’پریٹی لیٹل تھِنگ‘ کا اشتہار کا تنازعہ: ’یہ رسد اور طلب کا معاملہ ہے ، یہی تو بکتا ہے‘

ایک سٹوڈیو میں قدرے کم روشنی ہے۔ وہاں نیئون لائٹس سے بنے پولز ہیں۔ ایک ماڈل بیکینی پہننے ان کے درمیان ناچ رہی ہے۔

یہ منظر کسی نائٹ کلب یا کسی میوزک ویڈیو کا نہیں بلکہ خواتین کے ملبوسات کے لیے یوٹیوب اشتہار کے ہیں جسے اس ہفتے خواتین کو بےوجہ جنسی تناظر میں دکھانے کی وجہ سے بند کیا گیا ہے۔

’پریٹی لیٹل تھینگ‘ نامی آن لائن فیشن سٹور کا کہنا ہے کہ ان کا یہ اشتہار ایسا نہیں کر رہا اور یہ تمام رنگ و نسل کی خواتین اور ہر قسم کی جسامت والی خواتین کی عکاسی کرتا ہے۔

بہت سی خواتین اس رائے سے متفق ہیں اور انھیں یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ لوگ اس اشتہار پر نالاں کیوں ہیں۔

23 سالہ لوٹی لوولاک کہتی ہیں کہ ’میرے خیال میں یہ خواتین کو جنسی تناظر میں پیش نہیں کرتا۔ میرے خیال میں ’پریٹی لیٹل تھینگ‘ نے اس صنعت میں موجودہ خواتین کی پسند کے رجحانات کو پہنچان لیا ہے اور اس کی بہتر منظر کشی کی ہے۔‘

’اگر آپ دیکھیں کہ لڑکیاں میلوں پر یا چھٹیوں میں ابیزیا جیسی جگہوں پر کیا پہنتی ہیں تو اس لحاظ سے یہ اشتہار تو کافی مناسب ہے۔‘

مگر ایڈورٹائزنگ سٹینڈرڈز اتھارٹی کا کہنا ہے کہ یہ اشتہار ملبوسات کو ایک بہت زیادہ جنسی انداز میں پیش کرتا ہے اور ناظرین کو دعوت دیتا ہے کہ وہ خواتین کو صرف ایک جنسی شہ کے طور پر دیکھیں۔

’اسی لیے ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس اشتہار کے لوگوں کو نالاں کرنے کا امکان بہت زیادہ ہے اور غیر ذمہ دارانہ ہے۔‘

مگر ریٹیل مارکیٹ کی ماہر جولی پامر کا کہنا ہے کہ ’مگر اس پابندی کی وجہ سے اس برانڈ کی پوزیشن زیادہ مضبوط ہوئی ہے۔‘

’یہی تو فیشن ہے۔ نوجوان صارفین چاہتے ہیں کہ برانڈ زیادہ کوشش کریں اور موجودہ روایات کو چیلنج کریں۔ انھیں اپنے والدین کی طرح ایم اینڈ ایس پسند نہیں انھیں کچھ نیا چاہیے اور یہ اشتہار بالکل ایسا ہی کرتا ہے۔‘

صحت مند ماڈلز

کچھ خواتین کا کہنا ہے کہ انھیں یہ اشتہار نارمل لگا بلکہ حوصلہ افزا لگا۔

لوٹی لوولاک کہتی ہیں ’خواتین وہ پہنتی ہیں جس میں وہ پراعتماد محسوس کریں اور اس اشتہار میں وہ تمام جسامت کی ہیں۔ بوہو اور مزگائڈڈ جیسے برانڈ سبھی ایسے اشتہار بناتے ہیں اور میرے خیال میں یہ نارمل ہے۔ اگر آپ آئی ٹی وی کے پروگرام لوو آئی لینڈ کے دوران چلنے والے اشتہار دیکھیں تو بھی سارے اشتعال انگیز ہیں۔‘

35 سالہ جو شنوئے کہتی ہیں کہ ایسے اشتہاروں سے انھیں حوصلہ ملتا ہے کیونکہ ماڈلز حقیقت پسندانہ اور صحت مند جسامت کی ہیں۔

’اس اشتہار کے ٹارگٹ میرے جیسے لوگ ہیں۔ میں آن لائن چیزیں فالو کرتی ہوں اور میں جو انٹرنیٹ پر دیکھتی ہوں اس کی کاپی خریدتی ہوں۔ ایسے مناظر مجھے حوصلہ دیتے ہیں اور خود اعتمادی دیتے ہیں۔‘

’میں صحت مند ماڈلز کو دیکھ کر شکر گزار ہوں۔ یہ رسد اور طلب کا معاملہ ہے۔ یہی بکتا ہے۔‘

مگر کچھ لوگ اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ یہ اشتہار مختلف جسامت کی خواتین کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

22 سالہ ڈبرا ہیوز کہتی ہیں کہ وہ اس دکان سے پہلے کپڑے خریدتی تھیں مگر اب ’مجھے اچھا نہیں لگتا کہ میں یہاں شاپنگ کروں جس کی وجہ ان کی ماڈلز کا انداز ہے۔ آپ کو کپڑے تو نظر ہی نہیں آتے۔‘

’آپ کو ان اشتہاروں میں عام جسامت کی خواتین نہیں ملتیں کیونکہ جو ماڈلز وہ چنتے ہیں وہ سب فوٹوشاپ کی گئی ہوتی ہیں، اور یہ مختلف جسامت کو فروغ نہیں دے رہے۔‘

39 سالہ امینڈا مکریڈی کہتی ہیں انھیں یہ پریشانی ہے کہ ان اشتہاروں کا ان کی بیٹی پر کیا اثر پڑے گا۔

’میری ایک چار سال کی بیٹی ہے اور میں نہیں چاہتی کہ وہ ان مناظر سے لاشعوری طور پر اثر انداز ہو۔‘

Amanda McCready
39 سالہ امینڈا مکریڈی کہتی ہیں انھیں یہ پریشانی ہے کہ ان اشتہاروں کا ان کی بیٹی پر کیا اثر پڑے گا۔

’اس اشتہار سے مجھے افسوس ہوتا ہے۔ میں اس بات سے اتفاق کرتی ہوں کہ آپ وہ ہی پہنیں جو آپ چاہیں، بغیر ہراساں ہوئے، مگر یہاں اشتہار لگانے والے یہ کہہ رہے ہیں کہ آپ کو ایسا لگنا چاہیے۔‘

’اگر آپ کسی اشتہار میں آنا چاہتی ہیں اور پیسے بنانا چاہتی ہیں تو ٹھیک ہے، اور اگر آپ حوصلہ مند محسوس کرتی ہیں تو ٹھیک ہے۔۔۔ مگر اب تو یہ عام بات ہوگئی ہے۔ ہم اس مقام تک کیسے پہنچ گئے ہیں۔‘

تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس اشتہار نے وہ کام تو ضرور کیا ہے جو ایک اشتہار کا ہوتا ہے۔۔۔۔ یعنی توجہ حاصل کرنا!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *