پہچان

'' سارہ عمر''

شام کے سائے گہرے ہوئے تو آفندی ہاؤس میں چہل پہل کا آغازہوگیا- آج گھر میں مہمانوں کے لیے خاص دعوت کا اہتمام تھا تبھی نسیمہ بیگم کچن میں مصروف تھیں -
''ماما ایک بات پوچھوں؟''
ارحم نے موقع دیکھ کر بات کا آغاز کیا تھا-
''ہاں پوچھو'' - انہوں نے سرسری انداز سے کہا -
''یہ دادو کہاں سے آئی ہیں؟''
ارحم کی سرگوشی پر نسیمہ بیگم نے چونک کر اسے دیکھا- ''کیا مطلب لاہور سے آئی ہیں اور کدھر سے آنا ہے'' -
''نہیں ماما میں پوچھ رہا ہوں کہ کس دنیا سے آئی ہیں؟ مجھے تو کبھی کبھی لگتا ہے کسی اور ہی جہان کی باتیں کرتی ہیں -''
''ارحم تمہیں شرم نہیں آتی دادی کے متعلق ایسی باتیں کرتے-'' انہوں نے خفگی سے اسے دیکھا -
''پتہ ہے ماما''..
وہ موبائل چھوڑ کر ان کے قریب ہوا تھا-
'' وہ کل مجھے کسی جنگ وغیرہ کے قصے سنا رہی تھیں - مطلب کیا مجھے تو لگتا ہے کسی خیالی دنیا کی باتیں کر رہی ہیں ''-
وہ ہنس کر بولا -
'' نہیں ارحم بیٹا ایسا کچھ نہیں یہ ملک حاصل کرنے کے لئے مسلمانوں کو بہت قربانیاں دینی پڑی تھیں اور اسی وجہ سے جنگیں بھی ہوئیں - تمہاری دادی کو اس کے متعلق کافی معلومات ہیں تبھی وہ تمہیں وہی قصہ سنا رہی ہوں گی - ''
نسیمہ بیگم کو کچھ کچھ بات سمجھ آنے لگی تھی-
'' مگر کون یقین کرے گا ماما ان باتوں پر کہ بھارت کے پاس اسلحہ بھی زیادہ تھا ٹینک بھی اور پھر پاکستانی فوجی جوان پیٹ پر بم باندھ کر ٹینکوں کے نیچے لیٹ گئے- کیا آج کل کے زمانے میں ایسا ہوتا ہے؟ نہیں ہوتا نا پھر میں کیسے مان لوں؟''
اس نے بے یقینی کی کیفیت میں کہا-
''لو اس میں نہ ماننے والی کونسی بات ہے؟ جسے وطن سے محبت ہوتی ہے نا وہ جان دینے سے بھی دریغ نہیں کرتا - دادو بالکل صحیح کہہ رہی ہیں -''
نسیم بیگم کے لہجے میں اب بھی ناراضگی تھی-
'' مگر میں نے تو گوگل پہ جنگ کی تاریخ نکالی اس میں تو ساری باتیں ہی متنازعہ ہیں -''
ارحم نے موبائل کھول کر کچھ دکھایا-
'' ارے بھاڑ میں ڈالو اس موئے گوگل کو یہ تو ہمارے دشمن ملک بھارت سے ملا ہوا ہے-سب جھوٹ بولتا ہے-'' نسیمہ بیگم نے ہانڈی چھوڑ کر دو رکھ کر سنائیں تو ہنس ہنس کے اس کے پیٹ میں بل پڑ گئے تھے-
'' میں اس وقت بہت چھوٹی تھی لیکن اتنا یاد ہے مجھے کہ امی بتاتی تھیں جب سب لوگ ہجرت کر کے جانے لگے تو ہندوؤں اور سکھوں نے مل کر مسلمانوں کی ٹرین پہ حملہ کر دیا-خون کی ہولی کھیلی گئی-بڑی مشکلوں سے ابا اماں جان بچا کر مہاجر کیمپ پہنچے تھے-ٹرین سے نکلے تو کئی دھڑ سر کے بغیر کھڑکیوں سے باہر لٹک رہے تھے''-
دادو کی بات پہ چودہ سالہ نبیلہ نے خوف سے جھرجھری لی تھی-اریان نے منہ پہ ہاتھ رکھ کر جمائی روکی تو دادو نے افسوس سے اسے دیکھا-کبھی وہ اپنی اولاد کو پاکستان بننے کی کہانی سناتی تھیں تو انہیں آنسوؤں کی جھڑی لگ جاتی-ہچکیوں سے روتے ہوئے سب اس ملک کی سلامتی کی دعا کرتے مگر اب کے بچے تو اس بات سے ہی لاعلم تھے کہ دو قومی نظریہ دراصل ہے کیا؟
ارحم سکون سے موبائل پہ گیم کھیل رہا تھا-دادو کی بورنگ گفتگو سے بہتر تھا کہ گیم کھیل لی جاتی-
دادو کافی عرصے بعد اپنے بیٹے کے گھر آفندی ہاؤس میں آئی تھیں کیونکہ چھٹیاں تھیں تبھی پوتے پوتی ساتھ ساتھ رہتے-مگر جیسے ہی وہ تاریخی واقعات سنانے لگتیں تو دونوں بھائیوں کو نیند آنے لگتی-نبیلہ کو تاریخ سے لگاؤ تھا وہ دادو کی باتوں کو ذوق و شوق سے سنتی تھی-
''دادو لوگ تو کہتے ہیں الگ ملک کی ضرورت ہی نہیں تھی-'' نبیلہ نے دادو سے سوال کیا جو ابھی تک دلچسپی سے دادو کی کہانیاں سن رہی تھی-
''یہ ملک بہت ہی قربانیوں سے حاصل کیا ہے - جن لوگوں نے اس مٹی کے لیے جانیں دی ہیں وہ اپنی محنت ضائع نہیں ہونے دیں گے - ہمارا دین، ہمارا رہن سہن، زبان، ہر چیز ہندوؤں سے الگ ہے ہم کیوں رہتے ان کے ساتھ جہاں عبادت کرنے کی بھی آزادی نہیں تھی-''
ارحم نے دادو کو دیکھا جن کے گال فرطِ جذبات سے دہکنے لگے تھے اور دوبارہ سے گیم میں مشغول ہو گیا-
'' تو یہ طے ہے کہ تم نہیں رکو گے؟''
بابا نے گہری نظروں سے ارحم کو دیکھا -کتنی خواہش تھی کہ بیٹا باہر جا کر اعلی تعلیم حاصل کرے مگر جب وقت آیا تو کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لیں تھیں - یہ اپنی ہی خواہش تھی پھر دل کیوں اداس تھا؟
''جی بابا اور میرا پڑھائی کے بعد وہیں جاب کرنے کا ارادہ ہے واپس نہیں آنا چاہتا - اس ملک نے ہمیں دیا ہی کیا ہے؟''
اس کے الفاظ نے انہیں تکلیف پہنچائی تھی-
''تم نے اس ملک کو کیا دیا ہے''
بے اختیار ان کے منہ سے نکلا -
''ہمیشہ ہم نے ہی تو دیا ہے، گھر پہ ٹیکس، گاڑی پر ٹیکس، ہر چیز پہ ٹیکس''
'' تمہارے پڑھنے سے اس ملک کو کیا ملے گا''؟ انہیں اپنی اولاد کی تربیت پہ افسوس ہوا تھا-
'' ملے گا نا ایک پڑھا لکھا باعزت شہری'' وہ ہنستے ہوئے بولا -
'' وہ تو کینیڈا والوں کو ملے گا ہمارے ملک کو کیا ملے گا''-
'' بابا کیا ہو گیا ہے یہاں رہتے ہوئے میں کچھ نہیں کر سکتا بس مہنگائی، کرپشن، دھوکہ، جھوٹ، چوری اسی پہ چل رہا ہے یہ ملک.''
وہ بے زاری سے بولا -
'' جس نے کچھ کرنا ہو وہ ہر جگہ رہ کر کر لیتا ہے-تمہیں پڑھائی سے نہیں روک رہا مگر تمہیں واپس آنا پڑے گا ''
'' مگر بابا! ''
'' کوئی اگر مگر نہیں. دیکھنا تم لوٹ آؤ گے ''-
ارحم کی ایک نہ چلی تھی-
پانچ سال بعد:
ہال لوگوں سے کچھا کچھ بھرا ہوا تھا- چاروں جانب سر ہی سر نظر آرہے تھے-ایک جانب بڑے سے اسٹیج پہ دس نوجوان اپنے ملک کا پرچم سینے سے لگائے کھڑے تھے-
''اس یونیورسٹی میں پڑھنے والا ہر طالب علم اپنے ملک کا نمائندہ ہے- ہم آج نہایت فخر سے اعلان کرتے ہیں کہ ہمارے ٹاپ ٹین طالب علموں میں سے تین کا تعلق پاکستان سے ہے - یقیناً پاکستان ایک ذہین اور محنتی لوگوں کی سرزمین ہے- مجھے یقین ہے کہ آپ سب اپنے ملک کی ترقی میں بھرپور کردار ادا کریں گے - ''
یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے نے اپنی تقریر میں پاکستان کے متعلق تعریفی کلمات کہے جس پہ ان تین نوجوانوں سمیت وہاں بیٹھے تمام پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند ہوگیا تھا -ارحم نے نم آنکھوں سے اپنے باقی دو ساتھیوں کو دیکھا - جس ملک کو اس نے کچھ نہیں دیا تھا اس نے پردیس میں اسے پہچان دی تھی-
فیصلہ ایک لمحے میں ہوگیا تھا- بابا کے الفاظ اسکے کانوں میں گونجے تھے-
'' تم دیکھ لینا تم واپس آؤ گے کیونکہ یہ ملک ہماری پہچان ہے اور کوئی اپنی شناخت اور پہچان سے دور نہیں رہ سکتا-''
پاکستان نے تو اسے پہچان دی تھی مگر اب اس نے اپنے وطن واپس لوٹ کر اپنے کام سے اپنی پہچان کروانی تھی-ارحم نے اپنے آنسو پونچھتے اپنے ملک کے لیے کچھ کر دیکھانے کا عزم کیا تھا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *