کورونا وائرس: مساجد بند نہیں ہوں گی مگر باجماعت نمازوں کے اجتماعات کو انتہائی محدود کیا جائے گا

پاکستان میں نماز جمعہ اور باجماعت نماز کے لیے مساجد بند نہیں ہوں گی بلکہ نمازوں کے اجتماعات کو انتہائی محدود کیا جائے گا۔ علما اور آئمہ کرام نے کہا ہے کہ طبی بنیادوں پر اگرحکومت نمازیوں کی تعداد یا عمر کی وجہ سے نماز کی باجماعت ادائیگی سے کسی کو منع کرے تو انھیں ’معذور‘ سمجھا جائے گا۔

عالمی سطح پر کورونا وائرس کے اثرات سے جہاں بیشتر ممالک میں مساجد میں باجماعت نمازوں پر پابندی عائد کر دی ہے وہاں پاکستان میں بھی اس حوالے سے اقدامات کیے گئے ہیں۔

صدر کی علما سے مشاورت

صدر عارف علوی نے ایوان صدر میں ویڈیو کانفرنس کے ذریعے تمام مسالک کے علما اور نمائندوں سے خطاب کیا ہے اور انھوں نے اس حوالے سے علما سے تعاون کی اپیل کی ہے۔

اس اجلاس میں مشاورت کے دوران کورونا وائرس کے بڑھتے خطرات کی وجہ سے نمازِ جمعہ مسجد کے بجائے گھروں پر ادا کرنے پر بات چیت ہوئی لیکن مشاورت کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ نماز جمعہ سمیت دیگر باجماعت نمازوں کو محدود اور مختصر کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے آج ایون صدر میں اجلاس کے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو مطلع کیا ہے کہ ملک بھر میں جمعہ کی نماز اوردیگر نمازوں کو محدود رکھا جائے گا اور اس کے علاوہ مساجد میں صرف وہ لوگ آئیں گے جو صحت مند ہیں اور جو باقاعدگی سے نماز ادا کرنے آتے ہیں۔

انھوں نے کہا ہے کہ باقی لوگ اپنے گھروں میں اپنے اہلخانہ کے ساتھ باجماعت یا انفرادی طور پر نماز ادا کر سکتے ہیں۔

انھوں نے جامعہ الازہر، امارات فتوی کونسل، نجف اشرف اور دیگر مسلمان ممالک کے آئمہ کرام کی جانب سے جاری کردہ فتوؤں کے بارے میں بتایا جن میں مساجد میں بڑے اجتماعات منعقد کرنے پر پابندی عائد کرنے کا کہنا گیا ہے یا مساجد کو مکمل طور پر بند کرنے کا کہا گیا ہے۔

محدود نمازیں

مسجد

اس کے علاوہ تمام مسالک کے علما، خطبا، اورآئمہ کرام کا ایک مشترکہ اجلاس پشاور میں منعقد ہوا جس میں کہا گیا ہے کہ لوگ وضو گھروں سے کر کے آئیں اور فرض نماز سے پہلے کی سنتیں بھی گھروں میں ادا کریں جبکہ مسجد میں فرض نماز کے بعد کی سنتیں بھی گھروں میں ادا کریں۔

اس اجلاس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو لوگ گھروں میں نماز ادا کرنا چاہتے ہیں انھیں رخصت ہے، جبکہ بچے اور بڑی عمر کے لوگ اگر طبی بنیادوں پر مسجد نماز ادا کرنے نہیں آتے تو انھیں ’معذور‘ تصور کیا جائے گا۔

اس اجلاس میں کہا گیا ہے کہ باجماعت نماز گھر میں محرم خواتین کے ساتھ بھی ادا کی جا سکتی ہے اور بصورت دیگر انفرادی طور پر بھی نمازکی ادائیگی جائز ہے۔

اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کسی شخص کو وائرس ہو یا وائرس کا شبہ ہو یا نزلہ زکام اور بخار ہو یا باجماعت نماز کی ادائیگی سے خطرہ ہو تو انھیں باجماعت نماز ترک کرنے کا کوئی گناہ نہیں ہو گا۔

اس اجلاس میں شریک مولوی نور حیسن نے بتایا کہ وہ عشا کی نماز اور فجر کی نماز میں لوگوں کو ان فیصلوں سے آگاہ کریں گے اور اس کے علاوہ اس وائرس کے بارے میں بھی لوگوں کو محتاط رہنے کے مشورے دیں گے۔

انھوں نے کہا کہ وہ وہ لوگوں سے گھروں میں نماز ادا کرنے کی تاکید بھی کریں گے لیکن اس وبا سے تحفظ اور وبا کے خاتمے کے لیے ذکر ازکار اور استغفار کا سلسلہ جاری رہے گا۔

انھوں نے کہا کہ مساجد میں کارپٹس اور قالینیں ہٹا کر صفائی کا بہتر انتظام کیا جائے گا اور مساجد میں سینیٹائزرز بھی رکھے جائیں گے۔

پشاور میں مسجد قاسم علی خان کے خطیب مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کے تمام علما کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ اعلامیے پر عمل درآمد کریں گے۔

اس مشترکہ اعلامیے کے مطابق علمائے کرام خطبہ جمعہ کو مختصر رکھیں گے اور خطبات میں کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے مشورے دیں گے۔ جبکہ سنتیں گھروں میں ادا کی جائیں گی تاکہ ایک وقت میں زیادہ لوگ جمع نہ ہوں۔

سندھ اور بلوچستان میں حکومتی احکامات

نماز

سندھ اور بلوچستان کی حکومتوں نے بھی علما سے مشاورت کے بعد نماز اور نماز جمعہ محدود کرنے کی فیصلہ کیا ہے۔

صوبائی حکومتوں کی جانب سے جاری ہونے والے احکامات میں کہا گیا ہے کہ مساجد میں چند افراد جن کی تعداد تین سے پانچ تک ہوگی وہی باجماعت نماز ادا کریں گے۔

سندھ حکومت کے ترجمان مرتضی وہاب نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ مساجد کھلی رہیں گی اور اذان بھی ہو گی لیکن باجماعت نماز صرف مساجد کا مختصر سٹاف ہی ادا کرے گا، جن کی تعداد ہر مسجد میں تین سے پانچ تک ہو گی۔

نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کی جانب سے کورونا وائرس کی رو ک تھام کی احتیاطی تدابیر کے تناظر میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے ایڈوائزری نوٹیفیکشن میں کہا گیا ہے کہ مساجد میں نماز جمعہ کے تمام مناسک کی ادائیگی معمول کے مطابق ہو گی، تاہم نماز جمعہ کی جماعت میں مسجد کے پیش امام کے علاوہ تین سے پانچ افراد جن میں موذن، مسجد کے منتظم اور خادم شامل ہیں شریک ہوں گے۔

اس پابندی کا اطلاق چار اپریل 2020 تک کے لیے ہو گا اور نوٹیفیکیش کے مطابق ہر ضلعے میں ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے ان احکامات پر عملدرامد کرانے کے ذمہ دار ہوں گے۔

بلوچستان سے قبل سندھ میں حکام نے جمعے کی نماز کی مساجد میں ادائیگی پر پابندی لگاتے ہوئے روزانہ بھی باجماعت نماز میں تین سے پانچ افراد کی شرکت کا حکم دیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *