ابلیس گھر کے اندر ہے

انجم نیازAnjum Niaz

قرآن ِ مجید میں شیطان کی نافرمانی کا واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ جب فرشتوں سے کہا گیا کہ آدم کے سامنے جھک جاؤ توسب حکم ِ ربی کی تعمیل بجالائے سوائے شیطان کے۔ وہ جنات میں سے تھا اور اس نے تکبر کیااور پھر اُسے راندہ ِ درگاہ کردیا گیا۔ خدا نے اُسے انسانوں کا کھلا دشمن قرا ر دیا۔
افطار کا وقت ہے اور تمام اہل ِ خانہ ایک دوسرے سے بحث کررہے ہیں۔ خاتون ِ خانہ افطاری کے لیے تیارکی جانے والی اشیا کو حتمی شکل دینے کی کوشش میں ہے لیکن ہونے والی بحث اُس کی پریشانی میں اضافہ کررہی ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ سب خاموشی اختیار کریں اور خدا کے عاجز بندے بن کرافطاری کے وقت کا انتظا رکریں۔ آخر کار اُس نے کہا، ”بچو، لگتا ہے گھر میں شیطان گھس آیا ہے۔“یہ سنتے ہی گھر میں خاموشی چھا گئی۔ پھر اُس خاتون نے اپنی بات کررکھتے ہوئے کہا کہ شیطان شور پسند کرتا ہے کیونکہ اُسے خاموشی راس نہیں آتی۔ اُس کا کام ہمیں بہکانا ہے، اس لیے وہ چاہتا ہے کہ شور شرابے کے عالم میں ہمارے ذہن ماؤف رہیں اور اُسے موقع مل جائے۔ یہ نصیحت سن کر بچوں نے خاموشی سے سرجھکا لیا۔ اُنہیں خوف تھا کہ کے ان رویے سے گھر میں شیطان داخل ہوکر اُن پر غلبہ پاسکتا ہے۔ اُنھوں نے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی اور اُن کے گھر میں سکون نامی رحمت داخل ہوگئی۔ دراصل اہل ِ ایمان وہی ہیں جو شیطان سے دور رہتے ہوئے خدا کو خوش کرتے ہیں۔
اگر دنیا بھر کے مسلمان مرد و عورتیں ایسا کرپاتے تو اسلام میں نہ کوئی فرقہ واریت ہوتی اور نہ کوئی اختلافی نظریات اور نہ ہی ان اختلافات کی بنیاد پر قتل وغارت ہوتی اور نہ ہی مسلمان اتنے کمزور کہ تمام تر وسائل رکھنے کے باوجود جرم ِ ضعیفی کی سزا بھگت رہے ہیں۔ دنیا میں کسی مذہب کے پیروکار مسلمانوں کی طرح ایک دوسرے کو اس طرح ہلاک نہیں کرتے۔ چلیں غزہ میں تو صیہونی افواج فلسطینیوں کا قتل ِ عام کررہی ہیں لیکن شام، مصر اور شمالی وزیرستان میں ایسا نہیں۔ یہاں مرنے والے اور مارنے والے، دونوں کا تعلق ایک ہی مذہب سے ہے۔ عرب دنیا میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کی خلیج خون سے بھرتی جارہی ہے۔ اس رمضان میں تمام عالم ِ اسلام ایک سنگین بحران میں گھر چکا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ وارننگ کی مہلت تمام او ر بستیاں داغدار۔
آج عالم ِ اسلام میں ہونے والی قتل وغارت نائن الیون کے بعد سے کھیلی والی خون کی ہولی سے مختلف ہے۔ اُس وقت وائٹ ھاؤس جا رج ڈبلیو بش کے نیو کنزرویٹو جنگجووں سے بھرا ہوا تھا۔ اپنے ارد گرد سے امریکی صدر کے کانوں سے ایک صدا ہی ٹکرارہی تھی کہ عراق اور افغانستان پر چڑھائی کردو۔ نیو کنزرویٹوزاکثر زور دیتے ہیں کہ امریکی فوجی طاقت استعمال کرتے ہوئے نہ صرف دنیا میں جمہوری قدورں کو رائج کرے بلکہ امریکی مفادات کا تحفظ بھی کیا جائے، اور ان ”نیک مقاصد“کے لیے بہائے جانے والے خون کی پروا نہ کی جائے۔
نائن الیون، ورلڈ ٹریڈ سنٹرز پر حملوں کے وقت میں امریکہ میں تھی اور میں جانتی ہوں کہ اُس وقت امریکی مسلمانوں کو کس طرح نشانہ بنایا گیا۔ مجھے ایک حدیث ِ مبارک کے الفاظ یاد آتے تھے...”ایک وقت آئے گا جب تمہارا دین تمہارے ہاتھوں میں جلتے ہوئے کوئلوں کی طرح بن جائے گا۔“ایسا لگتا تھا کہ امریکہ میں ہم پر وہ وقت آگیاہے۔ چہروں پر شیطانی مسکراہٹ سجائے جیری فلول(Jerry Falwell) اور بل گراہم(Billy Graham) اسلامی شعائر پر حملہ آور ہورہے تھے۔ ایک اسلامی سکالر اکبر احمد اس بے بسی کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں ...”پچپن ممالک، جن میں ایک ایٹمی طاقت بھی ہے، میں رہنے والے1.3 بلین مسلمانوں کے ساتھ کوئی سنگین مسلہ ضرور ہے ورنہ مسلمان اتنے بے بس کبھی بھی نہیں رہے۔“اکبر احمد، جو نائن الیون حملوں کے وقت واشنگٹن ڈی سی کی امریکن یونیورسٹی میں انٹر نیشنل ریلیشنز کے پروفسیر اور اسلامک سٹیڈیز کے شعبے کی ”ابن ِ خلدون چیئر“رکھتے تھے، کامزید کہنا تھا...”آپ کیا کرسکتے ہیں جب مذہبی تعلیمی اداروں کے سربراہ آپ کے پیغمبر ﷺ کے بارے میں نازیبا کلمات ادا کریں اور ”نیشنل رویو“ کا ایڈیٹر مکہ پر ایٹم بم گرانے کا مشورہ دے۔ اس وقت شناخت کے بحران سے دوچار اسلامی دنیا اس طوفان ِ بدتمیز ی کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہے جو مغرب نے اسلام کے بارے میں اٹھا رکھا ہے۔ اس وقت (2002 میں) امریکی کانگرس میں ایک بھی مسلمان رکن نہیں اور نہ کوئی مسلمان میڈیا کی قدآور شخصیت کے طور پر دنیاکے سامنے موجود ہے اور نہ ہی کوئی اسلامی سکالرز ہیں جو مغرب کا جواب دے سکیں۔“
مسلمان شیطان کا خصوصی ہدف تو ہیں ہی، اس راندہ ِ درگاہ کا ہاتھ بٹانے والوں کی بھی کمی نہیں۔ اسلامی دنیا میں ہمہ وقت اتنا ہنگامہ مچا رہتا ہے، ایک دوسرے کو دائرہ ِ اسلام سے خارج کرنے کے لیے انوکھے انوکھے جواز گھڑے جاتے ہیں، ایک دوسرے کی گردن زنی کی جاتی ہے کہ اغیاروں کا ہاتھ روکنے والا کوئی دکھائی نہیں دیتا۔ایسا لگتا ہے کہ فرقہ واریت(قطع ِ نظر اس سے کوئی درست ہے اور کون غلط) شیطان کا سب سے قوی ہتھیار ہے۔حکیم الاامت ؒ نے کہا تھا...”شجر ہے فرقہ آرائی، تعصب ہے ثمر اس کا، یہ وہ پھل ہے جو جنت سے نکلواتا ہے آدم کو“۔ آج جب حقیقت خرافات میں اور یہ امت روایات میں کھو چکی ہے تو سب سے ضروری بات ہے کہ گھر میں داخل ہو کر فرقوں میں بانٹنے والے شیطان کو گھر سے نکالا جائے۔
نائن الیون کے تیرہ سال بعد آج امریکی فورسز کے حملے ختم ہوچکے لیکن مسلمان ہی مسلمان کے قتل پر آمادہ ہے۔ ایک ترک اخبار کے مطابق روزانہ دنیا میں ایک ہزار کے قریب مسلمان ہلاک کردیے جاتے ہیں اور ان میں سے نوے فیصد اپنے مسلمان بھائیوں کے ہاتھوں ہی جان کی بازی ہارتے ہیں۔ اس وقت حماس لڑ تو اسرائیل سے رہا ہے لیکن اس کی قیمت غزہ کے شہریوں کو اپنی خون سے چکانا پڑتی ہے۔ دراصل اس انسانی قیدخانے(غزہ) میں بھیانک ترین انسانی المیہ جنم لے رہا ہے۔ خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد اُس سے کہیں زیادہ ہے جو میڈیا پر دکھائی جارہی ہے۔
دنیا یاد رکھے کہ پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ رہا ہے اور کوئی بھی اسے روکنے کا چارا نہیں کررہا۔اس پانی نے آخرکار سمندر تک پہنچ جانا ہے اور قطرہ قطرہ بہم دریا شود کی طرح یہ ایک جوئے خون کی صورت دھار لے گا۔ اُس وقت کوئی مت کہے کہ اسلام ایک وحشیانہ مذہب ہے۔ غزہ اور دیگر دنیا میں ٹپکنے والا خون ہر گز رائیگاں نہیں جائے گا، صرف ایک سمندر تک اس کے ارتکاز کی ضرورت ہے۔ تاہم اُس وقت تک مسلم معاشروں نے ان شیاطین کو اپنے اپنے گھروں سے نکالنا ہے جنھوں نے اُنہیں فرقوں میں بانٹ کر دشمن کے ہاتھ مضبوط کر رکھے ہیں۔رمضان کے اختتامی لمحات ہیں اور یہ بہت قیمتی دن ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو اگر تمام دنیا کے مسلمان اس دنوں میں کم از کم ایک وعدہ کرلیں کہ کل سے شیطان کو شکست دینے کی کوشش کا آغاز اس طرح کیا جائے گا کہ ہر مسلمان خود کو کسی فرقے کی شناخت کے شیطانی طوق سے آزاد کرائے گا۔ یا د رکھیں، امت میں ڈالی جانے والی تمام تفاریق فتنہ ہیں، چاہے ان کے نام کتنے ہی نیک کیوں نہ دکھائی دیں۔ ان فتنوں نے آج ہمیں یہ دن دکھایا ہے کہ عرب دنیا سے لے کر پاکستان تک، فرقہ واریت کی جنگ سیاسی غلبے کی جنگ بن چکی ہے... اگر ہم نے خود کو جلد نہ سنبھالاتو ایک مرتبہ پھر ہلاکوخان کے ہاتھوں بغداد اجڑنے والا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *