"ہستی ہی اپنی کیا ہے زمانے کے سامنے"

لاہور میں سردی کا احساس  اور دھند کا پھیلاو ابھی ذرا کم کم سا ہی ہے، البتہ ماحولیاتی آلودگی (اسموگ) خوب ڈیرے جمائے بیٹھی ہے۔ موسم کی سردی اور سیاست کی گرمی نے ریاستی سطح پر صورتحال کو دلچسپ بنا رکھا ہے مگر انسانی حقوق کے فروغ اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ میں نہ کوئی بہتری نظر آرہی ہے اور نہ ہیکسی ذمہ دار کی دلچسپی۔

نذیر مسیح بمشکل چالیس برس کے لپیٹے میں ہو گا، مگر کٹھن وقت کی دھُول اور دہائیوں سے پلتے احساسِ کمترینے اُسے لگ بھگ ایک دہائی آگے لا کھڑا کیا ہے۔ اُس کے سر کے بالوں میں جمی گرد اور چہرے کی جھریاں گزری کئی "قیامتوں" کا قصہ بیان کرنے کو کافی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نذیر مسیح کے چہرے پر سے خوشحالی اور تازگی کافور ہو چکی ہے۔وہ ٹانگ پر گہری چوٹوں کے باعث جس چارپائی پر لیٹا سردی کی دھوپ سینک رہا تھا اُس کا ایک کونہ اینٹوں کے سہارے قائم تھا۔ ہمیں اپنی جانب آتے دیکھ کر نذیر نے ادباً اُٹھنا چاہا مگر کندھے میں درد کے باعث نہ اُٹھ سکا۔ پاس ہی چند بچے کھیلتے ہوئے کسی بات پر اُلجھ پڑے تو گوبر ملی مٹی ہمارے چہروں پرپڑنے لگی ، نتیجتاً ایک لحظہ کو سب کی توجہ اُدھر کو چلی گئی، اِس دوران نذیر مسیح نے کمبل کا وہ حصہ جس پر بڑا سا پیوند لگا تھا زخمی ٹانگ کے نیچے چھپا دیا۔ نذیر کے ساتھ والی چارپائیوں پر بھی چند زخمی افراد معاشرے میں بڑھتے ہوئے پُرتشدد رجحان اور مذہبی عدم رواداری کاجیتا جاگتا اورعملی ثبوت بنے بیٹھے تھے۔

یہ لاہور میں جدید ترین ہاوسنگ سوسائٹی سے متصل برکی روڈ پر واقع پیر بخش چلار گاوں ہے۔ گاوں کی حد بندی کہیں کھیتوں کی ہریالی، ہاوسنگ سوسائٹی کی تحفظ نما دیواریں اورکہیں شیشے سے مزین عمارتیں اور مصنوعی سجاوٹوں سے بھری سڑکیں کر رہی ہیں ۔ رہائشیوں کے مطابق یہ گاوں 1936 میں آباد ہوا تھا اور تب سے اُن کے آباو اجداد یہاں آ کر آباد ہونا شروع ہوئے۔ گاوں کی اکثریت مسلمان خاندانوں پر مشتمل ہے جبکہ دس کے قریب  مسیحی خاندان بھی گاوں کا فخر کہلاتے ہیں ۔

ہم کھُلے آسمان تلے چارپائیوں پر نذیر مسیح  کی چارپائی کے گرد بیٹھے تھے کہ جس کی ٹانگ حملے میں دو جگہ سے ٹوٹ چکی تھی۔ میدان میں موجود ہر شخص اپنے تئیں آنکھوں دیکھا حال بیان کر رہا تھا اور ہم توجہ سے سُننے کے باوجود  اس ماحول میں خود کے اندر بڑھتے ہوئے ڈر اورخوف کو ختم نہ کر پا رہے تھے اس لئے کہ اُس دن بھی قبضہ مافیا نے اسی طرح بیٹھے "دوسرے درجے" کے نہتے شہریوں پر آتشیں اسلحہ سے حملہ کر دیا تھا۔

"یہ بہت اثر و رسوخ والے لوگ ہیں۔ وہ خوف اور دہشت پھیلا کے ہماری لگ بھگ 25 کنال زمین پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ گاوں میں ہمارے دس کے قریب مسیحی خاندان، ، گرجہ گھر اور قبرستان بھی شامل ہے۔ ہم نسل در نسل یہاں کے باسی اور مالک ہیں۔ ہمارا گاوں ہاوسنگ سوسائٹی سے متصل ہونے کی وجہ سے انتہائی مالی کشش کا حامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مفادات کے پچاریوں نے ہمارا جینا حرام کر رکھا ہے۔ ایسے ہتھکنڈے ہمیں "غیر" ہونے کا احساس دلاتے ہیں۔ ہم ریاستی اور معاشرتی سطح پر رد کئے جا رہے ہیں۔ ہم جانیں وار دیں گے مگر اپنے پُرکھوں کی جائیداد کسی کو ہتھیانے نہیں دیں گے"۔ سنجیدگی، خوف اور عزم سے مزین اس ماحول میں متاثرین ملے جُلے خیالات کا اظہار کر رہے تھے۔ 

مبینہ طور پر 2016 میں لاہور ہائی کورٹ نے اس زمین کو مسیحیوں کی ملکیت قرار دیا تھا اور پھر 2018 میں سُپریم کورٹ نے بھی ماتحت عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔ ایف آئی آر نمبر 971/19 کے مطابق اسی رنجش کی بنا پر 16 نومبر 2019 کی شام درجن بھرآتشیں اسلحہ سے لیس افراد نے گاوں کے نہتے مسیحیوں پرحملہ کردیا۔ جس کے نتیجے میں 18 سالہ سونیا تین گولیاں لگنے کے باعث انتقال کر گئی۔ جبکہ نذیر مسیح، شہنازنذیر، آسیہ بی بی، رفیق مسیح اور بشیر مسیح جسم اور روح دونوں پر گہرے زخم لئے بیٹھے ہیں۔

چلار گاوں کے مسیحیوں کی مشکلات اور ملک بھر میں بسنے والے مسیحیوں کی صورتحال پر گفتگوجاری تھی کہ کسی کے فون پر ناھید اختر کی آواز میں گائی گئی غزل کے یہ الفاظ گونج اُٹھے کہ "ہستی ہی اپنی کیا ہے زمانے کے سامنے" ۔ یہ مصرعہ سُنتے ہی ہم ایک دوسرے کا مُنہ تکنے لگے اس لئے کہ منیر نیازی کی غزل کے یہ الفاظ آج  من و عن اقلیتی شہریوں کی حالتِ زار بیان کر رہے ہیں ۔ منیر نیازی نے فرمایا تھا کہ:

زندہ رہیں تو کیا ہے، جومرجائیں ہم تو کیا

دُنیا سے، خامشی سے گزرجائیں ہم تو کیا

ہستی ہی اپنی کیا ہے زمانے کے سامنے

اک خواب ہیں جہاں میں، بکھر جائیں ہم تو کیا

اطلاعات ہیں کہ ایف آئی آر میں ملزمان کی شناخت ہونے کے باوجود تادمِ تحریر کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا۔

ضرورہے کہ پاکستانی مسیحیوں کے اندر پلنے اور بڑھنے والے احساسِ بیگانگی کو یکسر ختم کیا جائے۔ چلار گاوں کے باسیوں کو اُن کی جان و مال کی حفاظت کی ضمانت دی جائے۔ انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف مکمل اور سنجیدہ قانونی کاروائی کی جائے۔ اُن کی مالی حیثیت، لیک سلیک، تعلق واسطے اور مذہبی شناخت کو ترجیح نہ دی جائے بلکہ سونیا مرحوم اور چلار گاوں کے متاثرین کوانصاف فراہم کرنے کا ریاستی بندوبست کیا جائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *