی دل وجان سے عمران خان صاحب کی گرویدہ تھی۔و ہ ’’چوروں اور لٹیروں‘‘ کے خلاف ایمان داری کے مجسمہ کی صورت Promoteہوئے۔ ان کی جدوجہد اور استقامت کو بے پناہ پذیرائی نصیب ہوئی۔ بالآخر جولائی 2018کے صاف شفاف انتخابات کی بدولت عمران خان صاحب اس ملک کے وزیر اعظم بن گئے۔’’انقلاب‘‘ آگیا۔ تاریخ مگر ہمیں سمجھاتی ہے کہ ’’انقلاب‘‘ آنے کے بعد سب سے پہلے اپنے ہی ’’بچوں‘‘ کو کھانا شروع ہوتا ہے۔ٹی وی چینل لہذا عمران حکومت کے آتے ہی ’’مالی بحران‘‘ کا شکار ہونا شروع ہوگئے۔ہمیں بتایا گیا کہ ان چینلوں کو نواز حکومت ’’لفافے‘‘ دے کر زندہ رکھا کرتی تھی۔یہ چینل اپنے تئیں کامیاب بزنس کا طریقہ نہیں ڈھونڈ پائے۔ایمان دار حکومت نے ’’لفافے‘‘ بند کردئیے تو ٹی وی چینل ’’مالی بحران‘‘ کا شکار ہوگئے۔اس ’’بحران‘‘‘ سے نجات پانے کے لئے چند ’’نکمے‘‘ اینکروں کو فارغ کرنا پڑا۔ میں بھی ’’نکھٹو‘‘افراد کی فہرست میں شامل تھا۔ پرنٹ کی دُنیا سے ٹی وی کی جانب گیا تھا۔ ’’بدھو‘‘ لوٹ کر گھر واپس آگیا۔میرے چند ’’نکھٹو‘‘ساتھی مگر ہار ماننے کو تیار نہیں ہوئے۔اپنے یوٹیوب اور وی لاگ چینل بنالئے۔ ہزاروں کی تعداد میںلوگوں نے انہیں دیکھنا شروع کردیا۔ ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے پیغام یہ بھی دیا کہ وہ سکرینوں سے Ratingsنہ لینے کی وجہ سے فارغ نہیں ہوئے تھے۔وجوہات کچھ اور تھیں۔عمران حکومت کے ابتدائی ایام میں ’’میڈیا مینجمنٹ‘‘ پر مامور یوسف بیگ مرزا اور افتخار درانی جیسے ماہرین نے اگر قدرت اللہ شہاب کی طرح ربّ سے لو لگاتے ہوئے کوئی آپ بیتی لکھی تو شاید یہ وجوہات بھی منظرِ عام پر آجائیں گی۔مرنے سے پہلے پوراسچ بیان کردینے کا مجھے بھی بہت شوق ہے۔مسئلہ مگر یہ ہے کہ ’’موت کا ایک دن معین ہے‘‘۔ ربّ کریم اس دن کو ہم سے چھپائے رکھتا ہے۔دن بتادیا جائے تو ’’پورا سچ‘‘ بیان کرنے کی منصوبہ بندی ہوسکتی ہے۔اس ضمن میں ٹائم لائن سے آگہی کے بغیر اپنی اوقات میں رہنا اور سرجھکاکر ڈنگ ٹپانا ضروری ہے۔ہفتے کے پانچ دن صبح اُٹھتے ہی یہ کالم لکھ کر لہذا ڈنگ ٹپالیتا ہوں۔سکرین کی بدولت نصیب ہوئی شہرت سے ہرگز دلچسپی نہیں۔خواہ یہ سکرین پیمرا قوانین کے تحت چلائے ٹی وی چینلوں کی ہو یا موبائل فونز پر میسر یوٹیوب چینلوںکی۔’’گوشے میں قفس کے ‘‘ جو چین میسر ہواہے اس کی بابت بہت ہی مطمئن ہوا میرا دل بدھ کی رات یہ خبر جان کر مزید خوش ہوگیا کہ عمران حکومت نے نہایت ہوشیاری سے پارلیمان کے ذریعے کسی نئے قانون کو متعارف کروائے بغیر ’’رولز آف بزنس‘‘ میں کابینہ کی منظوری سے تبدیلیاں کرتے ہوئے یوٹیوب چینلوں کو لگام ڈالنے کی قوت حاصل کرلی ہے۔عمران حکومت کے خلاف ان چینلوں کے ذریعےFake Newsپھیلانے کی گنجائش اب باقی نہیں رہے گی۔عمران خان صاحب کے پسندیدہ حکمران فیلڈمارشل ایوب خان نے 1960کی دہائی میں پریس اینڈپبلی کیشن آرڈیننس کے ذریعے ’’تخریب کار‘‘ صحافت کے تدارک کا بندوبست کیا تھا۔کچھ اخبارات اسلام کے نام پر بنے پاکستان میں غیر ملکی ایما پر ’’کمیونزم‘‘ پھیلانے کے مرتکب بھی ہورہے تھے۔ انہیں قومی تحویل میں لے لیا گیا۔ 1964کے صدارتی انتخاب میں لیکن مادرِ ملت کی حمایت میں ’’نوائے وقت‘‘ نے کم ازکم پنجاب میں جو رونق لگائی اس کا ذکر تفصیل سے کرسکتا ہوں۔ چونکہ اس اخبار میں کالم لکھتا ہوں اس لئے انکساری میں اس سے گریز کررہا ہوں۔صحافت کو ذوالفقار علی بھٹو نے جس طرح ’’قابو‘‘ میں لیا تھا اس کا ذکر حسین نقی اور مجیب الرحمن شامی جیسے میرے بزرگ بہت تفصیل سے بیان کرسکتے ہیں۔جنرل ضیاء کے دور میں اس ضمن میں لئے اقدامات کا عینی شاہد ہوں۔ایوب خان کے خلاف 1968کے اکتوبر میں شروع ہوئی تحریک مگر رک نہیں پائی تھی۔ بھٹو صاحب بھی 1977میں ’’نوستاروں‘‘ والی تحریک کے آگے بے بس ہوگئے تھے۔ عمران حکومت بھی ’’تیر‘‘ چلاکر خود کو مطمئن رکھنے سے باز ہی رہے تو اس کے لئے بہتر ہوگا۔حکومت کو یہ حقیقت بھی ذہن میں رکھنا ہوگی کہ ’’تخریب کاروں‘‘ کو ’’قابو‘‘ میں لانے والے قوانین کو متعارف کروانے والے بالآخر خود ہی ان کی زد میں آتے پائے گئے ہیں۔بھٹو صاحب نے ولی خان کو ’’غدار‘‘ قرار دے کر ان کی جماعت پر پابندی لگائی تو ساتھ ہی یہ قانون بھی متعارف کروایا کہ کوئی ’’غیر ملکی‘‘وکیل پاکستان کی کسی عدالت میں لائے کسی ملزم کا وکیل صفائی نہیں ہوسکتا۔ بھٹو صاحب کے خلاف جنرل ضیاء نے قتل کا مقدمہ بنایاتو ان کے دفاع کے لئے دُنیا کے کئی نامور وکیل پاکستانی عدالت میں پیش ہونے کو بے قرار تھے۔یہ قانون مگر ان کے آڑے آگیا۔ نواز شریف جب وزیر اعظم تھے تب ’’بلاگرز‘‘ پر قابو پانے کے لئے چند گرفتاریاں ہوئیں۔نئے قوانین بنے۔ بالآخر ان کا نشانہ وہ لوگ ہی بنے جنہوں نے سوشل میڈیا پر ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ والا بیانیہ پھیلانے کی کوشش کی۔میرا یہ کالم پڑھنے کے بعد آپ کے پاس اگر فرصت کے چند گھنٹے ہوں تو غور سے ان دنوں یوٹیوب کے مقبول ترین پروگراموں کا جائزہ لیجئے گا۔ آپ کو یہ دریافت کرنے میں قطعاََ کوئی دِقت نہیں ہوگی کہ پاکستان کے تناظرمیں اس وقت وہ ’’یوٹیوبرز‘‘ مستقل ناظرین کی تعداد کے حوالے مقبول ترین ہیں جو شدومد سے عمران حکومت کا دفاع کرتے ہیں۔ ٹی وی سکرینوں پر Ratingsکے اعتبار سے اب بھی تگڑے شمار ہوتے اینکر خواتین وحضرات کے نام لے کر عمران حکومت کے حامی یوٹیوبرز انہیں ’’وطنِ دشمن‘‘ ٹھہراتے ہیں۔بدھ کے روز عمران حکومت نے ’’رولز آف بزنس‘‘ میں مہارت سے جو تبدیلی کی ہے یقین مانیے اس کی زد میں سب سے پہلے یوٹیوبرہی آئیں گے۔ٹی وی سکرینوں سے غائب ہوکر میرے جن صحافی دوستوں نے اپنے یوٹیوب چینل بنائے ہیں وہ ’’خبر‘‘ دیتے ہوئے جبلی طورپر روایتی صحافت کے اصولوں کی پاس داری کرتے ہیں۔’’خبر‘‘دیتے ہوئے اس امکان کو ذہن میں رکھتے ہیں کہ ان کے خلاف عدالتی کارروائی بھی ہوسکتی ہے۔وہاں طلبی ہوگئی تو اپنے دفاع کے لئے چند دستاویزات کو سنبھال کررکھتے ہیں۔ تبصرہ آرائی کے لئے بھی محتاط زبان استعمال کرتے ہیں۔’’زعم پارسائی‘‘ میں لوگوں کے نام حقارت سے نہیں لیتے۔ شخصیات کے بجائے بنیادی سیاسی سوالات کے بارے میں رائے دینے کو ترجیح دیتے ہیں۔صحافت محض ایک پیشہ نہیں۔ہنر بھی ہے۔اس ہنر کو حاصل کرنے کے لئے بہت مشق کی ضرورت ہوتی ہے۔بنیادی طورپر ہم ایک غلام معاشرہ ہیں۔اقبالؔ ساری عمر ’’خوئے غلامی‘‘ سے نجات کی تمنا کرتے رہے۔ ’’غلام‘‘ اپنے ا ظہار کے لئے ’’استعاروں‘‘ سے کام لیتے ہیں۔ ’’قفس‘‘ مثال کے طورپر ایک استعارہ ہے۔اس میں بند ہوئی ’’بلبل‘‘ کے نغمے بسااوقات تازہ ترین سیاسی حالات پر رواں تبصرے کی طرح ہوتے ہیں۔انہیں قانونی گرفت میں لانا ناممکن ہوجاتا ہے۔’’لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے‘‘ کسی فوری واقعہ پر تبصرہ آرائی کرتی نظم نہیں ہے۔بھارت میں ان دنوں انسانی حقوق کی جو تحریک برپا ہے اس کا مگر ’’قومی ترانہ‘‘ بن چکی ہے۔جالبؔ نے 1962کے دستور کے خلاف ’’میں نہیں مانتا‘‘ والی نظم لکھی تھی۔ ’’ایسے دستور‘‘ کا استعمال اسے مگر ان تمام قوانین کے خلاف بغاوت کی ابدی آواز بناگیا جو کسی بھی ملک یا عہد کی اشرافیہ نافذ کرنے کو ہمیشہ بے چین ہوتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *