قومی اسمبلی نے زینب الرٹ بل متفقہ طور پر منظور کر لیا

پاکستان میں پارلیمان کے ایوانِ زیریں نے جمعے کو ’زینب الرٹ، رسپانس اینڈ ریکوری‘ بِل 2019 کی متفقہ طور پر منظوری دے دی ہے۔

اس مسودۂ قانون میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی بچے کے اغوا یا اس کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعہ کا مقدمہ درج ہونے کے تین ماہ کے اندر اندر اس مقدمے کی سماعت مکمل کرنا ہو گی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق بل کے ذریعے پولیس کو اس بات کا پابند بنایا گیا ہے کہ اگر کسی بچے کی گمشدگی یا اغوا کے واقعہ کی رپورٹ درج ہونے کے دو گھنٹوں کے اندر اس پر کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر پولیس افسر قانون کے مطابق اس پر عمل درآمد نہیں کرتا تو اس کا یہ اقدام قابلِ سزا جرم تصور ہو گا۔

یہ بل بچوں کی گمشدگی کے واقعات کو رپورٹ کرنے اور ان کی بازیابی کے لیے ایک نئے ادارے ’زینب الرٹ، رسپانس اینڈ ریکوری ایجنسی‘ کے قیام کی راہ ہموار کرے گا۔

اس بل کا اطلاق وفاقی دارالحکومت کی حدود میں ہوگا اور ملک کے چاروں صوبوں میں اس معاملے میں صوبائی اسمبلیاں قانون سازی کی ذمہ دار ہیں۔

یاد رہے کہ اس بل کی تیاری کا کام جنوری 2018 میں پنجاب کے شہر قصور میں چھ سالہ زینب کے اغوا، جنسی زیادتی اور قتل کے بعد شروع کیا گیا تھا۔ اس واقعے کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے کیے گئے تھے۔

زینب سے جنسی زیادتی اور قتل کے الزام میں انھی کے محلے کے ایک رہائشی عمران علی کو ڈی این اے ٹیسٹ اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے گرفتار کیا گیا اور انسدادِ دہشتگردی کی خصوصی عدالت میں ان پر مقدمہ چلا۔

عمران علی کی جانب سے اقرار جرم کے بعد 18 فروری کو انھیں چار بار سزائے موت، ایک بار عمر قید اور سات برس قید کی سزا سنائی گئی۔

اس کے بعد گذشتہ برس 17 اکتوبر کو لاہور ہائی کورٹ، سپریم کورٹ اور صدرِ پاکستان سے سزا کے خلاف کی جانے والی اپیلیں مسترد ہونے کے بعد انھیں لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں پھانسی دے دی گئی تھی۔

مگر اس سب کے باوجود بھی پاکستان کے کئی شہروں میں بچوں کے خلاف جرائم کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔

زینب الرٹ بل میں کیا ہے؟

جنسی زیادتی
دنیا کے برعکس پاکستان میں بچوں سے زیادتی کرنے والے افراد کا کوئی ریکارڈ مرتب نہیں کیا جاتا

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کی رکن مہرین بھٹو نے بتایا کہ اس بل کی منظوری اُس روز دی گئی ہے جبکہ زینب کی دوسری برسی منائی جا رہی ہے۔

اس بل کے تحت قومی کمیشن برائے حقوقِ بچگان کا نام تبدیل کر کے ’زینب الرٹ، رسپانس اینڈ ریکوری ایجنسی‘ رکھا گیا ہے اور اس ادارے کی سربراہی ایک ڈائریکٹر جنرل رینک کا افسر کرے گا جس کی تعیناتی وزیر اعظم قواعد وضوابط کے تحت کریں گے جبکہ دیگر اراکین کا تقرر بھی قانون کے مطابق کیا جائے گا۔

اس بل میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ یہ ادارہ بچے کی گمشدگی سے لیکر اس کی باحفاظت بازیابی اور بازیاب ہونے والے بچوں کی بحالی کے لیے موثر اقدامات کرے گا۔

اس بل میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ بچوں کے جنسی استحصال کرنے کے مقدمے میں دی جانے والی سزا کو 10 سال سے بڑھا کر 14 سال کر دیا جائے۔ یہ بل وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شریں مزاری نے جمعے کے روز قومی اسمبلی پیش کیا تھا جسے متفقہ طور پر منطور کر لیا گیا۔

اس بل میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی بھی کم عمر لڑکے یا لڑکی کو اغوا کرنے کے بعد قتل یا شدید زخمی کر دیا جاتا ہے یا اسے خواہش نفسانی کے لیے فروخت کر دیا جاتا ہے تو ایسے جرم کا ارتکاب کرنے والے کو موت کی سزا دی جائے گی یا پھر عمر قید اور یا پھر زیادہ سے زیادہ 14 سال اور کم سے کم سات سال قید کی سزا دی جائے گی۔

اس بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جائیداد کے حصول کے لیے اگر 18 سال سے کم عمر بچوں کو اغوا کیا جاتا ہے تو ایسے جرم کا ارتکاب کرنے والے شخص کو 14 سال قید اور جرمانہ ادا کرنا ہو گا۔

اس بل میں کہا گیا ہے کہ 18 سال سے کم عمر بچے کو ورغلا کر یا اغوا کر کے اس کی مرضی کے بغیر ایک جگہ سے دوسری جگہ پر لے جانا یا اسے اس کے والدین یا قانونی سرپرست کی تحویل سے محروم کیے جانا قابل سزا جرم ہو گا۔

جنسی زیادتی، سہیل ایاز، راولپنڈی
فروری 2018 میں قومی اسمبلی کو آگاہ کیا گیا تھا کہ ملک بھر میں گذشتہ پانچ برسوں کے دوران بچوں سے زیادتی کے 17862 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں

اس بل کے تحت ایک ہیلپ لائن بھی قائم کی گئی ہے جس کا نمبر 1099 ہے اس کے علاوہ ایس ایم ایس اور ایم ایم ایس سروس بھی شروع کی جائے گی۔

زینب قتل کے بعد بچوں کے خلاف ہونے والے چند دیگر جرائم

  • دسمبر 2019 میں مانسہرہ کے ایک مدرسے میں دس سالہ بچے کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا
  • نومبر 2019 میں راولپنڈی پولیس نے ایک گھرانے کی شکایت پر ملزم سہیل ایاز کو گرفتار کیا جس نے پولیس کے بقول 30 بچوں سے جنسی زیادتی کی اور ان کی ویڈیوز بنا کر فروخت کرنے کا اعتراف کیا
  • ستمبر 2019 میں ہی فیصل آباد سے چار افراد نے اپنے کمسن بچوں سے مبینہ زیادتی کی شکایات درج کروائی
  • ستمبر 2019 میں قصور کی تحصیل چونیاں میں ایک بچے کی لاش اور دو کی باقیات ملیں۔ فیضان نامی بچے کے بارے میں معلوم ہوا کہ انھیں زیادتی کے بعد قتل کیا گیا تھا
  • مارچ 2019 میں صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بٹگرام میں نویں جماعت کے طالب علم محمد عدنان نے مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بننے کے بعد خودکشی کر لی تھی

اس کے بعد فروری 2018 میں قومی اسمبلی کو فراہم کی جانے والے معلومات کے ذریعے بتایا گیا کہ وفاقی دارالحکومت سمیت ملک کے چاروں صوبوں میں گذشتہ پانچ برسوں کے دوران بچوں سے زیادتی کے 17862 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

رپورٹ ہونے والے 10620 واقعات میں لڑکیوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ اسی عرصے کے دوران 7242 لڑکوں کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق وقفہ سوالات میں وزارت انسانی حقوق کی طرف سے اعداد و شمار پیش کیے گئے جن کے مطابق اس عرصے کے دوران پولیس کے پاس زیادتی کے 13263 واقعات رپورٹ ہوئے۔

پاکستان
مجرم عمران علی کو اقرار جرم کے بعد 18 فروری کو انھیں چار بار سزائے موت، ایک بار عمر قید اور سات برس قید کی سزا سنائی گئی تھی اور گذشتہ سال اکتوبر میں انھیں پھانسی ہوئی تھی

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کی سب کمیٹی نے جون 2019 میں اس بل کی منظوری دیتے ہوئے سفارش کی تھی کہ گمشدہ بچوں کے واقعات کی رپورٹ گمشدگی کے دو گھنٹے کے اندر درج کرنے کے لیے ون ونڈو سہولت متعارف کروائی جائے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں 21 رکنی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے چھ جنوری 2020 کو اس بل کی منظوری دی جس کے بعد اسے آج قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا۔

حکومت کے مطابق اس بل کا مقصد یہ ہے کہ دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے میں گمشدہ، بھگائے گئے، نابالغ بچوں کے ساتھ زیادتی یا اغوا ہونے والوں کے بازیابی کے لیے ادارے تیز ردِعمل کریں گے۔

بل کے بیان کیے گئے دیگر مقاصد میں گمشدہ یا اغوا شدہ بچوں کی بازیابی، اور بچوں کے خلاف مجرمانہ سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے خصوصی قوانین کا نفاذ، جبکہ ان کے تحفظ کے لیے قائم کیے گئے نئے اداروں کے کام اور پہلے سے رائج طریقہ کار میں ہم آہنگی پیدا کرنا بھی شامل ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *