پلوامہ حملے سے انڈین سیاست میں کیا تبدیلی آئی؟

گزشتہ برس 14 فروری کی صبح انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے جنوبی ضلع پلوامہ میں لیت پورہ ہائی وے پر دھماکہ خیز مواد سے لدی ایک کار انڈین نیم فوجی دستے سی آر پی ایف کے اہلکاروں سے بھری ایک بس سے جا ٹکرائی جس میں چالیس سے زیادہ اہلکار ہلاک ہو گئے۔

کار کو چلانے والے اُنیس سالہ عادل ڈار بھی دھماکے میں ہلاک ہو گئے۔ یہ حملہ جس قدر شدید تھا، اُس سے شدید تر اس کے نتائج سامنے آئے۔

اس حملے کی ذمہ داری کالعدم مسلح گروپ جیش محمد نے تسلیم کی تو انڈیا نے حملے کی منصوبہ سازی کے لیے براہ راست پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ بعد میں انڈین فضیایہ کے جنگی طیاروں نے پاکستان کے علاقے بالا کوٹ میں فضائی بمباری کر کے جیش محمدی کی تربیت گاہ کو تباہ کرنے اور سینکڑوں عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔

گو کہ اس دوران انڈین ائیر فورس کا ایک طیارہ گر کر تباہ ہو گیا اور اس کا پائلیٹ ابھینندن بھی پاکستان میں قید ہو گیا لیکن انڈیا میں اس کارروائی کو ’پاکستانی شرارتوں کا مُنہ توڑ جواب‘ قرار دیا گیا۔

پاکستان نے بھی جوابی کارروائی کا دعویٰ کیا لیکن چند دن کے اندر ہی انڈین پائلیٹ کو صحیح سلامت انڈیا کے سپرد کر دیا۔ لیکن تب تک نریندر مودی پورے ملک میں قوم پرستی کا جنونی ماحول بنانے میں کامیاب ہو چکے تھے۔

انڈیا کے عام انتخابات سے چند ماہ قبل ہونے والے اس حملے نے پورے ملک میں پاکستان مخالف لہر چھیڑ دی جس کا براہ راست فائدہ حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کو ملا۔

مودی
پلوامہ حملے نے پورے ملک میں پاکستان مخالف لہر چھیڑ دی جس کا براہ راست فائدہ حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کو ملا

جہاں ایک طرف انڈین میڈیا پر جنگی جنون کی طرز پر نشریات نے ملک میں قومی جذبات کو بھڑکا دیا وہیں دوسری طرف کشمیر میں سکیورٹی پابندیوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہوا۔

مبصرین کہتے ہیں کہ مودی حکومت نے پلوامہ حملے کے بعد داخلی اور خارجی سطح پر ایک نئے سکیورٹی بیانیے کا تجربہ کیا جس کے تحت مسئلہ کشمیر کو ہمیشہ کے لیے ’حل‘ کرنے کی کوشش کی گئی۔

داخلی سطح پر تبدیلی

حملے کے فوراً بعد کشمیر میں تعینات انڈین فوج، نیم فوجی اداروں اور مقامی پولیس کی متحدہ فورس ’یونیفائیڈ کمان‘ کو نئے سرے سے متحرک کیا گیا۔

بڑی شاہراؤں پر فوجی گاڑیوں کی نقل و حرکت کے وقت ٹریفک معطل کرنا، شاہراؤں پر چوبیس گھنٹے مسلح گشت، جیش محمد سے وابستہ بیس سے زیادہ کمانڈروں کی تصادموں میں ہلاکت ایسے نمایاں اقدامات ہیں جو حملے کے فوراً بعد اُٹھائے گئے۔

صحافی اور تجزیہ نگار ظفراقبال کہتے ہیں ’حملے کے بعد کشمیرمیں فوجی، انتظامی اور سیاسی سطح پر ایک ہی بیانیہ گردش کرنے لگا اور وہ تھا کشمیر اور پاکستان کو سبق سکھاؤ۔‘

حملے کے صرف ایک ماہ بعد ہی حریت کانفرنس کی اکائیوں لبریشن فرنٹ اور جماعت اسلامی کو کالعدم قرار دیا گیا، ان کے دفاتر بند ہو گئے اور درجنوں رہنماؤں کو قید کیا گیا۔

ظفر اقبال کہتے ہیں کہ پلوامہ حملے نے مودی حکومت کے لیے پورے ملک میں اعتماد کی فضا بنا لی تھی اور لوگ اب چاہنے لگے تھے کہ ’کشمیریوں کو سبق سکھایا جائے۔‘

حملے کے بعد تین ماہ تک فوج نے عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ کیا اور انڈین انتخابات سے قبل یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ کئی اضلاع کو ’عسکریت پسندی سے پاک‘ کیا گیا ہے۔

گزشتہ برس مئی میِں جب بھارتیہ جنتا پارٹی غالب اکثریت کے ساتھ دوبارہ اقتدار میں آئی تو کشمیر میں افواہوں کا بازار گرم ہوگیا۔ ان میں نمایاں افواہ تھی کہ حکومت دفعہ 370 کو آئین سے خارج کر کے کشمیر کو وفاقی نظام میں ضم کر کے کشمیریوں کی مخصوص شناخت کو ختم کردے گی۔

سرینگر
انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد وہاں سخت سکیورٹی پابندیاں نافذ کی گئیں

اس پر ہندنواز جماعتیں نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی سرگرم ہو گئیں تو این سی کے رہنما فاروق عبداللہ اور پی ڈی پی رہنما محبوبہ مفتی کے خلاف مالی بدعنوانیوں کے مقدمے درج ہوئے۔

دوبارہ اقتدار میں آنے کے صرف ستر روز کے اندر ہی حکومت ہند کے وزیرداخلہ امیت شاہ نے پارلیمنٹ میں جموں و کشمیر کی تشکیل نو کا بل منظور کر کے افواہوں کو سچ ثابت کردیا۔ اس فیصلے کے خلاف عوامی ردعمل کو روکنے کے لیے سخت سکیورٹی پابندیاں نافذ کر دی گئیں اور علیحدگی پسندوں کےساتھ ساتھ اُن سبھی سیاسی رہنماؤں کو قید کرلیا گیا جنھیں یہاں عرف عام میں ہند نواز کہتے تھے۔

اعلان سے ایک روز قبل امرناتھ یاتریوں اور سیاحوں کو وادی چھوڑنے کا حکم دیا گیا اور اضافی فورسز کی بھاری کمک کشمیر پہنچائی گئی۔

مبصرین کہتے ہیں کہ پلوامہ حملے سے صرف نریندر مودی کو سیاسی فائدہ ہی نہیں بلکہ نئی دلی کو کشمیر میں یکطرفہ فیصلے لینے کا لائسنس بھی مل گیا۔

تجزیہ نگار عاشق پیرزادہ کہتے ہیں ’آپ نے دیکھا نہیں جن مٹھی بھر لوگوں نے اس فیصلے کی دلی میں مخالفت کی اُنھیں کس طرح وطن دشمن کہا گیا۔ کئی لوگوں پر مقدمے چلائے گئے۔ دراصل پلوامہ اور بالاکوٹ واقعات نے بی جے پی حکومت کو ملک میں سماجی ساکھ عطا کی جسے ہتھیار بنا کر کشمیر میں وہ کچھ کیا گیا جو کسی نے ستر سال کے دوران سوچنے کی بھی جرات نہ کی تھی۔‘

فی الوقت کشمیر میں مقامی سیاسی خواہشات کے اظہار پر مکمل پابندی ہے اور انتظامیہ دلی کی براہ راست نگرانی میں سرگرم ہے۔ غیرمعروف سیاسی قیدیوں کی رہائی کا سلسلہ جاری ہے لیکن فاروق عبداللہ، عمرعبداللہ، محبوبہ مفتی اور ان کے قریبی ساتھی اب بھی قید میں ہیں۔

محوبہ مفتی، عمر عبداللہ
فاروق عبداللہ، عمرعبداللہ، محبوبہ مفتی اور ان کے قریبی ساتھی اب بھی قید میں ہیں

کشمیر کے اندر زمینی سطح پر تبدیلیاں لانے کا جو موقع نریندر مودی کی حکومت کو پلوامہ حملے نے فراہم کیا، اُس سے اب صرف ایک اور تبدیلی کی توقع کی جارہی ہے اور وہ یہ کہ کشمیر میں بی جے پی کے مؤقف کی حامی ایک نئی سیاست اُبھرے۔ اس سلسلے میں بعض لوگ اُچھل کوُد تو کررہے ہیں لیکن یہ ابھی دلی ہنوز دُور است والا معاملہ لگتا ہے۔

خارجہ سطح پر تبدیلیاں

مبصرین اور تجزیہ نگاروں کی بڑی تعداد اس بات پر متفق نظر آتی ہے کہ پلوامہ حملے کے بعد انڈیا نے پاکستان کی طرف سے کشمیر کے معاملے پر چھیڑی گئی سفارتی مہم کا حد درجہ دفاع کیا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی تقریر کو کشمیر میں خوب سراہا گیا لیکن پاکستان کی دیگر سفارتی کوششوں کو ناکام کرنے میں انڈیا پیش پیش رہا۔

یورپی یونین میں کشمیر سے متعلق قرارد پر ووٹنگ کے مؤخر ہو جانے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے کشمیر کے لیے مشاہداتی گروپ تشکیل نہ دیے جانے کو اسی پس منظر میں دیکھا جارہا ہے۔

گزشتہ چھہ ماہ کے دوران نئی دلی میں تعینات امریکی سفیر سمیت درجنوں غیر ملکی سفارت کار سرکاری نگرانی میں کشمیر کا دورہ کر چکے ہیں۔ اس سب سے انڈیا یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ پاکستان دُنیا میِں کشمیر کو لے کر پروپگنڈا کررہا ہے۔

یورپی اراکین پارلیمان کا دورہ کشمیر
یورپی اراکین پارلیمان کا دورہ کشمیر

بعض مبصرین کہتے ہیں عالمی سطح پر انڈیا کشمیر سے متعلق عدم تحفظ کا شکار ہے اسی لیے حامی ممالک کے سفیروں کو کشمیر کی سیر کرائی جاتی ہے لیکن دیگر حلقے کہتے ہیں کہ پاکستانی کوششوں سے ابھی تک کشمیر کے بارے میں انڈین مؤقف میں کوئی فرق نہیں آیا۔

اس کے علاوہ پلوامہ حملے کے بعد انڈیا نے پاکستان کے خلاف مسلح گروپوں کی اعانت کو لے کر دُنیا بھر میں مہم چلائی۔ مبصرین حافظ سعید کو سنائی گئی قید کی سزا کو بھی اسی پس منظر میں دیکھتے ہیں۔

تبصرہ نگار شیخ قیوم کہتے ہیں ’ملائشیا اور تُرکی نے انڈین کارروائیوں کی مخالفت ضرور کی ہے لیکن عالمی سطح پر گزشتہ برس پانچ اگست کے فیصلے کو واپس لینے کا باقاعدہ مطالبہ کہیں سے سُنائی نہیں دیا۔‘

آگے کیا ہو گا؟

پلوامہ حملے کے بعد کشمیریوں کے تاثرات کا ایک پہلو یہ تھا کہ سب جنگ کی توقع کررہے تھے۔ گزشتہ برس پانچ اگست کے بعد اُن توقعات کو تقویت بھی ملی لیکن پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے واضح کردیا کہ وہ فوجی نہیں بلکہ سفارتی ذرائع سے کشمیریوں کو انصاف دلوائیں گے۔

مصنف اور کالم نویس پیر غلام رسول کہتے ہیں ’لوگوں کے ایسے جذبات تیس سالہ مصائب سے تنگ آنے کا ثبوت ہے۔ جنگ کوئی معمولی بات نہیں۔ تاہم یہ بات بھی اپنی جگہ ہے کہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے پاس بارگین پاور ابھی دستیاب نہیں ہے۔‘

وہ کہتے ہیں ’مسلح عسکریت یہاں تیس سال تک جاری رہی، انڈین منصوبوں میں سے کون سا منصوبہ رُک گیا، یہاں تک کہ ہندونواز رہنما قسمیں کھاتے رہے کہ کچھ نہیں ہو گا اور پانچ اگست کو تاریخی اعلان کردیا گیا۔ پلوامہ حملے کے بعد سب کچھ بدل گیا ہے اور کسی کو نہیں معلوم کہ یہ تبدیلی کشمیر کو کہاں لے جائے گی۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *