خوراک، ادویہ ساز کمپینوں کے سوا تمام صنعتی زونز بند

سندھ حکومت نے 15 روز کے لاک ڈاؤن کے دوران ادویہ ساز اور تیار خوراک بنانے والی کمپنیوں کو اپنے افعال جاری رکھنے کی اجازت دی ہے جبکہ دیگر صنعتی یونٹس کو بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

 رپورٹ کے مطابق صنعتی نمائندوں نے بتایا کہ ادویہ سازوں اور خوراک کے علاوہ مینوفیکچررز بھی صنعتی پیدوار زیرو ہونے کے باوجود وزارت داخلہ کی جانب سے ملازمین اور مزدوروں کو نوکری سے نہ نکالنے کے احکامات پر عمل کررہے ہیں۔

سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے صدر سلیمان چاولہ نے کہا کہ 4 ہزار یونٹس کے فیکٹری مالکان اپنے ایک لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ یومیہ اجرت کے ملازمین کو خوراک اور دیگر اشیائے ضروریات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے کام کررہے ہیں جو شہر میں صنعتوں کی بندش کے باعث آمدن کھو دینے کے خطرے کا شکار ہیں۔

سلیمان چاولہ کا کہنا تھا کہ ’غیر پیداواری دنوں میں ہم کسی قسم کے ایک بھی ملازم کو نوکری سے نہیں نکالیں گے اور ملازمین کو یکم اپریل سے قبل تنخواہیں فراہم کرنےکی کوششیں بھی کی جارہی ہیں۔

اس ضمن میں کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے صدر شیخ عمر ریحان نے کہا کہ وہ اس صنعتی علاقے میں یومیہ اجرت کے ملازمین کی تعداد نہیں بتاسکتے جہاں ان کے اندازے مطابق 10 سے 15 لاکھ افراد ساڑھے 4 ہزار صنعتی یونٹس میں کام کر کے اپنے اہلِ خانہ کے لیے روزگار کماتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’موجودہ صورتحال میں نہ تو ہم کسی ملازم کو نکال رہے ہیں اور نہ ہی ان کی تنخواہوں میں کٹوتی کررہے ہیں‘۔

اس کے علاوہ یکم اپریل سے قبل تنخواہوں کی ادائیگی کے ساتھ ورکرز کو اشیائے خوراک فراہم کرنے کے انتظامات بھی کیے جارہے ہیں۔

ایف بی ایریا ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے صدر عبداللہ عابد نے کہا کہ ’صنعتی علاقے میں موجود 2 ہزار یونٹس میں کام کرنے والے کسی ملازم کو نوکری سے نکالنے کا ہم سوچ بھی نہیں سکتے‘۔

ان نے کہا کہ ’کئی ملازمین اندرونِ سندھ سے تعلق رکھتے ہیں جو مارچ کی ایڈوانس تنخواہوں کے ساتھ پہلے ہی اپنے گھروں کو جاچکے ہیں جبکہ کئی فیکٹریوں میں ورکرز کو اشیائے خورونوش مثلاً آٹا، چاول، دالیں، چائے اور چینی بھی فراہم کی گئی ہے۔

دوسری جانب نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے صدر نسیم اختر نے کہا کہ ’ہم اپنے ملازمین، عملے کے اراکین اور مزدوروں کو اس بات کی یقین دہانی کروائیں گے کہ امتحان کی اس گھڑی میں تنخواہوں میں کوئی کٹوتی نہیں کی جائے گی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ایسوسی ایشن کے ویلفیئر کلینک میں رجسٹرڈ 24 ہزار غریبوں کو 10 لاکھ روپے کی اشیائے خور و نوش فراہم کی جارہی ہیں۔

مزید یہ کہ یومیہ اجرت کے ملازمین کو آئندہ 15 روز کے اشیائے ضروریات فراہم کرنے کے بھی انتظامات کیے جارہے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *