کورونالوٹ آیا، لوگوں میں خوف

ابھی ہم کورونا وائرس سے نجات پانے کی امید میں کچھ پل کے لیے خوش ہوئے ہی تھے کہ پھر لندن اور برطانیہ میں کورونا کے کیس کے بڑھنے سے لوگوں میں خوف اور مایوسی کی لہر دوڑ گئی ہے۔سوموار 14ستمبر سے حکومت برطانیہ نے ایک بار پھر چھ سے زیادہ لوگوں کے جمع ہونے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
اخبارات اور ٹیلی ویژن پر کورونا کی سرخیوں نے پھر اپنا سکہ جما دیا ہے۔ یعنی خبریں کورونا کے پھیلنے سے لے کر حکومت کے احکامات سے بھری پڑی ہیں۔ میں نے دنیا کی بدلتے ہوئے حالات اور احمق لیڈران کی باتوں سے عاجز آکر باقاعدگی سے خبروں کو دیکھنا اور سننا چھوڑ دیا تھا۔ تاہم سوشل میڈیا کی مقبولیت نے اب بی بی سی جیسی خبر ایجنسی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ انفرادی طور پر اتنی خبریں مل جاتی ہے کہ ان ایجنسیوں پر جا کر خبروں کو دیکھنا ور سننا اب ضروری نہیں رہا۔ یوں بھی انٹر نیٹ کی سہولیت اور ویب کی آسانی سے خبروں کو جاننے میں اب ذرا دیر بھی نہیں لگتی ہے۔
برطانوی حکومت کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ برطانیہ میں اب تک کورونا وائرس کے 370,000سے زیادہ تصدیق شدہ کیسزپائے گئے ہیں اور 41,000 افراد کی اب تک موت ہو چکی ہے۔تاہم ان اعداد و شمار میں صرف وہی افراد شامل ہیں جو کہ کورونا وائرس کے مثبت ٹیسٹ کے 28 دن کے اندر ہی فوت ہوگئے ہیں جبکہ اس بات کا بھی اندیشہ ہے کہ اموات اس سے بھی زیادہ ہے۔حکومت نے پیر کو 2,621نئے کیسزا علان کیا ہے۔حالیہ دنوں میں مئی کے وسط کے بعد سے روزانہ کیسز میں اضافے دیکھا گیاہے۔ جس کی وجہ سے حکومت کودوبارہ سماجی اجتماعات پر نئی پابندیاں دوبارہ لگانی پڑیں۔اب گھر کے اندر یا باہر چھ سے زیادہ افراد پر دوبارہ ملاقات کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔جولائی کے بعد سے ہونے والے کیسز میں اضافے کی جزوی طور پر ایک وجہ یہ بتا ئی جارہی ہے کہ اب زیادہ لوگ جانچ کروارہے ہیں۔
نئے احکام کے مطابق انگلینڈ میں، متعدد گھرانوں سے ملنے والے چھ افراد تک کی حد اطلاق گھر کے اندر اور باہر دونوں جگہ اور ہر عمر کے لئے ہوگا۔لہذا نجی گھروں میں اجتماعات، پب(شراب خانے) اور ریستوراں جیسے مقامات، اور بیرونی جگہیں جیسے پارک سب متاثر ہوں گے۔اسکاٹ لینڈ میں دو گھرانوں سے زیادہ سے چھ افراد مل سکتے ہیں۔ انگلینڈ کے بر خلاف بارہ سال سے کم عمر کے بچے ان دونوں گھرانوں کی ملاقات میں شامل نہیں ہیں۔ ویلز میں اب توسیع شدہ گھر والے چھ سے زیادہ افراد کے گھر کے اندر ملنا غیر قانونی ہے۔ گیارہ سال اور اس سے کم عمر کے بچے توسیع شدہ گھروں سے تیس سے زیادہ افراد اب بھی باہر مل سکتے ہیں۔
تاہم انگلینڈ میں چھ سے زیادہ افراد کو سماجی پروگراموں کے لیے جن باتوں کی اجازت ہیں وہ درجہ ذیل ہیں۔:اگر آپ کے خاندان یامعاون میں چھ افراد سے زیادہ ہیں۔ تعلیم اور تربیت کی ترتیبات یا ٹریننگ کی جگہ۔ کام کی جگہیں جیسے آفس یا کارخانے۔ احتجاج اور سیاسی جلسے جو کہ حفاظتی ضابطے کی تعمیل کے ساتھ ہو۔ جیوری ڈیوٹی یا دیگر قانونی ذمہ داریوں کی جگہ، بچوں کے پلے گروپس اور یوتھ کلب۔ سپورٹ گروپس جیسے شراب کی لت اور بدسلوکی سے متاثر لوگوں کی دیکھ بھال کی جگہ۔ کھیل کود کا مقام یا تو پیشہ وارانہ ہو یا تفریح کے لئے ہو۔
اس کے علاوہ شادیوں، جنازوں اور خصوصی مواقع پر تیس سے زیادہ افراد شریک ہو سکتے ہیں۔ جن میں چھ یا اس سے کم لوگ گروپ میں لازمی ہونا ضروری ہے۔تاہم اس کے بعد کی تقریبات میں تعداد محدود ہیں۔ آپ کسی احتجاج، سیاسی پروگرام یا دیگر اجازت شدہ پروگرام میں اگر شرکت کرتے ہیں تو آپ کو کسی چھ سے زیادہ گروپ میں نہیں ہونا چاہئے۔اگر چہ آپ کسی ایونٹ میں دوسروں کو جانتے ہیں، لیکن اگر یہ آپ کے نامزد گروپ سے باہر ہیں توکسی کے ساتھ بھی ملنا جلنا قانون کے خلاف ہے۔نئے اقدامات کا مطلب یہ ہے کہ پولیس سماجی دوری قانون کے تحت چھ سے بڑے کسی بھی گروپ کوتوڑنے کا اختیار رکھتی ہے۔اگر گروپ کے ممبران قواعد پر عمل نہ کریں توا ن پر جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ پہلے جرم میں جرمانہ £100 پونڈ ہوگا اور اس کے بعد ہر جرم پر دوگنا ہوتا جائے گا۔
برطانیہ میں کورونا کے دوبارہ بڑھنے سے تمام لوگوں کو حکومت مشورہ دے رہی ہے کہ وہ جہاں کہیں بھی رہے دو میٹر یعنی چھ فٹ کی دوری بنائے رکھیں۔ تاہم اس بات پر کچھ اختلافات بھی ہیں۔ مثلاً انگلینڈ میں اگر آپ دو میٹر دور نہیں رہ سکتے تو آپ ایک میٹر کے فاصلے پر بھی رہ سکتے ہیں اور ماسک پہنناا لازمی ہے۔اسکاٹ لینڈ میں کچھ جگہوں پر جیسے پب اور ریستوراں میں دو میٹر کے قاعدے سے مستشنیٰ ہیں۔ جبکہ گیارہ سال یا اس سے کم عمر بچوں کو سماجی فاصلے کی ضرورت نہیں ہے۔ویلز میں دو میٹر کی سماجی دوری اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ اگر آپ بال کٹوانے جائے تو دوری کو قائم رکھنا دشوار ہے جبکہ یہاں پرائمری اسکول کے بچے اس سے مستشنیٰ ہیں۔
پبلک ٹرانسپورٹ اور پورے برطانیہ کی دکانوں میں ماسک پہننا لازمی کر دیا گیا ہے۔لیکن کچھ لوگوں کو اس سے استثنیٰ رکھا گیا ہے۔ جیسے طبی حالات سے متاثر لوگ اور دکانوں میں ڈیوٹی کے دوران کام کرتے ہوئے اسٹاف اور ارکان وغیرہ۔ بسوں اور ٹرینوں میں اگر آپ نے ماسک نہ پہنا ہو تو ڈرائیور یا سیکوریٹی گارڈ آپ کو سوار ہونے سے روک سکتے ہیں۔ تاہم زیادہ تر لوگ بنا کسی احکام کے ماسک لگانا ضروری سمجھ رہے ہیں اور وہ کورونا سے محفوظ رہنے کے لیے اپنے طور پر تمام تر کوششیں کر رہے ہیں۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلو ایچ او) نے ایک دن میں نئے کورونا وائرس کے انفیکشن کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ کیا ہے۔ اب تک کہ رپورٹ کے مطابق 24 گھنٹوں میں 307,93کیسز کی رپورٹ ملی ہے اور اس کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ایجنسی کا کہنا ہے کہ کورونا سے اموات میں 5,500روزانہ سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔ جس سے عالمی سطحہ پر کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد
917,417تک پہنچ گئی ہے۔ کورونا کاسب سے زیادہ اضافہ بھارت، امریکہ اور برازیل میں ہوا ہے۔اب تک دنیا بھر میں 28ملین سے زیادہ تصدیق شدہ کیسز ہوئے ہیں جن میں سے نصف امریکہ میں ہیں۔امریکہ کے بعد دنیا میں تصدیق شدہ کیسز میں ہندوستان کا دوسرا نمبر ہے۔ پچھلے ہفتے تقریباً 20ملین کوویڈ 19کیسز رپورٹ کئے گئے ہیں جو کہ وبائی بیماری کے شروع ہونے کے بعد سے دنیا میں سب سے زیادہ ماہانہ تعداد ہے۔برازیل میں اب تک چالیس لاکھ سے زیادہ کیسز ریکارڈ ہوئے ہیں جودنیا کا تیسرا سب سے زیادہ ہے۔ لاطینی امریکہ میں اب تک کورونا سے ہلاکتوں کی سب سے زیادہ تعداد برازیل میں ہے جہاں اب تک تقریباً 131,000لوگوں کی جان جا چکی ہے۔جبکہ امریکہ میں دنیا میں سب سے زیادہ مرنے والوں کی تعداد کوویڈ 19سے ہوئی ہے جس میں اب تک 194,000سے زیادہ لوگوں کی اموات کورونا سے ہوئی ہے۔
فروری میں برطانیہ میں کورونا کی آمد سے لوگوں میں جو خوف و ہراس پیدا ہوا تھا وہ مارچ سے شروع ہونے والے لاک ڈاؤن سے اس کا اثرزندگی پر پڑنے لگا تھا۔ خوف، دہشت اور ناامیدی نے کتنے لوگوں کی زندگی کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا ہے۔ کہیں روزگار کا مسئلہ تو کہیں قید کی زندگی تو کہیں کل کیا ہوگا۔ خیر اللہ اللہ کر کے جب لاک ڈاؤن ختم ہوا تو ہم سب کو راحت کی سانس ملی۔ لیکن کورونا کی دوبارہ آمد سے ایک بار پھر لوگوں میں مایوسی اور خوف کا احسا س ہونے لگا ہے۔تاہم مجھے پورا یقین ہے کہ اس بار حکومت لاک ڈاؤن سے گریز کرے گی کیونکہ لوگ اب ذہنی اور جسمانی طور پر کورونا سے مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *