فیس بک‘ واٹس ایپ اور افواہوں کے سیلاب میں

چینیوں نے حدیث پڑھے بغیر ووہان میں وہ کچھ کیا جو میرے آقا نبی آخرالزماں حضرت محمدﷺ نے چودہ سو سال قبل فرمایا تھا۔ یہ لاک ڈائون کیا ہے؟ شہر کو‘ علاقے کو اور ملک کو آمد و رفت کے لیے بند کر دینا۔ لوگوں کو آنے جانے سے روک دینا اور سفری سرگرمیاں معطل کر دینا۔ یہ لاک ڈائون ہے۔ میرے آقا نے یہی فرمایا کہ جب وبا پھیلے تو جس شہر میں وبا ہو وہاں سے کوئی باہر نہ جائے اور باہر سے کوئی شخص اس شہر میں نہ آئے۔ یہ وہ طریقہ کار ہے جس سے کسی علاقائی وبا یعنی Epidemic کو عالمی وبا یعنی Pandemic بننے سے روکا جا سکتا ہے۔
لشکر میں طاعون کا مرض پھیل گیا۔ امیر ِملت حضرت ابو عبیدہ بن جراحؓ سپہ سالار کے فرائض سر انجام دے رہے تھے۔ طاعون کی خبر خلیفہ وقت حضرت عمر ابن الخطاب ؓ تک پہنچی۔ انہیں لشکر کی فکر تو تھی ہی‘ لیکن یکے از عشرہ مبشرہ حضرت ابو عبیدہ بن جراحؓ کی فکر سب سے بڑھ کر تھی۔ ابھی جناب ابو عبیدہ بن جراحؓ محفوظ و مامون تھے اور انہیں طاعون کا مرض بھی لاحق نہ ہوا تھا۔ حضرت عمرؓ نے پیغام بھجوایا کہ آپ مدینہ شریف لے آئیں۔ حضرت ابو عبیدہ بن جراحؓ نے جواب بھجوایا: اے عمرؓ! کیا آپ کو خبر نہیں کہ ہمارے آقاؐ نے اس بارے میں کیا فرمایا ہے؟ آپ وہ کیسے کہہ سکتے ہو جس سے آخری نبیؐ نے منع فرمایا ہے؟ اور میں وہ کیسے کر سکتا ہوں جس سے مجھے روک دیا گیا ہے؟ روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے خود آ کر حضرت ابو عبیدہ بن جراحؓ سے ملنا چاہا تو کہا: آپ مدینہ سے باہر کیسے آ سکتے ہیں؟ حضرت ابو عبیدہ بن جراحؓ کو طاعون لاحق ہو گیا اور ان کی شہادت اسی مرض سے واقع ہوئی‘ لیکن طاعون کا مرض لشکر سے نکل کر مدینہ نہ پہنچ سکا اور اہلِ مدینہ اس وبا سے محفوظ رہے۔ اور صرف اہل مدینہ ہی نہیں‘ بلکہ ان کے محفوظ ہونے سے دیگر آبادیاں بھی اس وبا سے محفوظ رہیں۔
اگر تفتان بارڈر اور ائیر پورٹس پر متاثرین کو بروقت قرنطینہ منتقل کر دیا جاتا تو معاملات کو کسی حد تک کنٹرول کیا جا سکتا تھا۔ ایک انگریزی کہاوت ہے : Nip the evil in the bud یعنی برائی کو اس کے آغاز میں ہی پکڑنا چاہیے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم حکومتی سطح پر بھی اور عوامی حوالوں سے بھی ایک غیر ذمہ دار رویے کے حامل ہیں۔ سرکار اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتی اور ہم اجتماعی طور پر خود پرلے درجے کے غیر ذمہ دار ہیں۔ لہٰذا معاملات خراب ہوں تو پھر حد سے زیادہ خراب ہونے کی طرف چلے جاتے ہیں۔ شنید ہے کہ تفتان پر حکومتی رکاوٹوں کا معاملہ زلفی بخاری نے خراب کیا اور ائیر پورٹس پر وہاں تعینات سرکاری اہلکاروں نے ۔گجرات والے بشارت کا قصہ تو آپ سن ہی چکے ہوں گے۔ اسلام آباد ائیرپورٹ پر سپین سے آنے والے بشارت میں کورونا مرض کی علامات ملیں۔ ٹیسٹ کیا گیا تو وہ پازیٹو آیا۔ موصوف چھ ہزار روپے دے کر گھر آ گئے۔ تین دن تک گھر والوں اور ملنے جلنے والوں سے ''بخیریت آمد‘‘ کی خوشی میں جپھیاں ڈالتے رہے۔ اب بیٹے سمیت پوری فیملی کورونا کا شکار ہے۔ خدا جانے ابھی کتنے ملنے جلنے والوں نے اس ایک شخص کی وجہ سے کورونا بھگتنا ہے‘ جسے چھ ہزار روپے کے عوض سرکاری اہلکاروں نے بیماری پھیلانے کے لیے آزاد چھوڑ دیا۔ اب خان صاحب نے اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ٹوئٹر پر دو سطری پیغام کے ذریعے چمن بارڈر کھول دیا ہے۔ کبھی ہم طورخم بارڈر کھول دیتے ہیں کبھی بند کر دیتے ہیں اور یہی حال ائیر پورٹس کا ہے۔ اللہ جانے ہمارے ہاں ایسے نازک فیصلے کسی باقاعدہ طریقہ کار کو اپنانے کے بجائے فرد واحد کیسے کر لیتا ہے؟ پوری دنیا میں اس قسم کی صورتحال میں ایسے فیصلے انتہائی غور و خوض کے بعد Proper forums پر کیے جاتے ہیں‘ مگر ہمارے یہ فیصلے وہ کر رہے ہیں جنہیں تقریر کرنے کے علاوہ اور کچھ کرنا نہیں آتا بلکہ اب تو تقریر کا معیار بھی روز بروز گرتا جا رہا ہے۔
المیہ یہ ہے کہ خوف زیادہ پھیلایا جا رہا ہے اور عملی طور پر درست آگاہی کا کوئی مناسب بندوبست نہیں ہے۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ فی الوقت سب سے بڑا مشیر فیس بک ہے‘ سب سے لائق فائق اور قابل ڈاکٹر واٹس ایپ ہے اور باقی کی رہی سہی کسر افواہوں نے پوری کر رکھی ہے۔ ام القریٰ یونیورسٹی مکہ کے میڈیکل کالج کے ایک دل کے ماہر یعنی Cardiologist صاحب نے (اللہ جانے موصوف وہاں کمپائوڈر بھی ہیں یا نہیں)کورونا کو مارنے کا بڑا آسان نسخہ بتایا ہے کہ اگر آپ اس وائرس کا شکار ہو جاتے ہیں تو عام ہیئر ڈرائیر کی گرم ہوا سانس کے ذریعے اندر لے جائیں اس گرم ہوا سے کورونا وائرس فوراً ہلاک ہو جائے گا۔ اگر ہیئر ڈرائیر نہ ہو تو پانی ابال کر برتن کے اوپر خود کپڑا ڈال کر بھاپ لیں۔ کورونا وائرس کی ایسی تیسی۔ اب ہمارے ایڈوائزر ایسے ایسے چپڑ قناتی لوگ ہوں گے تو قوم کا کیا حال کریں گے؟ اگر ایسی بات ہو تو انسانی جسم کا اندرونی درجہ حرارت ویسے ہی 37 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے اور اگر کورونا کا مرض (خدانخواستہ) لاحق ہو جائے تو بخار کی شدت میں یہ درجہ حرارت بڑھ کر از خود (100 درجہ فارن ہائیٹ سے 104 درجہ فارن ہائیٹ تک) 37.77 سے 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک ہو جاتا ہے۔ اس طرح تو وائرس کو جس کے بارے میں بڑا شور سن رہے ہیں کہ 28 ڈگری سینٹی گریڈ پر مر جائے گا‘ انسانی جسم میں بغیر علاج کے مر جانا چاہیے۔ لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ ایسی صورتحال میں درست ہیلتھ ایڈوائزری کی اشد ضرورت ہے۔
امریکہ سے ڈاکٹر مبین سید کی گفتگو سے چند اہم نکات:
-:1 ہم نے کورونا وائرس سے متاثرہ ممالک بشمول پاکستان سے اس مرض کے سمپل لیے ہیں اور ان کا تجربہ کیا ہے۔
-:2 ہمیں اندازہ ہوا ہے کہ پاکستان کے حوالے سے ہم پہلے ہی تاخیر کا شکار ہیں۔
-:3 پاکستان میں وائرس شارحانہ (Exponential)سٹیج پر ہے اور جلد ہی ہزاروں لوگ اس مرض میں مبتلا نظر آسکتے ہیں۔
-:4 یہ بات ذہن میں رہے کہ ہر متاثرہ مریض اسے کم از کم تین لوگوں تک منتقل کرتا ہے۔ یعنی ہر روز اس کے تین گنا ہونے کے امکانات ہیں۔
-:5 پچاس سال سے زائد العمر لوگ اس کے آسان شکار ہیں۔
-:6 اسے پھیلانے والے عموماً پچاس سال سے کم لوگ ہیں۔
-:7 پاکستان میں کاروبار کا پیشتر حصہ نقد پر مشتمل ہے اس لیے کرنسی نوٹ اس کے پھیلائو کا ایک بنیادی ذریعہ ہیں۔
-:8 پاکستان میں خاندان کے اکٹھے رہنے کی وجہ سے گھر کے نوجوان‘ والدین اور ان کے والدین کو اس وائرس سے متاثر کرنے میں مرکزی کردار سر انجام دیں گے۔
-:9 اس بیماری سے مرنے کی شرح پچاس سال سے زائد العمر لوگوں میں 4 فیصدہے یعنی ہر گھر میں پچاس سال سے زائد عمر کے اوسطاًتین افراد کا حساب کریں تو ہر آٹھ میں سے ایک گھر اپنے کسی پیارے سے محروم ہو سکتا ہے۔
-:10 ہم اندازہ لگاتے ہیں کہ صرف لاہور جیسے شہر کے لیے 4000 وینٹی لیٹرز کی ضرورت ہے۔ تین گنا بستروں کی اور اسی حساب سے آکسیجن کی فراہمی کی۔ جو موجودہ حالات میں نا ممکنات میں سے نظر آتا ہے۔
-:11 سب سے ہولناک بات یہ ہے کہ ایسی صورت میں سڑک پر بے یار و مددگار مرنے والوں کی امکانی شرح بڑھ سکتی ہے‘ اگر اس وائرس کے مراکز پر قابو نہیں پایا جاتا۔
اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے واحد قابلِ عمل حل صرف اور صرف تین سے چار ہفتوں پر مشتمل لاک ڈائون ہے۔ (جاری)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *