گاندھی جی کی آپ بیتی کا جائزہ (قسط 3)

"عبدالغنی محمدی "

یورپیوں کی تقلید :

ان دنوں میرا عقید ہ تھا کہ ہم لوگوں کو اپنے لباس اور آداب معاشرت میں جہاں تک ہوسکے یورپیوں کی تقلید کرنا چاہیے ۔ تاکہ ہم مہذب معلوم ہوں ۔ میں سمجھتا تھا کہ صرف اسی طریقے سے ہم تھوڑا بہت اثر پیدا کرسکتے ہیں اور بغیر اثر کے قوم کی خدمت ناممکن ہے ۔ اسے نظر میں رکھ کر میں نے اپنی بیوی اور بچوں کے لباس کی ایک وضع معین کی ۔ اس زمانے میں پارسی ہندوستانیوں میں سب سے زیادہ مہذب سمجھے جاتے تھے ۔اس لیے جب بالکل یورپی وضع اختیار کرنا  مناسب معلوم ہوا تو ہم نے پارسیوں کی وضع اختیار کی ۔

جب میرا جوش ان تہذیب کی نشانیوں کے بارے میں ٹھنڈا ہوگیا تو بیوی بچوں نے چھری کانٹے کو خیر آباد کہی ۔ غالبا نئی وضع کا عادی ہوجانے کے بعد انہیں چھوڑنے میں بھی اتنی ہی دقت ہوئی ہوگی ۔ مگر اب میں یہ دیکھتا ہوں کہ "تہذیب " کا زرق برق لبادہ اتارنے سے ہماری طبعیت بہت ہلکی ہوجاتی ہے ۔

مغربی زیادہ تر تشدد پر مبنی تہذیب ہے مگر مشرقی تہذیب میں یہ بات نہیں ہے ۔مطلب دنیا کو اپنے رنگ میں رنگنے کے لئے جس قدر تعصب اور تشدد سے مغربی تہذیب نے کام لیا مشرقی تہذیب میں یہ بات نظر نہیں آتی ہے ۔ ان باتوں سے اندازہ ہوتاہے کہ غالب قوم کی مطابقت کرناکس قدر ضروری تقاضہ بن جاتاہے اور مہذب ہونے میں بھی اس چیز کو کتنا بنیادی کردا ر حاصل ہے ۔

امتیازی سلوک :            

گاندھی کو انگریزوں کی نو آبادیاتیوں میں جگہ جگہ تعصب نظر آتا ہے ، امتیازی رویہ اور غیر مساویانہ قانون نظر آتاہے ۔ یورپی حجام ان کے بال نہیں کاٹتا تو یہ اپنے بالوں کو خود ہی کاٹ لیتے ہیں جس سے وہ خراب ہوجاتے ہیں اور ان کا مذاق بنتاہے  ۔ اسی طرح ان کے کپڑوں کو دھوبی دھوتا اور استری نہیں کرتا ، یہ اس کام کو بھی خود کرلیتے ہیں اور گھوکھلے کی ٹائی کوٹ کالر وغیرہ کو خود ہی جماتے ہیں ۔ گاندھی کہتے ہیں کہ ہم ہندوستان میں جو سلوک اچھوتوں  کے ساتھ کرتے ہیں اس کا بدلہ بیسیوں مرتبہ مجھے جنوبی افریقہ میں ملا۔ میرا عقیدہ تھا کہ کہ یہ ہمارے گناہوں کی سزا ہے اس لیے مجھے اس پر غصہ نہیں آتا تھا۔

انگریزوں کے ہاں راجوں کی حالت :

انگریزوں کے دربار میں بڑے بڑے راجوں کو عورتوں کی طرح بن ٹھن کر آنا پڑ تا تھا ، بہت سے وہ زیورات جو عورتیں پہنتی ہیں وہ پہنا کرتے تھے ، ریشمی پاجامے اور ریشمی اچکنیں پہنتے تھے ۔ گلے میں موتیوں کے مالے اور ہاتھوں میں کنگن  ہوتے تھے ۔ دولت ، قوت اور عزت کی خاطر انسان کو کن کن ذلتوں اور گناہوں کا بوجھ اٹھانا پڑتاہے ۔

مزید پڑھئیے
"گاندھی جی کی آپ بیتی (قسط 1)"
"گاندھی جی کی آپ بیتی (قسط 2)"

گاندھی جی اور قومی ادارے :

گاندھی جی کی ساری زندگی تحریکات اور تنظیموں میں گزری ، قومی اداروں میں مستقل سرمایہ ہونا چاہیے یاعارضی  ؟  قومی اداروں کے حوالے سے انہوں نے افریقہ کے زمانے میں کچھ جائیدادیں خریں جو نزاع کا شکار ہوگئیں اس پر لکھتےہیں ۔ لیکن میرا خیال قومی اداروں کے لیے مستقل سرمایہ رکھنے کے بارے میں اس نزاع سے بہت پہلے بدل چکا تھا اور اب متعدد قومی اداروں کا وسیع تجربہ حاصل کرنے کے بعد میرا عقیدہ ہوگیا ہے کہ ان اداروں کو مستقل سرمائے کی مدد سے چلانا اچھا نہیں ہے ۔ قومی ادارہ وہ جو قوم کی مرضی اور اس کے روپے سے چلایا جائے ۔ جب یہ ادارہ قوم کی مدد سے محروم ہوجائے تو اسے باقی رہنے کا کوئی حق نہیں ۔ جو ادارے مستقل سرمائے سے چلتے ہیں ان کے کارکن اکثر رائے عامہ کو نظر انداز کردیتے ہیں بلکہ کبھی کبھی اس کے خلاف عمل کرتے ہیں ۔ ہمیں  اپنے ملک میں روزمرہ اس کا تجربہ ہوتاہے ۔ بعض نام نہاد مذہبی وقف ایسے ہیں جنہوں نے اپنے حسابا ت شائع کرنا موقوف کردیا ہے ۔ ٹرسٹی مالک بن بیٹھے ہیں اور وہ اپنے آپ کو کسی کا ماتحت نہیں سمجھتے ۔

مگر میں ایک غلط فہمی کو رفع کرنا چاہتا ہوں ۔ میرا خطاب ان اداروں سے نہیں جن کے لیے مستقل عمارت ہونا لازمی ہے ۔ میرے کہنے کا منشا صرف یہ ہے کہ معمولی خرچ ان چندوں سے چلنا چاہیے جو لوگ اپنی خوشی سے ہر سال دیا کریں ۔ بانی دار العلوم دیوبند مولانا قاسم نانوتو ی نے اپنے آٹھ بنیادی اصولوں میں بھی یہ بات لکھی ہے کہ مدارس کو مستقل چندے ، کسی ریاست یا فرد کے سہارے چلانے کی بجائے قومی چندے سے چلایاجائے ۔

میرا راسخ عقیدہ یہ ہے کہ قومی کام کرنے والوں کو قیمتی تحفے قبول نہیں کرنا چاہیے ۔ افریقہ میں ان کے خاندا ن کو جس قدر قیمتی تحفے ملتے ہیں سبھی وقف میں شامل کردیتے ہیں ، ان کی بیوی بہت ناراض ہوتی ہے لیکن وہ اس کی پرواہ نہیں کرتے ہیں ۔

قومی خدمت کے لئے دو چیزوں کو ضروری اور بنیادی سمجھتے ہیں ،  خلوص نیت اور تجربہ ۔ گاندھی خود قومی خدمت میں نہ صرف خلوص نیت سے کام لیتےہیں بلکہ اس کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں ۔ افریقہ سے جب ہندوستان واپس آتے ہیں تو کانگریس میں کارکنوں کے اندر ان دونوں چیزوں مفقود پاتے ہیں ، خود ان کی رہنمائی کرتے ہیں اور آگے بڑھ کر خود کام کرتے ہیں ۔

لوگوں کی نفسیات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ تحریکی معاملات میں ان چیزوں کے حوالے سے خاص کر محتاط رہنا چاہیے ۔ میں جانتا ہوں کہ عوام شورش اور ہنگامے کو پسند کرتے ہیں اور خاموش تعمیری کاموں سے گھبراتے ہیں ۔ اس کا تجربہ مجھے آج تک ہورہا ہے۔

بچوں کی تعلیم :

گاندھی جی بچوں کوخود تعلیم دینے کے حق میں تھے ۔ اقامتی اداروں یا ایسی جگہیں جہاں پر ان کو والدین سے دور کردیاجائے اس کے حق میں نہ تھے ۔ ان کی نظر میں تعلیم سے زیادہ تربیت اہم تھی ۔ تربیت میں وہ جسمانی کاموں  پر زور دیا کرتے تھے ، خدمت خلق کا جذبہ پیدا کرتے تھے  ، خود انحصاری کا سبق دیتے تھے اور ضبط نفس کی تربیت کرتے تھے ۔ آزادی اور خود داری ان کی نظر میں بہت اہم تھی ۔ کہتے ہیں کہ غلامی کے گھروں یعنی سکولوں اور کالجوں کے چھوڑنے کا مشورہ میں نے دیاتھا ، آزادی کی طرح ان پڑھ رہ کر پتھر پھوڑنا اس سے اچھا ہے کہ آدمی زنجیروں میں جکڑا ہوا ادبی تعلیم پاتا ہو ۔

میرا ہمیشہ یہ عقیدہ رہا ہے کہ جو ہندوستانی ماں باپ بچے کو بچپن سے انگریزی میں  سوچنا اور انگریزی بولنا سکھاتے ہیں، وہ اپنے بچوں اور اپنے ملک دونوں کے ساتھ بے وفائی کرتے ہیں ۔ وہ بچوں کو قوم کی روحانی اور سماجی آرٹ سے محروم کردیتے ہیں ۔ اپنے بچوں کو ان اداروں میں بھیجنے کی بجائے وہ  خود تعلیم دیتے تھے ۔

گاندھی جی کی متنوع خصوصیات :

گاندھی نے ہندوستان کی  آزادی کی کوشش تو کی ہی ، اس کی خود مختاری کے لئے بھی بہت کام کیا ۔ وہ خود کھدر بن کر پہنا کرتے تھے  اور اس کو بننے اور رواج دینے کے لئے ا نہوں نے بہت محنت کی ۔ ملوں کے مقابلے میں  کھڈی کی صنعت کو از سر نو زندہ کرتے ہیں اس پر بہت زیادہ محنت کرتے ہیں ۔ کھڈی کی صنعت کو زندہ کرنا اگر چہ وقت کا پہیہ گمانے والی بات تھی لیکن انہوں نے اپنی لگن سے یہ کردکھایا ۔

گاندھی ورزش کیا کرتے تھے اور اس کی تاکید کرتے تھے کہ انسا ن کو کتنا ہی کام کرنا ہو اسے ورزش کے لئے بھی اسی طرح وقت نکالنا چاہیے جیسے کھانے کے لئے نکالتاہے ، اس سے مجموعی کام کم نہیں بلکہ زیادہ ہوتاہے ۔

گاندھی صفائی کا بہت زیادہ خیال رکھنے والےتھے ۔ گھروں کی صفائی ، کوڑا کرکٹ اٹھالینا ، پاخانے تک خود اٹھالیتے تھے ۔گاندھی جی اپنی ذات کے حوالے سے بدلہ نہ لیتے تھے کوئی کتنی ہی زیادتی کرجاتا اس کا بدلہ نہ لیا کرتے تھے ۔ گاندھی بالکل سادہ  شخص تھے تیسرے درجے کا سفر کرتے ، سادہ خوراکیں کھاتے اور عام کپڑے پہنتے تھے ، راست گو  ، باحیاء ،  امانت دار  اور قومی خدمت کو عبادت کا درجہ دینے والے فرد تھے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *