گاندھی جی کی آپ بیتی کا جائزہ (قسط 2)

" عبدالغنی محمدی "

گاندھی جی اور مذہب :

گاندھی ایک خدا کو مانتے ہیں ، ہندو  مختلف بتوں کو پوجتے ہیں لیکن اس میں بھی مظاہر قدرت جن میں خدا نظر آتاہے  کی عبادت کرتے ہیں ۔ اصل میں ان کے ہاں  ساری کائنات کی اصل ایک ہی ذات ہے ۔ خدا کے حوالے سے گاندھی جی اپنے عقیدے کو واضح کرتے ہیں ۔ ایک مرتبہ سمندر میں سفر کرتے ہوئے طوفان آجاتا ہے ،  اس کیفیت کونقل کرتے ہیں کہ ہندو ، مسلمان ، عیسائی سب کے سب آپس کے اختلافات بھول گئے تھے اور اس خدائے واحد کو جو سب کا معبو د ہے یاد کررہے تھے ۔

حق وہ روح کلی ہے جو ساری کائنات میں جاوی و ساری ہے انسان اس کے جلوے کی تاب تبھی لاسکتا ہے جب وہ ادنی  مخلوق کو اپنی جان کے برابر عزیز رکھتا ہو ۔ ہندو چونکہ مظاہر  میں ذات حق کو دیکھتے ہیں ،  کسانوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے کہتے ہیں  مجھے  ان کے ساتھ خدا کا نور ، اہمسا اور حق کا جلوہ نظر آیا ۔گاندھی جی کے مذہبی خیالات میں انسانیت کی خدمت کو سب سےبنیادی اہمیت حاصل ہے ۔

ان کو  عیسائیت متاثر کرتی ہے وہ یہودیت سے بالکل متاثر نہیں ہوتے ہیں  بلکہ اس کو اپنے مذہب سےمتضاد سمجھتے ہیں ،یہودیت میں اسلام کی مانند ہی خالص توحید پائی جاتی ہے اس لئے ان کے مذہبی خیالات اس مذہب کے ساتھ مطابقت نہیں پیدا کرسکتے ہیں ۔

گاندھی جی کا زمانہ وہ ہے جس میں ہندوستان میں عیسائیت کے مشنز کام کرتے تھے ،  اور وہ تعصب اور تشدد سے کام لیتے ہیں اس لئے یہ ان کو دل وجان سے برا سمجھتے ہیں ۔ لیکن انگلستان میں عیسائیت کے مطالعہ اور مختلف عیسائی پادریوں اور مذہبی لوگوں کے ساتھ میل جول سے یہ عیسائیت سے آشناہوتے ہیں ، ان کوعیسائیت کی اخلاقیات اور رہبانیت پسندی  وسادگی بہت بھاتی ہے ۔ دراصل عیسائیت میں یہ چیزیں ان کے اپنے فلسفہ زندگی اور ہندو ازم سے قریب نظر آتی ہیں تو  اس طرح وہ عیسائیت کو اس لحاظ سے اچھا جاننے لگتے ہیں ۔ لیکن عیسائیت کا عقیدہ کفارہ ان کو حیرت میں ڈالتا ہے جس میں ماننے والے اپنے  نبی پر اپنے گناہوں کا بوجھ ڈال دیتے ہیں ، اسی طرح خدا کا بیٹا ایک خاص قوم میں ہونا اور انہی کی بخشش کا ذریعہ ہونا ان کے لئے قابل قبول نہیں ۔ جب خدا سب کا ہے تو بخشش صرف ایک قوم کے لئے کیوں   ؟ ساری انسانیت کے لئے یہ رحمت کیوں نہیں ۔

گاندھی جی کہتے ہیں کہ میں گناہ کے عذاب سے نجات نہیں چاہتا بلکہ مجھے تو خود گناہ سے بلکہ اس کے خیال سے نجات کی جستجو ہے  ۔آریائی مذاہب ہندو مت ، جین مت ، بدھ مت ان تمام میں یہ خیالات مشترک ہیں ، یہ روح کے  چھٹکارے کےلئے محنت کرتے ہیں اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک گناہوں سے بالکل پیچھا نہ چھڑا لیا جائے ، کیونکہ گناہ سے روح ملوث ہوجاتی ہے اور چھٹکارہ نہیں حاصل کرپاتی ۔

ہندو مذہب کے بارے گاندھی جی کہتے ہیں ،ہندو دھر میں جتنی دقت نظر ، نزاکت خیال ، روحانی بلندپروازی اور کشادہ دلی ہے کسی مذہب میں نہیں ۔ہندو مذہب ایک فلسفی مذہب رہاہے  ، ہندوستان کی فلاسفی قدیم شہرت رکھتی ہے انہی فلسفیانہ خیالات کو ذہن میں رکھتے ہوئے وہ ہندومذہب کے بارے یہ کہتے ہیں  ۔ ہندو مذہب اس حوالے سے یقینا بہت کشادہ دل ہے کہ اس سے بہت سے مذاہب نے جنم لیا لیکن اس نے کسی کو بھی اپنے سے باہر نہیں کیا بلکہ سب کو ہندو ازم کا حصہ ہی سمجھا ۔ بدھ مت ، جین مت ، یا سکھوں کے جس قدر بڑے گزرے ہیں ان کو ہندو بھی بڑ ا سمجھتے ہیں ۔ اصل میں تو حیدی مذاہب سے قبل دنیا میں موجود مذاہب خود کو حق کہنے کے ساتھ دیگر کو باطل کہنا ضروری نہیں سمجھتے تھے ، اور ہندوا زم بھی انہی مذاہب میں سے ہے ۔

گاندھی مسلمانوں کے ترجمہ قرآن کا مطالعہ کرتے ہیں ،تورات کے مطالعے سے ان کو نیند آنے لگتی ہے ، انجیل ان کو متاثر کرتی ہے ،اس میں اخلاقیات  اور رحمدلی کا ذکر ملتاہے حضرت عیسی کا پہاڑی کا وعظ وہ بہت پسند کرتے ہیں ۔

حضرت عیسی  اور گوتم بدھ کا تقابل کرتے ہوئے کہتے ہیں ،  گوتم بدھ کے دل  میں اوروں کا کتنا دردر تھا ان کی ہمدردی انسانوں تک محدود نہ تھی بلکہ ساری مخلوق کو محیط تھی ۔ یعنی جانورو ں اور دیگر مخلوقات کے حوالے سے ہندو تصورات کا تقابل کرتے ہیں کہ ہندوؤں کے ہاں ان کو کھانے کی اجازت نہیں ۔

گاندھی جی کے مطابق مذہب اور اخلاقیات دو الگ چیزیں نہیں ہیں ، بلکہ جو مذہب اخلاقیات نہ سکھائے وہ مذہب نہیں ہے مذہب کا وظیفہ ہی اخلاقیات سکھانا  ہے ۔ حسن اخلاق ستیا گری کی جان ہے ۔ حسن اخلاق سے مراد محض ظاہری شیریں کلامی نہیں بلکہ باطنی شیریں مزاجی اور اپنے مخالفوں کی دلی خیر خواہی ہے ۔ مذہب سے ہٹ کر بھی اخلاقیات ہوسکتی ہیں کہ نہیں یہ آج کی دنیا کی بڑی بحثوں میں سے ہے ، یورپ آج  مذہب کومعاشرتی زندگی سے جد ا بھی کردے لیکن اس کی اخلاقیات مذہب سے ہی پھوٹی ہیں ، یہ عیسائیت سے اخذکردہ اخلاقیات ہیں۔ یہ بات تو طے شدہ ہے کہ آج کی دنیا میں اخلاقیات کی مسلمہ اقدار وہی ہیں جو مذہب نے متعارف کروائی تھیں ، اچھائی اور برائی کے حوالے سے مذہبی اقدار میں تبدیلی کی بہت  بات کی جاتی ہے اور انسانی معاشروں میں کافی تبدیلی آچکی ہے لیکن اخلاقیات کا سوطہ مذہب ہی ہے جس کی بنیادوں سے انسانیت آج بھی ہٹ نہیں سکی ۔

گاندھی مذہب اور سیاست میں تفریق کے قائل نہیں بلکہ کہتے ہیں کہ حق کی جستجو ہی مجھے سیاست میں کھینچ لائی ۔ میری ناچیز رائے میں جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ مذہب کو سیاست سے کوئی تعلق نہیں وہ مذہب کے مفہوم  کو ناآشنا ہیں  ۔ لیکن یہاں پر گاندھی کے ذہن میں  مذہب کا خاص مفہوم انسانیت کی خدمت ہے اور سیاست بھی اسی کو کہتے ہیں ۔ میرے خیال میں سیکولر حکومت ہونی چاہیے یا مذہبی اور ہندو سٹیٹ  ؟ گاندھی اس مقام پر اس سوال کو ایڈریس نہیں کررہے ۔

ہمارے صوفیاء کی مانندہندوؤں میں ضبط نفس ، خواہش کو دبانا اور روحانیت کو حاصل کرنا ، ذات حق سے جا ملنا ایسی چیزیں ہی اصل مذہب ہیں ۔ گاندھی جی کی تمام مذہبی زندگی انہی چیزوں کے گرد گھومتی ہے  ۔ وہ سادہ خوراک کھاتے ہیں اور خواہشوں کو دباتے ہیں ، آسائش نہیں اختیار کرتے ہیں ، بیوی سے دور رہتے ہیں ا ن کا مقصود ضبط نفس  اور روح کا جسم پر غلبہ اور روح کی صفائی  ہے تا کہ وہ نجات پاسکے ۔

مزید پڑھئیے "گاندھی جی کی آپ بیتی (قسط 1)"

کائنات قوانین سے چلتی ہے ؟

خدا براہ راست اس کائنات میں دخل دیتاہے یا اس نے قوانین بنادیے اور انہی کےمطابق یہ کائنات چل رہی ہے ۔ مسلم علم کلام میں یہ بہت اہم بحث رہی ہے ۔ مسلمانوں میں بھی اس حوالے سے مختلف مکاتب رہے ہیں جو کائنات کو چلانے کے حوالے سے مختلف نظریات کے قائل ہیں ۔ بعض نے تویہاں تک تشدد اور تعمق اختیار کیا کہ چھوٹی سے چھوٹی جزئیات میں بھی خدا کو لے آئے جبکہ بعض کے ہاں خدا اصول بناتاہے اور جزئیات انہی کے مطابق تشکیل پاتی ہیں ۔ گاندھی جی اپنے ملک کے مندروں کے مشاہدے پر کہتے ہیں کہ اگر کسی کو خدا کے بے حساب عفو اور رحم کی شان دیکھنا ہو تو ان مقدس مقامات کو دیکھے ۔ یہ جوگیوں کا داتا لوگوں کو اپنے نام سے کیسی کیسی ریاکاری اور بے دینی کرتے دیکھتا ہے اور درگزر کرتاہے ۔ اس نے مدت ہوئی ہمیں بتا دیا ہے کہ جیسا کرنا ویسا بھرنا ۔ " کرم " کے  اٹل قانون سے کسی کو مضر نہیں ۔ پھر خدا کو دخل دینے کی کیا ضرورت ہے ۔ اس نے تو قانون بنا کر گویا دنیا کو اس کے حال پر چھوڑ دیا ہے ۔

کائنات میں جاری و ساری قوانین پر کسی کی حکومت ہے کہ نہیں ؟ موجودہ دور کا انسان سمجھتا ہے کہ ہمارے پاس اس چیز کے شواہد نہیں کہ وہ قوانین کسی خاص ذات کے تخلیق کردہ ہیں اس لئے وہ اس کے انکاریا اثبات میں سے کسی پوزیشن پر نہیں ہے ۔مذاہب  کے پیر و کار  موجودہ دور کے انسان کی اس پوزیشن سے فائدہ اٹھا کر اس کو مذہب کے سایہ میں لا سکتے ہیں جس کا ذہن بالکل کورا ہے ۔

توہم پرستی :

گاندھی جی سانپوں اور زہریلی چیزوں کو بھی مارنے کے حق میں نہیں تھے ۔ کئی مواقع پر بے آباد جگہوں کی آباد کاری میں وہ ایسی چیزوں کو نہیں مارتے تھے اس کو توہم کہیں یا کچھ بھی لیکن ان کے مطابق ان چیزوں نے ہمیں کبھی نقصان  نہیں پہنچایا ۔ میری چشم عقیدت کوا س میں رحمن رحیم کی کارسازی نظرآ تی ہے ۔ کوئی اس کو ضعیف الاعتقادی سمجھتا ہے تو سمجھتا رہے ، کوئی اگر کہتاہے کہ خدا کو دخل دینے کی کیا ضرورت ہے تو کہتارہے لیکن میرا تجربہ تو یہی کہتاہے ۔ گاندھی جی جس دور میں رہ رہے ہیں اس میں ایسی سو چ اور فکر عام ہونے جارہی ہے جو ان چیزوں کو توہم اور فضول سمجھتی ہے وہ ان خیالات سے واقف ہیں اور اسی کے مطابق گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میرے تجربات تو میرے عقائد و نظریات کی تائید کرتے ہیں ۔

گاندھی کو کئی مرتبہ اپنے   ذاتی ، اپنی بیوی یا بچے کے علاج میں ایسی صورت پیش آجاتی ہے کہ دودھ ، یخنی یا گوشت کے استعمال کی ڈاکٹر کی طرف سے سخت تاکید کی جاتی ہے لیکن گاندھی جی اس سے اتفاق نہیں کرتے ہیں ۔ موت کو ترجیح دیتے ہیں لیکن ان چیزوں نہیں اپناتےہیں ۔

پانی کا علاج  ،  مٹی کا علاج اور گھریلو ٹوٹکوں پر پختہ یقین رکھتے ہیں اور ان کے ذریعے خود ہی علاج کرتے ہیں ۔ باوجودیکہ مذہبی رہنما گوشت کے استعمال کی بوقت ضرورت یا بیماری اجازت دیتے ہیں لیکن گاندھی ان کی نہیں مانتے ہیں ۔ گاندھی ڈاکٹری علاج پر یقین نہیں رکھتے ہیں ۔ میرا عقید ہ ہے کہ انسان کو دواؤں کے استعما ل کی کوئی ضرورت نہیں ۔ ہزار میں سے نو سو ننانوے محض غذا میں احتیاط کرنے ، مٹی پانی کے علاج اوراسی قسم کے گھریلو چٹکلوں  سے اچھے ہوسکتے ہیں ۔

گاندھی جی کی یہ سوچ اس لحاظ سے یقینا اہم ہے کہ روایتی علاجوں سے جس قدر فائدہ ہوسکتا اسے ہمیں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے اسی طرح ہر معاملے میں ڈاکٹروں پر انحصار کرنے کی بجائے گھر میں معمولی علاج اور دواد ارو ہوناچاہیے ۔ لیکن جدید علاج کو اس قدر نظر انداز کردینا اور خالصتا توہم کے انداز میں ان کے بارے سوچناعجیب سا بھی لگتاہے ۔ شاید کچھ چیزوں کے بارے تہذیب بھی آڑے آجاتی ہے کہ گاندھی جی اپنے تہذیبی ورثے کو شدت سے محفوظ رکھنا چاہتے ہوں ۔ اکثر اوقات تو انگریزوں کو دل سے خوش آمدید کہتے ہیں لیکن بعض جگہ وطن اور دھرم کی  محبت ان کے آڑے آجاتی ہے ۔ میرے خیال میں اس میں بھی اصل دخل میلان طبع کو ہے ۔ جدید طرز علاج نے اب تو  اپنی افادیت کو  ہر ایک کے ہاں تسلیم کروالیا ہے  لیکن ہر نئی چیز کو شک اور توہم کے انداز میں دیکھنے کی عادت یقینا قابل غور ہے ۔

دنیا کی  حقیقت :

گیانی مذاہب دنیا اور اس کی خواہشات کے ترک پر بہت زور صرف کرتے ہیں ان کی  نظر میں اس دنیا میں حقیقی خوشی نصیب نہیں ہوسکتی ۔ یہ سارے کھیل جو اس دنیا کے پردے پر نظر آتے ہیں چلتی پھرتی تصویریں ہیں ۔ کسی کا بھروسہ نہیں ، کسی کو ثبات نہیں ، ہاں اس پردے کے اندر ایک بلند اور برتر ذات ہے اور وہ سراپا حقیقت ہے ۔ خوش حال اس  کے جو حقیقت کی جھلک دیکھ لے ،جو حق کا دامن تھام لےاور حق کی تلاش ہی زندگی کی معراج ہے ۔

ان مذاہب کے ترک دنیا کے فلسفوں کے مطابق جب یہ دنیا دھوکہ اور سراب ہے تو اس میں ترقی  کیا معنی رکھتی ہے ؟  لیکن ان مذاہب اور ان کے ماننے والوں نےہمیشہ دور کے ساتھ خود کو آہنگ کیا ہےا ورایسی چیزوں کو تصوراتی حد تک یا زندگی کے بعض حصوں کی حد تک ہی قبول کیا ہے ۔

انگریزوں کی وفاداری :

گاندھی آزادی کے بہت بڑے سپاہی رہے ، ان کی آپ بیتی سے انگریزوں کے حوالے سے  ان کے خیالات میں تنوع نظر آتاہے ۔ 

برطانوی آئین کا جتنا وفادار میں تھا اتنا میں نے کسی کو نہ دیکھا ۔ اب میں سمجھتا ہوں کہ اس وفاداری کی تہہ میں حق کی محبت تھی ۔ یہ معنی نہیں کہ مجھے برطانوی حکومت کی خرابیوں کا علم نہ تھا مگر اس کے باوجود میں اسے مجموعی حیثیت سے قابل قبول سمجھتا تھا ۔ یعنی برطانوی سلطنت اور اس کے طرز حکومت میں ایسی خوبیاں تھیں جو دنیا کے لئے بہتر ہے ۔

رنگ اور نسل کا جو تعصب مجھے جنوبی افریقہ میں نظرآیا اسے میں برطانوی روایات کے منافی  سمجھتا تھا اور مجھے یقین تھا کہ یہ محض مقامی اور عارضی چیز ہے ۔ اس لیے میں تاج برطانیہ کی وفاداری میں انگریزوں سے بازی  لے جانے کی کوشش کرتا تھا ۔ میں نے ساری عمر اس وفاداری سے کوئی ذاتی فائدہ نہیں اٹھایا ۔ یہ میرے لیے ایک فرض تھا اور میں بغیر کسی معاوضے کے اسے انجام دیتا تھا ۔ نو آبادیاتی علاقوں میں برٹش کے انتہائی برے سلوک اور طرز عمل کے باوجود یہ چونکہ برطانیہ میں رہ کر آئے تھے اس لئے ان چیزوں کو اس ملک کی روایات کے خلاف سمجھتے تھے ، لیکن یہ شاید بھول چکے تھے کہ ان کے اپنے ملک اور دنیا کے لئے قانون ایک نہیں  ، الگ الگ ہیں ۔ اپنے ملک میں انصاف اور مساوات کا قانون اور دنیا میں ظلم و تشدد ، تعصب اور امتیاز پر مبنی قانون۔

اس زمانے میں میرا یہ عقیدہ تھا کہ دولت برطانیہ دنیا کی بہبود کے لئے قائم ہے ۔ میں برطانیہ کا اتنا سچا وفادار تھا کہ دل میں بھی اس دولت عظمیٰ کو ضرر پہنچنے کی خواہش نہیں رکھتا تھا ۔ اس سےبھی لگتاہے کہ ایک زمانے تک تو ان کے یہ خیالات تھے بعد میں بدل گئے ۔ ایک جگہ اور لکھتے ہیں کہ مجھے انگریز قوم سے محبت ہے اور میں ہر ہندوستانی کو انگریزوں کا وفادار بنانا چاہتاہوں ۔

مختلف جنگوں میں انگریزوں کا ساتھ :

افریقہ اور ہندوستان میں مختلف مواقع پر پیش آنے والے مشکل حالات میں گاندھی جی انگریزوں کا ساتھ دیتے ہیں ، ان کی فوج میں رضاکارانہ کام کرتے ہیں ، اس کام کے لئے لوگوں کا تیار کرتے ہیں ۔ ان کی نظر میں سلطنت سے اگر حقوق طلب کرتے ہیں تو کچھ فرائض بھی سر انجام دینے چاہیے ۔ گاندھی کی زندگی صحیح معنوں میں ایک عملی زندگی کہلاتی ہے کہ جس میں وہ سلطنت کے ساتھ ہر دم صرف مخاصمت نہیں مول لیتے بلکہ تعاون کرتے ہیں ساتھ دیتے ہیں ، مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں ۔ کوئی پریشانی آجاتی ہے ، آفت ، مصیبت کا وقت آجاتاہے تو وہ عوام کی خدمت کرتے ہیں اور گورنمنٹ کا ساتھ دیتے ہیں ۔

لیکن ہندوستان کی آزادی بھی ان کے پیش نظر تھی ، وہ ہندوستان کی آزادی کی یہ صورت زیادہ  بہتر سمجھتے تھے کہ انگریز کے ساتھ مل کر کام کیا جائے ۔ میرا ان دنو ں یہ خیال تھا کہ ہندوستان کو کامل آزادی صرف برطانیہ کی مدد سے اور اس کے ماتحت رہ کر حاصل ہوسکتی ہے ۔

ہمیں اس نازک موقع پر برطانیہ کا ساتھ دینا چاہیے ، جس کے زیر سایہ عنقریب نو آبادی کا درجہ حاصل کرنے کی ہمیں آرزو ہے ۔ مگر سچی بات یہ ہے کہ ہم سلطنت کا ساتھ اسی توقع کی بناء پر دے رہے ہیں کہ اس کے ذریعے  ہم اپنا مقصد زیادہ جلد حاصل کرلیں گے ۔ غرض انگریزوں کا ساتھ دینے سے مقصود ہندوستانی مفادات بھی تھے ۔ لیکن وہ کس نوع کی آزادی چاہتے تھے یہ ایک اہم سوال ہے کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ ہم ہندوستان کو نوآبادی کا درجہ دلانا چاہتے ہیں ؟ جس کا مطلب ہے ہندوستان پر انگریزوں کی عملداری باقی رہے گی ۔

یورپیوں کی تقلید :

(جاری ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *