سرینا عیسی: ایف بی آر کا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کو ساڑھے تین کروڑ روپے واجب الادا ٹیکس جمع کروانے کا نوٹس

فیڈرل بورڈ آف ریونیو یعنی ایف بی آر نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی اہلیہ سرینا عیسیٰ کے ٹیکس سے متعلق جمع کروائے گئے جواب کو مسترد کرتے ہوئے اُنھیں ساڑھے تین کروڑ روپے واجب الادا ٹیکس کی مد میں جمع کروانے کا نوٹس جاری کیا ہے۔

سرینا عیسیٰ نے اس نوٹس پر ردعمل دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ایف بی آر کے حکام نے اُنھیں سنے بغیر یہ نوٹس جاری کیا ہے۔

ایف بی آر کی طرف سے رقم کی ادائیگی کا نوٹس چند روز قبل ہی بھجوایا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے جو بیرون ممالک جائیداد خریدی اور رقم باہر بھجوائی اس کے علاوہ کچھ عرصے سے جو ٹیکس ادا نہیں کیا اس کی وجہ سے اُنھیں ساڑھے تین کروڑ روپے ادا کرنا ہوں گے۔

ایف بی آر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’متعلقہ حکام نے تحقیقات مکمل کرتے ہوئے قانون اور میرٹ پر کیس کا فیصلہ دیا ہے۔ اس ضمن میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے اگلے ہفتے ایک تفصیلی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی جائے گی۔‘

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے ایف بی آر کے اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور قانون کے مطابق یہ اپیل ایف بی آر کے ایپلٹ ٹریبیونل میں کی جائے گی۔

اگر ٹریبیونل بھی اپیل کنندہ کے خلاف فیصلہ دے تو پھر یہ معاملہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں لے جایا جا سکتا ہے۔

سرینا عیسیٰ کا ایف بی آر کے نوٹس پر ردعمل دیتے ہوئے کہنا ہے کہ موجودہ حکومت نے ان کے ٹیکس کے معاملات کو دیکھنے کے لیے ایف بی آر کے تمام کمشنرز میں سے ذوالفقار نامی ایک ایسے افسر کو تعینات کیا جو ان کے اور ان کے شوہر کے خلاف گذشتہ برس ٹیکس کے معاملات پر اپنی رائے دے چکے ہیں۔

سرینا عیسیٰ کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے ایف بی آر کی طرف سے دستاویز جمع کروانے کے لیے جو نوٹسز بھجوائے ان کے جوابات اُنھوں نے ایف بی آر کے حکام کو جولائی اور اگست کے مہینے میں جمع کروا دیے تھے لیکن حیرت کی بات ہے کہ اُن کا موقف سنا ہی نہیں گیا۔

اُنھوں نے کہا کہ ایف بی آر کے حکام نے زرعی اراضی کے علاوہ کلفٹن کے علاقے میں جائیداد کی فروخت کے علاوہ ان کی سنہ2007 سے سنہ 2012 تک ایک نجی سکول سے ملنے والی تنخواہ کو بھی شامل نہیں کیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ ’اُنھیں یہ بھی یقین نہیں ہے کہ اُنھیں جرمانہ ادا کرنے کا فیصلہ ایف بی آر کے مذکورہ افسر نے لکھا ہے یا کسی اور نے۔‘

اُنھوں نے کہا کہ جب وہ دستاویز جمع کروانے کے لیے ایف بی آر گئیں تو اُنھوں نے حکام سے پوچھا کہ ’کیا وہ اس طرح کا سلوک ہر ٹیکس دینے والے کے ساتھ کرتے ہیں یا اُن کے ساتھ ایسا خصوصی سلوک اس لیے کیا جارہا ہے کیونکہ وہ اس جج کی بیوی ہیں جنھیں حکومت ان کے عہدے سے ہٹانا چاہتی تھی۔‘

واضح رہے کہ جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دس رکنی بینچ نے جسٹس قاضی فائز عیسی کی طرف سے بیرون ملک اثاثے چھپانے سے متعلق صدارتی ریفرنس مسترد کردیا تھا تاہم عدالت نے ایف بی آر کے حکام کو ان کی اہلیہ کے خلاف ٹیکس کے معاملات کی تحقیقات سو دنوں میں مکمل کر کے اس کی رپورٹ سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجنے کا حکم دیا تھا۔

عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں کہا تھا کہ اگر اس جائیداد کی خریداری میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کوئی کردار ہو تو سپریم جوڈیشل کونسل اس بارے میں از خود نوٹس لیکر مزکورہ جج کے خلاف کارروائی کی مجاز ہے۔

سپریم کورٹ کے اس مختصر فیصلے کو تین ماہ ہونے کو ہیں اور ابھی تک تفصیلی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

ایف بی آر

سرینا عیسیٰ نے سوشل میڈیا پر اپنے شوہر کو ملنے والی دھمکی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ایک ہفتے تک اس دھمکی سے متعلق پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی اور اس عرصے کے دوران ملزم کو سوشل میڈیا سے وہ مواد ہٹانے کا موقع مل گیا۔

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو سوشل میڈیا پر دھمکی دینے والے ملزم مرزا افتخار الدین کو ضمانت پر رہا کر چکی ہے۔

سرینا عیسیٰ نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم عمران خان، وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کے علاوہ احتساب سے متعلق وزیر اعظم کے مشیر شہزاد اکبر کے علاوہ محمد اشفاق نامی شخص نے ان کی ٹیکس سے متعلق دستاویزات لیک کیں۔

یاد رہے کہ فیض آباد پر ایک مذہبی جماعت کے دھرنے سے متعلق از خود نوٹس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصلہ تحریر کیا تھا جس میں وزارت دفاع کو فوج کے ان افسران کے خلاف کارروائی کا حکم دیا گیا تھا جنھوں نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سیاسی امور میں مداخلت کی تھی۔

اس فیصلے کے خلاف وزارت دفاع کی طرف سے نظرثانی کی اپیل بھی دائر کی گئی لیکن ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود نطرثانی کی اپیل سماعت کے لیے مقرر نہیں ہوئی۔

سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے ساتھ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بھی اس لارجر بینچ کا حصہ تھے جو صوبہ خیبر پختونخوا میں فوج کے زیر انتظام چلنے والے حراستی مراکز سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف وفاق کی اپیل کی سماعت کرتا تھا تاہم جسٹس آصف سعید کھوسہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد یہ اپیل ابھی تک سماعت کے لیے مقرر نہیں ہوئی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *