نروداکے دیس میں نیا سال

عالمی سطح پرعوامی تحریکوں کاایک بالکل نیا پہلوسامنے آیا ہے،ان احتجاجی تحریکوں کی قیادت کوئی سیاسی جماعت نہیں کررہی ہے۔جیساکہ پڑوسی ملک ہندورستان میں جاری احتجاج ملک کے کونے کونے میں پھیل چکاہے،جس کی بنیاد غیر ملکی شہریوں کوبھارتی شہریت دینے کانیا قانون ہے۔مودی سرکارکے اس نئے قانون کے مطابق اگرآپ مسلمان ہیں تو پھرآپ کو انسانی ہمدردی کے تحت ہندوستان شہریت نہیں دے گا۔جبکہ بصور ت دیگربھارتی حکومت کی انسانی دوستی بیدار ہوگی اور آپ کو شہریت سے نواز دیا جائے گا۔گرچہ اس کالے قانون کے خلاف اپوزیشن کی تمام سیاسی جماعتیں بھی سراپااحتجاج ہیں مگرعوامی احتجاج کسی بھی سیاسی پارٹی کے کنٹرول میں نہیں ہے،وہ لوگ بھی احتجاج کاحصہ ہیں جوکسی سیاسی پس منظراورنظریے کے حامی نہیں ہیں۔حیرت انگیزطور پرعوامی ردعمل اوراحتجاج کایہی طریق اس وقت کئی ممالک میں جاری ہے۔اس کی ایک مثال لاطینی امریکہ کے ملک چلی سے اٹھنے والی مقبول عوامی احتجاج کی تحریک بھی ہے،جہاں میں اس وقت قیام پذیر ہوں۔

گزشتہ تین ماہ سے جاری اس عوامی احتجاج میں اب تک سو کے قریب افراد ہلاک ہو چکے ہیں،زخمیوں کی تعداددس ہزار سے زیادہ ہے جبکہ دس ہزارکے قریب تعدادمیں مظاہرین جیل بھیج دیئے گئے ہیں۔ریل کے کرایوں میں اضافے کے خلاف شروع ہونے والے اس عوامی کی ابتداء کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ نے کی تھی۔دارلحکومت سنتیاگوکے زیرزمین بیشترریلوے اسٹیشن کر نذر آتش دیئے گئے۔حکومت نے مظاہرین کودبانے کے لئے پولیس کا استعمال کیا۔جس سے احتجاج مزید پھیل گیا۔طلباء کے بعددیگرشعبہ ہائے زندگی کے لوگ بھی اس میں شامل ہوگئے۔نجکاری،مہنگائی اور معاشی تفاوت کے خلاف ملک کے تمام شہروں میں لوگ سڑکوں پرنکل آئے۔ان مظاہرین کی تعدادلاکھوں میں پہنچ گئی۔عوامی احتجاجی تحریک کے مطالبات میں کم از کم تنخواہ کی سطح میں اضافہ،صحت اور تعلیم کی بہتراور سستی سہولیات،پنشن کے نظام میں بہتری کے علاوہ نیاء آئین اور صدر مملکت کا استعفیٰ بھی شامل ہے۔موجودہ صدر پنیرا نے ایمرجنسی کا نفاذکرکے حالات کو قابوکرنے کی کوشش کی ہے۔جگہ جگہ فوج طلب کی گئی ہے اور رات کاکرفیوملک کے بیشتر شہروں میں نافذ کیا گیا۔کئی وزراء کے قلمدان تبدیل کئے گئے۔وزیرداخلہ اور خزانہ بھی بدل کردیکھے گئے ہیں۔حالات پرنظررکھنے والے احباب متفق ہیں اس بات پر کہ سوشلسٹ صدرآلندے کاتختہ الٹنے اور جنرل پنوشے کی فوج کشی کے ہنگام ایسی صورتحال ضروری تھی مگراس کے بعد کبھی حالات اتنے خراب نہیں ہوئے،جتنے اب ہوگئے ہیں۔دارلحکومت سے لے کرچھوٹے چھوٹے شہروں میں جانے کا اتفاق ہوا۔شہروں کامنظرواضح طور پر بدل چکا ہے۔جہاں جہاں شیشے لگے ہوئے تھے۔وہاں وہاں اب دھاتی شیٹ لگادی گئی ہے،یاپھرپلائی ووڈسے ڈھانپ دیا گیاہے۔بقول شخصے پوراشہرجیل کامنظرپیش کررہاہے۔ لوٹ ماراورآتشزدگی کے بے شمار واقعات ہوئے ہیں۔شائد یہی وجہ ہے کہ میں نے حالات سے آگاہی کے لئے اپنی سیکرٹری مارسیلاسوکرسے اس کی رائے جاننے کی کوشش کی،وہ اس قسم کی تحریکوں کے سخت خلاف تھی۔مظاہرین کے متعلق ہماری سیکرٹری کا کہنا ہے کہ یہ سب لوگ ہڈحرامی مارچ کر رہے ہیں۔کام کے بغیر زندگی گزارنے کے خواہشمند حضرات کا یہ مجموعہ ہے جو نظرآرہاہے۔مزید برآں ان سب دنگے،فسادات کے پیچھے کمیونسٹ پارٹی ہے۔دلیل کے طور پر اس نے شہرمیں کوکاکولافیکٹری اور میکڈونلڈ کی جلی ہوئی خستہ عمارتیں دکھائیں جن پربلوائیوں نے ہلابولاتھا۔ہماری دوست مارجوری مگر ان خیالات سے متفق نہیں اور وہ اس احتجاجی تحریک کے ہراول دستے میں شامل ہے۔مارچ کی قیادت کرنے،باغیانہ پلے کارڈاٹھائے اس کی تصاویراخبارات اور ٹیلی ویژن پرموجود ہونے کے سبب اس کے بہی خواہ احتیاط کا مشورہ دے رہے ہیں،بات میں وزن یوں بھی ہے کہ مارجوری کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں کرسمس کی دستک کے ساتھ ہی احتجاج میں بریک آ گئی کہ چلی کی اکثریتی آبادی کیتھولک عقیدہ عیسائی مذہب کی پیروکار ہے۔دسمبرکی ابتداء کے ساتھ ہی کرسمس کے فلیٹ شہربھرمین گشت کرنے لگتے ہیں۔سجی سجائی،مذہبی گیت بکھیرتی ان گاڑیوں پرسانتاکلازکے بھیس میں اورکرسمس کے مخصوص سرخ وسفید رنگ میں ملبوس نوجوان قریہ قریہ،بستی بستی گلیوں،محلوں میں بچوں میٹھی گولیاں اورٹافیاں تقسیم کرتے نظرآتے ہیں۔مخصوص آہنگ میں لاؤڈسپیکرزپرخو،خو،خواورجنگربیل کی آوازلگاتے جاتے ہیں۔جہاں کوئی بچہ نظرآئے اس کی طرف ٹافیاں اچھال دیتے ہیں۔

کرسمس گزرنے کے ساتھ ہی احتجاج اور جلاؤ،گھیراؤنے سراٹھالیاہے۔کل شام میں گھرواپس جارہاتھاکہ شہرکی مصروف ترین شاہراہ کے سگنل پر مظاہرین سے مڈبھیڑہوگئی،ہوایوں کہ جیسے ہی ٹریفک کا سگنل بند ہوا چندنقاب پوش لڑکے،لڑکیوں نے پرانے ٹائراور لکڑی کے کریٹ سڑک پرایک لائن میں لگا کران کو آگ لگا دی۔اتفاق سے یہ سب میری گاڑی کے سامنے ہورہا تھا۔میں ہمت کرکے باہرنکلااوراپنی گاڑی کے سامنے پڑے لکڑی کے کریٹ کو ہٹانے لگا،جس میں آتش گیرمادہ تھا۔میں نے مظاہرین سے گزارش کی کہ مجھے گزرنے دو،بعدمیں سڑک بندکرلینا۔حیرت اس بات پر ہوئی کہ میری بات مان لی گئی اوراحتجاجی لڑکے نے اپنے ہاتھ سے جلتا کریٹ ہٹاکرمیری گاڑی گزار دی۔ایک دوست نے اس حسن سلوک کی وجہ میراغیرملکی ہونابیان کیا ہے۔نئے سال کی خوشی میں ہونے والی آتش بازی کے تمام پروگرام منسوخ کردئیے گئے جوکہ روایت کاحصہ رہی ہے مگراس حکومت کااصل چیلنج شائد مارچ میں آئے گا جب نئے طلباء کے تعلیمی اداروں میں داخلے مکمل ہوجائیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *