کام کی زیادتی سے پیدا ہونے والی کیفیت ’برن آؤٹ‘ کیا ہے؟

عالمی ادارہ صحت نے ’برن آؤٹ‘ یا کام کی زیادتی سے نڈھال ہو جانے کی کیفیت کی نئی تشریح کی ہے۔

اگر سنہ 1970 کی دہائی میں آپ نے یہ کہا ہوتا کہ آپ ’برن آؤٹ‘ یا نقاہت اور تھکان کا شکار ہو رہے ہیں تو شاید اس سے کچھ لوگوں کو پریشانی ہوتی۔

اس وقت یہ اصطلاح نشے کے عادی لوگوں پر پڑنے والے منفی اثرات کے لیے استمعال ہوتی تھی جس میں مثال کے طور پر ذہنی صلاحیت میں کمی کا واقع ہونا شامل تھا۔ ایسا بہت زیادہ پارٹیاں کرنے والے لوگوں کے ساتھ بھی ہوتا تھا۔

جرمن نژاد امریکی ماہر نفسیات ہربرٹ فورائڈن برگر نے سنہ 1974 میں نیویارک شہر میں نشے کے عادی افراد اور بے گھر لوگوں کے لیے قائم کلینک میں پہلی مرتبہ اس مسئلہ کا پتا لگایا تو وہ نشے کے عادی افراد کے بارے میں نہیں سوچ رہے تھے۔

کلینک میں کام کرنے والے رضا کار انتہائی مشکل میں تھے۔ ان کا کام بہت زیادہ محنت طلب تھا اوران میں سے بہت سے کام سے بددل اور ذہنی طور پر اپنے آپ کو ہلکان محسوس کرنے لگے تھے۔

گو انھیں اپنا کام اب بھی بے معنی نہیں لگتا تھا لیکن وہ مایوسی اور پژمردگی کا شکار تھے اور اپنے زیر علاج مریضوں کو وہ توجہ نہیں دے پا رہے تھے جس کے وہ مستحق تھے۔

فورائڈن برگر نے تشویش کا باعث اس نڈھال پن اور نقاہت کو، جس کی وجہ طویل عرصے تک کام کی زیادتی تھی، بیان کرنے کے لیے ’برن آؤٹ‘ کی اصطلاح استعمال کی۔

برن آؤٹ کیا ہے؟

برن آؤٹ کے تین عنصر ہیں۔ تھکان یا نقاہت، کام سے بددلی اور کارکردگی میں کمی۔

اس نظریے کو دنیا بھر میں بہت پذیرائی حاصل ہوئی اور آج عالمی سطح پر اسے ایک مسئلہ تسلیم کیا جاتا ہے۔

برن آؤٹ کا شکار لوگوں کے اعداد و شمار حاصل کرنا بہت مشکل ہے لیکن ایک اندازے کے مطابق سنہ 2018 میں برطانیہ میں تقریباً چھ لاکھ لوگ کام کی جگہ پر ہونے والے دباؤ یا ’ورک پلیس سٹریس‘ کا شکار ہیں۔

کھلاڑی بھی اس کیفیت کا شکار ہوتے ہیں، یوٹیوب سٹار بھی اس کا شکار ہوتے ہیں۔ بزنس مین بھی اس کا سامنا کر سکتے ہیں۔ فورائڈن برگر بھی آخر میں اس کا شکار ہو گئے تھے۔

برن آؤٹ

برن آؤٹ کی تشریح میں تبدیلی

گذشتہ ماہ کے آخر میں عالمی ادارۂ صحت نے اعلان کیا ہے کہ اس مسئلہ کو بیماریوں کی فہرست کے عالمی ہدایت نامے میں بیماری کے طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔

انھوں نے اس کی تعریف ایک ایسی کیفیت کے طور پر کی ہے جو کام کی دائمی یا طویل عرصے تک زیادتی کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے اور اس کا ابھی تک کوئی کامیاب حل نہیں ڈھونڈا جا سکا۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ’برن آؤٹ‘ کے تین عنصر ہوتے ہیں جن میں نقاہت یا تھکان، کام سے بیزاری اور ناقص کارکردگی شامل ہیں۔

یہ احساس کیا ہوتا ہے؟

تو آپ کسی طرح اس بات کا تعین کریں گے کہ آپ مکمل طور پر نہیں لیکن کافی حد ’برن آؤٹ‘ ہو گئے ہیں۔

آئرلینڈ کے شہر ڈبلن میں نفسیاتی امراض کی معالج اور ’برن آؤٹ‘ کے مسئلہ پر ایک کتاب کی مصنفہ شیوبان مرے کا کہنا ہے کہ برن آؤٹ کی بہت سے علامات ڈپریشن کی علامات سے ملتی جلتی ہیں۔

برن آؤٹ کا شکار ہونے کے خدشے سے دوچار لوگوں کے لیے مرے کا مشورہ ہے کہ وہ بری عادتوں کے بارے میں ہوشیار رہیں جن میں شراب نوشی اور دن گزارنے کے لیے زیادہ چینی کا استعمال شامل ہیں۔

ان کا کہنا ہے ایسے لوگوں کو تھکان کے مستقل احساس کے بارے میں خبردار رہنا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ اگر آپ صبح دس بجے تک سکون کی نیند سوتے ہیں اور اس کے بعد دوبارہ سونے کا وقت گننا شروع ہو جائیں یا آپ اپنے جسم میں توانائی محسوس نہ کریں تو آپ برن آؤٹ کا شکار ہو رہے ہیں۔

ڈپریشن کے لیے تو بہت سے علاج دستیاب ہیں لیکن برن آؤٹ کی کیفیت کو صرف طرز زندگی تبدیل کر کے ہی دور کیا جا سکتا ہے۔

مرے کا کہنا ہے کہ جیسے ہی آپ کو ایسی کیفیت محسوس ہونا شروع ہو آپ ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

انھوں نے کہا کہ ڈپریشن اور برن آؤٹ سے پہلے کی کیفیت تقریباً ایک جیسی ہوتی ہے۔ گو کہ حال ہی میں اس بارے میں بہت زور شور سے یہ کہا جا رہا ہے کہ برن آؤٹ کو ایک طبی حالت کے طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے لیکن ابھی اسے کام سے متعلق ہی ایک مسئلہ تصور کیا جاتا ہے۔

یہ ضروری ہے کہ آپ کسی ماہر ڈاکٹر سے رجوع کریں جو کہ دونوں حالتوں، ڈپریشن اور برن آؤٹ میں امتیاز کر سکے کیونکہ ڈپریشن کے علاج کے بہت سے طریقے دستیاب ہیں لیکن برن آؤٹ کا تدارک صرف طرز زندگی تبدیل کر کے ہی کیا جا سکتا ہے۔

آپ کو یہ کیسے علم ہو گا کہ آپ برن آؤٹ کے دہانے پر ہیں؟ مرے کا کہنا ہے کہ دباؤ بہت ضروری ہے اور فکر مندی آپ کو بہترین کارکردگی دکھانے پر مجبور کرتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال اس وقت پریشان کن ہوتی ہے جب آپ مستقل طور پر دباؤ میں یا فکر مند رہیں اور آپ کی اس سے جان نہ چھوٹ رہی ہو تب آپ برن آؤٹ کا شکار ہونے لگتے ہیں۔

برن آؤٹ کی طرف بڑھنے کی ایک اور بڑی علامت مزاج میں تلخی ہے۔ اس بات کا احساس کے آپ کے کام کی کوئی قدر نہیں، آپ سماجی محفلوں سے کنارہ کشی کرنے لگتے ہیں اور مایوسی طاری ہونے کا امکان پیدا ہو جاتا ہے۔

برن آؤٹ

لندن میں مقیم برن آؤٹ کی کیفیت پر تحقیق کرنے والے نفسیاتی معالج فرانسس والکر کا کہنا ہے کہ کوئی شخص جو اس کیفیت کا شکار ہونے والا ہوتا ہے وہ اپنے آپ کو جذبات سے عاری اور دماغی طور پر الگ تھلک محسوس کرنے لگتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ برن آؤٹ کی آخری اور یقینی علامت نہ ختم ہونے والا احساس ہوتا ہے کہ آپ کے کام کا معیار گرتا جا رہا ہے۔

والکر کہتی ہے کہ جب لوگ یہ کہنا شروع کر دیں کہ ’میں تو ایسا نہیں تھا، میں تو بہت کچھ کر لیتا تھا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ اگر وہ جسمانی طور پر اپنے آپ کو پوری طرح توانا محسوس نہیں کرتے تو یقینی طور پر وہ اپنی معمول کی کارکردگی نہیں دکھا پائیں گے۔

اگر آپ کو یہ طریقہ زیادہ سائنسی نہ لگے تو آپ مارش برن آؤٹ انونٹری (ایم بی آئی) دیکھ سکتے ہیں یہ ایک ٹیسٹ ہے جو برن آؤٹ کا اندازہ لگانے کے لیے بنایا گیا ہے۔

ایم بی آئی کا جنرل سروے وسیع پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے تاکہ یہ اندازہ لگایا جاسکے کہ نقاہت، بد مزاجی اور کام پر آپ کی کارکردگی کیسی جا رہی ہے۔

یہ سنہ 1981 میں پہلی مرتبہ شائع کیا گیا تھا اور اس کے بعد سے بے شمار مرتبہ مختلف تحقیقاتی مکالوں میں حوالے کے طور پر استعمال ہوا ہے۔

اگر آپ کی برن آؤٹ سے پہلے کی کیفیت ہے تو آگے کیا ہو گا؟

برن آؤٹ سے بچنے کا اور ہمیشہ کے لیے اس سے جان چھڑانے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ کہ اس کی جڑیں ہی ختم کر دی جائیں۔

مرے کا کہنا ہے کہ ’آپ اپنی زندگی میں ایسا کیا کر رہے ہیں جن سے آپ عارضی یا مستقل طور پر جان چھڑا سکیں۔ مثال کے طور زیادہ نیند تاکہ جسمانی تھکن کو دور کیا جا سکے۔‘

والکر نے اس ضمن میں ایک مرحلہ وار پروگرام تجویز کیا ہے۔ جس میں سب سے پہلے اس بات کا تعین کرنا ہے کہ آپ کیا کر سکتے ہیں اور آپ سے کیا کرنے کو کہا جا رہا ہے۔

’کئی صورتوں میں آپ بہترین نظر آنا چاہتے ہیں اور اس کوشش میں آپ زیادہ کام کرتے ہیں کہ آپ میں جو کمی ہے وہ پوری ہو جائے۔‘

کبھی کبھار کام کی جگہ کا ماحول بھی ایک بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔ سنہ 2018 کے گیلپ کے جائزے کے مطابق ساڑھے سات ہزار امریکی ملازمین میں کام کی جگہ پر غیر مساوی یا غیر منصفانہ سلوک کی وجہ سے برن آؤٹ کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔

مینیجرز کی طرف سے ملازمین کے کام کی قدر نہ کرنے سے بھی ورکرز پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *