اسرائیل نے کم عمر بچوں کو سزا دینے کا قانون بنا لیا

یروشلم -اسرائیل کی پارلیمنٹ نے 12 سال کی عمر کے بچوں کو 'دہشت گردی' کے جرم میں سزا دینے کا قانون بنا دیا۔ اسرائیلی پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ فلسطینی نوجوانوں کی جانب سے حملوں میں اضافے کے بعد یہ قانون بنایا گیا ہے۔ انگریزی زبان میں جاری ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ''یوتھ بل' کے تحت حکام کو اختیار حاصل ہوگا کہ وہ قتل جیسے اقدام کے جرم میں نابالغ لڑکا یا لڑکی جس کی عمر14 سال ہو اس کو قید کی سزا سنائیں'۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ حالیہ مہینوں میں خطرناک حملوں میں اضافے کے بعد نابالغوں کے خلاف قانون سمیت دیگر سخت اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی دائیں بازو کی جماعت لیکوڈ پارٹی کے رکن اینات برکو کے بیان کے مطابق 'جو کسی کو چھریوں کے وار سے قتل کرے وہ بچہ 12 سال کا ہو یا 15 سال کا اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا'۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فلسطین اور اسرائیل کی پٹی میں گزشتہ سال اکتوبر سے قتل ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے جہاں اب تک 218 فلسطینی، 34 اسرائیلی، 2 امریکی، ایک اریٹرین اور ایک سوڈانی باشندہ شامل ہے۔ اکثر فلسطینیوں کو چاقو، بندوق یا کار حملوں میں اذیت ناک طریقوں سے ہلاک کیا گیا ہے جن کے اکثر حملہ آور نوجوان اور کم سن لڑکے تھے جبکہ دیگر نوجوانوں کو احتجاج اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں مارا جاچکا ہے۔ اسرائیل کے وزیر قانون ایلت شیکڈ نے یوتھ بل کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کو گزشتہ سال کمیٹی کے سامنے رکھا گیا تھا :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *