مولانا رومی پر لیکچر اور سلجوق یونیورسٹی

لندن سے استنبول جاتے وقت ہم نے ارادہ کیا تھا کہ نہ ہم دن کی پرواہ اور نہ ہی وقت کا تعین کریں گے۔ کیونکہ لندن کی مصروف ترین زندگی نے مجھے وقت اور دن کا ایسا پابند بنا دیا ہے کہ میں گھڑی اور تاریخ کا غلام بن کر رہ گیا ہوں۔ویسے یہ بات بری بھی نہیں ہے کیونکہ اس کی وجہ سے میری زندگی میں نظم و ضبط پیدا ہوگیا ہے اور میں اپنی کامیابی کا سہرا وقت کی پابندی کے سر ہی باندھتا ہوں۔تاہم ترکی کے سفر کے دوران بھی ہم سبھوں نے ہر کام وقت مقررہ پر کیا اور کامیابی حاصل کی۔
بدھ 20/ نومبر کی صبح نوبجکر پانچ منٹ پر پروفیسر ڈاکٹر خاقان قیومچی اور پروفیسر ڈاکٹر رجب درگن ٹھیک وقت پر سلجوق یونیورسیٹی کے انٹر نیشنل گیسٹ ہاؤس پہنچ گئے۔ ہم سب تیار ان کا انتظار کر رہے تھے۔ انھوں نے دیر سے آنے کی معافی مانگتے ہوئے کہا: ’معاف کیجیے گا ہمیں آنے میں پانچ منٹ کی دیر ہو گئی‘۔ آپ کو حیرت ہو رہی ہوگی کہ اول تو پانچ منٹ کی دیر بھی کوئی دیر ہے اور اس پر معافی مانگنا۔ لیکن یہی ان کی تہذیب ہے جس سے ان کے ملک کی ترقی کے راز کا پتہ چلتا ہے۔ خیردونوں اپنی اپنی گاڑی لے کر آئے تھے ہم لوگ گاڑی میں سوار ہو کر پروگرام میں شرکت کے لیے نکل پڑے۔راستے بھر ہم مختلف امور پر باتیں کرتے رہیں تبھی گاڑی ایک عالیشان عمارت کے سامنے رکی اور ہم سب مولانا رومی انسی ٹیوٹ میں داخل ہو گئے۔مولانا رومی انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر علی تمیزیل نے ہمارا والہانہ استقبال کیا۔ کچھ رسمی گفتگو کے بعد امتیاز گورکھپوری کی ترتیب کردہ کتاب’لفظ بولیں گے میری تحریر کے، پروفیسر ڈاکٹر محمد کاظم کی ترتیب و تدین سے مزین کتاب ’فہیم اختر کے افسانے‘، اور مصر کی ڈاکٹر ولاء جمال العسیلی کی ’سمندر ہے درمیاں‘ کا اجرا بدست پروفیسر ڈاکٹر علی تمیزال کے ہاتھوں ہوا۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ فخر ہے کہ ڈاکٹر ولاء جمال العسیلی پہلی عربی خاتون ہیں جن کی اردونظموں کا مجمو عہ منظر عام پر آیا ہے۔
کچھ دیر بعد سلجق یونیورسیٹی کے مولانا رومی انسٹی ٹیوٹ کے شاندار ہال میں مولانا رومی اور ان کی شاعری پر لیکچر کا آغاز ہوا۔ جس کی صدرات انٹرنیشنل ریلیشن کے پروفیسر ڈاکٹر ثوبان نے کی۔ پروگرام کا آ غاز ترکی کے قومی ترانے سے کیا گیا۔ مولانا رومی کی زندگی اور اس کی شاعری پر جرمنی سے تشریف لائے مہمان جناب انور ظہیر رہبر، ممبئی، انڈیا سے امتیاز گورکھپوری، دلی یونیورسیٹی سے پروفیسرڈاکٹر محمد کاظم، اور میں نے لیکچر دیے۔ جسے سامعین نے کافی سراہا۔ آخر میں سوال و جواب کا سلسلہ بھی چلا جس کا تشفی بخش جواب دیا گیا۔
ایک بات دلچسپ تھی وہ یہ کہ پورے پروگرام میں سلجوق یونیورسیٹی کے وائس چانسلرپروفیسر حسین کارا صاحب ہمارے ساتھ جلسہ گاہ میں سامعین میں موجود تھے۔ ایسا اب تک کہیں نہیں دیکھا کہ یونیورسٹی کا وائس چانسلر جلسہ گاہ میں ہو اور وہ ڈائس کے مرکز میں ہونے کے بجائے سامعین میں بیٹھ کر لکچر سنے۔ تعلیم اور معلم کی حیثیت اور وقار کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے۔ ظاہر ہے جس ملک میں اس طرح کی روایت ہو تو اس ملک کی ترقی اور تعلیمی نظام کا مقابلہ کون کر سکتا ہے۔ جلسہ کے بعد ان کی جانب سے ایک شاندار ظہرانے کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں ان کی پوری انتظامی ٹیم موجود تھی۔ بعد ازاں وائس چانسلر نے اپنے دفتر میں ہمیں کافی پلایا، وہاں تعلیم کے حوالے سے کچھ گفتگو ہوئی اور تمام مہمانوں کو تحفہ تحائف سے بھی نوازا۔ جب ہم سب رخصت ہونے لگے تو وائس چانسلر نے ہمیں ترکی کے خاص انداز میں بوسہ دے کر خدا حافظ کہا۔
قونیہ شہر کو مولاناجلال الدین محمد رومی کی وجہ سے جانا اور پہچانا جاتا ہے۔ہم سب ان کے مزارپر زیارت کے لیے پہنچے جہاں لوگوں کی اچھی خاصی تعداد موجود تھی۔ مولانا جلاالدین رومی کی پیدائش 1207میں بلخ، افغانستان میں ہوئی تھی۔ آپ کی مثنوی، فی مافیہ اور دیوان شمس تبریز معروف ہیں۔علامہ محمد اقبال مولانا رومی کو اپنا روحانی پیر مانتے تھے۔مولانا رومی کی شاعری میں اگر محبت کا پیغام ہے تو ان کی باتوں میں زندگی کی عکاسی ہے۔ کشف اور وجدان کے ذریعے حقیقت کو جاننے کے بعد صوفی صحیح معنوں میں عاشق ہوجاتا ہے کہ بہ رغبت تمام محبوب حقیقی کے تمام احکام کی پیروی کرتا ہے۔
جمعہ 22/ نومبر کی صبح آنکھ کھلی تو موبائیل کی گھڑی پر سات بج رہے تھے۔بستر سے اٹھا اور کھڑکی سے باہر جھانکا تو کچھ بھی نظر نہیں آرہا تھا۔ اندھیرے نے اب استنبول شہر پر اپنا قبضہ جما رکھا تھا لیکن اذان کی آواز نے اندھیرے کے سینے کو چاک کر دیا تھا۔میں بھی تیار ہو کر ہوٹل کے ترک ناشتے سے فارغ ہوا اور اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ باہر نکل پڑا۔جمعہ کی نماز ہم سبھوں نے گرانڈ بازار کے پاس ہی والی تاریخی مسجد نوروس مانئیے میں پڑھی۔

دوپہر کے دو بج رہے تھے اور زیادہ تر دکانیں کھل چکی تھیں۔آج مجھے اپنے ساتھیوں کودنیا کا قدیم ترین بازار ’گرانڈ بازار‘ دکھانا تھا۔گرانڈ بازار دنیا کا پہلا شاپنگ مال کہلاتا ہے۔ اس میں چار ہزار سے زیادہ دکانیں ہیں اور اس کے اندر اکسٹھ گلیاں ہیں۔سلطان محمد دوئم نے جب قسطنطنیہ کو فتح کیا تو اس نے 1455 میں گرانڈ بازار کی تعمیر کا حکم دیاجو 1730کے بعد مکمل ہوا تھا۔گرانڈ بازار استنبول کا ایک ایسا معروف اور مقبول بازار ہے جہاں 250,000سے لے کر 400,000لوگ روزانہ خریداری یا سیرکے لئے آتے ہیں۔ 2014میں گرانڈ بازار دنیا کی سب سے زیادہ دیکھنے اور پسند کرنے والی جگہ تھی۔جب لگ بھگ 91,250,000 سیّاح دنیا بھر سے گرانڈ بازار دیکھنے آئے تھے۔گرانڈ بازار میں داخل ہونے کے لئے بائیس دروازے ہیں۔بازار کی اونچی چھت اور جگمگاتی دکانوں سے اس کا صاف پتہ چلتا ہے کہ استنبول کا گرانڈ بازار ایک تاریخی اور باوقار جگہ ہے۔ پورا بازار لوگوں سے بھرا ہوا تھا اورتمام دکانیں لوگوں کی نگاہوں کا مرکز بنی ہوئی تھیں۔میں نے چند ہی منٹ میں محسوس کیا کہ گرانڈ بازار میں تمام چیزیں دستیاب ہیں۔ خاص کر قالین، کپڑیں، چمڑے سے تیار شدہ چیزیں، رنگ برنگے ترکی لیمپ اور دیگر چیزیں بازار میں دکانوں کی زینت بنی ہوئی تھیں۔گرانڈ بازار کی لمبائی اور چوڑائی کا اندازہ مجھے اس وقت ہوا جب ایک گھنٹے کے بعد تھکان محسوس ہونے لگی۔ بازار کے ایک حصّے میں ایک ریستواران تھا۔ ریستوران لوگوں سے بھرا ہوا تھا اور لوگ ترک کھانوں کا مزہ لے رہے تھے۔ ریستوران سلطنتِ عثمانیہ کے دور کی پینٹنگ سے سجا ہوا تھا۔ جگہ جگہ لال ترکی جھنڈا بھی ٹنگا ہواتھا۔
سنیچر 23 / نومبر کو ہم سب ابو ایوب انصاری کے مزار پر فاتحہ پڑھنے کی غرض سے حاضر ہوئے۔ آپ کا پورا نام خالد بن زید اور آپ مدینہ منورہ کے قبیلہ خجرج کے خاندان نجار سے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو ہر شخص میزبانی کا شرف حاصل کرنے کا خواہش مند تھا۔ لیکن حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جس جگہ اوٹنی بیٹھے گی وہیں آپ مقیم ہوں گے۔ اوٹنی ابو ایوب انصاری کے دروازے پر بیٹھی۔ ان کا مکان دو منزلہ تھا۔ نبی اکرم نے نیچے قیام فرمایا اور سات ماہ تک ان کے گھر پر رہے۔کہا جاتا ہے کہ سفر جہاد میں عام وبا پھیلی اورمجاہدین کی بڑی تعداد اس کے نذر ہوگئی۔ابو ایوب بھی اس وبا میں مبتلا ہو گئے۔ آپ نے فرمایا کہ تم دشمن کی سر زمین میں جہاں تک جا سکو میرا جنازہ لے جا کر دفن کرنا، چنانچہ وفات کے بعد اس کی تعمیل کی گئی۔ آپ کی وفات 42ہجری میں ہوئی اورآپ کو قسطنطنیہ (استنبول)میں دفن کیا گیا۔ابو ایوب انصاری کے مزار کے احاطے میں ایک عالیشان مسجد بھی ہے جو نمازیوں سے ہر وقت بھری رہتی ہے۔
اتوار24/نومبر کو سوٹ کیس تیار کر کے ہوٹل کے باہر ایک ٹیکسی میں ہم سب سوار ہو کر اپنے بوجھل دل سے استنبول کو خدا حافظ کہتے ہوئے استنبول ائیر پورٹ کی جانب چل پڑے۔امتیاز گورکھپوری اور محمد کاظم اپنی منزل ہو لیے اور ہم ترکش ائیر لائینز میں سورا ہوکر لندن روانہ ہوگئے۔مولانا رومی نے کیا خوب کہا ہے:
کبھی ہنستا، کبھی ر وتا، کبھی گر کر سنبھلتا ہوں
مسیحا دل میں در آیا، میں اس کے گرد ہوں رقصاں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *