فواد حسن فواد… (2)

ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جہاں بالعموم لوگ اپنی سوچ اور پسند کے مطابق کسی شخص کا خاکہ تیار کرتے، اس میں اپنے ذوقِ نظر کے مطابق رنگ بھرتے، اس کی تصویر کو ایک مخصوص چوکھٹے میں جڑتے اور پھر نفرتوں کے کباڑ خانے میں پھینک دیتے یا محبتوں کے نگار خانے میں سجا لیتے ہیں۔ بڑے عہدوں تک رسائی پا لینے یا نام بنا لینے والوں کا ایک المیہ یہ ہے کہ ان کی جانچ پَرکھ کا کوئی معتبر پیمانہ ایجاد نہیں ہوا۔ ہر شخص انہیں اپنے ترازو میں اپنے باٹوں کے ساتھ تولتا، اُن کے وزن کا تعیّن کرتا اور ایک فتویٰ جاری کر دیتا ہے۔ ایسے سرکردہ لوگوں کا دوسرا المیہ یہ ہے کہ وہ کارواں سے آگے نکل جاتے ہیں اور پیچھے رہ جانے والے گرد پوش چہرے انہیں کبھی معاف نہیں کرتے۔ فواد کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا۔ میں عمر کے اُس حصے میں ہوں جہاں نئے رشتے بنانے کی اکساہٹ باقی نہیں رہتی۔ سو پرانے اثاثوں کو سینت سینت کر رکھتا ہوں۔ برسہا برس سے دل کی آرائش گاہ میں سجی مورتیاں مجھے بے حد عزیز ہیں۔ سو اکثر انہی مورتیوں کو چمکاتا اور کارنس کی جھاڑ پونچھ کرتا رہتا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ فواد کی شخصیت کو نقدونظر کی کسوٹی پر پرکھنا میرے لئے ممکن نہیں۔ میں ایسا چاہتا بھی نہیں۔
کوئٹہ کے اسسٹنٹ کمشنر سے وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری تک کا سفر، فواد کو شاعری سے بہت دور لے گیا۔ سرکاری ملازمت کے حساس تقاضوں، اقتدار کی راہداریوں کی بے پناہ دھکم پیل، درباری سیاست کی پیچ در پیچ الجھنوں نے بے حد تنی رسی پر چلنے والے بیوروکریٹ کو فرصت ہی نہ دی کہ وہ دل میں دھری اس مخملی ڈبیا کو کھول کر دیکھتا جس میں رومانویت کی عطر بھری شیشی رکھی تھی۔ فواد شعر گوئی سے بہت دور ہو گیا؛ البتہ اس کے ذوقِ سخن کی آنچ مدہم نہ پڑی۔ ہماری محدود سی محفلوں میں شاعری ہمیشہ مہکتی رہی۔
فواد جیل گیا تو ہنگامہ خیز زندگی کے سب جھمیلے آہنی پھاٹکوں، کالی سلاخوں اور اونچی دیواروں کے باہر رہ گئے۔ وقت کی رفتار تھم گئی۔ فراٹے بھرتی برقی ٹرین، خیبر کے پہاڑوں پر چڑھتی کوئلے کے انجن والی سُست گام گاڑی بن گئی۔ فواد جولائی کے آتش بداماں مہینے میں جیل گیا۔ گرمی عروج پر تھی۔ کون سا دن تھا کہ مجھے اس کا خیال نہ آتا ہو، لیکن سردیاں شروع ہوئیں تو اس کی یاد کے رنگ گہرے ہونے لگے۔ میری ایک نظم فواد کو بہت پسند ہے۔ اس کا ایک بند ہے:
تمہیں میں نے کہا بھی تھا
کہ اتنی دور مت جائو
اگر جانا ضروری ہے
تو موسم کو ذرا کروٹ بدلنے دو
ابھی تو سردیوں کی آتشیں رُت ہے
کہ جب دن مختصر
راتیں بہت لمبی
سحر نامہرباں
شامیں بڑی بے کیف ہوتی ہیں
تمہیں میں نے کہا بھی تھا
کئی سال پہلے، ایک ٹی وی مارننگ شو میں، میں نے یہ نظم پڑھی تو فواد کا فون آیا: ''سر آج کی شام، اس نظم کے نام۔ کہیں ملتے ہیں‘‘ مجھے یاد آیا، اسی شب مخدوم امین فہیم مرحوم کا فون آیا۔ کہنے لگے: ''میں نے آپ کی نظم سنی۔ مجھے یہ چاہئے۔‘‘ میں نے اگلے ہی دن انہیں یہ نظم بھجوا دی۔
زنداں کی تنہائیوں، لمبے دنوں اور طویل راتوں نے فواد کے نہاں خانۂ دل میں چھپی مخملی ڈبیا کھولی اور عطر کی خوشبو ساٹھ سالہ قیدی کی کھولی میں پھیلتی چلی گئی۔ خوشبو کا خاصہ ہے کہ وہ سلاخوں، پھاٹکوں اور فصیلوں سے بے نیاز ہوتی ہے۔ زنداں میں ایسا سہارا مل جائے تو قید کی اذیت کم ہو جاتی ہے۔ کم کیا ہوتی ہو گی، بس دھیان کالی سلاخوں کی گنتی اور ننگے فرش کی بے مہری سے ہٹ کر تخلیق کے عمل میں جُت جاتا اور سختیٔ دیوار و در کو کم کر دیتا ہے۔
فواد کا کلام مجھے اس کے جواں سال اور خوش خصال بیٹے سلال کے ذریعے ملنے لگا تو مجھے خوشی ہوئی۔ اس کی نعت کے دو اشعار تھے:
حضورؐ آپ کی نسبت اگر میسر ہو
زمانے بھر میں ہمارا بھی نام ہو جائے
کروں میں کلمۂ توحید سے سحر آغاز
شہادت شہِ مرسلؐ پہ شام ہو جائے
کشمیر پہ اس کی دو نظمیں کمال کی تھیں …
سنا ہے وادی نے آنے والے برس کی خاطر
نئے شہیدوں کی فصل تیار کر رکھی ہے
یہ معرکہ اب جنوں سے آگے گزر گیا ہے
جو جبر سہہ کر بھی سر بکف ہے وہ جی رہا ہے
جو ظلم کرکے بھی ڈر رہا ہے وہ مر گیا ہے
میں نے فواد کیلئے کہی گئی اپنی طویل نظم سلال کو بھیجی جس کا آغاز اس طرح تھا:
بہت دن ہو گئے…!ملنے نہیں آئے
نہ جانے کس دیارِ سنگ و آہن کا نوشتہ ہو گئے ہو
کون سے‘ آسیب گھر کے پیچ و خم میں کھو گئے ہو
کسی طلسمِ قریۂ نا مہرباں نے تم کو پتھر کر دیا
ہفتوں، مہینوں اور برسوں سے،
نہیں… شاید زمانوں سے
مجھے ملنے نہیں آئے
تم ایسے بے مروّت تو نہیں تھے
اگلے دن سلال نے بتایا: ''انکل میں نے آپ کی نظم کا پرنٹ آئوٹ بابا کو دے دیا تھا۔ وہ ایک نظر ڈالتے ہی پہچان گئے۔ مسکرانے لگے مگر میں نے دیکھا کہ بہت غمگین سے ہو گئے ہیں۔‘‘فواد کی بھیجی ایک غزل کا شعر تھا:
جو با کمال تھے سارے خزاں نصیب ہوئے
جو بے ہنر تھے وہ سب سایۂ بہار میں تھے
فواد کا یہ شعر مجھے بہت دور لے گیا۔ میں پہروں سوچتا رہا کہ ڈھیری حسن آباد جیسی بے آب و رنگ بستی کی تنگ داماں گلیوں میں پروان چڑھنے، سرکار کے کم نسب سکولوں میں تعلیم پانے اور کان کنی کرتے ہوئے کسی مرتبے پر پہنچنے کے بعد اپنی توانائیوں کا قطرہ قطرہ، اپنی صلاحیتوں کی رمق رمق اور اپنے لہو کی بوند بوند اپنے وطن کی نذر کر دینے والوں کو ہم کس سفّاکی سے الزام و دشنام کا نشانہ بناتے اور انہیں عقوبت خانوں میں ڈال کر لطف اٹھاتے ہیں۔ کتنے خوش بخت ہیں وہ جو عالی نسب آبادیوں میں جنم لیتے، بلند نام درس گاہوں میں تعلیم حاصل کرتے اور پھر دور دیس سدھار جاتے ہیں۔ کچھ وقت بعد آئی ایم ایف یا ورلڈ بینک کی بارگاہِ ناز سے ہوتے ہوئے ہمارے اداروں کا لہو نوش کرنے آ جاتے ہیں۔
ضمانت پر رہائی کی نوید پا کر فواد نے دو اشعار پر مشتمل قطعہ کہا:
سحر کا اک نیا منظر دکھانے آیا ہوں
یہ رات کٹ کے رہے گی بتانے آیا ہوں
جو ہم سے روٹھ چکے ہیں وہ خواب سے منظر
تمہاری آنکھ میں پھر سے بسانے آیا ہوں
سلال نے یہ قطعہ بھیجا تو مجھے تشویش ہوئی۔ کیا فواد اب بھی نہیں سمجھ پایا کہ ہمارے دیس کے پہاڑ کس سنگ و آہن میں ڈھلے ہیں اور ان سے جوئے شیر لانے والا کوئی تیشہ ابھی تک ایجاد نہیں ہوا۔ کوہ کن سر پھوڑنے کے سوا کیا کرلے گا۔ میں نے اُسے ایک نظم بھیجی جس کے کچھ اشعار تھے:
تمہیں یہ کس نے بتایا کہ رات کٹنے کو ہے؟
سیاہ سایۂ آسیب سر سے ہٹنے کو ہے
یہ رات کٹ بھی گئی تو سحر نہیں ہو گی
اگر ہوئی بھی تو ہم کو خبر نہیں ہو گی
کاش میرے شاگردِ عزیز کی پیش بینی درست ثابت ہو اور میرے واہمے غلط نکلیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *