’’دورانِ جنگ ہٹلر اور ایوا ارجنٹائن فرارہوگئے تھے‘‘ ایف بی آئی کے 70برس پرانے خط میں انکشاف

hitlerلِزا پیٹرِک

حال ہی میں منظر عام پرآنے والے ایف بی آئی کے مسودات ثابت کرتے ہیں کہ امریکی حکومت جانتی تھی کہ ہٹلر زندہ اور ٹھیک ٹھاک تھااور جنگ عظیم دوم کے طویل عرصہ بعد تک کوہ انڈیز میں رہائش پذیر رہا تھا۔
آج سے قبل ہٹلر کے متعلق ہم سب یہ جانتے تھے کہ’’30اپریل 1945ء کو ایڈولف ہٹلر نے اپنے زیر زمین بنکر میں خودکشی کر لی تھی۔ بعد ازاں ، روسی فوجیوں نے روس واپس جانے سے پہلے اس کی لاش ڈھونڈ لی تھی اور شناخت بھی کر لی تھی۔‘‘ مگر یہ واقعی ممکن ہے کہ روسی ہمیشہ جھوٹ بولتے رہے ہوں اور یہ کہ تاریخ قصداً تروڑ مروڑ کر بیان کی گئی ہو؟
ایف بی آئی کے مسودات کے منظر عام پر آنے سے قبل ایسا کسی نے نہ سوچاتھا۔ یوں لگتا ہے کہ تاریخ کا سب سے زیادہ نفرت زدہ انسان، جرمنی کو توڑ کر جنگ سے فرار ہو گیا تھااور کوہ انڈیز کے خوبصورت دامن میں مویشیوں کے ساتھ ایک پر امن زند گی گزارتا رہا تھا۔
حال ہی میں شائع ہونے والے ایف بی آئی کے مسودات یہ ظاہر کرنے لگے ہیں کہ نہ صرف ہٹلر اور ایوا بران کی خود کشی جعلی تھی بلکہ بدنام جوڑے نے شاید آفس آف سٹریٹجک سروسز کے ڈائریکٹر الن ڈلز سے مدد بھی لی تھی۔
لاس اینجلس سے جاری ہونے والے ایف بی آئی کے ایک مسودے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بیورو، ایک پر اسرار آبدوز سے اچھی طرح آگاہ تھی جو اعلیٰ سطحی نازی افسران کو اتارنے کے لئے ارجنٹائن کے ساحل کی جانب جا رہی تھی۔ اس سے بھی زیادہ حیران کن حقیقت یہ ہے کہ ایف بی آئی جان گئی تھی کہ وہ کو انڈیز کے دامن میں رہائش پذیر تھا۔
اگست1945ء میں ایف بی آئی کو لکھے گئے ایک خط میں، ایک غیر شناخت کردہ مخبرسیاسی پناہ کے بدلے ان معلومات کے تبادلے پر راضی ہوا تھا۔ اس نے ایجنٹس کو جو کچھ بتایا وہ حیران کن تھا۔
مخبر نے نہ صرف یہ بتایا کہ ہٹلر ارجنٹائن میں ہے بلکہ وہ ان چار افراد میں سے ایک تھا جو اسے لے جانے والی جرمن آبدوز کو خود دیکھ چکے تھے۔ بظاہر، ارجنٹائن کے ساحل پر دو آبدوزیں پہنچی تھیں مگر ہٹلر اور ایوا بران ان میں سے دوسری میں تھے۔
ارجنٹائن کی حکومت نے نہ صرف جرمنی کے سابق آمر کو خوش آمدید کہابلکہ اسے چھپنے میں مدد بھی فراہم کی۔ مخبر نے نہ صرف یہ کہ ان دیہاتوں کی سمتوں کی تفصیل بتائی کہ جہاں سے ہٹلر اور اس کے ساتھی گزرے تھے، بلکہ ہٹلر سے متعلق، قابل یقین مادی تفصیلات بھی فراہم کیں۔
اگرچہ ظاہری وجوہات کے سبب، اس مخبر کا نام ایف بی آئی کے مسودات میں کبھی درج نہیں کیا گیاتاہم وہ اس قدر قابل بھروسہ بہرحال تھا کہ اس پر کچھ ایجنٹوں کو یقین تھا۔
حتیٰ کہ مفصل طبعی وضاحتوں اور سمت سفر کا علم ہونے کے باوجود ایف بی آئی نے ان نئے سراغوں کا کھوج لگانا شروع نہیں کیا۔حتیٰ کہ آخرکار گھیر لئے جانے سے ذرا پہلے ارجنٹائن کے ساحل پر جرمنی کی آبدوزU-530کی موجودگی کے ثبوت اورجرمن اہلکاروں کے ساحل ارجنٹائن پر اترنے کے متعدد چشم دید گواہوں کی موجودگی کے باوجود، کسی نے معاملے کی تفتیش نہ کی۔
ارجنٹائن میں ہٹلر کے ٹھکانے کا حال بتانے والے ایک چشم دید گواہ کی تفصیلات پرمبنی ایف بی آئی کے مسودات کے ساتھ، مزید ثبوت بھی سامنے آرہے ہیں جو یہ ثابت کرنے میں مدد کرتے ہیں کہ ایڈولف ہٹلر اور ایوا بران اس بنکرمیں نہیں مرے تھے۔
1945ء میں، بیونس آئرس میں تعینات نیول اتاشی نے واشنگٹن کو مطلع کیا کہ اس بات کے قوی امکانات موجود ہیں کہ ہٹلر اور ایواارجنٹائن میں پہنچ چکے ہیں۔ یہ خط آبدوز U-530کے دیکھے جانے کے ثبوت سے مماثلت رکھتا ہے۔ ان دونوں ثبوتوں کے علاوہ اخبار ات میں مضامین بھی چھپ چکے ہیں جو کوہ انڈیز کے دامن میں بویرین طرز کے بنگلے کی تعمیرکی تفصیلات پر مبنی ہیں۔
اس بار ے میں ہم تک مزید ثبوت ماہر تعمیرات الی جاندرو بستیلو کی صورت میں پہنچتے ہیں جنہوں نے ہٹلر کے نئے گھر کے لئے اپنے بنائے ہوئے نقشے اور تعمیراتی کام کے متعلق لکھا ہے۔ اس گھر کی تعمیر کے لئے رقم ارجنٹائن میں پہلے سے موجود دولت مند جرمن تارکین نے فراہم کی تھی۔
شاید ایک اور مخفی ثبوت جو یہ بتاتا ہے کہ جرمنی کے زوال کے بعد ہٹلر بچ گیا تھا، کو بھی روس میں جھٹلایا جاتا ہے۔ جرمنی پر روسی قبضے کے ساتھ ہی، ہٹلر کی فرض کردہ باقیات کو تیزی سے چھپا دیا گیااور روس بھجوا دیا گیا اور اس کے بعد کبھی منظر عام پر نہیں لایا گیا۔2009ء تک ایسا ہی رہا۔ 2009ء میں ریاست کنیکٹکٹ سے تعلق رکھنے والے ایک ماہر آثارِ قدیمہ، نکولس بیلاٹونی کوان باقیات سے حاصل ہونے والے کھوپڑی کے ٹکڑوں میں سے ایک پرڈی این اے ٹیسٹ کرنے کی اجازت دی گئی۔
جوکچھ انہوں نے دریافت کیا، اس نے انٹیلی جنس اور دانش مندوں کی کمیونٹیز میں ایک تعامل کا آغاز کر دیا۔نہ صرف یہ کہ یہ ڈی این اے ریکارڈ میں موجودکسی بھی ایسے نمونے سے میچ نہ کیا، جس کے متعلق یہ سمجھا جاتا ہو کہ وہ، ہٹلر خاندان کا ڈی این اے ہے بلکہ وہ ایوا بران کے مماثل ڈی این اے سے بھی میچ نہ کیا۔ لہٰذا سوال یہ ہے کہ اہل سوویت نے اس بنکر میں آخر کیا پایا تھااور ہٹلر کہاں ہے۔۔۔؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *