لندن سے استنبول اورقونیہ کا علمی اور ادبی سفر

انسان سیر و سیاحت اور ہجرت کا ہمیشہ سے شوقین اور دلدادہ رہا ہے۔ تاریخ کے صفحات کو الٹا جائے تو دنیا کی معروف ہستیاں اور سیاح نے جہاں دنیا کی کھوج کی ہے وہیں ان لوگوں نے ہمیں اس خوبصورت دنیا سے متعارف بھی کرایا ہے۔ تاہم تاریخ کے حوالے سے ہمیں یہ بھی جانکاری ملتی ہے کہ لٹیروں اور ظالموں نے اپنے سے کمزور ملک کو لوٹا اور اس پر قبضہ کیا ہے تو وہیں اس ملک کو اپنا کر اس کی خاطر اپنی جانیں بھی قربان کی ہیں۔ اب تو دنیا کے بیشتر ممالک کے لوگ اپنی اپنی پسند کے ممالک کا سفر اور کاروبار کرتے ہیں، جس سے ان ممالک کو سیاحوں کے ذریعہ اچھی خاصی آمدنی بھی ہوتی ہے۔ دنیا کے بہت سے ممالک کی معاشیات سیاحت پر منحصر کرتی ہے۔
لندن کی مصروف ترین زندگی سے تنگ آکر ہر انسان دنیا کی سیر یا ایسی جگہ جانا چاہتا ہے،جہاں اسے کچھ پل کے لیے آرام اور ذہنی سکون ملے۔زیادہ تر انگریزوں میں دنیا کی کھوج اور سیر کرنے کی خواہش خوب پائی جاتی ہے۔ انگریزوں کے اسی شوق نے انہیں دنیا کہ بے شمار ملکوں کا حاکم بھی بنا دیا۔انگریزوں کو دنیا کی سیر کرنے کے شوق کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ برطانوی پونڈ مسلسل مضبوط ہورہا ہے۔ اس کے علاوہ برطانیہ کے زیادہ تر لوگ امیر ہیں۔ جس سے انہیں دنیا کے مختلف مما لک گھومنے پھرنے کے لیے کسی مالی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ہے۔تاہم دنیا کی سیر کا شوق یورپ کے زیادہ تر لوگوں میں عام طور پر پایا جاتا ہے۔مجھے بھی برطانیہ میں رہتے ہوئے اور پیشہ وارانہ زندگی گزارتے ہوئے چھبیس سال ہو گئے ہیں اور سچ پوچھیے تو میرے اندر بھی سیر و تفریح کا شوق 2015سے ہی جاگا ہے۔
چند ماہ قبل بھائی انور ظہیر رہبر جو جرمنی میں مقیم ہیں، نے مشورہ دیا کہ کیوں نہ ہم، آپ، امتیاز گورکھپوری اور پروفیسرڈاکٹر محمد کاظم استنبول میں ملاقات کریں۔ میں نے جب ان سے پوچھا کہ استنبول میں ہی کیوں؟ تو ان کا جواب تھا: ’اگر اللہ نے مجھے دوبارہ جنم دیا تومیری خواہش ہوگی کہ وہ شہر استنبول میں پیدا کرے‘۔ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ انور ظہیر صاحب نے میرے دل کی بات کہہ دی۔ 2015میں پہلی بار میں استنبول گیا تھا اور جناب استنبول سے ایسی محبت کر بیٹھا کہ اب ہر سال ایک چکر لگ جاتا ہے۔خیر اسی طرح ہم لوگوں کا پروگرام طے پایا۔
اسی درمیان میں نے اپنے دوستوں کو یہ بھی مشورہ دیا کہ کیوں نہ امتیاز گورکھپوری اور پروفیسر ڈاکٹر محمد کاظم کی کتاب کا اجرا استنبول یونورسیٹی میں کر وا دیا جائے۔ سبھوں نے کہا،نیکی اور پوچھ پوچھ۔ تبھی ہم نے استنبول یونیورسیٹی کے شعبہ صدر سے بات کی اور حضرت نے خوشی خوشی حامی بھرتے ہوئے کہا کہ آپ ہمارے شعبہ کے ایک استاد جن کا تعلق ہندوستان سے ہے ان کو بتا دیں وہ اس کو ترتیب دے دیں گے اور جو بھی ضروری کاروائی ہے وہ پوری کریں گے۔اور کاروائی کا سلسلہ شروع ہوا۔ وقفے وقفے سے ہمیں بتایا گیا کہ ہال بک ہو گیا ہے، اشتہار کا مواد بھیج دیں، ویزا کے لیے درخواست دے دیں، اور اس کے لیے دعوت نامے اور ضروری کاغذات بھی بھیجے گئے۔ پھر نہ جانے اچانک کیا ہوا کہ وقت کے قریب آتے ہی ہندوستانی استاد کے رویے میں حیرت انگیز تبدیلی آنے لگی اور یہاں تک کہ ان کی بے رحمی اور زیادتیوں سے ہم افسردہ اور دل برداشتہ ہونے لگے۔ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ ہندوستانی استاد کیوں ایسا کر رہے تھے۔ آخر کار استنبول روانگی سے تین ہفتے قبل حضرت کا ایک پیغام آیا جس میں انہوں نے لکھا کہ پروگرام کے لیے $2000دو ہزار امریکی ڈالر ادا کرنے پڑے گیں۔پہلے تو ہم اسے مذاق سمجھے لیکن سونے پہ سہاگا صدر شعبہ نے بھی اس کی تصدیق کر ڈالی اور مشورہ دے دیا کہ آپ اپنا پروگرام کہیں اور کرالیں۔یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ ہندوستانی استاد کو میں نے پڑھاتے کم اور صدر شعبہ کا بیگ ڈھوتے زیادہ دیکھا ہے۔ میری منھ سے بے ساختہ نکلا کہ ’ہائے بے مروت، اللہ تمہیں غارت کرے جو ہمارے ساتھ ایسی بے رحمی والی بات کہی‘۔اور زبان پر یہ شعر آیا:دل بہت بے چین بے آرام ہے۔ کیا محبت کا یہی انجام ہے
خیر کہتے ہیں جب کوئی انسان کسی کے لیے ایک دروازہ ہ بند کرتا ہے تو اللہ دوسرا دروازہ کھول دیتا ہے۔اسی درمیان پروفیسر ڈاکٹر خاقان قیومچی سے ہمارا رابطہ ہوا اور انہوں نے ہمیں مشورہ دیا کہ اگر آپ ترکی کا سفر کر رہے ہیں تو کیوں نہ قونیہ کے سلجوق یونیورسیٹی کے مولانا رومی انسٹی میں ’مولانا رومی اور ان کی شاعری‘ پرآپ لوگ لیکچردے دیں۔ الحمداللہ ہم نے ان کی دعوت قبول کی اور 20نومبر کو ہم سب نے اس پروگرام میں شرکت کرنے کی حامی بھر لی۔
ہفتہ 16/نومبرکی صبح سات بجے میں لندن سے ترکِش ائیر لائنس پر سوار ہو کر ترکی کے مقامی وقت کے مطابق دوپہر کے ایک بجے استنبول کے نئے ائیر پورٹ پہونچ گیا۔استنبول ائیر پورٹ کا افتتاح اپریل میں ہوا ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ دنیا کا سب سے بڑا ائیر پورٹ ہے۔ ائیر پورٹ جدید آرائشوں سے سجا ہوا ہے۔ میں ایک چائے خانے پر تھوڑی دیر چائے پینے کے لیے رک گیا۔ تھوڑی دیر بعد ائیر پورٹ سے باہر آیا اور ایک بڑی سی بس پر سوار ہو کراستنبول شہر کے معروف علاقے تقسیم کی طرف روانہ ہوگیا۔
اتوار 17 /نومبر کو بھائی انور ظہیر، پروفیسر ڈاکٹر محمد کاظم اور امتیاز گورکھپوری بھی استنبول پہنچ گئے۔ ہم چاروں آپس میں مل کر بہت خوش ہوئے۔ شام تک ہوٹل پہنچ کر آرام کیا اور جرمنی اور ہندوستان کے متعلق باتیں ہونے لگیں جو رات دیر تک جاری رہی۔یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ انور ظہیر صاحب کی امتیاز گورکھپوری اور محمد کاظم سے پہلی ملاقات تھی۔
سوموار18/نومبرکو ہم سب سلطان احمد مسجد جسے ’بلو موسک‘بھی کہتے ہیں دیکھنے چلے گئے۔ سڑکیں سیاحوں سے کھچا کھچ بھری تھیں اور لوگ دیوانوں کی طرح کبھی کسی دکان کی طرف لپکتے تو کبھی ریستوران کی جانب جاتے۔ ہم بھی بھیڑ کو چیرتا ہوا سڑک کو پار کر کے سلطان احمد مسجد کی جانب چلنے لگے۔میں ابھی بھیڑ میں بمشکل ہی گُم ہوا تھا کہ میری نظر آسمانوں سے چھوتی سلطان احمد مسجد کی میناروں پر پڑی۔ ایسا محسوس ہوا کہ سلطان احمد مسجد ہمارا استقبال کر رہی ہے۔تیز قدموں سے میں مسجد کی جانب بڑھنے لگا۔ ہوٹل سے سلطان احمد مسجد کا فاصلہ کوئی بیس منٹ کا تھا جسے ہم نے پیدل چل کر طئے کیا۔ بلو موسک 1609-1616کے درمیان تعمیر ہوئی تھی۔ اسے اس وقت کے حکمراں سلطان احمد نے تعمیر کروایا تھا۔ مسجد کے اندرونی حصہ ّ میں بلو ٹائیلس کا خوبصورت استعمال کیا گیا ہے جس کی مناسبت سے اس مسجد کو بلو موسک کہتے ہیں۔ بلو موسک پہنچ کر ہم نے سیاحوں کا ایک ہجوم پایا جو مسجد کے اصول کے مطابق کھلے سر اور پیر اندر نہیں جا سکتے تھے۔جس کی وجہ سے دروازے پر داخل ہونے میں تھوڑا وقت بھی لگا۔ دورانِ نماز سیاحوں کو اندر جانے سے روک بھی دیا جاتا ہے تاکہ اس سے نمازیوں کو کسی قسم کی دشواری نہ ہو۔مسجد میں داخل ہوتے ہی اس کی تاریخی اہمیت کا پتہ چلتا ہے۔ مسجد کے اندرونی حصے ّ میں ترکی سنگِ مر مر کی کاریگری کی بہترین جھلک دکھتی ہے جسے دیکھ کر سلطنتِ عثمانیہ کی شان کا بھی پتہ چلتا ہے۔ سیاحوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہونے کے باود مسجد میں ایک خاص سکون کا احساس ہوتا ہے۔میں یہاں بھی بتاتا چلوں کہ استنبول کو مساجد کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔یوں تو پورے ترکی میں 82,693 مساجد ہیں جبکہ صرف استنبول شہر میں 3,113 مساجد ہیں۔ جن میں د س تاریخی اور معروف مسجدیں ہیں جنہیں دیکھنے کے لئے سیاّح ہر سال دنیا بھر سے آتے ہیں۔
منگل 19/ نومبر کو استنبول کے صبیہا گوکچین انٹر نیشنل ائیر پورٹ سے قونیہ شہر کے لیے ہم سب روانہ ہوئے۔ کم و بیش ایک گھنٹے کے سفر کے بعد قونیہ کے چھوٹے سے ائیر پورٹ پر دوپہر کے دو بجے خیر عافیت سے پہنچ گئے۔ باہر نکلتے ہی پروفیسر ڈاکٹر خاقان قیومچی اپنی بانہیں پھیلائے ہمارا استقبال کر رہے تھے۔ پروفیسر خاقان کی مسکراہٹ نے ہمارے سفر کی ساری تھکان دور کر دی۔ پروفیسر خاقان کی گاڑی میں سوار ہو کر ہم سب سلجوق یونیورسیٹی کی جانب روانہ ہوگئے۔ راستے بھرقونیہ شہر کی خاموشی اور سکون مجھے مولاجلاالدین رومی کی پاک سر زمین پر پہنچنے کا احساس دلانے لگی۔سڑک کے کنارے درختوں کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا جیسے وہ سب’مرحبا مرحبا‘ کہہ رہے ہوں۔
یونیورسیٹی کے انٹرنیشنل گیسٹ ہاؤس میں سامان رکھ کر ہم سب پروفیسر خاقان کے ہمراہ شہر کی سیر کو نکل گئے۔قونیہ شہر کا موسم کافی سرد تھا جس سے ہمیں لندن کی یاد آنے لگی تھی۔ لیکن پروفیسر ڈاکٹر رجب درگن نے ہمیں بتایا کہ قونیہ میں سردی تو پڑتی ہے لیکن اتنا گہرا کوہرا نہیں پڑتا۔ رات کو جب لوٹ رہے تھے تو رجب صاحب کی باتوں کی نفی نظر آئی یعنی سڑکوں پر سخت کہرا تھا،جس سے پروفیسر ڈاکٹر رجب درگن کو گاڑی چلانے میں کچھ دقتیں بھی ہو رہی تھیں۔ خیر اللہ اللہ کر کے ہم سب سلجوق یونیورسیٹی کے عالیشان گیسٹ ہاؤس میں واپس آگئے اوراگلے دن ہونے والے مولانا رومی کے پروگرام کی تیاری میں جٹ گئے۔ دن بھر کی تھکان سے ہم سب اتنا نڈھال ہوچکے تھے کہ نہ جانے کب ہماری آنکھ لگ گئی پتہ ہی نہیں چلا۔
(بقیہ اگلے ہفتے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *