’طلبا یونینز کی بحالی کی لیے ضابطہ اخلاق دیں گے‘

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت طلبا یونینز کی بحالی کی غرض سے بین الاقوامی تعلیمی اداروں میں رائج بہترین نظام سے استفادہ کرتے ہوئے جامع اور قابل عمل ضابطہ اخلاق ترتیب دے گی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اتوار کی شب وزیر اعظم عمران خان نے طلبا یونینز کی بحالی اور موجودہ وقت میں پاکستانی جامعات میں طلبا یونینز کے صورتحال پر اپنے خیالات کا اظہار دو ٹویٹس کی صورت میں کیا۔

اتوار کی ہی شام انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ طلبا کے پرامن مظاہروں پر کیا جانے والا کریک ڈاؤن بند کریں، مبینہ طور پر زیر حراست طالبعلم عالمگیر خان کو رہا اور صوبائی دارالحکومت لاہور میں سٹوڈنٹ رہنماؤں اور سماجی کارکنان کے خلاف درج کیا گیا مقدمہ ختم کریں۔

اپنی ایک ٹویٹ میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’جامعات مستقبل کی قیادت تیار کرتی ہیں اور طلبہ یونینز اس سارے عمل کا لازمی جزو ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان کی جامعات میں طلبہ یونینز میدان کارزار کا روپ دھار گئیں ہیں اور جامعات میں دانش کا ماحول مکمل طور پر تباہ ہو کر رہ گیا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم دنیا کی صف اول کی جامعات میں رائج بہترین نظام سے استفادہ کرتے ہوئے ایک جامع اور قابلِ عمل ضابطہ اخلاق مرتب کریں گے تاکہ ہم طلبہ یونینز کی بحالی کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے انھیں مستقبل کی قیادت پروان چڑھانے کے عمل میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کے قابل بنا سکیں۔‘

یاد رہے کہ جمعہ کو لاہور سمیت پاکستان بھر میں سینکڑوں طلبا نے اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہوئے مارچ کر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا تھا۔

کراچی، لاہور اسلام آباد اور پشاور سمیت کئی شہروں میں طالب علم اور نوجوان اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے تھے۔

سنیچر کو لاہور میں مظاہرے کی قیادت کرنے والے ایک طالبعلم عالمگیر وزیر خان کو مبینہ طور پر پنجاب یونیورسٹی کے لاہور کیمپس سے لاپتہ کر دیا گیا تھا جبکہ اتوار کے روز لاہور میں ہی طالبعلم رہنماؤں اور سماجی کارکنان سمیت 300 افراد کے خلاف ایک مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

سٹوڈنٹ مارچ

’پاکستان طلبا کے خلاف جاری کریک ڈاؤن بند کرے‘

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے طلبا کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کو بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے پاکستان حکام سے کہا ہے کہ وہ عالمگیر وزیر کو رہا کریں جبکہ ایمنسٹی کی جانب سے اس خدشے کا بھی اظہار کیا گیا ہے کہ مقدمے میں نامزد دیگر کارکنان کو بھی گرفتار کر لیا جائے گا۔

کیا مقدمہ درج کیا گیا ہے؟

اتوار کو درج کی جانے والی پولیس ایف آئی آر میں الزامات عائد کیے گئے ہیں کہ 250 سے 300 افراد پر مشتمل ریلی کے مقررین نفرت انگیز اور اشتعال انگیز تقاریر اور نعرے بازی کر کے طلبا کو اکساتے رہے۔

مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 124 (اے)، 290، 291، پنجاب ساؤنڈ سسٹم (ریگولیشنز) ایکٹ 2015، اور پنجاب امنِ عامہ آرڈیننس 1960 کے تحت درج کیا گیا ہے۔

لاہور پولیس نے اس احتجاج کے خلاف درج اپنی رپورٹ میں پروفیسر عمار علی جان اور سماجی کارکن فاروق طارق سمیت مشال خان کے والد اقبال لالا کو بھی ایف آئی آر میں نامزد کیا ہے۔

مشال خان کو عبدالولی خان یونیورسٹی میں سنہ 2017 میں مبینہ طور پر توہین رسالت کے الزام میں طلبا نے تشدد کرکے ہلاک کر دیا تھا۔

طلبا مارچ

ان کے والد نے جمعے کو لاہور میں ہونے والے احتجاجی مارچ میں شرکت کی تھی۔

اس کے علاوہ ایف آئی آر میں محمد شبیر اور کامل خان سمیت رکنِ قومی اسملبی علی وزیر کے بھتیجے عالمگیر وزیر کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔

عالمگیر وزیر کہاں ہیں؟

رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے نے اپنی ایک ٹویٹ میں الزام عائد کیا ہے کہ پنجاب یونیورسٹی کے طالبعلم عالمگیر وزیر کو یونورسٹی سے چند نامعلوم افراد اٹھا کر لے گئے ہیں جو ’انتہائی شرمناک‘ ہے۔

انھوں نے عالمگیر وزیر کو مبینہ طور پر پنجاب یونیورسٹی کے لاہور کیمپس سے لاپتہ کیے جانے کی مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب پنجاب یونیورسٹی کے چیف سکیورٹی آفیسر ریٹائرڈ کرنل عبید نے بی بی سی کی نامہ نگار ترہب اصغر کو بتایا کہ عالمگیر وزیر کل یونیورسٹی میں آئے تھے۔ ان کے مطابق عالمگیر گذشتہ سال یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کر کے فارغ ہو چکے ہیں اور وہ یہاں اپنی سند کے حصول یا کسی اور کام کے سلسلے میں آئے تھے۔

کرنل عبید نے کہا ہے کہ سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج سے تصدیق ہوئی ہے کہ ’گذشتہ روز یونیورسٹی میں سرکاری نمبر پلیٹس والی گاڑیاں داخل ہوئیں تھیں اور یونیورسٹی میں کارروائی ہوئی تھی۔‘

مگر ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انھوں نے کسی کو عالمگیر کو اٹھاتے ہوئے نہیں دیکھا ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ شام ساڑھے پانچ بجے موبائل لوکیشن سے معلوم ہوا کہ عالمگیر وزیر برکت مارکیٹ میں ہے۔

یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اطلاعات کے مطابق اس وقت عالمگیر وزیر سول لائن تھانے میں موجود ہیں اور ان کے خلاف پولیس نے مقدمہ درج کر رکھا ہے۔

دوسری جانب طلبا تنظیموں کے نمائندوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جب وہ اپنے وکیل کے ہمراہ سول لائن تھانے میں گئے تو پولیس کا کہنا تھا کہ نہ ہی عالمگیر ان کی حراست میں ہیں اور نہ انھیں پتا ہے کہ وہ کہاں پر ہیں۔

پنجاب یونیورسٹی

’طلبا کا احتجاج پرامن تھا‘

مقدمے میں نامزد ایف سی کالج لاہور کے پروفیسر عمار علی جان نے ٹوئٹر پر پولیس مقدمے کی تفصیلات شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انھوں نے گورنر پنجاب سے ملاقات کرکے انھیں باور کروایا ہے کہ طلبا کا احتجاج پرامن تھا۔

اس احتجاج میں شریک آئمہ کھوسہ نے ٹویٹر پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے دفتر کے باہر احتجاج کرنے والے طلبا کی تصاویر شیئر کی ہیں۔ جو اس احتجاج کے ذریعے مبینہ طور پر اپنے لاپتہ کیے گئے ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

سٹوڈنٹ مارچ کیا ہے اور کب شروع ہوا؟

بی بی سی کی نامہ نگار ترہب اصغر نے مارچ کے منتظمین سے گفتگو کی اور چند سوالات پوچھے تاکہ ہم یہ جان سکیں کہ یہ مارچ کیوں کیا جا رہا ہے اور اس کا آغاز کہاں سے ہوا؟

پروگریسیو سٹوڈنٹ کلیکٹیو تنظیم کے بانیوں میں سے ایک حیدر کلیم نے بی بی سی کو بتایا کہ اس تنظیم کا آغاز ستمبر 2016 میں ہوا جب چند طلبہ نے ایک ساتھ بیٹھ کر ایک سٹڈی سرکل یا مطالعہ کرنے کے لیے گروپ بنایا۔

انھوں نے بتایا ’اس گروپ میں شامل طلبا نے جب مختلف موضوعات پر کتابیں اور فلسفہ پڑھا تو ہم میں تنقیدی رجحان پیدا ہوا اور ہم نے سوال کرنا شروع کر دیا کہ ہم نے پڑھ لیا، ہم تنقید کرنا بھی جان گئے اور ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ مسئلہ کیا ہے تو اب ہم کیا کریں گے؟‘

’اس پر ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم اپنی آواز دوسروں تک پہنچائیں گے۔ پھر ہم اس پیغام کو مختلف سرکاری تعلیمی اداروں میں لے کر گئے۔ ہم نے وہاں پر سٹڈی سرکل شروع کر دیے اور اس دو سے ڈھائی سال کے عرصے میں تقریباً 500 چھوٹے بڑے احتجاج بھی کیے۔‘

وہ بتاتے ہیں ’جب ہم نے یہ دیکھا کہ احتجاج صرف ہم ہی نہیں بلکہ دوسری طلبہ تنظیمیں بھی کر رہی ہیں تو 2018 میں ہم نے سوچا کہ اس احتجاج کو ایک بڑی شکل دینی چاہیے تاکہ لوگوں کے جذبات اور مطالبات کی عکاسی اس احتجاج میں نظر آ سکے۔ اس طرح ہم تمام طلبہ مل کر نکلے اور ہم نے اپنے مطالبات کا اظہار کرنا شروع کر دیا۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *