سوشل میڈیا،معاشرہ اور سیاسی نظام

زندگی میں کچھ باتیں،کچھ تجربات اور کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جس سے ہم سب دوچار ہوتے ہیں۔ کبھی خاندانی مسائل سے دو چار تو کبھی سماجی دباؤ سے مجبور تو کبھی گمراہی کے شکار تو کبھی ظلم اور بربریت سے مارے ہوئے۔ ان باتوں سے نہ تو ہم سب آج تک بچ سکے ہیں اور نہ ہی بچ پائے گے۔ کیونکہ دنیا کا نظام اور ہمارے معاشرے کی بنیاد ہی ان باتوں پر ہے۔ بڑھتی ہوئی آسان ٹیکنالوجی اور دولت کمانے کی ہوس نے ہم انسانوں کی سوچ کو ایسا بنا دیا ہے کہ ہم کسی بھی غلط کام کو کر نے میں نہ تو گھبراتے ہیں بلکہ اسے کر کے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ہم نے کچھ بھی غلط نہیں کیا۔ جوں جوں زمانہ بدلا اور جمہوری نظام نے دنیا کے بیشتر ممالک میں اپنے دامن پھیلائے عام آدمی کو طاقت حاصل کرنے اور اس کو صحیح اور غلط طور پر استعمال کرنے کا ہنر آتا گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جمہوری نظام کے خوبصورت پہلو اور مفادکو غلط ارادوں سے پامال کر دیا گیا۔
عدالتیں قائم کی گئیں اور عام لوگوں میں اپنے انصاف اور حق کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا نے کی حوصلہ افزائی کی گئی۔لیکن یہ نظام جتنی تیزی سے عام آدمی کے مفاد میں بنایا گیا اتنی ہی تیزی سے اس نظام کی دھجیاں بھی اڑا دی گئیں۔ لہٰذا اب ایسا دیکھا جاتا ہے کہ ایک عام آدمی کے لیے انصاف مانگنا یا اپنا حق لینا ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔تاہم مغربی ممالک میں اب بھی کچھ صداقت اور وقار کے بنا پر ان باتوں میں اتنا فرق نہیں پایا جاتا ہے جتنا کہ بر صغیر اور دنیا کے اُن ممالک میں پایا جاتا ہے جہاں جمہوریت تو قائم ہوگئی لیکن اس کے مقاصد کو اس حد تک نہیں سمجھا جا سکا ہے۔تبھی تو آئے دن ہندوستان اور پاکستان جیسے ملکوں میں انصاف تو دور عدالت کا خوب مذاق بنایا جاتا ہے۔ جس کی ایک وجہ ایسی سیاسی جماعت ہوتی ہیں جو حکومت سازی سے پہلے عوام کو جھانسا دے کر اپنے نجی مفاد کے لیے حکومت میں رہ کر اپنی من مانی کرتی ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں کا کوئی احتساب لینے والا نہیں ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ اس ادارے کو کمزور بنا کر ہمیں اور آپ کی آنکھوں میں دھول جھونک دیتے ہیں۔
کئی بار تو دفاتر کے باہر بڑے بڑے بورڈ لگے ہوتے ہیں اور اسے پڑھ کر عام آدمی کو اس بات کی خوشی محسوس ہوتی ہے کہ اسے ایک عزت دار شہری کا درجہ دیا جا رہا ہے۔ لیکن جب عام آدمی دھیرے دھیرے اپنے مسائل اور معاملات کے ذریعے اس سسٹم میں الجھتا ہے تو اُس وقت ہم اور آپ نہ رو پاتے ہیں نہ اپنی بات کی وضاحت کر پاتے ہیں۔ بلکہ کبھی کبھی انسان عاجز آکر ہار مان لیتا ہے اور اس طرح ایک کیس بند ہو کر نہ جانے دفاتر کے کس خانے میں چلا جاتا ہے جسے سوچ کر روح کانپ جاتی ہے۔
اس کے بر عکس برطانیہ میں لوگوں کو اپنے حقوق کی جانکاری اور میڈیا کی سچائی کی وجہ سے زیادہ تر لوگ بااختیار ہوتے ہیں۔ جس سے وہ بلا خوف اپنے حقوق اور اختیار پر آواز اٹھاتے رہتے ہیں۔ چاہے وہ خاندانی معاملہ ہو، یا دفتر کے مسائل ہوں یا کوئی اور معاملہ ہو زیادہ تر لوگ اسے نجی طور پر یا غیر سرکاری اداروں کے ذریعہ امداد لیتے رہتے ہیں۔ جس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ برطانیہ سمیت مغربی ممالک میں جمہوری اور دیگر نظام اب بھی محفوظ اور فعال ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ایسے ممالک دنیا بھر کے انسانی حقوق اور مساوات کے معاملے میں آواز اٹھاتے رہتے ہیں۔اور یہ باتیں کسی خاص قوم، مذہب اور نسل کے لیے ہی نہیں ہوتا بلکہ ان تمام لوگوں کے لیے ہوتاہے جو اپنے ممالک میں اِن حالات سے دوچار ہیں۔
حال ہی میں ایک خبر نظروں سے گزری جسے پڑھ کر پہلے تو ہنسی آئی پھر شک بھی گزرا۔ بات ہی کچھ ایسی ہے کہ شاید آپ بھی سوچ میں پڑ گئے ہوں گے، اس بات کی کیا ضرورت آ پڑی۔ ہندوستانی وزیر اعظم نرنیندر مودی نے اعلان کیا کہ ’اب وہ سوشل میڈیا چھوڑ رہے ہیں۔ اس حوالے سے میں آپ کو جلد آگاہ کروں گا‘۔پھر کیا تھا مودی کے بھکتوں نے ’نو سر‘ اور پلیز سر‘ لکھ کر مودی کے بھوس بھری بے رحم چھاتی میں درد کا دریا بہا دیا۔تاہم اس کے بعد ہندوستانی وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ اتوار 8مارچ کو عالمی یومِ خواتین کے موقع پر وہ اپنا سوشل میڈیا اکاونٹ ایسی خواتین کو سونپ دیں گے جن کی زندگی متاثر کن کام، ہمت اور حوصلے کی مثال ہیں۔دیکھے بات ہے ہی مضحکہ خیز لیکن اس کے پیچھے مجھے کچھ راز بھی چھپے لگتے ہیں۔ آخر آج کل جب سوشل میڈیا انسانی زندگی کا یک اہم حصّہ بن چکا ہے تو ایسے وقت میں دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک کے وزیر اعظم مودی کا سوشل میڈیا سے سنیاس لینا۔ بات حلق سے نہیں اتر رہی ہے۔ ہندوستانی وزیر اعظم کی باتوں اور ان کی رائے جاننے کے لیے دنیا بھر کے لوگ ان کے ساتھ جڑے رہتے ہیں تا کہ وہ ملک کے کسی معاملے میں وزیر اعظم کی بات یا مشور ہ سننا ضروری سمجھتے ہیں۔

8مارچ کو ’ویمنز انٹرنیشنل ڈے‘ کے موقعے پر ہندوستانی وزیر اعظم نے اپنے سوشل میڈیا اکاونٹ کو سات ایسی مانی جانی خواتین کے نام کیا جو اپنے متاثر کن کام، ہمت اور حوصلے کی مثال ہوں۔ انہوں نے لکھا کہ ’کیا آپ اس طرح کی خاتون ہیں یا آپ ایسی کسی حوصلہ بڑھانے والی خاتون کو جانتے ہیں؟ جن کے کام متاثر کن ہیں، ایسی خواتین کے بارے میں بتائیے۔‘وزیراعظم نریندر مودی کے اس ڈرامائی اقدام کے بعد انگریزی میں لکھے ’شی انسپائر س‘ یعنی ’وہ ہمیں متاثر کرتی ہے‘اب مقبول ٹاپ ٹرینڈ بن گیا ہے۔مودی کے پہلے ٹوئیٹ کی طرح دوسرے ٹوئیٹ پر بھی لوگ طرح طرح کی اظہارِ رائے دے رہے ہیں۔ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی سوشل میڈیا پر کافی مقبول رہے ہیں۔ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بعد سوشل میڈیا کے ٹوئیٹر اکاونٹ پر سب سے زیادہ فالو کئے جانے والے لیڈر ہیں۔ہندوستانی وزیر اعظم مودی کے ٹوئیٹر پر 5کروڑ 33لاکھ فالورز ہیں۔ جبکہ فیس بُک پر ان کے 4کروڑ 4لاکھ اور انسٹاگرام پر 3کروڑ 52لاکھ فالورز ہیں۔
میں تو کہوں گا کہ وللہ اس ادا پر کون نہ مر جائے۔ سوشل میڈیا چھوڑتے بھی ہیں اور وجہ بھی نہیں بتاتے ہیں۔ یوں توہندوستانی وزیر اعظم کی ہر چال متنازعہ تو ہوتی ہی ہے لیکن وہ مضحکہ خیز بھی بن جاتی ہے۔ تمام باتیں کسی فلم کی کہانی کی طرح پہلو بہ پہلو دِکھ رہا ہے اور ایک معمہ بنتا جا رہا ہے۔کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے کہا ’نفرت چھوڑیں، سوشل میڈیا اکاؤنٹس نہیں۔‘ گویا ہر عام و خاص اپنے اپنے طور پر وزیر اعظم نریندر مودی کو سمجھا رہا تو وہیں ان کو شک کی نگاہ سے بھی دیکھ رہا ہے۔یہ بھی ممکن ہے کہ وہ متنازعہ ترمیم شہری قانون اور دلی کی نسل کشی سے بھی دل برداشتہ ہوں گئے ہوں۔
تاہم سوشل میڈیا چھوڑنے کی بات کوئی نئی بات نہیں ہے۔اکثر و بیشتر یہ سننے میں آتا ہے کہ فلاں نے سوشل میڈیا چھوڑ دیا ہے۔اس کی کئی وجوہات ہوتی ہے جیسے کسی گروپ یا شاطر بندے کی شرارت یا ہیکنگ ہونا یا بہت سارے لوگ سوشل میڈیا پر الجھ کر یا مایوس ہو کر چھوڑ دیتے ہیں۔ کچھ لوگ اپنی بیوی یا گرل فرینڈ کے دباؤ یا الزامات سے بھی اکتا کر سوشل میڈیا کو خیر آباد کہہ دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا جہاں مثبت پہلو کی وجہ سے مفید ثابت ہوتا ہے تو وہیں اسے منفی نظریے سے استعمال کرنے سے کافی دشواریاں بھی جھیلنی پڑتی ہے۔اب ہندوستانی وزیر اعظم نے کس پہلو کے مد نظر سوشل میدیا سے سنیاس لیا اس کی وضاحت کرنا فی الحال میرے بس کی بات نہیں ہے۔ہندوستانی وزیراعظم یوں بھی سنگل ہیں یعنی وہ ایک بیوی یا گرل فرینڈ کی ذمہ داری یا مصیبت سے آزاد ہیں۔ ہاں اگر بیوی یا گرل فرینڈ ہوتیں تو ہم اور آپ کچھ ایسا اندازہ لگاتے کہ حضرت سے کوئی بہت بڑی بھول ہوگئی ہے جس کی وجہ سے وہ سوشل میڈیا چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔لگتا ہے مودی جی اب یہی گاتے ہوں گے’ہم چھوڑ چلے ہیں سوشل میڈیا۔ یاد آئے کبھی تو مت رونا۔
خیر فی الحال میں تو اپنا سوشل میڈیا اکاونٹ نہیں بند کرنے والا ہوں۔ کیونکہ مجھے دنیا بھر کے لوگوں کو اپنے کالم، اشعار،حال چال، اورضروری اطلاعات سے مسلسل آگاہ کرناہے۔اس کے علاوہ مجھے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے دوستو اور دشمنوں سے بھی لگاتار رابطے میں رہنا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *