کیا درجہ حرارت میں اضافہ کورونا ختم کر سکتا ہے؟

چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والا کورونا وائرس اب دُنیا کے 194 ممالک میں سے 178 ممالک کو متاثر کر چکا ہے جبکہ اِس وائرس سے دنیا میں 9 ہزار سے زائد افراد ہلاک اور تقریباً 2 لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوچکے ہیں۔

دُنیا کے 178 ممالک میں پھیلنے  اور ہزاروں افراد کی جان لینے کے بعد بھی کورونا وائرس کی ابھی تک کوئی ویکسین نہیں بنائی گئی ہے اور لوگ اپنی مدد آپ کے تحت نت نئے طریقے اپنا کر اِس وائرس کا توڑ نکالنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں ۔

کورونا وائرس کے توڑ کی بات کی جائے تو کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وائرس زیادہ درجہ حرارت میں زندہ نہیں رہ سکتا، مطلب اگر گرمی کا موسم آجائے تو شاید پوری دُنیا اِس وائرس سے چھٹکارا حاصل کرسکتی ہے جبکہ سائنسدانوں نے اسِ حوالے سے کسی بات کی کوئی تصدیق نہیں کی ہے کہ اگر موسم گرم ہوجائے گا تو پوری دُنیا سے کورونا وائرس کا خاتمہ ممکن ہے۔

انسانی جسم میں کورونا کتنے درجہ حرارت پر زندہ رہ سکتا ہے؟

ڈاکٹروں کے ایک مشاہدے کے مطابق معلوم ہوا ہے کہ کورونا وائرس خشک سطحوں پر 8 سے 10 دن تک فعال رہ سکتا ہے جبکہ انسانی جسم میں یہ وائرس 37 ڈگری سینٹی گریڈ کے درجہ حرارت پر زندہ رہ سکتا ہے کیونکہ اِس وائرس کی کمزوری بھی گرمی ہے ۔جس طرح دیگر وائرس گرمی کو برداشت نہیں کرسکتے، اِسی طرح یہ وائرس بھی گرمی برداشت نہیں کر سکتا لیکن اِس مشاہدے میں ابھی کورونا وائرس کے اصل درجہ حرارت کے بارے میں معلوم نہیں کیا جا سکا ہے۔

کیا درجہ حرارت میں اضافہ کورونا کو مار سکتا ہے؟

پوری دُنیا کے ماہرین کورونا وائرس کے خاتمے کے حوالے سے الگ الگ مشاہدے اور تحقیق کرتے نظر آرہے ہیں، زیادہ تر ماہرین کا یہی کہنا ہے کہ گرمی کورونا وائرس کا توڑ ہے اور تین چیزیں ہیں جو کورونا وائرس کی زندگی پر اثر کر سکتی ہیں۔

  1. سورج کی روشنی
  2. اعلیٰ درجہ حرارت
  3. نمی

دوسری جانب کچھ ماہرین اِس بات سے اختلاف کر رہے ہیں کہ کورونا وائرس کا توڑ گرمی ہے، اُن کا کہنا ہے کہ اگر گرمی سے کورونا وائرس ختم ہوجاتا تو آج آسٹریلیا اور سنگاپور میں کورونا کا کوئی کیس سامنے نہیں آتا، اِس لیے ہمیں گرمی کا انتظار کرنے کے بجائے کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اِس وبا سے محفوظ رہیں۔

احتیاطی تدابیر:

کیا درجہ حرارت میں اضافہ کورونا کو مار سکتا ہے؟
  • ایسے لوگوں سے دور رہیں جو بیمار ہوں۔
  • اپنی آنکھوں، ناک اور منہ کو ہاتھ لگانے سے گریز کریں۔
  • اگر آپ بیمار ہیں تو گھر میں ہی رہیں۔
  • جب چھینک آئے تو ٹیشو پیپر کا استعمال کریں اور ایک بار استعمال کرنے کے بعد اُس ٹیشو پیپر کو پھینک دیں۔
  • ہر تھوڑی دیر کے بعد اپنے ہاتھوں کو دھوئیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *