ظالم شکاری

" ظریف بلوچ "

درخت کے سب سے ہلکی شاخ پر بیٹھے ہوٸے فاختہ کو اس بات کا ڈر نہیں تھی، کہ شاخ ٹوٹنے سے وہ گر سکتی ہے کیونکہ اسے اپنے پروں پر ناز تھا۔ جب کہ فاختہ کو اس بات کا ہرگز اندازہ نہیں تھا کہ پیچھے سے چپھے ہوئے شکاری کی گولی اسے اڑنے کا موقع نہیں دے سکتی۔
شکاری کو اس بات پر ناز تھا، کہ گولی بندوق سے نکلتے ہی فاختے کےسینے پر جالگے گی۔ فائر کے آواز کے ساتھ فاختہ گولی کا نشانہ بن جاتی ہے۔ اور شکاری کو اپنے نشانہ بازی پر فخر محسوس ہورہا ہوتا ہے۔ جبکہ اچانک وار سے فاختہ کو اڑنے کا موقع نہیں مل سکتی ہے۔ اور اپنی پروں پر ناز کرنے والی فاختہ اس اچانک حملے سے جان کی بازی ہار جاتی ہے، جبکہ گھونسلے میں ماں کی انتظار میں فاختہ کے دونوں بچے بھوک سے نڈھال ہوکر موت کے شکنجے میں چلے جاتے ہیں۔ اور ہم روز پرندوں اور جنگلی جانوروں کا شکار کرتے ہوئے کبھی یہ نہیں دیکھتے ہیں کہ ان کے معصوم بچے بھی زندگی کے بازی ہار جاتے ہیں۔
مہذب معاشروں میں پرندوں اور جانوروں کے شکار نہ صرف ممنوع ہے بلکہ وہاں جنگلی جانوروں اور پرندوں کی شکار پر نہ صرف جرمانہ عائد کی جاتی ہے، بلکہ جیل کے سلاخوں میں قید و بند بھی کی جاتی ہے۔ البتہ وہاں ٹرافی ہنٹنگ کا لائسنس حاصل کرکے جنگلی جانوروں کا شکار کیا جاسکتا ہے۔ جبکہ ہمارے معاشرے میں جس کا جی چاہے، شکار کے نام پر پرندوں اور جانوروں کی نسل کشی شروع کردے اور کوئی روکنے والا بھی نہیں۔
طویل خشک سالی کے بعد گذشتہ دو سالوں سے بلوچستان میں اب معمول سے زیادہ بارشیں ہورہی ہیں۔ اس لیے اب بلوچستان کے جنگلوں اور پہاڑوں میں پرندوں اور جانوروں کی تعداد میں اضافہ ہونے کے امکانات ہیں۔ کیونکہ اب کنزرویشن ایریا میں پانی اور چراگاہوں کی موجودگی سے جانور اور پرندے انہی علاقوں کا رخ کرتے آرہے ہیں۔
یہاں لوگ نایاب نسل کے جنگلی جانوروں اور پرندوں کو بے دردی سے مار کر یہ نہیں سوچتے کہ وہ نیچر کے ساتھ چھیڑخانی کررہے ہیں۔ اور یہی چھیڑخانی سے نیچر متاثر ہورہی ہے۔ کیونکہ جانور، پرندے اور کیڑے مکوڑے ایک لڑی کی طرح ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اور یہ سب اس نظام کا حصہ ہیں اور ہم سب اسی نظام کے قائم ہونے سے جی رہ رہے ہیں۔
صحرائی علاقوں میں سانپ وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ جبکہ انہی علاقوں میں چوہے اور مور بھی وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ سانپ چوہوں کا شکار کرتے ہیں اور خود مور کے شکار بن جاتے ہیں۔
اسی طرح ہر نسل کے جانور ،پرندہ اور کیڑے مکوڑوں کا براہ راست نیچر سے تعلق ہے۔ اور کسی بھی جانور،پرندے اور کیڑے مکوڑوں کی نسل کشی سے نیچر پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور انکے اثرات پھر اسی علاقے میں پڑسکتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *