شو تو جاری رہنا ہے!

Photo Wasatullah khan

اولمپک گیمز خوشی کا موقع ہیں۔جنوبی امریکا میں پہلی بار منعقد ہونے والے ( ریو ڈی جنیرو ) سترہ روزہ ( پانچ تا اکیس اگست ) گرمائی اولمپکس میں دو سو چھ ممالک ، خطوں اور قومیتوں پر مشتمل اولمپک کمیٹیوں کی قیادت میں لگ بھگ گیارہ ہزار ایتھلیٹ حصہ لے رہے ہیں۔ان میں سے بہت سے کھلاڑی سونے، چاندی اور کانسی کے تمغے جیتیں گے۔ جو نہیں بھی جیتیں گے ان کے لیے یہی اعزاز تاحیات باعثِ مسرت رہے گا کہ وہ بھی دو ہزار برس پر پھیلی اس اولمپک تاریخ کا حصہ ہیں جس کا سفر سات سو چھہتر قبلِ مسیح میں یونانی شہری ریاست اولمپیا میں زیوس دیوتا کے اعزاز میں ہونے والے ٹورنامنٹ سے ہوا جس میں پہلی جیت کو روبئیس نامی باورچی کی ہوئی اور اس کے سر پر زیتون کی پتیوں سے بنا تاج سجا۔

جب روم نیا نیا عیسائی ہوا تو اسے عسکری اعتبار سے زوال پذیر یونان کی ’’ مشرکانہ و بت پرست تہذیب ‘‘ سے نفرت ہونا شروع ہوئی۔ چنانچہ رومن بادشاہ تھیوڈوسس نے تین سو ترانوے عیسوی میں تمام غیر عیسائی بت پرست فرقوں کو کافرانہ رسومات اور عبادت گاہوں سمیت حرام قرار دے دیا۔اولمپک کھیلوں کی بدعت بھی اسی رگڑے میں آکر ختم ہو گئی۔اور پھر ڈیڑھ ہزار برس کا پردہ حائل ہوگیا۔

بھلا ہو انیسویں صدی کے ایک صاحبِ حیثیت فرانسیسی ماہرِ تعلیم و مورخ بیرن پیرے کوبرتاں کا جنہوں نے پہلی جدید اولمپک کمیٹی بنائی اور مخیرحضرات کو آمادہ کیا کہ وہ جدید اولمپک تحریک کا ساتھ دیں۔کوبرتاں کا خیال تھا کہ جنگیں قوموں کو ایک دوسرے سے بدگمان کرتی اور فاصلہ بڑھاتی ہیں جب کہ کھیل قوموں کو قریب لاتے ہیں اور تلخیاں کم کرتے ہیں۔

چنانچہ پہلے جدید اولمپکس کی مشعل اٹھارہ سو چھیانوے میں ایتھنز میں روشن ہوئی۔ان اولمپکس میں چودہ اقوام کے دو سو اکتالیس مرد ایتھلیٹس نے حصہ لیا۔ایک تجویز یہ بھی آئی کہ قدیم اولمپک روائت کے احترام میں ہر چار برس بعد ایتھنز میں ہی یہ کھیل مستقلاً منعقد کروائے جاتے رہیں لیکن پھر کثرتِ رائے سے فیصلہ ہوا کہ انھیں پوری دنیا میں گردش کرنا چاہیے تاکہ عالمی بھائی چارے کے فروغ کا مقصد واضح ہو سکے ( اولمپک پرچم میں ایک دوسرے سے جڑے  پانچ رنگین دائرے اسی لیے ہیں )

چنانچہ دوسرے اولمپک گیمز سن انیس سو میں پیرس میں منعقد ہوئے اور ان میں خواتین ایتھلیٹس نے بھی پہلی بار مردوں کے شانہ بشانہ حصہ لیا۔آج صنفی مساوات کے حالات یہ ہیں کہ دو ہزار بارہ کے لندن اولمپکس میں کوئی اولمپک وفد ایسا نہ تھا جس میں خواتین ایتھلیٹس کی نمایندگی نہ ہو ( سعودی عرب سمیت )۔

جدید اولمپک تحریک خاصی سخت جان ہے۔یہ دو عالمی جنگیں ، بائیکاٹ ، دہشت گردی ، اسٹیمنا نواز نشیلی ادویات، رشوت و بد عنوانی سمیت سب ہی کچھ برداشت کر گئی اور ہر بحران سے نہ صرف سرخرو نکلی بلکہ اس تحریک کے بطن سے انیس سو چوبیس میں ونٹر اولمپکس اور انیس سو اڑتالیس میں معذور و خصوصی ایتھلیٹس کے پیرا اولمپکس نے جنم لیا۔ اب تو یہاں تک ہوگیا ہے کہ بے وطن لوگوں کی نمایندگی کے لیے بھی اولمپک کمیٹی بن گئی ہے۔اس کے تحت ریو میں پہلی بار دس پناہ گزین ایتھلیٹس کی عالمی ٹیم حصہ لے رہی ہے۔

اب سے تین عشرے پہلے تک ہر چھوٹے بڑے ملک کا خواب ہوا کرتا تھا کہ اس کے ہاں کبھی نہ کبھی گرمائی نہیں تو سرمائی اولمپکس ایک بار ضرور ہوں۔ کیونکہ اولمپکس کی میزبانی کسی بھی قوم کی خود اعتمادی اور اقتصادی و سیاسی مضبوطی کا ایسا اشتہار ہوتی ہے جو عالمی سرمایہ کاری کو اپنی جانب کشاں کشاں کھینچتا ہے۔مگر کھیلوں کا خرچہ ہر بار اس قدر بڑھتا جا رہا ہے کہ ایسے ممالک کی تعداد کم سے کم ہو رہی ہے جو اولمپکی بار اٹھا سکیں۔

کہاں اٹھارہ سو چھیانوے کا پہلا جدید اولمپک جس کا خرچہ دو تین مخیر حضرات اور حکومتِ یونان کی گرانٹ نے اٹھا لیا۔دوسرے اولمپکس میں یورپی صنعتی گھرانوں نے جو تعاون کیا وہ ٹکٹ کی آمدنی اور اسٹیڈیم کے باہر نت نئی صنعتی مصنوعات کی فروخت سے پورا ہوگیا۔انیس سو اڑتالیس میں بارہ برس کے وقفے کے بعد لندن میں جو گرمائی اولمپکس ہوئے ان کے انتظام کا کل خرچہ سات لاکھ سڑسٹھ ہزار پاؤنڈ اسٹرلنگ تھا۔مگر سن دو ہزار آٹھ کے بیجنگ اولمپکس پر چوالیس ارب ڈالر اور دو ہزار چودہ میں روس میں ہونے والے سوچی سرمائی اولمپکس پر اکیاون ارب ڈالر خرچ ہوگئے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے بزنس اسکول میں ایک گروپ نے تیس سرمائی و گرمائی اولمپک گیمز  کے اخراجات کا موازنہ کرنے کے بعد یہ نتیجہ نکالا کہ ان میں سے کوئی اولمپک ایونٹ بھی اس بجٹ کے اندر نہیں ہو سکا جس کا اندازہ ابتدا میں لگایا گیا بلکہ آدھے اولمپک گیمز کے اخراجات ابتدائی اندازوں سے سو فیصد سے بھی زائد بڑھ گئے۔

اب تک صرف دو اولمپک گیمز خسارے سے بچ پائے۔انیس سو چوراسی کے لاس اینجلس اولمپکس کے میزبانوں کو تسلی بخش کارپوریٹ سپانسر شپس مل گئیں اور کئی گیمز پہلے سے قائم میدانوں یا عمارات میں منعقد کروانے کے سبب منتظمین کا تعمیراتی خرچہ کم ہو گیا۔یوں معمولی منافع ہو گیا۔جب کہ انیس سو بانوے کے بارسلونا اولمپکس کی تعمیرات کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا کہ وہ شہری سہولتوں کے پہلے سے موجود ماسٹر پلان میں سمو لی گئیں اور اولمپک گیمز کے بعد بھی مقامی باشندوں  کے کام آتی رہیں۔دیگر میگا اولمپک ایونٹس میں میزبان ملک اور شہر کے ہاتھ زیادہ تر واہ واہ ہی آئی۔

کمر توڑ اخراجات اور متوقع آمدنی میں روز بروز بڑھتے ہوئے فرق کا نتیجہ اب یہ نکل رہا ہے کہ بہت کم ممالک اتنی ’’ مہنگی عزت ’’ کمانے کے شوق میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں۔مثلاً دو ہزار چودہ کے سوچی ونٹر اولمپکس پر اکیاون ارب ڈالر کے خرچے کا سن کر کم ازکم چار یورپی شہر دو ہزار بائیس کے ونٹر اولمپکس کی میزبانی کی دوڑ سے باہر نکل گئے۔آخر میں صرف دو شہر الماتی ( قزاقستان ) اور بیجنگ رہ گئے۔قرعہِ فال بیجنگ کے نام نکلا۔آج میر صاحب ہوتے تو کم ازکم یہ ہرگز نہ کہتے کہ

سب پے جس بار نے گرانی کی

اس کو یہ ناتواں اٹھا لایا

ریو ڈی جنیرو جب آٹھ برس پہلے سمر اولمپکس دو ہزار سولہ کی میزبانی جیتا تو اس وقت برازیل تیز رفتار اقتصادی ترقی کے نشے میں تھا لیکن آج جب کہ یہ گیمز منعقد ہو رہے ہیں برازیل کا معاشی نشہ ہرن ہو چکا ہے اور کئی مقامی تبصرہ نگاروں کے بقول اب تو عزت بچانے کے لیے گلے میں پڑا اولمپک ڈھول بجانا پڑ رہا ہے۔پھر بھی برازیل کے قریباً دس سے بارہ ارب ڈالر میزبانی کے چکر میں لگ چکے ہیں اور ابھی اور لگ رہے ہیں۔

مگر کہا نہ کہ اولمپک تحریک خاصی سخت جان ہے۔اخراجات بانٹنے یا مشترکہ اولمپکس منعقد کروانے کے فارمولے پر بھی گفتگو شروع ہو چکی ہے۔کیونکہ شو تو بہرحال جاری رہنا ہی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *