کشمیر اور علاقائی صورتحال

آزاد کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے کہا ہے۔ سری نگر کی خواتیں روزانہ اٹھ کر پاک فوج کا انتظار کرتی ہیں۔ لیکن یہاں سب کو ڈالروں کی پڑی ہے۔ راجہ فاروق حیدر نے کچھ مزید کڑوی کسیلی باتیں کیں۔ بقول ان کے کشمیر ہے تو پاکستان ہے۔ سوال یہ نہیں کہ انہوں نے جو فرمایا۔ وہ غلط ہے یا درست ہے۔ لیکن راجہ صاحب کی باتوں کو مسکرا کر ٹالا نہیں جا سکتا۔ خاص طورپر یہ عندیہ کہ کشمیر کے پیچھے کوئی ڈالروں کی کہانی ہے۔ اس ایشو کو مزید سنجیدہ بنا رہی ہے۔ جب سے بھارت نے کشمیر کے ساتھ الحاق ختم کیا ہے۔ ہماری بالا دست قوتوں نے کشمیر مسئلے پر ڈھلمل جواب دیا ہے۔ پہلے ایک ہفتہ تو بوکھلاہٹ نما خاموشی چھائی رہی۔ جیسے وقت خریدا جا رہا ہو۔ جنگ کے خلاف بیانات جاری کیے گئے۔ جنگ کو ایک خطرناک چیز بنا کر پیش کیا گیا۔ اور لوگوں کو جنگ پر تیار کرنے کی بجائے انہیں جنگ سے ڈرایا گیا۔ پھر سفارتی محاز پر کارواء شروع ہوئی۔ خوش قسمتی سے بین الاقوامی میڈیا خود سے کشمیری عوام کی حمایت اور بھارتی چیرہ دستیوں کے خلاف کھڑا ہو گیا۔ بدقسمتی یہ ہوئی۔ ہمارے وزیر خارجہ نے خود یہ بات تسلیم کر لی۔ کہ اسلامی دنیا اور باقی دنیا میں سے ایک بھی ملک ہمارے ساتھ نہیں کھڑا۔ یہ کسی بھی قوم کے مورال کو ڈاون کرنے کے لیے کافی تھا۔ یعنی سفارتی سطح پر ہم تنہا تھے۔ عملی طور پر کچھ کرنے کے نااہل تھے۔ اور یہی وہ صورتحال تھی جس کی جانب راجہ فاروق حیدر نے اشارہ کیا۔

اس کے علاوہ حالیہ دنوں میں حوثی قبائل نے سعودی تیل کے زخیرے پر حملہ کیا۔ اور ایک اندازے کے مطابق سعودی تیل کے زخیرے کا پچاس فیصد جل کر ضائع ہو گیا۔ تب سے اس بارڈر پر خاموشی طاری ہے۔ لیکن یہ قبل از وقت طوفان والی خاموشی ہے۔ اگر ھوثیوں اور سعودیہ کے درمیان جنگ بڑھتی ہے۔ تو یہ جنگ پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ اور کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کی سفارتی کوشش کی وجہ بھی سمجھ میں آ جائے گی۔ امریکہ پہلے ہی پاکستان کو افغانستان میں ایک کردار سونپ چکا ہے۔ اور محفوظ راستہ چاھتا ہے۔ اہک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق دائش پہلے ہی افغانستان، اور پاکستان کے بارڈرز کے قرب و جوار میں پہنچ چکی ہے۔ گویا پورا علاقہ وار لارڈز کے ھاتھوں میں پڑنے والا ہے۔ ایسے میں پاکستان کا سیاسی و معاشی عدم استحکام پاکستان کی مشکلات میں بے بہا اضافہ کر سکتا ہے۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے۔ کہ امریکہ بغیر کسی قیمت کے ہماری تجوریوں کو بھرتا جائے گا تو وہ یہ خیال ذہن سے نکال دے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *