اک قیامت بپا ہے یاں سرِ راہ!(دوسری قسط)

prof.khalil touqar

پروفیسرڈاکٹر خلیل طوقار نسلاً ترک ہیں۔ ان کی پیدائش استنبول (ترکی) میں ہوئی۔ ترکی میں ہی انھوں نے ابتدائی اور اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ فی الوقت وہ استنبول یونیورسٹی کے صدر شعبۂ اردو ہیں۔ڈاکٹر طوقار کی تقریباً دو درجن کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں۔وہ ترکی سے شائع ہونے والے اردو کے واحد ادبی مجلہ”ارتباط” کے مدیر بھی ہیں۔ یورپین اردو رائٹرس سوسائٹی ، لندن نے سن 2000ء میں انھیں ”علامہ اقبال” ایوارڈ سے نوازا۔اس کے علاوہ عالمی اردو مرکز، لاس انجلس اور دیگر قومی وبین الاقوامی اداروں کی جانب سے انھیں اعزاز سے نوازا جا چکا ہے۔خلیل طوقار جنوبی ایشیا سٹریٹجک ریسرچ سینٹر GASAM کے عالی شورائے مشاورت کے ممبر بھی ہیں -پیش خدمت ہے آپ کی 'دنیا پاکستان' کے لیے لکھی گئی ایک تازہ تحریر(ادارہ)


ترکی میں فتح اللہ گلین تحریک کے کارکنوں کی فوج اور سرکاری اداروں سے برطرفی کے اسباب

۱۵ جولائی ۲۰۱۶ء کی رات ترکی میں ترک عوام نے ایک آزاد ملک کی حیثیت سے زندگی اور موت کی جنگ لڑی اور یہ قوم اِس جنگ سے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرکے کامیانی سے نکل گئی۔اِس جنگ کے فسانۂ غم ہم سنا سنا کے روئے مگرروتے ہوئے بھی ہمارے سر فخر سے بلند تھے کیونکہ اِس قوم کے بہادراور نڈر نہتے عوام نے اپنے سامنے کھڑی باغی فوج، جس کے پاس عصر حاضر کے جدید ترین ہتھیار موجود تھے، کو اپنے ایمان کی قوّت سے ہرادیا۔اُس رات اللہ تعالیٰ نے اِس ملک کے عوام کے دلوں سے خوف و ہراس کو بالکل اُٹھا لیا اور اُن غداروں کے دلوں پر خوف و ہراس کی لہریں دوڑادیں۔ کیونکہ یہ قوم اپنے سامنے اُن غداروں کے ٹینکوں کے نیچے رہ کر ٹکڑے ٹکڑے ہونے والے بے چاروں کو یعنی اِس قوم کے شہیدوں کو دیکھ کر بھی نہیں ڈری اوراُن باغیوں پر حملہ کرتی رہی مگر وہ ملک و قوم کے دشمن باغی جو ہیں وہ اپنے ٹینکوں کے ناکارہ ہونے کے بعد جب باہر نکلنے پر مجبور ہوئے تو وہ ڈر کے مارے کانپ کانپ کر رو رہے تھے کہ ہمیں معاف کردیں، ہم اپنے کمانڈروں کے احکامات کی تعمیل کررہے تھے!
۱۵ جولائی ۲۰۱۶ء کی رات کو ترکی میں جو خونی بغاوت ہوئی اب اِس میں کوئی شک و شبہ تک کی گنجائش نہیں رہی کہ اُس کے پیچھے امریکہ کے معزز و محترم مہمان فتح اللہ گلین کارفرما ہیں جنھوں نے اپنے مہماندارملک کے مالکوں کے حق مہمانداری کی ادا ئیگی یا اُن کے دلوں کومسرت سے لبریز کرنے کے لیے یا شاید اپنے آقاؤں کا حکم بجا لانے کے لیے ترک فوج اور پولیس میں موجود اپنے کارکنوں جو سالوں سے اِس ایماء کے لیے چشم براہ تھے کو ترکی میں بغاوت شروع کرانے کاحکم جاری کیا۔ اِس حکم کی تعمیل کے لیے ترکی فوج میں موجود امریکہ کے اِس عزیز مہمان کے کارکن جن کی دماغ شوئی سالوں سے گلین کے اسکولوں، خدمت تحریک کے اماموں کے حلقۂ درس و تدریس یا نورخانوں میں ہورہی تھی اِن تعلیمات کے زیر اثر اُن باغیوں نے ۱۵ جولائی ۲۰۱۶ء کی رات کو آنکھ جھپکے بغیر احتجاجتی ترک عوام کے قتل عام کا سلسلہ شروع کیا۔مگر فتح و نصرت مظلوموں کو ہوئی۔ اِس بغاوت کی ناکامی کے بعد گرفتار ہونے والے فوجی جنرلوں نے گلین تحریک سے اپنے روابط کا اظہار کیا۔ پھر امریکہ کے عزیز مہمان نے اپنے انٹرویوز کے ذریعے اِس جرم سے انکار کرتے ہوئے بھی اِس خونی بغاوت میں شرکت کرنے والوں کے ساتھ اپنی ہمدردی اور حمایت کا اظہار کرکے ترک عوام کو دھمکیاں اور بددعائیں دے کر اِس جرم کا اقرار کیا اور پھر مزید بر آں امریکہ کے جنرلوں نے یہ اعلان کیا کہ ترکی میں ’’ہمارے دوستوں‘‘ یعنی باغی جنرلوں کی گرفتاری ہورہی ہے جس کی وجہ سے ہم سخت مایوس ہیں۔ خیر صدر جناب رجب طیب ایردوغان کی سخت تنقید اور رد عمل کے بعد وہ لوگ اپنی باتوں سے مکرگئے مگر بات تیر کی طرح ہوتی ہے ایک دفعہ کمان سے نکل گئی تو پھر وہ واپس نہیں آتی۔ جب کہ فتح اللہ گلین حق مہمان نوازی ادا کررہے ہوں تو اِن کارآمد عزیز مہمان کے لیے مہمان پروری کا جوہر کیوں نہ دکھائے؟
اب میں قارئین کرام سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ ایک پل ٹھہریں اور آگے پیچھے تمام سنی سنائی باتوں کو اور بالخصوص اپنے اپنے ملکوں کے تجزیہ کاروں کے مغربی میڈیا اور خدمت تحریک کے مبلغوں کی کامیابی سے پڑھی پڑھائی باتوں کے سحر میں آکر لکھے گئے تجزیوں اور تبصروں کو ایک طرف کرکے ذرا سوچیں کہ ایک ملک جس میں ایک بیرونی ملک میں مہمان ایک شخص کے حکم سے اُس ملک کی فوج کا ایک اہم ٹولہ بغاوت کرے اور وہ لوگ احتجاجی لوگوں کا قتل عام شروع کرادیں اور پھر بغاوت کی رات باغی کمانڈروں کے حکم سے فوج کے اسپیشل فورس کے بہترین سپاہیوں کے چالیس افراد پر مشتمل ایک ٹولے کو صدر مملکت کو قتل کرنے کی غرض سے اُن کے ہوٹل پر قاتلانہ حملہ کریں اور پھر اُن کے پاس سے یہ لسٹ بر آمد ہو جس میں صدر مملکت کے ساتھ، وزیر اعظم اور ترکی گورنمنٹ کی دیگر اہم ہستیوں کے نام لکھے ہوں جن کے لیے باغیوں نے جہاں ملیں وہاں ختم کئے جائیں کا حکم بھی جاری کیا ہو۔ اِس بدترین صورتحال کو دیکھ کر اُس ملک کی حکومت کیا کرے؟
کیا وہ حکومت اُن سب کی آؤ بھگت کرکے اُن باغیوں سے گلے لگے گی کہ شاباش میرے بیٹو! آپ سب نے فوجی بغاوت کرکے اور نہتے عوام کے خون سے سڑکوں کو نہلاکر بڑا کارنامہ انجام دیا؟ کیا اِس قسم کا ایک نامعقول برتاؤ دنیا کی کسی بھی حکومت سے توقع کیا جاسکتا ہے؟
ظاہر ہے کہ اِس کا جواب نفی میں ہوگا۔ کیونکہ دنیا میں کسی بھی ملک میں اِس طرح کی کوئی بھی بغاوت ہو تو اُس کی روک تھام کے لیے ارباب اقتدارکو سخت اقدامات کرنے ہی ہوتے ہیں اور اکثر ملکوں میں رد عمل میں خونی انتقامی کارروائیاں شروع کراتے ہیں جن کی وجہ سے سیکڑوں یا ہزاروں افراد ہلاک کئے جاتے ہیں۔ اب بچے بچے تک کو علم ہے کہ انسانی حقوق کی آواز بلند کرنے والے امریکہ اور مغربی ممالک نے گیارہ ستمبر کے واقعے کے بعد نہ صرف اپنے ملکوں کے اندر بلکہ تمام دنیا میں ایک ’’دہشتگردوں‘‘ کا شکار شروع نہیں کرایاجس کی وجہ سے افغانستان، یمن اور عراق میں لاکھوں بے چاروں کا خون بہا یا گیا؟پھر امریکہ جو دنیا کی پہرہ داری کرکے انصاف و عدالت بانٹنے کا مدعی ہے، کیا اُس میں سیاہ فام لوگ بر سر عام امریکن پولیس کے ہاتھوں قتل نہیں ہوتے وہ بھی صرف اِس شبہ سے کہ شاید اُن کے پاس پستول یا کوئی اور اسلحہ ہو!
جب امریکہ یا مغرب کے کوئی ترقی یافتہ، انسانی حقوق کے علمبردار ملک (!!!؟) خواہ غیر انسانی کیوں نہ ہو ایک ایسا اقدام کرے تو تمام مغربی میڈیا اور مشرق میں اُن کے ہمنوا صحافی اِس کے لیے جواز نکال ہی لیتے ہیں اور اُس کو حق بجانب ٹھہراتے ہیں مگر ترکی کے صدر جناب رجب طیب ایردوغان یا ترکی حکومت اپنے ملک و ملت کی حفاظت کے لیے کوئی بھی قدم اُٹھائیں تو مغرب سے لے کر مشرق تک،(کہتے ہوئے مجھے بہت افسوس اور دلی دکھ ہوتا ہے مگر ترکی کے دوست اور برادر ملک پاکستان میں بھی) ایسی نامعقول احتجاجی آوازیں بلند ہوتی ہیں کہ خدا پناہ! جیسے ایک ہی چشمہ سے نکلنے والے پانی کی طرح سب کا رنگ ڈھنگ اور ذائقہ ایک ہے کہ ’’یہ رجب طیب ایردوغان کا تیار کردہ ایک ڈرامہ ہے، یہ رجب طیب ایردوغان کی انتقامی کارروائی ہے اور یہ رجب طیب ایردوغان کی اپنے اقتدار کی بنیادیں مضبوط کرنے کے لیے کی ہوئی ایک سازش ہے اور ترکی حکومت جو حفاظتی اقدامات کررہی ہے وہ سب رجب طیب ایردوغان کی آمریت کی راہ ہموار کرنے کے لیے ہیں!‘‘ یہ سب محیر العقول اور بے بنیادالزامات ایسے ایسے پڑھے لکھے اور تجربہ کار افراد کے منہ سے سنائی دے رہے ہیں کہ اگر میں ترکی میں سالوں سے ہونے والے واقعات کا چشم دید گواہ نہ ہوتا تو شاید اُن کے الزامات کی سچائی پر یقین کرتا۔میں فرصت ملنے پر میرے پیارے تجزیہ کاراور میڈیا سے تعلق رکھنے والے دوستوں کے لیے ’’آمریت کا مفہوم اور اردو میڈیا میں پھیلائی ہوئی غلط تشریحات‘‘ سے متعلق ایک تحریر لکھوں گا مگر وہ بعد کی بات ہے۔اور فی الوقت اِس سے زیادہ اہم موضوعات موجود ہیں۔
اب آئیے ترکی حکومت نے کیا کیا اقدامات کیے جن کی وجہ سے مغربی حکومتیں اور میڈیا اور اردو میڈیا کے ایک اہم گروہ ترکی حکومت اور جناب رجب طیب ایردوغان کو مورد الزام قرار دیتے ہیں اُن کی طرف ذرا توجہ دیتے ہیں۔
سب سے پہلے ترکی حکومت نے اورنہ ہی ترکی کے عوام نے کوئی بھی انتقامی کاروائی کی ہے۔ فوجی باغیوں نے ساٹھ ستر پولیس اہلکار اور تقریباً ایک سو ستر عام شہریوں کو وحشیانہ انداز میں قتل کیا اِس کے باوجود گرفتار ہونے والے باغیوں میں سے کسی ایک کو بھی نہ مارا نہ ہی اُن پر تشدد کا سلسلہ شروع کیا۔ فوجی باغیوں میں سے صرف چوبیس پچیس لوگ مارے گئے وہ بھی اُن کے پولیس اہلکاروں اور حکومت کے حامی فوجیوں سے جھڑپوں میں نہ کہ گرفتار ہونے کے بعد۔ گرفتار ہونے والے فوجیوں میں سے کچھ فوجیوں کی مار پیٹ تو ہوچکی ہوگی تو وہ الگ بات ہے مگر اپنے یار دوستوں کو بے رحمانہ انداز میں قتل ہوتے ہوئے دیکھ کر لوگ اُن کا اجتماعی قتل بھی کرسکتے تھے لیکن پولیس اہلکاروں نے اور باشعور شہریوں نے حملہ کرنے والوں کو منع کیا کہ یہ وطن کی اولاد ہیں!‘‘

urdwann
پچھلے ہفتے مغربی ممالک کا آلۂ کار ایک انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے نے جلدی سے ایک رپورٹ شائع کی کہ گرفتار فوجیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے اُن کو دو دن میں ایک بار کھانا دیا جاتا ہے اوراُن کے ساتھ جنسی بدسلوکی کی جاتی ہے۔امریکہ کی ہر بدسلوکی سے چشم پوشی کرنے والے اِس ادارے نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ ہمارے پاس سیکڑوں تصویریں موجود ہیں۔ماشاء اللہ ایک دو دن میں ترکی کے جیلوں سے سیکڑوں تصویریں وصول کرنے والے اِس ادارے کو (جیسے وہ کسی بہت ہی پُر اثر خفیہ ایجنسی کا ایک پرزہ ہے)شاید یہ علم نہیں کہ ترک پولیس اور فوجی امریکن فوجی نہیں۔جنسی بدسلوکی، عصمت دری یا آبرو ریزی کا تعلق اِس قوم سے نہ ماضی میں ہوا، نہ آج ہے اور انشاء اللہ نہ ہی مستقبل میں ہوگا۔آج کل فوجی بغاوت میں شامل عام سپاہیوں اور ترکی فوجی ہائی اسکول یا کیڈٹ اسکولوں کے طالب علموں کو پوچھ گچھ کے بعد رہا کردیا گیا ہے کہ عسکری تعلیم کے زیر اثر رہ کر وہ اپنے کمانڈروں کے احکامات کی تعمیل کررہے تھے۔ اگر یہ لوگ کسی اور ملک میں ہوتے تو اُن کو کبھی اِس آسانی سے رہا کردیا جاتا؟ یہاں ظلم و تشدد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن جس طرح ہمارے ہاں کہتے ہیں: ’’مجرم دوسروں کو بھی اپنی طرح مجرم سمجھے‘‘۔ شاید وہ بین الاقوامی ادارہ بھی اِسی غلط فہمی میں مبتلا ہوگا!
ترکی کی منتخب حکومت نے جو اقدامات کیے اُن کی فہرست کچھ یوں ہے:
ترکی فوج میں ۱۴۹ء جنرل، ۱۰۹۹ آفسر اور ۴۳۶ پیٹی افسر اور عدالت میں ۲۷۴۵ جج اور سرکاری وکیل اور عدالت عظمیٰ کے ۱۸۸ ممبر کو یا برطرف کردئیے گئے یا تحقیقات کے خاتمہ تک معطل کردئیے گئے۔
۱۶ ٹی وی چینل، ۳ نیوز ایجنسی، ۴۵ اخبار، ۲۳ ریڈیو چینل، ۱۵ مجلے اور ۲۹ اشاعت گھر، ۱۵ یونیورسٹیاں، ۹۳۴ تعلیمی ادارے اور ۳۵ ہسپتال یا ڈسپنسری میں سے کچھ بند ہوئے، کچھ سرکاری اداروں میں ضم کئے گئے یا اُن کو سرکاری نگران کی ذمہ میں دئیے گئے۔
ترکی کی وزارت عظمیٰ سے لے کر وزارت تعلیم اور وزارت داخلہ تک کی مختلف وزارتوں کے پچاس ہزار سرکاری ملازم یابرطرف کردئیے گئے ہیں یا معطل۔
اِس طرح ترکی کی چار یونیورسٹیوں کے ریکٹور یا چانسلر گرفتار ہوئے اورمختلف یونیورسٹیوں میں سے نو سو اساتذہ یا ملازم معطل کردئیے گئے ہیں جن میں سے ابھی تک چالیس پچاس افراد گرفتار ہوئے ہیں۔ ترکی کی تمام فیکلٹیوں کے ڈین صاحبان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ یہ تمام لوگ اور ادارے یا تنظیم جو ہیں وہ براہ راست یا بالواسطہ اِس خونی بغاوت سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں۔ وہ جو براہ راست اِس بغاوت میں شامل تھے اور جنھوں نے نہتے لوگوں کے قتل عام میں حصہ لیا تھا وہ تو گرفتار ہوئے اور اُن میں سے اکثر و بیشتر فوجی اور پولیس کے غدار اہلکار ہیں۔ وہ جو جج اور سرکاری ملازم ہیں اُن میں سے کچھ پکڑے جانے والے گلین تنظیم کے اہم ملزموں کو اِس جنگ کے دوران بھی رہا کروانے والے ہیں یا جن کے باغی فوجیوں کے ساتھ بندھ جوڑ کے مبینہ ثبوت ہیں اور بغاوت کی کامیابی کی صورت میں مختلف اہم عہدوں کے لیے جن کی تقرریاں طے ہوگئی تھیں۔گرفتار ہونے والے صحافی تو صرف سات ہیں جن کا امریکہ کے پیارے مہمان سے براہ راست رابطہ ہے اور وہ جو تین چار سالوں سے لوگوں کو حکومت کے خلاف بغاوت کے لیے اکسانے والی تحریریں قلم بند کررہے تھے یا پھر ترکی کی قومی سلامتی کے لیے اہم فوجی یا سرکاری معلومات کو غیرملکی ایجنسیوں کو پہنچارہے تھے۔
یونیورسٹیاں تو میرے ہی سامنے ہیں کیونکہ میں بھی یونیورسٹی کا استاد ہوں۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے تمام ڈین صاحبان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ اِس لیے کیا ہے کہ اگر اُن کو ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے برطرف کردیا ہوتا تو قانون کی رو سے اُن کی بحالی ناممکن تھی۔ اگر وہ خود مستعفی ہوگئے تو بعد میں اُن کی اپنے عہدے پرتقرری کا امکان ہے۔ اِس طرح یونیوسٹیوں سے معطل ہونے والے اساتذہ بھی دو دو ماہ کے لیے معطل کردئیے گئے ہیں اس دوران اُن کو اپنی تنخواہ کا دو تہائی حصہ ملتا رہے گا۔اگر تحقیقات کے بعد وہ بے گناہ ثابت ہوں گے تو اُن کی بحالی ہوگی اور اگر اِس بغاوت میں کسی طرح سے بھی ملوث ثابت ہوں گے تو تب اُن کی برطرفی عمل میں آئے گی۔ اگر یہ کوئی انتقامی کارروائی ہے تو جب بہت سے ملکوں میں عام انتخابات کے بعد اقتدار کے ایک پارٹی سے دوسری پارٹی میں منتقلی کے ساتھ ہی نئی حکومتیں سرکاری اداروں میں اِس سے زیادہ تبدیلیاں کرکے مختلف اداروں میں اپنی پارٹی کارکنوں کو بھرتے ہیں تاکہ وہ ملک کا نظم و نسق اپنے ہاتھوں میں لے سکیں۔
ترکی میں ایک خونی بغاوت ہوئی ہے، ڈھائی سو شہری شہید ہوئے ہیں اور دو ڈھائی ہزار زخمی ہیں اور غداروں نے صدر اور وزیر اعظم پر قاتلانہ حملہ کیا ہے، اِس بغاوت کی ناکامی کے بعد ترکی حکومت نے کچھ ضروری حفاظتی اقدامات کئے۔
ترکی میں بر طرف اور معطل ہونے والوں کی اِس تعداد کو دیکھ کر باہروالے سمجھ ہی نہیں پارہے ہیں کہ یہ کیا چکر ہے اور اِس تعداد کی برطرفی کیوں ہورہی ہے؟ میں اُن کی خدمت میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہ تعداد کم بھی ہے۔ کیونکہ یہ ایک ایسی تنظیم ہے جو تقریباً تیس چالیس سالوں سے ترکی کے سرکاری اور غیرسرکاری جسم میں ایک مہلک وبا کی طرح پھیل چکی ہے جس کا علاج بہت ہی مشکل ہے۔اِس سے ایک ماہ قبل ترکی میں صورتحال کو دیکھ کر میں سوچتا تھا کہ شاید اِس کا علاج ناممکن ہے۔ کیونکہ گلین تنظیم یا خدمت تحریک کی شاخیں ترکی کی تمام وزارتوں میں اور عدالت سے لے کر فوج تک کے تمام اداروں میں ایسے جڑ پکڑلی تھیں کہ اُن کو دیکھ کر دل ہی دل میں میں کہہ رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ ہمارے صدر کی مدد کرے کیونکہ وہ کچھ نادان لوگوں کے گھیرے میں ہیں۔یہ بات نہ صرف میں بلکہ بہت سے شہری پوچھ رہے تھے کہ یہ کیا چکر ہے۔ ۱۵ جولائی ۲۰۱۶ء کی رات کے بعد اب اِس میں کوئی شک نہیں رہا کہ ترکی کے عوام اپنے خیالات میں کس قدر حق بجانب تھے۔ کیونکہ سرکار کے کچھ لوگ براہ راست اِس بغاوت میں شامل ہوئے، کچھ لوگ اپنے مفادا ت اور اپنے اپنے عہدوں کے تحفظ کی خاطر اِس تحریک کی سرگرمیوں سے چشم پوشی کرتے رہے تھے ، کچھ لوگ اِس تنظیم کی طاقت اور اثر رسوخ سے خائف ہوکر خاموشی اختیار کرلیتے تھے اور کچھ لوگ صدر اور منتخب حکومت کے وفادار ہونے کے باوجود دوسرے گروہوں کے فریب میں مسحور آنے والی قیامت کا پتہ نہیں چلا سکے۔
میں ایک پروفیسر ہونے کی حیثیت سے پھر دہراؤں گا کہ یونیورسٹیاں اور علمی و فنی ادارے میرے در پیش ہیں۔ اِس تحریک کے لوگ یونیورسٹیوں میں جہاں کسی عہدے پر فائز ہوئے وہیں صرف اپنے ہی لوگوں کو بھرتی کرنے لگے۔ ہماری یونیورسٹی میں جب اُن میں سے ایک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مدیر ہونے والے صاحب نے مدیر ہونے کے بعد اُس انسٹی ٹیوٹ کی تمام اسامیاں اپنے والوں میں تقسیم کیں۔ اِس طرح کئی شعبہ جات میں صدر شعبہ ہونے پر اُن لوگوں نے اپنے ہی لوگوں کو رکھنا شروع کیا۔ پھر آپ سوچئے جہاں جہاں وہ لوگ چانسلر اور وائس چانسلر بنے وہاں کی اکثر و بیشتر اسامیوں کے حقدار کون کون لوگ ٹھہرائیے گئے؟ اُن میں سے ایک صاحب کی تقرری ترکی کے سب سے اعلیٰ علمی اور تحقیقی کونسل کے مدیر کی حیثیت سے ہوئی تھی تو اُنھوں نے کونسل میں چائے بنانے والے ملازموں تک کو نکال کر اپنی ہی تحریک کے لوگوں کو نکالے ہوئے لوگوں کی جگہ بھرتی کر لیا۔ باقی!!! باقی آپ ہی سوچئے کہ یہ تحریک کس طرح ترکی میں جائز یا ناجائز طریقے سے پھیلتی گئی۔
مسئلہ ایسا پیچیدہ اور راز اندر راز ہے کہ اگر اِس تحریک کے طریق کار اور ہربوں کی تفصیل لکھنے لگیں تو ایک نہیں کئی جلدوں پر مشتمل ایک کتاب ہی بن جائے۔ اِس لیے آخر میں میں ترکی فوج کی بر طرفیوں کی جانب آنا چاہوں گا ۔
ترکی فوج میں ۱۴۹ء جنرل، ۱۰۹۹ آفسر اور ۴۳۶ پیٹی افسر بر طرف کئے گئے اور اُن میں سے اکثر گرفتار ہوئے۔ اِسی طرح فوجی اسکولز یعنی ایک طرح کے اکثر و بیشتر طالب علم نے بھی اِس بغاوت میں شامل ہونے کی کوشش کی مگر ترکی کے غیور عوام نے اِن اسکولوں کو گھیرے میں لے کر اُنھیں اپنے اپنے اسکولوں میں بند کررکھا اور باہر نکلنے نہیں دیا۔اِس طرح ایف ۱۶ کے کئی پائلٹ بر طرف ہوئے۔
واضح رہے کہ فوج کا یہ کثیر تعداد کا باغی ٹولہ ترکی لشکر کے سیکولر عناصر پر مشتمل نہیں تھا۔ کیونکہ اِس مرتبہ ترکی کے سیکولر عناصر اور کمانڈرز نے بھی اِس بغاوت کے خلاف منتخب ترکی حکومت کا ساتھ دیا جن میں آرمی چیف آف سٹاف خلوصی آکار صاحب اور بحری، برّی اور ہوائی فورسز کے کمانڈر بھی موجود ہیں۔اِن لوگوں کے سیکولر نہ ہونے کا ثبوت اِس امر سے بھی ملتا ہے کہ ترکی کی سیکولرازم کی محافظ پارٹی بھی اِس بغاوت کے خلاف تھی اور فوجی جنرلوں اور افسروں کی بر طرفی کے حق میں تھی۔ یہ لوگ ترکی قوم پرست پارٹی کے کارکن بھی نہیں تھے۔کیونکہ ترکی قوم پرست پارٹی کے لیڈر نے ۱۵ جولائی کو وزیر اعظم کے ٹی وی پر بیان کے ساتھ ہی یہ اعلان کیا کہ وہ اور اُس کی پارٹی اِس بغاوت کی سخت مذمت کرتی ہے اور ہمارے صدر کے عوام کو سڑکوں پر بلاتے ہی قومی پارٹی کے کارکن احتجاجوں میں آگے آگے تھے۔ پھر یہ افسر اُن کے بھی پیرو نہیں تھے۔

gollenاب اِس میں کوئی شک و شبہ نہیں رہا کہ یہ گلین دہشتگرد تنظیم کے کارکن تھے۔ ویسے بھی گرفتار ہونے والے جنرلوں اور افسروں نے بھی اِس کا اقرار کیا اور امریکہ کے وفادار مہمان کے وفا شناس میزبان ایک امریکن جنرل نے یہ اعلان کیا کہ ترکی میں ہمارے دوستوں کی گرفتاریاں ہورہی ہیں!
جبکہ گلین تحریک اور اِس خونی بغاوت میں ملوث فوجیوں کا تعلق اظہر من الشمس ہوا تو میں اب اپنے قارئین کرام سے یہ سوال کرنا چاہوں گا کہ چیونٹی کو مرتے دیکھ کر رونے والے ایک رحم دل قائد (؟) جن کو اُن کے پیروکار مہدئ زمانہ سمجھتے ہیں اور جہاں بھی اِس تنظیم کے امام تقریر کریں وہیں بین المذاہب ہم آہنگی اور بھائی چارہ، دنیا میں صلح و آشتی یا’’ صلح کُلّ‘‘ کی باتیں کرتے ہیں، اِس کثرت کے ساتھ ترکی فوج میں کیا کرتے ہیں؟ کیوں ’’صلح کُلّ‘ ‘کے اِن مبلغین نے ترکی فوج میں تقریباً تیس چالیس سال سے جائز یا ناجائز ہر قسم کے طریقے استعمال کرنے سے گریز نہیں کیا؟ میں ناجائزی کی اور تیس چالیس سال کا ذکر اِس لیے کرتا ہوں کہ کل ہی ایک ٹی وی پروگرام میں ایک ریٹائرڈ آرمی وکیل کو سُن رہا تھا اور وہ کہہ رہے تھے کہ بذات خود اُنیس سو چھیاسی (۱۹۸۶ء) میں اُنھوں نے گلین تنظیم کے کارکنوں کی جانب سے کیڈٹ اسکولوں کے امتحانی سوالات کی چوری ہونے کے ثبوت ملنے پر مقدمہ دائر کرانے کی کوشش کی لیکن اُس وقت کسی نے بھی اِس طرف توجہ مبذول نہیں کی۔ اُن کا کہنا تھا کہ اگر ہم آخری دس سالوں کا بھی حساب لگالیں تو کم از کم چالیس پچاس ہزار فوجی اسکول کے طالب علم اِس تنظیم سے منسلک ہیں اور یہ پچاس ہزار کیڈٹ اسکولوں کے طالب علموں کے اسی فی صد کے برابر ہے۔اِس خونی بغاوت کے دوران کیڈٹ اسکولوں کے طالب علموں کی اِس بغاوت میں شمولیت کی ناکام کوشش بھی اِس امر کا ثبوت ہے کہ وہ ریٹائرڈ سرکاری وکیل کے بیانات سو فی صد سچ ہیں۔اب ترکی میں تمام فوجی ثانوی اسکولز یا کیڈٹ اسکول بند کئے جائیں گے۔
ویسے بھی ترکی فوج کے سیکولر عناصر ۲۰۱۲ء میں ’’ایرگینیکون‘‘ نامی مقدمے کے ساتھ ہی بر طرف کئے گئے جن میں پرانے آرمی آف اسٹاف جنرل ایلکیر باشبوغ اور دیگر جنرل بھی شامل تھے۔ پھر تحقیقات کے بعد ترکی حکومت کو یہ علم ہوا کہ یہ مقدمہ گلین تنظیم کی سازش تھی اور عدالت کو جعلی کاغذات اور گواہ پیش کئے گئے تھے تو وہ سب جنرل تمام الزامات سے بَری ہوئے اور رہا کردئیے گئے۔پھر یہ بھی معلوم ہوا کہ اُس مقدمے کے سرکاری وکیل ذکریا اوز بھی اِس سازش میں ملوث تھا تو وہ گرفتار ہونے سے پہلے ملک سے باہر فرار ہوگیا۔ اب قارئین کرام یہ سوچ سکتے ہیں کہ سیکولر افسروں کی بر طرفی سے گلین تنظیم کے جنرلوں کو کیا ملا؟ ملا تو جنرل اور دیگر اہم رینکوں کے عہدے! کیونکہ عسکری قوانین اور رینک کے مطابق ترقی ملنے والے نظام کی رو سے اگر سیکولر جنرل بر طرف نہ کئے جاتے تو ناکام فوجی بغاوت کے کمانڈر کبھی بھی اِن عہدوں پر فائز نہیں ہوپاتے اور ریٹائر ہوجاتے۔
ترکی میں گلین تحریک کے متعلق مسائل ایسے پیچیدہ اور تہہ اندر تہہ ہیں جس کے بیان کے لیے لکھنے بیٹھوں تو یہ ’’دستان امیر حمزہ‘‘ سے بھی طویل ایک داستان بن جائے۔
الغرض جنرل اور افسر گرفتار ہوئے یا برطرف کئے گئے کیونکہ اُن لوگوں نے ترکی کے منتخب حکومت کو معدوم کرنے کے لیے بغاوت کی اور ترکی عوام کا قتل عام کیا۔
ٹی وی چینل، پبلشر اور ریڈیو چینل بند کئے گئے کیونکہ وہ لوگ کم سے کم تین چار سالوں سے ترکی عوام کو صدر مملکت اور ترکی کی منتخب حکومت کے خلاف بغاوت کرانے کے لیے جھوٹی خبروں سے گمراہ کررہے تھے۔

tur

میڈیا سے متعلق لوگ جو کہ صرف سات افراد گرفتار ہوئے وہ بھی نہ صرف ٹی وی چینلوں اور اخباروں میں ترکی کی حکومت کے خلاف پروگرام کررہے تھے بلکہ مغربی میڈیا اور حکومتوں سے ترکی سے متعلق اہم ترین سیکریٹ معلومات کو شیئر کررہے تھے۔
گلین اسکول اور تعلیمی ادارے وزارت تعلیم میں ضم کئے گئے کیونکہ اِن میں بچوں کی برین واشنگ ہورہی تھی۔
گلین تحریک سے متعلق ہسپتال اور ہیلتھ سینٹرز وزارت صحت میں ضم کئے گئے کیونکہ اُن میں غیر قانونی کاموں کے ساتھ اِس تحریک کے لیے مادی مدد فراہم کررہے تھے۔ یہاں قارئین کرام سے اِس تنظیم کے ڈاکٹروں تک کی غداری کی مثال پیش کرنا چاہتا ہوں۔فوجی بغاوت کی رات ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں لوگ زخمی شہریوں کو جھڑپ کے موقع پر بالکل پاس طرغوت اوزال ہسپتال پہنچانے لگے تو گلین تنظیم کے اِس ہسپتال کے ڈاکٹروں نے ہسپتال کی لائٹیں اور دروازے بند کرکے زخمیوں کا علاج کرنے سے انکار کردیا۔ بغاوت کے بعد جب اُن کو بر طرف کردیا گیا تو وہ لوگ ہسپتال سے نکلتے ہوئے تمام طبی مشینری خراب کرکے ہسپتال سے نکل گئے۔
ترکی کے منتخب صدر نے اور ترکی کی منتخب حکومت نے اپنے ملک اور اپنی قوم کے تحفظ کی خاطر کچھ لوگوں کے مطابق ’’بہت رحم دلی سے‘‘ اقدامات کرنے لگی۔ ترکی حکومت کو یہ اقدامات کرنے ہی تھے اگر وہ یہ اقدامات نہ کرتی تو ترکی کے عوام اپنی حکومت کو کبھی معاف نہیں کرتے۔
آخر میں اُن تمام تجزیہ کار صحافی دوستوں سے یہ سوال کرنا چاہوں گا جو ماشاء اللہ ایک ہی سر چشمہ سے پھوٹنے والے اور ’’ کٹ اینڈ پیسٹ‘‘ کی صورت میں نقل ہونے والے الزامات مختلف اصحاب کی توسط سے قارئین و سامین و ناظرین کو پہنچائے جارہے ہیں۔ آج جرمنی میں ترکی حکومت اور فوجی بغاوت کے خلاف ایک احتجاجی جلسہ نکالا گیا۔ جرمنی ارباب اختیار نے اِس کو روکنے کے لیے کافی قانونی مشکلیں پیدا کیں مگر اُن کو ناکامی کا سامنا ہوا لیکن جرمنی کی عدالت عظمیٰ نے یہ فیصلہ جاری کرکے پابندی عائد کی کہ اِس جلسہ کے دوران ترکی جمہوریت کے صدر جناب رجب طیب ایردوغان حاضرون سے ٹیلی کانفرنس کے ذریعے مخاطب ہوکر تقریر نہیں کرسکتے ہیں۔ لیجئے آپ کے یورپ کے حق بیان اور اپنی رائے کے اظہار کے انسانی اقدار؟ خیر مجھے علم ہے کہ آپ لوگ اِس کے لیے بھی کوئی جواز نکالیں کے یا سنی ان سنی کریں گے لیکن کیا کیا جائے۔ ترکی میں ایک محاورہ ہے ’’اگر نمک میں بھی بو پڑگئی تو اِس کا کوئی علاج نہیں ہوتا!‘‘ لگتا ہے کہ عالمی میڈیا کے نمک میں بو پڑگئی ہے اللہ رحم کرے!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *