گوہر نایاب ارفع کریم رندھاوا

بے شک اللہ تعالیٰ نے ہرشئے کو کسی نہ کسی مقصد کے تحت اس دنیا میں بھیجا ہے لیکن انسان کو اشرف المخلوقات ہونے کا شرف بخشا ہے کیونکہ  عقل و شعور،ذہانت،  بولنےکی طا قت، قوت سماعت اوربینائی یہ سب خصوصیات اور مختلف طرح کی صلا حتیں انسان کے اندر پائی جاتی ہیں جو کہ اسے دوسری چیزوں سے مختلف بناتی ہیں اور انسان اپنی انہی صلاحتوں اور ذہانت کو استعمال کرتے ہوئے زندگی کو کامیابی کے ساتھ گزارنے کی جستجو میں مگن دکھائی دیتا ہے لیکن کچھ لوگ خداداد صلاحیت کے مالک ہوتے ہیں اوران  لوگوں کی ذہانت کے چرچے پوری دنیا میں ہوتے ہیں جس سے عقل دھنگ رہ جاتی ہے ایساہی ایک نام پاکستان کی ذہین اور قابل فخر بیٹی ارفع کریم رندھاوا کا ہے جس نے کم عمری میں ایسا کارنامہ انجام  دیا جس سے پوری دنیا حیرت میں مبتلا ہو گئی

1995فروری2

کو فیصل آباد کے قریبی گاؤں رامدیوالی میں پیدا ہونے والی ارفع کریم نے کرنل امجد کریم رندھاوا کے گھر آنکھ کھولی  ارفع کے داداچودھری عبدالکرریم رندھاوا نے ارفع کریم رندھاوا کا نام رکھا کوئی نہ جانتا تھا کہ یہ نومولود بچی اپنی نام کی طرح ارفع نکلے گی جو دن اس بچی کے کھیلنے کودنے کے تھے حتٰی کہ جب اس نے پوری طرح حوش بھی نہ سنبھالا تھا اس عمر میں اپنی قابلیت کا لوہا منوایا

اس کم سن بچی نے صرف نو سال کی عمر میں مایئکرو سافٹ پروفیشنل کا امتحان پاس کر کے آئی ٹی کی دنیا میں تحلکہ مچا دیا اوردنیا کی کم عمر ترین مائکروسافٹ  پروفیشنل بن گئی کوئی بھی اس کی اس قابلیت کو ماننے سے قاصر تھا بڑے بڑے آئی ٹی ماہرین حیرانی اور پریشانی میں مبتلا ہو گئے اس کم عمر ماہر کو دوبارہ آزمایا گیا جس کے لیے بیرون ملک سے آئی ٹی ایکسپرٹز کو بلوایا گیا لیکن اس کمسن ذہین نے ان پر بھی سکتا تاری کر دیاجس کی بنا پر سارے داد دینے پر مجبور ہو گئے

2004نومبر13ارفع کریم نے

کومائکروسافٹ پروفیشنل کا امتحان پاس کیا اور اس مایا ناز قابلیت کے صلے میں

2005مارچ 30

  کواُسےدنیا کی کم عمر ترین مائکروسافٹ پروفیشنل کی ڈگری سے نوازا گیاجو کہ پوری قوم کے لیے اعزاز کی بات تھی آئی ٹی کے بانی بل گیٹس جنہوں نے کمپیوٹر ٹیکنا لوجی میں وسعت کی جب اُنہیں ارفع کے اس کارنامے کا علم ہوا تو انہوں نے اس ننھی ماہر کو امریکہ آنے کی دعوت دی

2005جولائی

کو بل گیٹسس سے ملاقات کے لیے ارفع کریم رندھاوا اپنے والد کے ہمراہ امریکہ گئی بل گیٹس نے اپنے مصروف ترین وقت میں سے ارفع کو دس منٹ ملاقات کے دیےجوکہ پوری پاکستانی قوم کے لیے کسی فخر سے کم نہ تھاارفع نے بل گیٹس کے ساتھ ناشتہ بھی کیا ارفع سے ملاقات کے وقت بل گیٹس نے ارفع کی حوصلہ افزائی کی اور کہا جاتا ہے کہ ارفع سے زیادہ بل گیٹس اُس سے  متاثر ہوئے اور ارفع کو پاکستان کادوسرا روپ قرار دیا کیونکہ کہ اس ملاقات میں بل گیٹس نے ارفع سے کہا کہ وہ سمجھتے تھے کہ پاکستان میں لڑکیوں کو پڑھنے نہیں دیا جاتا لیکن آج پتہ چلا کہ وہاں پر تم جیسے ذہین لوگ بھی پائے جاتے ہیں تو یہ ہے پاکستان کا دوسرا چہرہ ؟ارفع کریم نے انتہائی دلچسپ جواب دیتے ہوئے کہا کہ صرف یہی ہے پاکستان کا چہرہ بل گیٹیس نے ارفع کریم سے متاثر ہو کر اُسے کم عمر ترین مائکروسافٹ سرٹیفائڈ ایپلیکیشن کی سند بھی دی  جس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ پاکستان میں کسی طور ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہےارفع کریم کو عظیم خدمات کے صلے میں بہت سے اور اعزازات سے بھی نوازا گیا جس میں فاطمہ جناح گولڈ میڈل سلام پاکستان اور صدارتی تمغہ امتعاز برائے حسن کارکردگی دیا گیا ارفع کریم یہ ایوارڈ حاصل کرنے والی پہلی کم عمر شخصیت تھی  اور

 2006نومبر

   میں مائکرو سافٹ کی بار سلونا کانفرنس میں پانچ ہزار شرکاء نے شرکت کی اور ان میں ارفع کریم واحد پاکستانی مائکروسافٹ پروفیشنل تھی ارفع کریم کے اعزازات میں سے یہ بھی ایک نہایت قابل فخر اعزاز مانا جاتا ہے جس سے پوری پاکستانی قوم کا سر فخر سے بلند ہو گیا

صرف یہی نہیں ارفع کریم ہر فن مولا تھی دبئی کے فلائنگ کلب میں دس سال کی عمر میں جہاز اڑا کرایک تاریخی ریکارڈ قایم کیا اور وہاں سے بھی سند حاصل کی گویا ارفع کامیابی کی سیڑھیاں بہت تیزی سے چڑھ رہی تھی ارفع کریم نے اپنی کامیابی کا ذکر مختلف ٹی وی شوز میں کیا بلکہ جب پی ٹی وی کے ایک پروگرام میں اس سے اس کی کامیابی کے متعلق پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ بچہ سیڈ کی مانند ہوتاہے اگر اس کو صحیح طرح سے پانی اور منرلز نہ ملیں تو اس کی صحیح نشونما نہیں ہو سکتی اسی طرح اگر بچے کو پوری توجہ نہ مل سکے تو وہ زندگی میں کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتا

ارفع کریم ایک لاجواب شاعرہ بھی تھی اُس نے بہت سی نظمیں بھی لکھیں جس میں سفید گلاب قابل ذکر ہےیوں احساس ہوتا تھا کہ اس ملک کی خدمت کابیڑا اس ننھی پری نے اپنے سر لیا ہوا ہے ارفع کریم پاکستان کے لیے بہت کچھ کرنا چاہتی تھی وہ چاہتی تھی کہ پاکستان میں تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور پسماندہ علاقوں میں بھی تعلیمی نظام پر توجہ دی جائے اور یکساں تعلیمی نظام رائج کیا جائے اسی سوچ کے پیش نظر اس نے اپنے گاؤں میں ایک کمپیوٹر لیب بنوایا کیوںکہ وہ پاکستان کو بلند دیکھنا چاہتی تھی یہ ارفع کے خوابوں میں سے ایک بڑا خواب تھا اسی لیے وہ بھارت کی سلی کون ویلی جیسی ایک ڈیجی کون ویلی کی تکمیل پاکستان میں چاہتی تھی جس میں نا صرف پاکستان بلکہ دنیا کے بچوں کو مفت اور معیاری تعلیم دی جائے یہ ارفع کریم کی زندگی کا ایک بہت بڑا مقصد تھاخوابوں کی تکمیل میں گامزن گوہرنایاب ارفع کریم کو اچانک

2011دسمبر22

کو مرگی کا دورہ پڑا جس کے بعد فوراً اُسےلاہور کے سی ایم ایچ ہسپتال منتقل کیا گیا وہاں اسے دل کی تکلیف شروع ہو گئی جس کی شدت سے وہ کومے میں چلی گئی

جنوری2

 کوبل گیٹس نے ارفع کریم کے والدین سے رابطہ کیا اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ ارفع کا علاج اپنی زیر نگرانی امریکہ میں کروانا چاہتے ہیں ،بل گیٹس کے ہی کہنے پر امریکی ڈاکٹرکا پینل بنا جو ویڈیو کانفرنسزکے ذریعے پاکستانی ڈاکٹر کی رہنمائی کرتے رہے

 دن کومے میں رہنے کے بعد 26

2012جنوری14

بروز ہفتہ کو حالت مزید خراب ہونے کے باعث سی ایم ایچ لاہور میں ارفع کریم رندھاوا اپنے خالق حقیقی سے جا ملی

 دنیا سے رخصت ہونے کی خبرجب ٹی وی پر چلی تو پوری قوم صدمےسے نڈھال ہو گئی کہتے ہیں کہ کچھ لوگ مر کے بھی امر ہو جاتے ہیں ارفع کریم اُن میں سے ایک تھی

ارفع کریم کو انفارمیشن ٹیکنالوجی میں جو دسترس حاصل تھی اسے خراج تحسین پیش کرنے کے لیے بعد از مرگ لاہور ٹیکنالوجی پارک کا نام بدل کرارفع کریم سافٹ ویر پارک رکھ دیا گیا اور کراچی کا آئی ٹی سینٹر ارفع کریم کے نام سے منسوب کر دیا گیاآئی ٹی میڈیا پروجیکٹ کو بھی ارفع کریم کے نام سے منسلک کیا گیاارفع کریم کو اُس کے آبائی گاوں رامدیوالی فیصل آباد میں دفن کیا گیا جس کی وجہ سے ارفع کریم کے گاؤں کا نام رامدیوالی سے بدل کر ارفع نگر رکھ دیاگیا

قوم کا روشن چہرہ ارفع کریم تودھرتی ماں کی آغوش میں جا کر ہمیشہ کے لیے سو گئی لیکن پوری پاکستانی قوم کو ایک پیغام دے گئی کہ تعلیم ہی ایک ایسا راستہ ہےجس کے ذریعے ہم سب سے آگے نکل سکتے ہیں اور ملک و قوم کا نام روشن کر سکتے ہیں پوری قوم ارفع کریم رندھاوا کو سلام پیش کرتی ہے کہ ارفع نے پاکستان کا روشن چہرہ پوری دنیا کو دیکھا کر یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان تعلیمی میدان میں کسی سے بھی پیچھے نہیں ہے آج ارفع کریم کو دنیا سے رخصت ہوئے آٹھ برس بیت چکے ہیں لیکن قوم آج تک اس قیمتی نقصان کا آزالہ نہ کر سکی

اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ اس ننھی کلی کو جوار رحمت میں جگہ دے آمین۔

نمرہ ثمر

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *