قومی و صوبائی حکومتوں کے پہلے سال کا عوامی جائزہ: پی ٹی آئی پسندیدہ ترین جماعت قرار

     vote2رائے عامہ کا ایک سروے، جس کا اہتمام ہیرالڈ اور سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ نے مل کر کیا تھا، نہایت نپے تلے انداز میں ایسے سوالات کے جوابات مرتب کرتاہے جوان دنوں پاکستان بھرکے لوگ اٹھا رہے ہیں۔۔۔۔۔ سروے میں1354لوگوں سے رائے لی گئی۔ لوگوں سے پوچھا گیا کہ وہ وفاقی اور صوبائی دونوں سطوح پر کام کرنے والی حکومتوں کی گزشتہ برس کی کارروائی کے متعلق کیسا محسوس کرتے ہیں؟نتائج بتاتے ہیں کہ رائے دہندگان کچھ زیادہ خوش نہیں ہیں: 77فیصد سے زیادہ لوگ ایسے ہیں جو وفاقی حکومت کی کارکردگی کواوسط سے بہتر نہیں سمجھتے۔vote 3 جبکہ 68فیصد لوگ اپنی اپنی صوبائی حکومتوں کے متعلق بھی ایسے ہی خیالات رکھتے ہیں۔بلا شبہ، ان نتائج کو کچھ مختلف انداز سے پیش کرنا بھی ممکن ہے: اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ 37فیصد لوگوں نے وفاقی حکومت کی کارکردگی کو اوسط قرار دیا، یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ دراصل، عوامی فیصلہ کچھ خاص ملامتی نہیں ہے۔۔۔vote 4 بہرحال سروے میں حصہ لینے والوں میں سے 60 فیصد سے زیادہ یہ سمجھتے ہیں کہ جیسا کہ پی ایم ایل این کی زیر سرکردگی چلنے والی حکومت کی کارکردگی کم ازکم اوسط ہے تو پھر یہ قطعی طور پر کوئی برا سکور نہیں ہے۔
جنوبی ایشیائی سیاسی امور کے فرانسیسی ماہرین ڈاکٹر لورینٹ گیئراور کرسٹوف جیفری لوٹ کہتے ہیں،vote 5 ’’جیسا کہ سندھ میں متحدہ اور پی پی پی کی طرح ن لیگ کے پاس کہیں کوئی پابند ووٹر نہیں ہیں ، لہٰذا انتخابات کے بعد، اس کے ووٹ بینک پر اندھے ایمان کا کھو جانا، واضح طور پر اگلے انتخابات میں ایک نمایاں سیاسی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔‘‘
ڈاکٹر لورینٹ گیئراور کرسٹوف جیفری لوٹ وفاقی حکومت کی کارکردگی سے متعلق عوامی بے اطمینانی کے بارے میں کہتے ہیں، ’’نواز شریف اور وفاقی حکومت سے متعلق تیزی سے بڑھتی ہوئی عوامی مایوسی، اس یقین کی ایک اور دلیل فراہم کرتی ہے کہ ہر چند کہ نسل یا ثقافت ووٹر کے روئیے پر کچھ اثر ڈالتی ہے لیکن اس کارویہ مفاد پر مبنی سیاست سے منسلک نہیں ہوتا۔‘‘
اس سروے کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ اس میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے58فیصد لوگوں نے شہباز شریف کوسب سے زیادہ مؤثر چیف ایگزیکٹو قرار دیا vote1جبکہ وزیراعظم نواز شریف کو پنجاب سے تعلق رکھنے والے صرف 11فیصد ووٹروں نے سب سے زیادہ مؤثر چیف ایگزیکٹو قرار دیا۔
یوں مجموعی طور پر دیکھا جائے تو جس وقت وزیر اعلیٰ شہباز شریف کو پسندیدہ ترین انتخاب قرار دیا گیا، اسی وقت وزیر اعظم نواز شریف نیچے سے دوسرے نمبر پر رہے۔
اس سروے میں بالترتیب حسب ذیل سوالات پوچھے گئے اور ان کے جوابات کو تصویری اشکال میں واضح کیا گیاہے۔
1۔ اگر انتخابات کل منعقد ہوتے ہیں تو آپ وفاقی سطح پر کونسvote 6ی جماعت کو ووٹ دیں گے؟
2۔ اگر انتخابات کل منعقد ہوتے ہیں تو آپ صوبائی سطح پر کونسی جماعت کو ووٹ دیں گے؟
3۔ وفاقی حکومت کی کارکردگی کی شرح
4۔ صوبائی حکومتوں کی کارکردگیوں کا تناسب
5۔ کون سب سے زیادہ مؤثر چیف ایگزیکٹو رہا؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *