کورونا وائرس: آئی ایم ایف کی حکومتوں کو مارکیٹ میں استحکام کیلئے مداخلت کی تجویز

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے حکومتوں کو کہا ہے کہ اگر کورونا وائرس کی وجہ سے تجارتی مارکیٹوں کو خراب صورتحال کا سامنا ہے تو زرمبادلہ کی مداخلت ضروری ہوسکتی ہے۔

 رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف نے پالیسی سےمتعلق متعدد اقدامات تجویز کیے جو پوری دنیا کی حکومتیں اپنی معیشتوں کو کورونا وائرس کے منفی اثرات سے بچانے کے لیے اقدامات کر سکتی ہیں۔

واضح رہے کہ کورونا وائرس سے 2 لاکھ سے زائد افراد متاثر جبکہ 8 ہزار زائد اموات ہوچکی ہیں اور وبا کے نتیجے میں معاشی بحران کی کیفیت نے جنم لے لیا ہے۔

آئی ایم ایف نے مشورہ دیا کہ ’بیرونی جھٹکوں کے نتیجے میں ایکسچینج ریٹ متاثر ہوسکتی ہے، اگر مارکیٹ کے حالات خراب ہو جائیں تو زرمبادلہ کی مداخلت ضروری ہوسکتی ہے‘۔

آئی ایم ایف نے مشورہ دیا کہ بحران یا بحران کے قریب ترین صورتحال کے پیش نظر عارضی مدت کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کے بہاؤ کے اقدامات سنبھالنے کی ضرورت ہوگی۔

عالمی مالیاتی ادارے نے مرکزی بینکوں پر زور دیا کہ وہ مارکیٹ کی مدد کے لیے قرضہ دے۔

آئی ایم ایف نے کہا کہ ’مالیاتی مدد طلب کی ضرورت کو پورا اور اعتماد کی بحال کا باعث بنے گی اور گھروں اور فرموں کے لیے قرض لینے والے اخراجات کو کم کرے گا‘ـ

علاوہ ازیں شرح میں کٹوتی کے حوالے سے مالیاتی پالیسی اثاثوں کی خریداریوں میں توسیع کے بارے میں رہنمائی کا باعث بنےگی۔

آئی ایم ایف نے مشورہ دیا کہ اس طرح کے عارضی ہدف بنائے جانے والے اقدامات سے ممکنہ طور پر متاثرہ شعبوں کی مدد ہوگی۔

ہدایات میں زور متاثرہ افراد اور فرموں کے لیے حکومتوں کی بڑی مدد فراہم کرنے پر زور دیا گیا۔

آئی ایم ایف نے کہا کہ ’شٹ ڈاؤن سے متاثر کاروباروں کے لیے اجرت میں سبسڈی کے ذریعے اداروں کو دیوالیہ سے بچایا جا سکتا ہے جس سے دیرپا اثرات مرتب ہوں گے اور مجموعی طلب پر منفی اثرات کم ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ کم آمدنی والے گھرانوں میں نقد رقم کی منتقلی سے کم سے کم معیار زندگی قائم رہےگا۔

کورونا وائرس: تفتان بارڈر کی بندش کے باعث 1400 کارگو ٹرک پھنس گئے

آئی ایم ایف نے بڑی معیشتوں اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں پر زور دیا گیا کہ وہ کم آمدنی والے ممالک کو مراعات پر مبنی مالی اعانت فراہم کریں۔

اس سے قبل ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس مختلف چینلز کے ذریعے ترقی پذیر ایشیائی ممالک پر نمایاں اثرات مرتب کرے گا۔

اے ڈی بی کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ مقامی طلب میں تیزی سے کمی، سیاحت اور کاروباری سفر، تجارتی اور پیداواری روابط میں کمی، فراہمی میں خلل اور صحت پر اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے جس کا انحصار وائرس پھیلنے پر ہے۔

اس حوالے سے کیے گئے تجزیے میں 77 ارب ڈالر سے 3 سو 47 ارب ڈالر تک کے عالمی اثرات یا عالمی شرح نمو کے فیصد سے 0.4 فیصد تک اثرات بتائے گئے۔

دوسری جانب کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے عالمی سطح پر شٹ ڈاؤن کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتیں 18 سال کی کم ترین سطح پر آگئی ہیں۔

پٹرولیم درآمدات ملک کے مجموعی درآمدی بل کا ایک چوتھائی سے زیادہ حصہ بنتی ہیں۔

پاکستان کے تناظر میں منگل کے روز اسٹیٹ بینک کے گورنر ڈاکٹر رضا باقر نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے ریمارکس دیے تھے کہ ’عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں سے کرنٹ اکاؤنٹ میں بہتری آئے گی‘۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *