کورونا وائرس: مزید نئے کیسز سے ملک میں متاثرین کی تعداد 887 ہوگئی

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے اور یہ تعداد 900 کے قریب پہنچ گئی ہے۔

اگر ملک میں مجموعی تعداد پر نظر ڈالیں تو اس وائرس سے سب سے زیادہ صوبہ سندھ متاثر ہے جہاں متاثرین کی تعداد 394 ہے جبکہ پنجاب 249 متاثرین کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔

اسی طرح بلوچستان میں 110 افراد جبکہ خیبرپختونخوا میں 38 افراد وائرس کا شکار ہوچکے ہیں۔

مزید برآں اسلام آباد میں 15 اور آزاد کشمیر میں ایک شخص متاثر ہے۔تحریر جاری ہے‎

اگر تازہ اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو سرکاری ویب سائٹ کے مطابق گلگت بلتستان میں 9 مزید کیسز رپورٹ ہونے سے علاقے کے متاثرین کی تعداد 80 ہوگئی جبکہ ملک بھر میں متاثرہ افراد کی تعداد 887 تک جاپہنچی ہے۔

اس وائرس سے متاثرہ افراد کے علاوہ 6 افراد انتقال بھی کرچکے ہیں، جس میں 3 کا تعلق خیبرپختونخوا، ایک کا سندھ، ایک کا گلگت بلتستان اور ایک بلوچستان سے ہے۔

پاکستان کی مجموعی صورتحال

کورونا وائرس کے باعث اگر پاکستان کی مجموعی صورتحال کی بات کریں تو اس عالمی وبا سے نمٹنے کے لیے چاروں صوبوں، اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں سول انتظامیہ کی مدد کیلئے فوج تعینات کردی گئی ہے۔

اگرچہ وزیراعظم عمران خان ملک بھر میں مکمل لاک ڈاؤن سے انکار کرچکے ہیں تاہم صوبوں اور دیگر علاقوں کی جانب سے اپنی حدود میں لاک ڈاؤن اور مختلف طرح کی پابندیاں عائد کردی گئی ہیں۔

وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ سندھ کی بات کریں تو یہاں 23 مارچ سے 15 روز کیلئے مکمل لاک ڈاؤن کا آغاز ہوچکا ہے۔

اس لاک ڈاؤن کے دوران تمام کاروباری مراکز، شامنگ مالز، نجی و سرکاری دفاتر، پارکس، ٹرانسپورٹ، دکانیں بند ہیں، بلاضرورت گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہے جبکہ رسٹورنٹس کو بھی مکمل طور پر بند کردیا گیا ہے، ساتھ ہی ڈبل سواری پر بھی پابندی لگادی گئی ہے۔

صوبہ پنجاب کی بات کریں تو وہاں بھی ایک طرح کا 'لاک ڈاؤن' ہی ہے تاہم سرکاری حکام اسے لاک ڈاؤن کا نام نہیں دے رہے لیکن اس 14 روزہ پابندیوں کے دوران تمام شاپنگ مالز، بازار، نجی و سرکاری ادارے، پبلک ٹرانسپورٹ، ریسٹورنٹس، پارکس، سیاحتی مقامات بند رہیں گے جبکہ ڈبل سواری پر بھی پابندی ہوگی۔

بلوچستان کی بات کریں تو وہاں بھی کاروباری مراکز بند کرنے اور ٹرانسپورٹ سروسز کو بھی معطل کرنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے، اسی طرح خیبرپختونخوا میں بھی جزوی لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ اسلام آباد میں بھی دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے مختلف پابندیاں لگادی گئی ہیں جبکہ گلگت بلتستان میں غیرمعینہ مدت جبکہ آزاد کشمیر میں 3 ہفتوں کا مکمل لاک ڈاؤن ہے۔

پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز پر ایک نظر

پاکستان میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری 2020 کو کراچی میں سامنے آیا۔

  • 26 فروری کو ہی معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے ملک میں مجموعی طور پر 2 کیسز کی تصدیق کی۔
  • 29 فروری کو ڈاکٹر ظفر مرزا نے ملک میں مزید 2 کیسز کی تصدیق کی، جس سے اس وقت تعداد 4 ہوگئی تھی، 3 مارچ کو معاون خصوصی نے کورونا کے پانچویں کیس کی تصدیق کی۔
  • 6 مارچ کو کراچی میں کورونا وائرس کا ایک اور کیس سامنے آیا، جس سے تعداد 6 ہوئی۔
  • 8 مارچ کو شہر قائد میں ہی ایک اور کورونا وائرس کا کیس سامنے آیا۔
  • 9 مارچ کو ملک میں ایک ہی وقت میں سب سے زیادہ کورونا وائرس کے 9 کیسز کی تصدیق کی گئی تھی۔
  • 10 مارچ کو ملک میں کورونا وائرس کے 3 کیسز سامنے آئے تھے جن میں سے دو کا تعلق صوبہ سندھ اور ایک کا بلوچستان سے تھا، جس کے بعد کیسز کی مجموعی تعداد 19 جبکہ سندھ میں تعداد 15 ہوگئی تھی۔

بعد ازاں سندھ حکومت کی جانب سے یہ تصحیح کی گئی تھی 'غلط فہمی' کے باعث ایک مریض کا 2 مرتبہ اندراج ہونے کے باعث غلطی سے تعداد 15 بتائی گئی تھی تاہم اصل تعداد 14 ہے، اس تصحیح کے بعد ملک میں کورونا کیسز کی تعداد 10 مارچ تک 18 ریکارڈ کی گئی۔

  • 11 مارچ کو اسکردو میں ایک 14 سالہ لڑکے میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی، جس کے بعد مجموعی تعداد 19 تک پہنچی تھی۔
  • 12 مارچ کو گلگت بلتستان کے ضلع اسکردو میں ہی ایک اور کیس سامنے آیا تھا جس کے بعد ملک میں کورونا کے کیسز کی تعداد 20 تک جاپہنچی تھی۔
  • 13 مارچ کو اسلام آباد سے کراچی آنے والے 52 سالہ شخص میں کورونا کی تصدیق کے بعد تعداد 21 ہوئی تھی، بعدازاں اسی روز ڈاکٹر ظفر مرزا نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران تفتان میں مزید 7 کیسز سامنے آنے کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ پاکستان میں مجموعی طور پر کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 28 ہوگئی۔
  • 14 مارچ کو سندھ و بلوچستان میں 2، 2 نئے کیسز کے علاوہ اسلام آباد میں کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا جس کے بعد ملک میں مجموعی کیسز کی تعداد 33 ہوگئی۔
  • 15 مارچ کو اسلام آباد اور لاہور میں ایک ایک، کراچی میں 5، سکھر میں 13 کیسز سامنے آئے جس کے بعد ملک بھر میں مجموعی تعداد کیسز کی تعداد 53 ہوگئی تھی۔
  • 16 مارچ کو ملک میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں اچانک بہت تیزی سے اضافہ ہوا تھا اور سندھ میں تعداد 35 سے بڑھ کر 150 جبکہ خیبرپختونخوا میں نئے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد ملک میں مجموعی تعداد 184 تک جا پہنچی تھی۔
  • 17مارچ کو ملک کے چاروں صوبوں سندھ، پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں کورونا وائرس کے مزید کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد ملک میں مجموعی تعداد 237 تک پہنچ گئی تھی۔
  • 18 مارچ کو پاکستان میں کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت خیبرپختونخوا میں سامنے آئی جبکہ کچھ ہی دیر بعد ہی عالمی وبا سے دوسری موت کی بھی تصدیق کردی گئی، اس کے علاوہ اسی روز صوبے میں مزید 64 کیسز سامنے آنے کے بعد تعداد 301 تک ہوگئی تھی۔
  • 19 مارچ کو بھی کورونا وائرس کے مزید کیسز آنے کا سلسلہ نہ رک سکا اور چاروں صوبوں سمیت گلگت بلتستان میں کورونا وائرس کے مجموعی طور پر 152 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد اس روز تعداد 448 تک جاپہنچی۔
  • مارچ کی 20 تاریخ کو اس عالمی وبا سے کراچی میں پہلی ہلاکت سامنے آئی، جس کے بعد ملک میں مجموعی ہلاکتیں 3 ہوگئی جبکہ اسی روز نئے مریضوں کے سامنے آنے سے متاثرین کی تعداد 495 تک ہوگئی۔
  • 21 مارچ کو پاکستان میں تصدیق ہونے والے کورونا وائرس کے کیسز میں صوبہ سندھ سے 39، پنجاب سے 56، بلوچستان سے 12، خیبرپختونخوا سے 8 جبکہ گلگت بلستان سے 34 نئے کیسز شامل تھے، جس کے بعد ملک میں متاثرہ افراد کی تعداد 600 سے تجاوز کر گئی تھی۔
  • 22 مارچ کو ملک میں کورونا وائرس کے تصدیق شدہ کیسز میں اضافے کے ساتھ مجموعی تعداد 799 تک پہنچ چکی تھی، جس میں پنجاب میں مزید 73، سندھ میں مزید 60، بلوچستان میں 4 کیسز جبکہ گلگت بلتستان میں مزید 16 کیسز رپورٹ ہوئے تھے، اس کے ساتھ گلگت بلتستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ ایک ڈاکٹر جبکہ خیبرپختونخوا میں ایک وائرس سے متاثرہ خاتون کی موت کے بعد مجموعی اموات 5 ہوگئی تھیں، سندھ میں ایک شخص کے صحتیاب ہونے کی اطلاع بھی سامنے آئی تھی۔
  • 23 مارچ کو بھی ملک میں کورونا وائرس کے مزید کیسز رپورٹ ہوئے اور اسی روز ملک بھر میں فوج تعینات کرنے کی منظوری بھی دی گئی، تاہم اگر اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو اس روز یہ تعداد 878 تک پہنچ گئی تھی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *