سندھ حکومت نے کورونا وائرس کے کنٹرول کیلئے ٹاسک فورس قائم کردی

کراچی: پاکستان میں کورونا وائرس کے پہلے دو کیسز کی تصدیق کے بعد سندھ حکومت نے کورونا وائرس کو کنٹرول کرنے کے لیے ٹاسک فورس قائم کردی۔

یہ فیصلہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی سربراہی میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہونے والے ہنگامی اجلاس میں کیا گیا۔

ٹاسک فورس کی سربراہی وزیر اعلیٰ خود کریں گے جس میں چیف سیکریٹری، سیکریٹری صحت، کراچی کمشنر اور دیگر صحت حکام شامل ہوں گے۔

پاکستان میں سامنے آنے والے 2 کیسز میں ایک 22 سالہ شخص شامل ہے جو حال ہی میں ایران سے کراچی واپس آیا تھا جبکہ وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ دوسرا کیس وفاقی دارالحکومت میں ایک شخص میں سامنے آیا ہے۔تحریر جاری ہے‎

اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ ٹاسک فورس روزانہ انہیں بریفنگ دے گی۔

انہوں نے بتایا کہ سندھ میں حال ہی میں ایران سے آنے والے تقریباً 1500 افراد کی معلومات اکٹھا کرلی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ان تمام افراد میں علامات سامنے آئے تو ان کے ٹیسٹ کیے جائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ کراچی میں موجود وائرس سے متاثرہ شخص حال ہی میں ایران سے آیا تھا اور وہ زائرین کے ایک وفد کے ساتھ سفر کر رہا تھا جس میں 28 افراد شامل تھے۔

انہوں نے بتایا کہ 'ہمیں آغا خان ہسپتال اور انڈس ہسپتال کا ٹیمز کو تربیت دینے میں تعاون حاصل ہے جو ان افراد کا ٹیسٹ کرسکیں گے کہ ان میں کوئی علامات سامنے تو نہیں آئے'۔

سندھ میں اسکولوں کی بندش کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ 'یہ خوف و ہراس پیدا کرنے کے لیے نہیں کیا گیا بلکہ ہم چاہتے ہیں متاثرہ علاقے سے واپس آنے والے افراد کے بچوں کے ٹیسٹ کیے جائیں تاکہ اس بات کی یقین دہانی کی جاسکے کہ یہ وائرس اسکولوں میں نہ پھیلے'۔

انہوں نے بتایا کہ 'وزیر اعلیٰ ہاؤس میں روزانہ شام 7بجے کورونا وائرس کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوگا، 25 سے 30 افراد کو صورتحال پر نگرانی رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'لوگوں میں خوف و ہراس پھیلنے سے روکنے اور آگاہی پھیلانے کے لیے ہمیں میڈیا کی مدد درکار ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'سندھ حکومت وائرس سے متعلق تمام آلات و ماسک منگوائے دی، ہم دکانداروں کو مناسب قیمت پر یہ دیں گے تاکہ مارکیٹ میں جعلی بحران پیدا نہ کیا جاسکے اور عوام اس صورتحال کا ناجائز فائدہ نہ اٹھاسکے'۔

انہوں نے کہا کہ 'جن لوگوں نے متاثرہ ممالک کا دورہ کیا انہیں ٹیسٹ کرنے کی ضرورت ہے اور اگر نتیجہ منفی آتا ہے تو ان کی نگرانی کی جانی چاہیے'۔

وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ 'اگر کسی کے ٹیسٹ کا نتیجہ پوزیٹو بھی آئے تو اسے آئیسولیشن (تنہائی) میں رہنے کی ضرورت ہوگی تاکہ وہ دیگر افراد سے نہ مل سکیں، اس کام کے لیے ایک ہسپتال کو مختص کردیا گیا ہے اور ان ہسپتالوں کے لیے آلات منگوائے جارہے ہیں'۔

انہوں نے بتایا کہ 'میں نے انڈس ہسپتال کے ڈاکٹر عبدالباری سے کہا ہے کہ سندھ حکومت کے لیے وینٹی لیٹرز منگوالیں، ہم اس کی پوری قیمت ادا کریں گے، بھاری اثر رکھنے والے ڈس انجیکٹنٹس اور ماسک بھی منگوایا جارہا ہے'۔

ایران سے پروازوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ 'ایران سے پروازیں ابھی بھی آرہی ہیں، میں وفاقی حکومت سے ان پروازوں کو بند کرنے کے لیے کوششیں کر رہا ہوں تاکہ صورتحال بے قابو نہ ہوسکے'۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایئرپورٹس پر اسکریننگ کا عمل بھی ٹھیک طرح سے نہیں ہورہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'شاید وفاقی حکومت کے پاس اس کے لیے وسائل نہیں ہوں گے اور اس لیے میں نے سندھ حکومت کی مدد کی پیشکش کی ہے اور نجی شعبے کو بھی اس میں شامل ہونے اور ایئرپورٹس پر موثر اسکریننگ میں مدد کرنے کا کہا ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'یہ نہایت ضروری ہے کہ جن افراد میں یہ وائرس موجود ہے وہ داخل نہ ہوں تاکہ صورتحال آپے سے باہر نہ ہوجائے'۔

وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ 'میں اس موقع پر وفاقی حکومت سے کہنا چاہوں کہ نجی شعبے کے ہسپتال اور ڈاکٹر مدد کرنا چاہتے ہیں'۔

مریضوں کی معلومات خفیہ رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'یہ نہایت ضروری ہے تاہم بدقسمتی سے گزشتہ روز مریضوں کی تمام معلومات عوام کے سامنے لے آئی گئیں، اگر یہ مجھ سے ہوا، میں نے غلطی سے معلومات بتائی تو مجھے اس پر افسوس ہے اور میں درخواست کرتا ہوں کہ معلومات کو آگے نہیں بڑھایا جائے'۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *