کیا والدین اپنے جذبات بچوں میں منتقل کر تے ہیں؟

کیا ہمیں اپنے ماں باپ سے آنکھوں یا بالوں کے رنگ کی طرح ہی تنہائی بھی ورثے میں ملتی ہے؟ دو خواتین بتاتی ہیں کہ کس طرح تنہائی نے ان کی زندگی کو متاثر کیا اور اِس احساس کا ان کے والدین اور بچوں سے کیا تعلق ہے۔

’تنہائی میری زندگی کا مسلسل حصہ ہے چاہے میں کہیں بھی ہوں اس سے پیچھا ہی نہیں چھوٹتا۔ ایسا لگتا ہے جیسے تنہائی آپ کے اندر سما چکی ہو۔ آپ کو شدت سے اپنے آشنا اور پسندیدہ لوگوں کے پاس ہونے اور ان سے گھلنے ملنے کا دل کرتا ہے مگر آپ نہیں کر پاتے۔‘

اینجل کِسسی اور ان کی والدہ ہیلی دونوں ہی اینگزائیٹی یعنی بے چینی، ڈپریشن اور احساسِ تنہائی کا شکار تھیں۔ اینجل کی والدہ کو بچی کی پیدائش کے بعد سے ڈپریشن اور تنہائی کا احساس شروع ہوا جبکہ اینجل کو بچپن سے ہی ڈپریشن تھا۔

’لگتا ہے کہ تنہائی وراثت میں ملی‘

20 سالہ اینجل کا کہنا تھا کہ ’برطانیہ کے شہر پیٹر برا میں ہماری فیملی سب سے الگ نظر آتی تھی۔ ہمیں سب جانتے تھے کیونکہ ہم سب سے الگ لگتے تھے۔ میں دراز قد تھی اور میرے والدین کا تعلق مختلف نسلوں سے تھا اس لیے میں الگ نظر آتی تھی۔

’جب میں یونیورسٹی گئی تو سب کچھ ٹھیک تھا لیکن کہیں نہ کہیں مجھے اس بات کا احساس ہوتا تھا کہ میں دوسرے لوگوں کے ساتھ گھل مِل نہیں پاتی۔ مجھے لگا کہ لندن میں رہنے سے شاید حالات بہتر ہو جائیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔‘

اینجل اور ان کی والدہ ہیلی
اینجل کی پیدائش کے بعد ان کی والدہ ہیلی ڈپریشن میں مبتلا ہو گئی تھیں

'مجھے لگتا تھا کہ میں خاموش رہا کرتی تھی اور لوگوں کے ساتھ بات کرنے میں یا جلدی دوستی کرنے میں جھجھکتی تھی۔ مجھے لوگوں کے ساتھ رابطہ کرنے اور فوراً دوست بنانے میں بہت جدوجہد کرنی پڑتی۔ کلاس کے بعد لوگ ڈرنکس کے لیے باہر جایا کرتے تھے لیکن مجھے مدعو نہیں کرتے تھے۔ مجھے لگتا تھا کہ شاید میں ہی غلط ہوں۔‘

’آگے چل کر میں نے اپنی کلاسز میں جانا بند کر دیا۔ میں صبح اٹھ کر تیار ہوتی اور پھر واپس بستر میں چلی جاتی، میں فلیٹ کے ان حصوں میں نہیں جاتی تھی جہاں دوسرے لوگ ہوا کرتے تھے۔ میں نے خود کو تنہائی میں قید کر لیا اور اسے خود پر حاوی ہونے دیا۔‘

اینجل نے حالات کے سامنے ہار مان کر پہلے ہی سال میں یونیورسٹی چھوڑ دی۔ حالانکہ ان کی شدید خواہش تھی کہ وہ اپنے گھر اور اپنی ماں کے پاس جائیں لیکن انھوں نے اپنے گھر کے پاس ہی ایک کمرہ کرائے پر لے لیا۔

اینجل کہتی ہیں کہ ’اچھا تھا کہ ہم ساتھ نہیں رہے کیونکہ ہم ایک دوسرے کے لیے آسانی کے ساتھ ساتھ مشکل بھی پیدا کرتے رہتے۔ میری والدہ نے میری ذہنی صحت کو بہتر بنانے میں یقیناً میری مدد کی لیکن ان کی ذہنی صحت مزید خراب نہ ہو، اس لیے میں ان سے زیادہ بات نہیں کرتی تھی۔‘

میں انھیں کوئی الزام نہیں دیتی کیونکہ وہ جان بوجھ کر ایسی نہیں ہیں۔ اس میں ان کا کوئی قصور نہیں ہے۔ یہ شاید ایک ایسی چیز ہے جو میں نے ان سے پائی ہے۔ میرے کچھ رویے اور شخصیت کے پہلو ایسے ہیں جو میں نے ان سے نا چاہتے ہوئے بھی سیکھے ہیں۔‘

برطانوی تنظیم ایج یو کے نے تنہائی کو دیگر افراد کے ساتھ خلوص و محبت، قربت اور سماجی تعلقات میں کمی کا احساس بتایا ہے۔

فلاحی ادارے ’مائنڈ‘ کا کہنا ہے کہ یہ ذہنی مرض نہیں ہے تاہم تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ اس سے ڈپریشن، بے چینی، تناؤ اور احساسِ کمتری پیدا ہونے کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے اور یہ زندگی میں کسی بڑے واقعے یا تبدیلی کے سبب ممکن ہے جیسے کسی کی موت کا صدمہ، رشتے کا ٹوٹنا، ریٹائرمنٹ یا گھر یا شہر کا بدلنا۔

تنہائی پر ریسرچ کرنے والی ڈاکٹر ریبیکا نولینڈ کا کہنا ہے کہ یہ فیملی میں دوسرے لوگوں کو بھی منتقل ہوسکتی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’شاید ہمیں ایسا جین نہ ملے جو تنہائی کے احساس پر اثرانداز ہوتا ہو مگر ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ تنہائی کے ممکنہ طور پر جینیاتی احساس سے کس طرح نمٹا جائے۔‘

ان کے مطابق ’کئی جائزے اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ تنہائی کا احساس یقینی طور پر موروثی ہوتا ہے، اور یہ کہ والدین اور بچوں کی تنہائی کے درمیان کوئی نہ کوئی کنکشن ضرور ہوتا ہے۔‘

وہ مزید کہتی ہیں کہ ’ایسے والدین جو کچھ عرصے کے لیے تنہائی کے شکار رہے ہوں، وہ اپنے منفی جذبات (دورانِ پرورش) اپنے بچوں میں منتقل کر سکتے ہیں۔ چنانچہ ہوسکتا ہے کہ بذاتِ خود تنہائی کے احساس کے بجائے منفی جذبات منتقل ہو رہے ہوں۔‘

کرسٹی میک گرا
کرسٹی میک گرا کو ڈر ہے کہ کہیں ان کی بے چینی ان کے بچے میں منتقل نہ ہو جائے

کرسٹی میک گرا کا کہنا ہے کہ تنہائی ان کے لیے اس وقت مسئلہ بنی جب پانچ سال پہلے ان کے بیٹے کی پیدائش ہوئی۔ انھوں نے ماؤں اور بچوں کے کئی گروہوں میں جانے کی کوشش کی تاکہ نئے دوست بنا سکیں لیکن ایسا نہیں ہو سکا اور وہ خود کو تنہا محسوس کرنے لگیں۔

حالانکہ شام کے وقت ان کے شوہر ان کی مدد کیا کرتے ہیں لیکن ان کے لیے دن کا وقت گزارنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ وہ اکثر اکیلی ہوتی ہیں اور کوئی ان سے بات کرنے والا نہیں ہوتا۔

جنوبی لندن میں رہنے والی 33 سالہ میک گرا کا کہنا ہے کہ انھیں ڈر ہے کہ اگر وہ اپنے بچوں کے لیے سماجی رابطے نہیں بنا سکیں تو ان پر منفی اثر پڑ سکتا ہے اور تنہائی کے ان کے جذبات ان کے بچوں میں منتقل ہو سکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’مجھے حیرت نہیں ہوگی اگر یہ جذبات میرے بچوں میں منتقل ہوجائیں۔ یہ ایسی چیز ہے جس کے بارے میں مجھے علم ہے۔ میں بس یہ چاہتی ہوں کہ میرے بچے دوسروں کی موجودگی میں پرسکون رہیں اور انھیں ایسا محسوس نہ ہو کہ ان کے ارد گرد ہونے والی سماجی سرگرمیوں میں وہ فِٹ نہیں ہوتے۔‘

ان کا کہنا تھا ’میرے بیٹے نے سکول سے واپس آ کر کہا کہ اس کا کوئی دوست نہیں ہے اور اس نے کسی کے ساتھ نہیں کھیلا۔ مجھے فکر ہے کہ وہ میری وجہ سے ایسا ہے کیونکہ میں نے ہی اسے ان سماجی حالات سے واقف نہیں کروایا جس سے وہ سمجھ سکے کہ دوسرے لوگوں کے ساتھ کیسے گھلا مِلا جاتا ہے۔‘

ڈاکٹر نولینڈ کے مطابق احساسِ تنہائی نئے والدین میں عام ہے اور اس سے نمٹنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ صرف پرورش سے متعلق گروپ تلاش کرنے کے بجائے مشترکہ دلچسپیوں والے گروہ تلاش کیے جائیں۔

ذہنی صحت کے شعبے میں کام کرنے والے ڈاکٹر فاروق فضل کہتے ہیں کہ تنہائی کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب آپ کے پاس کوئی سپورٹ نیٹ ورک نہیں ہوتا اور ان کا ماننا ہے کہ سکول میں اس سے نمٹنے کے طریقے سکھا کر اس میں مدد مل سکتی ہے۔

’کوئی بھی یہ نہیں سکھاتا کہ زندگی کے چیلنجز سے کس طرح نمٹا جائے۔ جو لوگ تنہائی کا شکار ہیں، ان کے لیے یہ صرف جسمانی طور پر لوگوں کا آپ کے پاس ہونا نہیں ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ لوگوں سے بات نہ کر پائیں یا آپ کے پاس کوئی جذباتی سہارا نہ ہو۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’میں نے ایسے کئی لوگوں کو دیکھا ہے جنھیں کوئی سہارا دینے والے لوگ نہیں ہوتے اور اس سے نمٹنے کی ان کی صلاحیت ختم ہو چکی ہے۔‘

فائل فوٹو
ماہرین کا خیال ہے کہ والدین اپنے جذبات اپنے بچوں میں منتقل کر سکتے ہیں

فلاحی ادارے مائنڈ کے مطابق احساسِ تنہائی سے نمٹنے کے لیے کئی طریقے موجود ہیں جبکہ ڈاکٹر نولینڈ کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے پروفیشنل مدد بھی لی جا سکتی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’تنہائی آپ کو ایک دردناک اور پریشان کن احساس کے ساتھ چھوڑ دیتی ہے۔ اگر کوئی تنہائی کا شکار ہے اور انھیں ایک طویل عرصے سے اس کا احساس ہے، تو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ آپ نے اس بارے میں منفی خیالات پروان چڑھا لیے ہوں گے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’آپ کو اپنی سوچ میں تبدیلی اور چیزیں دوبارہ ترتیب دینے کے لیے کوگنیٹیو بیہیویئر تھیراپی یا سی بی ٹی کی ضرورت ہو سکتی ہے۔‘

اینجل نے کاؤنسلِنگ کا سہارا لیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس سے ان کی اینگزائٹی تو کم ہوئی لیکن تنہائی کا احساس ختم نہیں ہوا۔

وہ کچھ عرصے بعد یونیورسٹی واپس آ گئیں لیکن تب سے اب تک انھوں نے اپنی ذہنی صحت، کام اور ڈرائیونگ سیکھنے پر توجہ مرکوز رکھی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اینگزائٹی اور بے چینی میں فرق ہے، اور یہ صرف دوست نہ بنا پانے سے بھی مختلف ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’اینگزائٹی بھی آپ کو تنہائی کا شکار بنا سکتی ہے، مگر جس تنہائی کا احساس مجھے یونیورسٹی میں ہوا، وہ مخلتف تھا۔ یہ ایسا ہے جیسے آپ لوگوں کے ساتھ رہیں مگر اپنی ہی ایک چھوٹی سی دنیا میں رہتے ہوئے۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *