مکی ماؤس(افسانہ)

akhter saeed madan

اِس بار مُودی کو جو نوکری ملی تھی ،وہ اُس کی اَفتاد طبع کے عین مطابق تھی ۔اُسے کسی غلط جگہ پر سچ بولنے کا ڈر تھا اور نہ ہی اُس کی فطری صلا حیتوں کے اظہار پر کوئی قدغن تھی۔
سوائے مُودی کی بہن حِنا کے، سبھی گھر والوں کا خیال تھا کہ وہ اکثر رونے والے وقت ہنس دیتا ہے اور ہنسنے والے وقت رو دیتا ہے ۔اْس کے سر میں دماغ نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے۔اْسے لاکھ سمجھاؤ ،اْس کی سوئی اپنی جگہ پر اٹکی رہتی ہے۔ وہ فاتر العقل سا لڑکا ہے۔شاید قدرت نے اْس کے ساتھ کوئی دل لگی کی ہے یا اْسے غلطی سے کسی دوسرے گھر میں پیدا کر دیا ہے۔مُودی کو ہر دو قدم پر ڈنڈا بھول جاتا ہے۔ گھر کا ہر فرد اْس کے بارے میں اِس طرح کی رائے کا اظہارکر کے اپنی حسِ مزاح کا ثبوت دیتاتھا۔
مُودی کے دو بھائی اور ایک بہن تھی۔مُودی گھر میں سب سے چھوٹا تھا۔بڑے دو بھائی اور پھر حِنا،جبکہ مُودی سب سے آخر میں پیدا ہوا تھا۔مشہور تو یہی ہے کہ گھر میں تلے اوپر کے دو بچے ہمیشہ لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں ،لیکن مُودی اور حِنا کا معاملہ عجیب تھا۔ تلے اوپر کے ہونے کے باوجود اُن کی آپس میں گاڑھی چھنتی تھی۔اگر حِنا مُودی کا خیال نہ رکھتی تو شاید مُودی کو گھر میں کوئی روٹی بھی نہ دیتا کیونکہ ماں نے بھی جیسے اْسے اْس کے حال پر چھوڑ دیا تھا۔دراصل مُودی اپنے ہم عصر لڑکوں سے بہت سی عادات میں مختلف تھا۔
مثلاًمُودی باتونی ہرگز نہیں تھا ،مگر کبھی کبھی اُس پر بولنے کا دورہ سا پڑتا تھا۔اُس لمحے اُ س کی روانی اور الفاظ کا چناؤ دیکھنے کے لائق ہوتا۔ہاتھوں کی حرکات ماہر مقرر کی سی ہوتیں اور کھڑا ہونے کا انداز بھی خطیب کا ہوتا۔اُس گھڑی اکثر سامع کھسک جاتے یا پھر اُس جیسا کو ئی خبطی بحث میں اُلجھ جاتا۔
مُودی کی عمر بیس ،بائیس سے زیادہ ہر گزنہ تھی۔پھر نامعلوم کیوں اُسے کلاسیکی موسیقی پسند تھی؟پکے راگ سُن کر، جس وقت بڑے بڑے اہل ذوق ٹی وی اور ریڈیوبند کر دیتے ،مُودی سر دھننے لگتا۔سرراہ چلتے ہوئے اُس کے کانوں میں کسی بڑے استاد کی آواز پڑ جاتی تو وُہ وہیں رک جاتا۔ہزاروں آوازوں کے شور میں بھی اُسے صرف کلا سیکی گلوکار کی آواز سنائی دیتی۔مذاق میں اُس کے دوست کلاسیکی موسیقی کے بارے میں کچھ پوچھ بیٹھتے تو وُہ اپنے علم وفضل کے دریا بہا دیتا۔برستی بارش کے جلترنگ سے، کڑی دھوپ کی تمازت سے،کُہرمیں لپٹی رات کے سناٹے سے یا خزاں کی اترتی سرمئی شام سے، وُہ کوئی نہ کوئی سُر نکال لیتا۔وُہ کہا کرتا کہ زندگی کی پہلی چہچہاہٹ سے آخری ہچکی تک ،ہر لحظہِ ان راگوں سے مزّین ہے۔
مُودی خر دماغ تھا۔اُس نے ایک فلم سینما میں جا کر کوئی ستائیس بار دیکھی تھی ۔ فلم میں ایک جگہ ہیروئین کے بال جھٹکنے کا انداز اُسے بھا گیا تھا۔ جب اُس کے ایک دوست نے اُسے سی ڈی خرید کر فلم کا مجوزہ سین ہزاربار دیکھنے کا مشورہ دیا تو وہ بپھر گیا،کہنے لگا ۔’’ یہ میرے ذوقِ سلیم کی توہین ہو گی یا پھر میری خود غرضی ....... کیا کوئی مرمری ہڈی کھانے کا شوقین کسی دن صرف مر مری ہڈیاں ہی پکاکر کھاسکتاہے.....؟جو لطف پورا کھانا کھانے کے دوران میں ایک مرمری ہڈی کے مل جانے کا ہوتا ہے ۔وُہ کوئی صاحبِ ذوق ہی سمجھ سکتا ہے۔‘‘
اِسی طرح مُودی ٹیپ ریکارڈر پر گانا سننے کا بھی قائل نہیں تھا۔اُس کا کہنا تھا کہ اس طرح غزل یا گانے کا مزا جاتا رہتا ہے۔کبھی کبھی وہ رات گئے اپنے ایک ہم ذوق کھوکھے والے کے پاس بیٹھا رہتا۔کیونکہ آدھی رات کو کلاسیکی موسیقی کا پروگرام ریڈیو پر نشر ہوتا تھا۔
مُودی میں آخر کوئی تو کمی ضرور تھی کہ پچھلے ایک سال میں اُس نے کئی جگہ نوکری کی اور ہر بار بے عزت ہو کر یا مار کھا کر نکالا گیا ۔نامعلوم کیسے اس نے ایف اے کر لیا تھا۔سبھی کا مشترکہ خیال تھا کہ اس کے پرچوں پر نمبر لگانے والا پروفیسر کوئی احمق اور خبطی ہی ہوگا۔وہ ہر سوال کا جوب بہت طویل لکھتا ۔ اُس میں ایسی ایسی دقیق باتیں لکھتا کہ اساتذہ کے سر سے بھی گزر جاتیں۔ اُس کے ساتھی کہا کرتے کہ اگر ممتحن پڑھنے کے بجائے ماپ کر نمبر لگائے تو سب سے زیادہ نمبر مُودی کے ہی آئیں۔
انٹر میڈیٹ ہونے کے باوجود پہلی نوکری اُسے ہمسایے بالے کی سفارش پر ایک حلوائی کی دُکان پر ملی تھی۔مُودی کو نوکری کی کوئی خاص ضرورت نہیں تھی ۔یہ بھی اُس کا دماغی فتور تھا ، وہ گھر کے کسی فرد سے پیسے ما نگناکوئی گناہ خیال کرتا تھا۔حلوائی کی دُکان پر نوکری اُس کے میلان سے قطعی مطابقت نہ رکھتی تھی ۔ دُکان کے اندرونی حصے میں داخل ہوتے ہی کسی مردار جانور کی ناقابل برداشت بد بُو اس کے استقبال کو موجود ہوتی۔تاہم بڑے بھائیوں کے طعنوں تشنوں اور طنزیہ جملوں سے تنگ آئے ہوئے مُودی کے لئے یہ بھی قابل قبول تھا۔لیکن تین دن بعد جب اُس نے پھولی ہوئی سانسوں کے درمیان، گندی دھوتی اور بد بو دار بنیان پہنے، بڑے پیٹ والے چاچے حلوائی کوسب کے سامنے ،یہ خبر سنائی کہ ’’استاد جی۔۔۔بَالاصبح سے جس بڑے کڑاہے سے ،چائے کے لئے دودھ لا رہاہے۔۔۔ اس میں تو مرا ہوا چوہا پڑا ہے۔۔۔آپ لوگوں کو چائے پلانا بند کر دیں۔ ‘‘
مُودی کی بات سن کر سبھی چائے پینے والے گاہکوں نے چائے کے کپ رکھ کر تھوکنا شروع کر دیا۔چاچے حلوائی نے پہلے تو اُسے کھا جانے والی نظروں سے گھورا،پھر اپنی میلی چکٹ دھوتی کے ڈب سنبھالتا ہوا چوکی سے نیچے اتر آیا ۔چاچا حلوائی بالے اور مُودی کو لے کر اندرونی کمرے میں آگیا اور آتے ہی برفی بنانے والا کھرپا پکڑ لیا۔مُودی نے چاچے حلوائی کے یہ تیور دیکھے تو سمجھا کہ بالے کی پٹائی ہونے والی ہے کیونکہ صبح سے بالا ہی گڑوی میں چائے کے لئے دودھ لے جا رہا تھا۔وہ بالے اور چاچے کے درمیان ہو گیا۔وہ بالے کو بچاناچاہتا تھا۔چاچے نے کھرپا لہرایا اور اگلے ہی لمحے مُودی کے چوتڑوں پر رسید کر دیا۔غلطی بالے سے نہیں بلکہْ اس سے ہوئی تھی۔اْس نے سب کے سامنے دودھ میں گرے ہو ئے چوہے کا ذکر کیا تھا۔چاچے حلوائی نے مُودی کو تین دن کی تنخواہ بھی نہ دی اور کھڑے کھڑے نوکری سے فارغ کر دیا۔
گھر میں آیا تو گھر والوں نے بھی اْسی کے لتے لیے۔وہ بھی اْسی کو غلط کہہ رہے تھے۔ وہ روہانسا ہو گیا۔پھر کوئی دو ہفتے بعد اْس کو نحیف ونزار،کالے بھجنگ حاجی بوٹے کی آڑھت پر ملازمت مل گئی۔حاجی بوٹے کی آڑھت پر اْس کی نوکری چاچے حلوائی کی دُکان ایسی گندی نہیں تھی۔ یہاں اْس کا کام ٹرکوں اور ٹرالیوں پر لادنے اور اُترنے والی بوریاں گننے کا تھا۔اِس کے علاوہ اُس کے ذمہ گاہکوں کے لئے چائے،پانی کا بندو بست کرنا بھی تھا۔ایک ماہ بخیروعافیت گزر گیا۔دوسرے ماہ ایک دن جب نصراللہ بیوپاری، حاجی بوٹے کی بہت منت سماجت کر رہا تھاکہ اْس کی ماں ہسپتال میں ہے اور اْسے اپنی ماں کی دوائیاں خریدنے کے لئے پیسوں کی سخت ضرورت ہے ۔اِس لئے مہربانی کر کے اْسے اْس کی فروخت شدہ جنس کی رقم ادا کر دی جائے مگر منحنی حاجی بوٹا،جس کے ماتھے پر مسلسل سجدوں سے محراب پڑی ہوئی تھی،انکار کرتے ہوئے قسمیں کھائے جارہا تھا کہ اْس کی پیٹی میں آج ایک دھیلا بھی نہیں ہے۔منتیں کرتے ہوئے نصراللہ بیوپاری کی حالت بہت قابل رحم تھی۔ مُودی کو خیال گزرا شاید حاجی صاحب کو یاد نہیں رہا کہ تھوڑی دیر پہلے اگراہی آ گئی ہے۔وہ ڈرتے ڈرتے حاجی صاحب اور بیوپاری کے درمیان بول پڑا ’’حاجی صاحب تھوڑی دیر پہلے رمضان بروکر رقم دے گیا ہے۔‘‘
’’ہیں .......کب....!!‘‘حاجی بوٹے نے حیرت سے مُودی کو دیکھا۔
’’شاید آپ کو یاد نہیں رہا۔‘‘
’’اْو .....اچھا.......‘‘حاجی نے آنکھیں چندھیائیں ۔پھر خوش دلی سے بولا ’’لے بھئی نصراللہ ے مجھے واقعی یاد نہیں رہا تھا......تیرا کم تو بن گیا۔لڑکے نے بڑا اچھا کیا جو یاد دَلا دِیا۔‘‘
مُودی کے لبوں پر فاتحانہ مسکراہٹ تیر گئی،اُس کا سینہ پھول گیا۔نصراللہ رقم لے کر چلا گیا۔مُودی کی نظر حاجی بوٹے پر جمی ہوئی تھیں ۔اُسے اُمید تھی کہ ابھی حاجی بوٹا ،اُس کی یاداشت کی تعریف کرے گا۔مگر حاجی بُوٹے کے لبوں پر پھیلی ہوئی مسکراہٹ دھیرے دھیرے مدھم پڑتے ہوئے کرختگی میں بدل گئی ۔وہ چپ ہو کر بیٹھ گیا۔تاہم شام کو جب حاجی بُوٹا دُکان بند کرنے لگا تو اُس نے پیٹی کھولی اور رقم گن کر مُودی کی طرف بڑھا دی۔’’پُتر ۔۔۔یہ تمہاری تَن خواہ ہے۔‘‘
مُودی کچھ کچھ سمجھ گیا تھا۔’’جج۔۔۔جی میں نے تنخواہ مانگی تو نہیں جی۔۔۔!!‘‘
دفعتاً حاجی بوٹے کی چھوٹی چھوٹی آنکھیں انتہائی درجہ پھیل گئیں۔اُس کا کالا رنگ مزید کالا ہو گیا۔اُس نے اپنے حلق سے کچھ ایسی آواز نکالی جو اِس سے قبل مُودی نے نہ سُنی تھی۔’’مانگی تو نہیں ۔۔۔مگر میں دے رہا ہوں ناں۔۔۔اور سُنو صُبح دُکان پر آنے کے بجائے کسی مسجد میں چلے جانا ۔مجھے ایسا نوکر نہیں چاہیے جو مجھے ہی یاد دَلائے کہ فلاں بندے کے پیسے آ گئے ہیں۔ ‘‘
حاجی بوٹے کے تیور دیکھ کر مُودی کو کٹ حجتی کی جرأت نہیں ہوئی۔وُہ چپ چاپ پیسے لے کر گھر چلا آیا۔ حسبِ عادت اُس کے بڑے بھائیوں نے اُسے اڑے ہاتھوں لیا۔اُسے خر دماغ اور ناجانے کیا ،کیا کہا۔وہ حاجی بوٹے کی بات سمجھ نہیں سکا تھا۔وہ بہت دل گرفتہ ہوا۔ایسے موقع پر حسب معمول حِنا نے اُس کی طرف داری کی ۔وہ حِناہی ہوتی جو ہمیشہ ایسے وقت پر اُس کی ہمت بندھاتی تھی۔حِنا نے مُودی کو ایک گْر کی بات سمجھائی کہ اْسے زمانہ ساز بننا چاہیے۔چاہے کچھ بھی ہو اْسے اپنی زبان بند رکھنی چاہیے۔مُودی نے بھی اب سوچ لیا تھا کہ خواہ کچھ بھی ہو جائے ،وہ اب اپنی زبان بند رکھے گا۔
پھر دوماہ دھکے کھانے کے بعداْسے ایک سیمنٹ اور سریے کی دُکان پر نوکری مل گئی۔دُکان پر سیمنٹ ،سریے کے علاوہ ریت ،بجری، اور ٹائلیں بھی فروخت کی جاتی تھیں۔یہاں بھی اْس کا کام آنے جانے والے مال کا حِساب کِتاب رکھنا تھا۔ تھوڑا کام لکھنے پڑھنے کا اور کچھ گِننے گَترنے کا تھا۔دُکان کا مالک چودھری اسلم عموماً دُکان کی ایک طرف بنے ہوئے شیشے کے کیبن میں بیٹھا رہتا۔شیشے کے کیبن میں اْسے ہر چیز واضح نظر آتی تھی۔دوسرا یہ کہ شیشے کا کیبن ائیر کنڈیشنڈ تھا اور چودھری اسلم کو ذیا بیطس اور بلند فشار خون کا عارضہ لاحق تھا۔گرمی سے چودھری اسلم کی طبیعت خراب ہو جاتی تھی۔ اُس کا پارہ چڑھ جاتا تھا اور گالم گلوچ پر اُتر آتا تھا۔چودھری اسلم ،چودھری ہونے کے باوجود حِساب کِتاب کا ماہر تھا۔شائد اُس کی کامیابی کا راز بھی یہی تھا۔اُس نے اپنے کیلکولیٹر کے سافٹ وئیر میں کوئی ایسی ترمیم کی ہوئی تھی کہ اُس کا کیلکو لیٹر ایک پیسہ زائد ہوتے ہی روپیہ بڑھا دیتا تھا ۔ایک روپے کامطلب دس روپے ہوتا کیونکہ اُس کی دُکان پر روپے کے سکّے کا داخلہ ممنوع تھا۔چودھری اسلم زبان کا بھی بہت میٹھا تھا۔وہ گاہک سے بات کر رہا ہوتا تو منہ سے پھول جھڑتے محسوس ہوتے ،البتہ ملازم سے گفت گو کرتے ہوئے اُس کی زبان نہایت درشت ہوتی۔اس لمحے لگتا کہ دید لحاظ اُس کے پاس سے ہو کر بھی نہیں گُزرا۔سپاٹ الفاظ اور غیر تاثراتی چہرہ۔۔۔ بالکل جذبات سے عاری۔۔۔کبھی وہ اپنے کسی دوست سے گپ شپ کر رہا ہوتا تو بر ملا اعتراف کرتا کہ وہ چودھری رہتا تو کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا تھا۔وہ کاروباری میدان میں شیخوں کا مرید ہے ۔ اُس نے یہ گُر شیخوں سے سِیکھے ہیں۔
چودھر ی اسلم کی دُکان پر آئے ہوئے ایک مہینہ ہوا تو مُودی کو آخری تاریخ، رات جاتے ہوئے تَن خواہ مل گئی۔وہ حیران ہوا کہ شاید اُس کی چھٹی ہو گئی ہے۔اُس نے ڈرتے ڈرتے چودھری اسلم سے پوچھا ۔’’کیا میں صُبح آؤں۔۔۔؟‘‘
’’کیوں۔۔۔!!‘‘ چودھری اسلم کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔
’’وہ جی آپ نے تَن خواہ جو دے دی ہے۔۔۔!!‘‘
نوکروں کے سامنے شاید پہلی بار چودھری اسلم مسکرایا۔’’آج تمہارا مہینہ پورا ہو گیا ہے ۔۔۔کیا تمہیں تن خواہ نہیں چاہئے؟‘‘
’’ نہیں جی ......میں نے سمجھا شاید میرا کام آپ کو پسند نہیں آیا ۔‘‘مُودی کی جھجک کچھ دور ہو گئی تھی۔
چودھری اسلم نے مُودی کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا اور مسکراتے ہو ئے اثبات میں سر ہلا دیا۔’’ یہ دوسرے لڑکوں نے ایڈوانس لیا ہوا ہے ،اِس لیے اِن کو تن خواہ نہیں دی ہے ۔۔۔تم صبح آنا ۔۔۔۔۔۔‘‘
چودھری اسلم واقعی کاروباری لوگوں کا شاگرد تھا۔اُس رات مُودی غالباً پہلی بار گھر کے لئے پھل لے گیا۔گھر والوں نے اُس پر بھی مُودی کو تضحیک کا نشانہ بنایا۔اُس کے بڑے بھائی نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا ’’لو جی ۔۔۔مُودی صاحب بھی باقاعدہ سمجھ دار اور جوان ہو گئے ہیں۔ اب تو یہ گھر کا خیال بھی رکھنے لگے ہیں۔‘‘
اُس کا دوسرا بھائی بولا۔’’اس کا بھلا کیا مطلب ہے ۔۔۔؟ یہ کہ اب مُودی صاحب بھی گھر والا بننا چاہتے ہیں۔‘‘
بڑے نے پھر حاشیہ آرائی کی۔’’امّی۔۔۔فکر کیجئے ۔۔۔!میرا خیال ہے ،آپ ترتیب بدل کر نیچے سے ہی شادیاں شروع کر دیں۔مُودی صاحب سے پوچھیں کوئی لڑکی ہے اِن کی نظر میں ۔۔۔؟‘‘
منجھلے نے پھر گرہ لگائی۔’’کیوں نہیں ۔۔۔کیوں نہیں ۔آپ کو بھلا اور کیا کام ہوتا ہے سارا دن۔۔۔!اپنے لئے تو ایک طرف حضرت ہمارے لئے بھی لڑکیاں پسند فرمانے کی پوزیشن میں ہیں ۔‘‘
یوں تو مُودی اس سے بڑی بڑی باتیں برداشت کر لیا کرتا تھا لیکن آج مُودی کیلئے یہ بلا جواز اور غیر منطقی تذلیل ناقابل برداشت ہو گئی۔وہ کھانا کھائے بغیر بڑبڑاتا ہوا اُٹھ گیا ۔حِنا نے مُودی کو جاتے دیکھا تو وہ اپنے بڑے بھائیوں کے سامنے ڈٹ گئی۔’’یہ ہر وقت کسی کو ذلیل کرتے رہنے ۔۔۔کوئی مہذب لوگوں کا وتیرہ تو نہیں ۔۔۔‘‘
’’ہیں۔۔۔ آپ کو ذرااحساس نہیں کہ عزت مآب مُودی صاحب کی طبع نازک پر آپ کی کوئی بات گراں بھی گزر سکتی ہے ۔!‘‘بڑے نے طنز کا تیر چلایا ۔
’’ہونہہ۔۔۔!!‘‘حِنا نے ناگواری سے دونوں بھائیوں کی طرف دیکھا اور اُٹھ کر مُودی کے پیچھے لپکی۔
’’لو جی ۔۔۔سیکریٹری صاحبہ بھی گئیں ۔‘‘
مُودی کمرے میں آکر منہ پُھلا کر بیٹھ گیاتھا۔ حِنا نے اُسے پچکارتے ہوئے کہا۔’’اُن کو بکواس کرنے دیتے ۔۔۔تم کھانا تو کھا لیتے۔‘‘
مُودی نے پلٹ کر حِنا کو دیکھا اور دکھ بھرے احتجاج سے بولا’’کیا میں کوئی سانس لیتاانسان نہیں ہوں؟میں کوئی سوچنے سمجھنے والا،احساسات رکھنے والاآدمی ہوںیا پتھر کا بنا بُت ہوں؟میرے خون کا رنگ سُرخ نہیں ہے ؟ کیا سمجھتے ہیں یہ اپنے آپ کو ۔۔۔؟کیا یہ پڑھے لکھے لوگوں کی باتیں ہیں!مجھ سے کیا کہہ رہے ہیں کہ میں لڑکیاں دیکھتا ہوں سارا دن۔۔۔!‘‘
حِنا نے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔’’میں جانتی ہوں ۔۔۔!‘‘حِنا ایک لمحہ کو رکی۔۔۔ مسکراتی ہوئی،آشنا ،گہری رازدرانہ نگاہوں سے مُودی کو دیکھا۔۔۔اوراگلے ہی لمحے جیسے وہ بات بدل گئی۔’’مجھے معلوم ہے تم ایسے نہیں ہو ۔تم سمجھ اور سُوجھ بوجھ میں اِن سے کہیں آگے ہو۔ایک دن آئے گا جب تم اِن سے کہیں کامیاب آدمی ہو گے۔ میں تمہارے لیے کھانا لے کر آتی ہوں۔۔۔ناراضی توتمہاری بھائیوں سے ہے کھانے سے تو نہیں ہے ‘‘دراصل حِنا کو ڈر تھا کہ ابھی مُودی پر خطابت کا دورہ پڑ جائے گااور پھر اُسے سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔
مُودی نے حِنا کو جاتے ہوئے دیکھا اور بولا۔’’ مجھے بھی حاجی صاحب اور صوفی صاحب کا جھوٹا کھلاؤ۔۔۔تاکہ میں بھی اُن جیسا ہو جاؤں۔‘‘حِنا ہنس دی،کیونکہ جب بھی مُودی غصے میں ہوتا ،بڑے بھائی کو حاجی صاحب اور منجھلے کو صوفی صاحب کہتا ۔ویسے بھی مُودی کا غصہ اتنا سا ہی ہوتا۔
اُس رات مُودی سونے کے لئے لیٹا تواُس کی آنکھوں کے سامنے حِنا کی سوالیہ ،رازدرانہ نگاہیں گھومنے لگیں۔اُس کا کہنا کہ’’ میں جانتی ہوں ۔۔۔!!‘‘ وہ کیا جانتی ہے؟اولادِآدم جب بلوغت کو پہنچتی ہے تو وہ اپنی جنس کے بارے میں ضرور سوچتی ہے۔فطرتی طور پر اُسے جنس مخالف میں دلچسپی محسوس ہوتی ہے۔مُودی نے حِنا کی سہیلی عذرا کو دیکھا لازماً تھا۔حیرانی،اشتیاق ،اجنبیت یادلچسپی سے۔۔۔وہ خود نہیں جانتا تھا کہ وہ کون سا جذبہ کار فرماتھاجو اُسے عذرا کو دوبارہ دیکھنے پر مجبور کر دیتا تھا۔لیکن کسی پل بھی اُس نے عذرا کواخلاقی بندشوں سے آزاد ہو کر نہیں دیکھا تھا۔ممکن ہے حِنا کا ایسا کوئی مطلب نہ ہو !اُس کا چورہی اُسے بہکا رہا ہو۔
عذرا کا گھر مُودی کے گلی میں چارگھر چھوڑ کر تھا۔وہ کبھی کبھار اپنے گھر سے نکلتے ہوئے نظر آجاتی یاگلی میں آتے جاتے مُودی کی نظر اُس پر پڑ جاتی۔عذرا حِنا کے ساتھ بھی دکھائی دیتی۔وہ لاتعلق سا اُس کے پاس سے گزر جاتا۔وہ عذرا سے ایسا ہی لاتعلق ہے تو پھر وہ اُسی کے بارے میں کیوں سوچ رہا ہے؟حِنا کا اشارہ کسی اور سمت بھی تو ہو سکتا ہے۔یہ بھی تو ممکن ہے سرے سے اس نے کسی جانب انگشت نمائی کی ہی نہ ہو۔
مگر عذرا۔۔۔اُس نے جب بھی عذرا کو دیکھا ،اُس کی آنکھیں ٹھیرے ہوئے پانیوں کی سی پُر سکون دکھائی دیں۔ایسی ٹھیری جھیل کے مانند جس کی سطح پر ہلکا سا بھی تموج نہ ہو۔جیسے نیلے پانیوں کی رکی ہوئی جھیل۔۔۔اُس کے گالوں پر بلاوجہ ہر وقت ایک ڈمپل سا لرزتا رہتا تھا۔جیسے پانی کی چلتی ہوئی تازہ کھالی میں ترسی مٹی کے پانی کو چوسنے سے بار بار اُبھرنے والی ننھی گھمن گھیری یاکسی جھیل میں اُبھرنے والا معصوم سا نوخیز بھنور۔عذرا کا نیچے والا ہونٹ اوپر والے سے غیر معمولی طور پر بڑا تھا اور اُس کے درمیان میں مانگ نکلی ہوئی تھی۔ پیشانی کی آخری سرحدوں کے بال سنہرے تھے۔اُس کی لانبی گردن پر تین ریکھائیں تھیں،جو لرزتی رہتیں۔گردن کی جڑ میں جہاں ہنسلی کی ہڈیاں آپس میں ملتی تھیں ،ایک گڑھابناتی تھیں، جو سانوں کے زیر وبم سے دھڑکتا تھا۔اور اُس کی ٹھوڑی کے درمیان ایک کڈھا تھا جو کوئی اہم بات کرتے ہوئے تحلیل ہو جاتا تھا اور اُس کی جگہ کئی چھوٹے چوٹے بھنور سے مچلنے لگتے تھے ۔
ناجانے کیوں اُس کے ہر لباس میںآسمانی رنگ کا جز لازم ہوتا۔۔۔۔۔۔وہ سراپا آب لگتی۔
مُودی کو حیرانی ہوئی کہ وہ عذرا کی جسمانی جزئیات اس قدر تفصیل کے ساتھ جانتا ہے ۔مُودی کو پہلی باراحساس ہوا کہ وہ عذرا کو اتنی باریک بینی سے دیکھتا ہے!اتنے غور سے اُس کے خط وخال کو جانچتا ہے۔یہ کیسا ناطہ ،کیسا تعلق ہے؟کہیں۔۔۔۔۔۔!!!وہ ان دیکھی وادیوں کا مسافر تو نہیں۔وہ عذرا سے اس تعلق کے جواز کا متلاشی تھا۔اُس کا خمیر ایسی ماٹی سے اُٹھایا گیا تھا ،جو اپنے آپ کو سمجھنے میں بھی مہینوں نہیں سالوں لگا دیتے ہیں۔جو وضع داری اور جھجک کا ٹوکرا سر پہ اُٹھائے اظہار میں بہت دیر کر دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔
****
وہ اگلے ماہ کی سترہ تاریخ تھی جب مُودی چودھری اسلم کی دُکان پر سریے کا وزن کروا رہا تھا۔دو ،دو ٹن کے تین ریڑھے حاجی منظور ٹھیکیدار کو جا چکے تھے اور چوتھا لادا جا رہا تھا۔مُودی بڑی مستعدی سے ایک ایک مُٹھے کا وزن لکھ رہا تھا کہ اُسے وزن کرنے والے کانٹے کا پلیٹ فارم کچھ غیر متوازن سا لگا ۔اُس نے کانٹے کا پلیٹ فارم ہلا کر دیکھا ۔ پھٹہ کانٹے پر صحیح طور پر بیٹھا ہوا نہیں تھا۔پہلے تواُس نے سوچا کہ اس کا ذکر چودھری اسلم سے کرے مگر سابقہ تجربات سے اُس نے یہ سیکھا تھا کہ زبان بند رکھنا ہے۔ممکن تھا اُس سے چودھری اسلم ناراض ہو جائے اور اُس کا پارہ چڑھ جائے۔
مُودی نے چودھری اسلم کو تو نہ بتایا مگر چودھری اسلم نے اپنے شیشے کے کیبن سے مُودی کو پلیٹ فارم جانچتے ،پرکھتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔وہ ایک لمحے میں اپنا مچان نما شیشے کا کیبن چھوڑ کر باہر آ گیا اور مُودی کو ایک طرف ہٹا کر پلیٹ فارم کوکانٹے پر اچھی طرح جمانے کا حکم دیا۔پلیداروں نے پلیٹ فارم ہلا کر جمایا اور چودھری اسلم کے اصرار پر دوبارہ سریا کانٹے پر رکھا۔ سریے کا وزن زیادہ ہو گیا۔اس کا مطلب تھا کہ اس سے قبل جانے والے ریڑھوں کا وزن زیادہ تھا جبکہ مُودی نے کم وزن کی پرچی بنا کر دی تھی۔
’’تم اندھے ہو۔۔۔! تمہیں نظر نہیں آتا ؟‘‘ چودھری اسلم چنگھاڑا۔’’تمہیں کس لئے رکھا گیا ہے!‘‘
’’مم۔۔۔میں نے سمجھا شاید آپ کو یہ بات بتانی ہے یا نہیں۔۔۔؟‘‘مُودی نے دھیرے سے کہا۔
’’کیا مطلب ۔۔۔میرا نقصان ہو رہا ہے اور تم سوچ رہے ہو کہ یہ بات مجھے بتانی ہے یا نہیں۔۔۔؟ تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے۔۔۔؟‘‘ چودھری اسلم کے منہ سے تھوک اُڑنے لگے تھے۔
’’وہ جی اس سے قبل حاجی بوٹے کی دُکان پر ۔۔۔‘‘
’’جہنم میں گیا حاجی بوٹا۔۔۔تمہاری تو میں ماں۔۔۔۔۔۔‘‘چودھری اسلم گالم گلوچ پر اتر آیا تھا۔اگر چہ چودھری اسلم کی گالیاں ناقابل برداشت تھیں مگر مُودی کمالِ صبر سے اپنی بے عزتی پرخون کے گھونٹ پی گیا۔چودھری اسلم کو جس طرح اُبال آیا تھا اُسی طرح اُس کا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔وہ بُڑبڑتا ہوا دوبارہ اپنی مچان میں جا بیٹھا۔مُودی نے خدا کا شُکرادا کیا۔
مُودی رات کو انتظار ہی کرتا رہ گیا کہ چودھری اسلم اُسے جواب دے دے گا۔مگر چودھری اسلم کا رویہ ایسا تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔سب کچھ حسبِ معمول تھا۔مگر مُودی کے دماغ میں کوئی وسوسہ کروٹیں لینے لگا تھا۔اس کا علم مُودی کواُس وقت ہوا جب پانچ تاریخ تک اُس کو تَن خواہ نہ ملی۔اُس نے دبے لفظوں چودھری اسلم سے تَن خواہ مانگی ۔چودھری اسلم نے طنزیہ نگاہوں سے مُودی کو دیکھا اور کہا۔’’اس مطلب ہے ۔۔۔اُس دن جو تم نے میرا نقصا ن کیا ہے، وہ کھوہ کھاتے چلا گیا۔۔۔؟‘‘
’’جی۔۔۔وہ میں نے۔۔۔‘‘ مُودی نے حجت کی۔
’’ناں تمہارا کیا مطلب ہے ۔۔۔! میں بھی تمہاری طرح اندھا ہو جاؤں،اپنا نفع نقصان نہ دیکھوں۔۔۔ ؟ تمہاری وجہ سے میرا جتنا خسارہ ہوا ہے ،وہ میں تم سے ہی پورا کروں گا ناں۔۔۔حساب ہمیشہ حساب ہوتا ہے۔میں نے تو یہی سیکھا ہے ۔ کیا خیال ہے ؟‘‘
’’جی میں۔۔۔آئندہ سے۔۔۔!‘‘
مجھے معلوم ہے آئندہ تم خیال رکھو گے مگر کس طرح؟جب نقصان تمہاری اپنی جیب سے ہو گا تو کبھی نہیں بھولو گے۔۔۔کیا سمجھے۔۔۔؟‘‘
’’جی میں سمجھ گیا۔۔۔!‘‘مُودی نے ایک جذبے کے ساتھ کہا۔
اگلی جگہ جہاں مُودی نے نوکری کی وہ ایک پرائیویٹ سکول تھا۔ پرائیویٹ سکول میں اُس کی تَن خواہ بہت کم تھی۔کوئی دوہزار پانچ صد روپیہ سکہ رائج الوقت۔۔۔سکول میں اس کا کام ایک پیام رساں کا تھا۔ وہ زیادہ وقت ہیڈ مسٹرس کے دفتر کے باہر بیٹھا رہتا ۔ایک بار ہیڈ مسٹرس نے اُسے کسی ٹیچر کی غیر حاضری پر پیریڈ پڑھانے کلاس میں بھیجا۔مُودی کلاس میں اردو پڑھانے گیا تھا ،مگر وہاں بچوں کو تجریدی افسانے کا ارتقا ء اورروزمرہ زندگی میں علامات کی اہمیت پر خطبہ دے کر چلا آیا۔دوسرے دن جب بچوں نے اپنی اردو کی مس سے تجریدی افسانے کے بارے میں سوالات کئے تو مِس نے اپنا سر پیٹ ڈالا۔وہ سیدھی ہیڈ مسٹریس کے پاس شکایت لے کر چلی گئی۔ ہیڈ مسٹرس نے جب مُودی سے اس بارے میں استفسار کیا تو وہ خردماغ اُن کو بھی علامات کا فلسفہ سمجھانے لگا۔ہیڈ مسٹرس نے آئندہ سے مُودی کو پیریڈ دینے سے توبہ کر لی۔تاہم چند شریر بچے مسلسل اصرار کرنے لگے کہ ہمیں محمود صاحب سے اردو پڑھنا پسند ہے۔
سکول میں مس فوزیہ تیسری کلاس کو پڑھاتی تھی۔وہ پڑھاتی کم تھی اور سارا وقت موبائل پر پیامات کا تبادلہ کرنے میں گزار دیتی تھی۔ ہیڈ مسٹرس کے علم میںیہ بات آئی۔ اُس نے مُودی کے ذریعے مس فوزیہ کو بلوا بھیجا۔ہیڈ مسٹرس نے مِس فوزیہ کی گو شمالی کی تو اُس نے یہی سمجھا کہ ہو نہ ہو یہ مُودی کا کام ہے۔مِس فوزیہ دل میں مُودی کے خلاف ایک بغض لے کر بیٹھ گئی۔وہ اپنا بدلہ چکانے کی تدبیریں سوچنے لگی۔اُس سے اور کچھ نہ بن سکا! ایک دن ہیڈ مسٹرس کے پاس شکایت لے کر جا پہنچی کہ مُودی کی نظر یں صحیح نہیں ہیں،وہ نہ صرف اُسے بُری نگاہوں سے دیکھتا ہے بلکہ دوسری معلمات کو بھی گھورتا رہتا ہے۔مس فوزیہ نے اپنے ساتھ ایک اور استانی راحت کو بھی ملا لیا۔مِس راحت شکل و صورت سے بالکل ہی پیدل تھی۔جب مِس فوزیہ نے راحت کے سامنے یہ انکشاف کیا کہ مُودی اُس پر نظر رکھتا ہے ، وہ پھولے نہ سمائی۔وہ چند دن تک مُودی کو بہ غور دیکھتی رہی ۔اُس کی حرکات و سکنات کا جائزہ لیتی رہی،بلکہ اُسے خود متوجہ کرنے کے جتن کرتی رہی ۔مُودی کی طرف سے کوئی ردعمل نہ پا کر انتقاماً اُس کے خلاف ہو گئی۔
ہیڈ مسٹرس نے شکایت سُنی ۔بے شک اُسے مُودی سے ذاتی طور پرایسی کوئی شکایت نہیں تھی ،اور نہ اُسے مُودی سے کسی ایسے نیچ اقدام کی توقع تھی۔لیکن اِن باتوں سے سکول کا ماحول خراب ہونے کا اِمکان ضرور موجود تھا۔اس نے مُودی کو بیک جنبشِ قلم نکال باہر کیا ۔جب مُودی سکول سے فارغ ہو کر جا رہا تھا ، مِس فوزیہ اورمِس راحت سکول کے بڑے دروازے کے پاس کھڑی تھیں ۔فوزیہ نے منہ پر ہاتھ پھیرا اور طنزیہ انداز میں مسکرائی ۔اُس وقت مُودی کو پتہ چلاکہ شرارت کی جڑ مس فوزیہ ہے ۔ تاہم راحت کو اپنی طرف عجیب نگاہوں سے گھورتا پا کر اُس کے دل انہونے انداز میں دھڑکا ۔
اس ملک میں جہاں نوکری کا حصول جوئے شیر لانے کے مترادف تھا ،مُودی خوش بخت ثابت ہوا تھا۔اُسے یکے بعد دیگرے ملازمت مل جاتی تھی۔نوکری چاہے چھوٹی ہوتی یا بڑی ،اُس کی منتظر ہوتی۔اس سال کے آخر میں اُسے پانچویں ملازمت ایک کلاتھ ہاؤس پر ملی تھی۔بدر کلاتھ ہاؤس کا مالک سیٹھ امجد ایک ہنس مُکھ اور ملنسار انسان تھا۔اُس کا رویہ نوکروں کے ساتھ بھی نہایت شریفانہ ہوتا۔ یہاں مُودی کا کام کھلے ہوئے کپڑے کے تھانوں کو لپیٹنا تھا یا پھر سیٹھ امجد کے اشارے پر الماریوں سے کپڑے کے تھان پکڑانا تھا۔فارع وقت میں جب کوئی گاہک نہ ہوتا ، سیٹھ امجد ملازمین کے ساتھ مذاق ٹھٹھے میں مصروف ہو جاتا۔اس دُکان کا ماحول مُودی کو بہت پسند آیا تھا۔
گرمیوں کی ایک سہ پہر جبکہ سارا دن کوئی گاہک نہ آیا تھا ۔اس دوران میں سیٹھ امجد نیند کے کئی دور گزار چکا تھا۔وہ سو سو کر تھک گیا تھا ۔وہ اس سوچ میں غلطاں و پیچاں تھاکہ کل صبح اُس نے بچوں کی فیس بھی سکول بھجوانی ہے۔مگر رقم کا کچھ انتظام نہیں تھا۔اگر چہ بنک کے اکاؤنٹ میں اُس کے پیسے موجود تھے، لیکن وہ چاہتا تھا کہ چیک نہ ہی کاٹے۔شام سے تھوڑی دیر پہلے تین خواتین کپڑا لینے آگئیں۔خواتین نے سیٹھ امجد سے جس کپڑے کی بھی فرمائش کی،جو کوئی رنگ دکھانے کو کہا ،اُس نے بلا جھجک دکھا دیا۔سیٹھ امجد نے گاہک خواتین کو مطمئن کرنے کے لئے آج دُکانداری کے سارے گُر آزما لئے تھے۔اُس نے منع کرنے کے باوجود خواتین کو بوتلیں بھی پلا دیں۔اُن کو لباس کے انتخاب کے لئے وہ وہ مشورے دیئے کہ کوئی ماہر ملبوسات وِ زیبائش کیا دے سکے گا!کپڑے کی ہر وارئٹی لڑکوں کے جسموں کے ساتھ لگا کر دکھائی۔شائد خواتین آج گھر سے فارغ ہو کر آئی تھیں یا اُن کی طبیعت آج فقط دیکھا دیکھی کی تھی۔وہ ہر کپڑے پر ناک منہ چڑھا رہی تھیں۔
بالآخر سیٹھ امجد نے اُنہیں مجبور کر دیا کہ وہ کپڑے خرید لیں۔کپڑا، رنگ ،کڑھائی اور قیمت سب کچھ طے پا گیا تھا۔اُن میں سے ایک عورت بار بار کپڑے کا رنگ پکا ہونے کی گارنٹی مانگ رہی تھی۔سیٹھ امجد نے یہاں تک کہہ دیا ’’باجی۔۔۔ اگر رنگ فینٹ ہو جائے یا اتر جائے یا ذرا سا بھی مدھم پڑ جائے تو میں کپڑے کی قیمت تو ایک طرف ،سلائی کے ساتھ ساتھ آنے جانے کا کرایہ تک ادا کر دوں گا۔‘‘اس کے ساتھ ہی اُس نے کپڑے کا تھان مُودی کے سامنے پھینک دیا ۔’’لو بچو۔۔۔ذرا دیکھ بھال کر کپڑا اتار دے۔‘‘
مُودی نے مراد بھر آتی دیکھ کر اطمینان کی سانس بھری اور کچھ شوخا ہو گیا ۔اُس نے پہلے کپڑے کو تھپتھپایا اور پھر کپڑے کے اوپر لگا ہوا سٹیگر اُتار دیا ۔سٹیگر کا اترنا تھا کہ نیچے سے ایک بڑا سا دھبہ نکل آیا۔مُودی نے بڑی چابکدستی سے سٹیگر دوبارہ کپڑے پر چپکانے کی کوشش کی۔مگر اس دوران میں خواتین کی نظر دھبے پر پڑ چکی تھی۔وہ تیزی سے بولیں ۔’’دکھانا کاکا۔۔۔دکھانا تو۔۔۔!!‘‘
مُودی نے ایک نظر سیٹھ امجد کو دیکھا اور ناچاہتے ہوئے کپڑا عورتوں کے سامنے کر دیا ۔’’لو دیکھو بھائی تم تو بڑی گارنٹیاں دیتے تھے۔۔۔؟‘‘
’’نہیں ۔۔۔نہیں آپی ۔۔۔یہ تو کپڑے پر سٹیگر کی لئی لگی ہوئی ہے۔۔۔صمد نہیں ہوتا سٹیگر کے پیچھے ،یہ اُس کا نشان ہے۔۔۔آپ مطمئن رہیں۔‘‘
’’ بھائی خاک مطمئن رہیں ۔۔۔ہم اندھی ہیں کیا؟لو یہ دیکھو۔۔۔‘‘اُنھوں نے کپڑا پکڑ کر آگے کر دیا۔
اُن میں سے منجھلی خاصی چالاک تھی۔’’آؤ نی ۔۔۔چلیں ۔۔۔وقت پر ہی پتہ چل گیا ہے ،خدا نے ہاتھ دے کر رکھ لیا ہے۔‘‘اور وہ ایک لمحے میں اُن کو لے کر دُکان سے نیچے اتر گئی۔
ابھی خواتین چند قدم دور گئی ہوں گی۔سیٹھ امجد نے آؤ دیکھا نہ تاؤ ۔ایک الٹے ہاتھ کی مُودی کے گال پر جڑ دی۔’’منحوس ۔۔۔حرامی۔۔۔تیرے ہاتھوں کو چین نہیں ہے۔‘‘ اس کے ساتھ ہی اُس کے سیدھے ہاتھ کا طمانچہ مُودی کا دوسرا گال سُرخ کر گیا۔
’’جب سے آیا ہے دُکان سے برکت ہی اُٹھ گئی ہے۔کیسا نحس قدم ہے حرام زادہ ۔۔۔مندا ہی مندا ہے دن رات۔۔۔آدھا کام نہیں رہ گیا میرا، پلید کہیں کا۔۔۔ پتہ نہیں کس کا جنا ہوا ہے ۔۔۔؟میری دُکان میں باری نہیں آتی تھی گاہکوں کی ۔۔۔اور اب دیکھو۔۔۔کوئی آیا بھی ہے تو اس کے ہاتھ نہیں رک رہے۔اسی وقت ۔۔۔اسی وقت دفع ہو جا یہاں سے۔۔۔ اور آئندہ مجھے اپنی مکروہ شکل نہ دکھانا ۔۔۔‘‘
مُودی چپ چاپ دُکان کے تھڑے سے اُتر گیا ۔اُسے لگ رہا تھا کہ اگر وہ وہاں مزید رکا رہا تو سیٹھ امجد اُس کی اور دھنائی کر دے گا۔وہ بہت دل گرفتہ سا گھر پہنچا۔اُس کا جی رونے کو چاہ رہا تھا۔لیکن وہ کس کے کندھے کے ساتھ لگ کر روتا! گھر کی کونسی دیوار سے لپٹ کر گریہ زاری کرتا! گھر کے کون سے تکیے میں منہ دے کر دل کا بوجھ ہلکا کرتا !سبھی غیر تھے ،پرائے تھے ،اجنبی تھے ۔پھر وہ گھر کیوں آگیا ہے؟اُس نے خود سے سوال کیا ۔۔۔!اُس کے اندر سے کوئی باز گشت بھی سنائی نہیں دی۔وہ گھر کے دروازے سے پلٹنے کو ہی تھا کہ اُس پر حِنا کی نظر پڑ گئی۔
’’مُودی۔۔۔کہاں جا رہے ہو۔‘‘شاید حِنا کچھ بھانپ گئی تھی۔ اُس کے اندر بیٹھی بہن بے چین ہو گئی تھی۔
’’کک۔۔۔کہیں نہیں۔۔۔مم مجھے ایک کام۔۔۔‘‘بے ساختہ اُسے بہت سارونا آگیا۔
حِنا نے اُسے آگے بڑھ کر بازو سے پکڑ لیا۔’’کیا ہوا ۔۔۔؟چلو گھر چلو۔۔۔‘‘
’’کون سے گھر۔۔۔؟میرا تو کوئی گھر نہیں ہے۔۔۔میرا کوئی نہیں ہے۔‘‘وہ روتا چلا گیا۔
حِنا اُسے بازو سے پکڑ کر کمرے میں لے گئی۔’’تمہارا کیوں کوئی نہیں!کیا میں بھی نہیں؟‘‘
’’مجھے تو اِس طرح محسوس ہوتا ہے میں سب کا سوتیلا ہوں۔‘‘وہ بدستور رو رہا تھا۔
’’بیٹھو۔۔۔بیٹھو۔۔۔مجھے بتاؤ ہوا کیا ہے؟بیٹھو میں پہلے تمہارے لئے پانی لاتی ہوں۔بڑی فضول باتیں کررہے ہو۔’’ حِنا پانی لینے چلی گئی۔اُس کے واپس آنے تک وہ خود پر قابو پا چکا تھا۔پانی پیا تو وہ سنبھل گیا۔
’’ہاں اب بتاؤ۔۔۔کیا پھر نوکری سے نکال دیا گیا ہے۔۔۔یہی بات ہے ناں۔۔۔لیکن تمہیں کہتا کون ہے کہ نوکری کرو؟ تمہارے کون سے چھوٹے چھوٹے بچے رو رہے ہیں!اب خبردار کہیں نوکری کی تو ۔۔۔گھر میں کسی نے کوئی بات کی تو تم چپ رہنا ۔دیکھنا میں اُن کی کیا حالت کرتی ہوں۔میں تو کہتی ہوں تم پڑھو لکھو۔۔۔ٹھیک ہے ناں ۔۔۔چلو اب اچھے بچے بن کر مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے؟‘‘
’’اُس سیٹھ نے مجھے گالیاں دی ہیں۔۔۔مجھے منحوس کہا ہے!‘‘
’’دفع ،دور ۔۔۔آئندہ اُس دُکان پر نہ جانا۔۔۔تم بس اب پڑھو ۔۔۔نہیں پڑھنا تو نہ پڑھو۔۔۔بڑے ہو کراپنا کاروبار کر لینا۔‘‘
چنانچہ مُودی نے اب کی بار فیصلہ کر لیا تھا کہ اُسے ملازمت نہیں کرنا۔وہ پہلے کون سا گھر والوں کی نظر میں اچھا تھا، جو اب بے کار رہ کر اُس کی عزت میں کمی آ جانا تھی۔اب وہ سارا سارا دن آوارہ گردی کرتا۔اُس کے پاس کچھ پیسے تھے جو رفتہ رفتہ خرچ ہو گئے۔وہ عجیب طبیعت کا مالک تھا۔ اُسے گوارا نہیں تھا کہ باپ ،بھائی یا ماں کے سامنے دستِ سوال دراز کرے۔وہ حِنا سے بھی پیسے نہیں لینا چاہتا تھا۔مگر حِنا کو اُس کی باغیانہ طبیعت اور اڑیل مزاج کا علم تھا۔ایک دن حِنا نے خود ہی ہزار روپیہ اُس کی جیب میں ڈال دیا۔
’’میں نے کیا کرنے ہیں پیسے۔۔۔؟‘‘وہ جیب سے روپے نکالتے ہوئے بولا۔
’’کیا تمہیں کبھی کسی چیز کے کھانے کی خواہش نہیں ہوئی!‘‘حِنا نے اپنائیت سے کہا
’’نہیں ۔۔۔تو‘‘
’’بہن سے بکواس نہ کرو۔۔۔‘‘
’’دیکھو ۔۔۔پھر یہ ادھار ہو گا۔‘‘مُودی نے حجت کی ۔
’’اچھا سیٹھ صاحب ۔۔۔جب تم کمانے لگو گے تو میں ایک ہزار تھوڑے واپس لوں گی؟‘‘حِنا نے لاڈ سے کہا۔
اُن ہزار روپوں کی وقعت ہی کیا تھی۔ چند دن میں ختم ہو گئے۔تاہم اب اُس نے فیصلہ کیا تھا کہ حِنا سے بھی کچھ نہ لے گا۔لیکن حِنا نے پھر اُس کی جیب میں ہزار روپیہ ڈال دیا۔مُودی کو اپنا آپ بہت چھوٹا محسوس ہوا۔یہی وجہ ہے کہ جب اُس روز مُودی کو نوکری کی پیشکش ہوئی تو وہ انکار نہیں کر سکا۔وہ نوکری اُسے اتفاق سے ہی مل گئی تھی۔وہ احمقوں کی طرح انار کلی میں گھوم رہا تھا۔ایک سی ڈیز کی دُکان پر اُس کی پسندیدہ کلاسیکی موسیقی کی دُھن لگی ہوئی تھی۔بلا ارادہ دُکان کے سامنے پہنچ کر اُس کے قدم رُک گئے۔وہ دُھن سننے کے ساتھ ساتھ سر ہلانے لگا۔یکدم کسی نے اُس کا نام لے کر آواز دی۔اپنا نام محمود سُن کر اُسے یقین ہی نہیں آیا کہ کوئی اُسے بُلا رہا ہے۔مگر جب ایک بچے نے اُس کی قمیص کا دامن پکڑ کر متوجہ کیا اور بتلایا کہ سامنے دُکان پر کوئی اُسے پکار رہا ہے تو وہ ایک استعجاب سے سامنے دیکھنے لگا۔وہاں نسیم کھڑا تھا۔ نسیم نے اُسے ہاتھ سے اشارہ کیا اور پھر اُس کا نام لے کر پکارا۔مُودی کو اپنا نام محمود سن کر اچنبھا ساہوا ۔بہر حا ل وہ دُکان پر چلا گیا۔یہی نسیم اُس کے ساتھ بدر کلاتھ ہاؤس پر کام کر چکا تھا۔
’’آج کدھر سیٹھ۔۔۔؟‘‘نسیم نے اُسے مذاق کیا۔
’’سیٹھ کی ماں کا۔۔۔‘‘مُودی سیٹھ کو گالی دیتے دیتے رہ گیا۔’’سیٹھ بڑا حرامی تھا بہن کا۔۔۔کیا تم نے بھی بدر کلاتھ کو چھوڑ دیا ؟‘‘
’’ہاں۔۔۔میں نے سوچا ،جہاں تمہاری عزت نہیں ہو ئی کل کلاں کو ہماری باری بھی آ سکتی ہے۔‘‘
’’چل بکواسی۔۔۔مجھے بنا رہا ہے۔تمہیں جواب ہوا ہو گا۔‘‘مُودی نے کہا۔
’’نہیں یار ۔۔۔ قسم سے میں اور احمد دونوں نے وہی مہینہ پورا کیا ۔سناؤ ۔۔۔تم آج کل کیا کر رہے ہو؟‘‘
’’کچھ بھی نہیں۔۔۔میں اب کوئی اپنا کام ہی کرو ں گا۔۔۔اور تم ؟‘‘
’’ میں اسی بوتیک کی دُکان پر ہوتا ہوں۔‘‘اُس نے اپنے عقب میں اشارہ کیا۔’’یار اگر کہو تو میں اس بوتیک کی دُکان کے مالک ملک احسان سے بات کروں ابھی ۔۔۔قسم سے بڑا اچھا آدمی ہے ۔لو دیکھو میں تمہارے پاس کھڑا باتیں کر رہا ہوں۔مجال ہے جو زیادہ بات کرے ۔۔۔‘‘نسیم نے تعریف کی۔
’’مگر مجھے اس دُکان پر کام کرنے کا تجربہ نہیں ۔۔۔؟‘‘
’’یا ر سلے سلائے کپڑے ہیں ۔۔۔بس لیڈیز سے ہنس ہنس کر باتیں کرنا ہوتی ہیں۔کپڑوں کے ریٹ اوپر لگے ہوئے ہیں۔‘‘نسیم نے اُس کی ہمت بندھائی۔’’ ایک راز کی بات بتاؤں اس وقت دُکان پر ایک لڑکے کی ضرورت بھی ہے ۔ مجھے ملک احسان خود کہہ چکا ہے کہ کوئی سیل مین ڈھونڈ دو۔۔۔بڑا آسان کام ہے۔ میں تمہیں ایک دن میں ٹرینڈ کر دوں گا۔‘‘نسیم نے سرگوشی میں کہا اور اُس کا ہاتھ پکڑ کر دُکان میں لے گیا۔
ملک احسان بھاری بھرکم تن وتوش کا مالک تھا۔اُس نے سفید کلف لگے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔اُس نے مُودی کو سر سے پاؤں تک غور سے دیکھا جیسے اُس کی قیمت لگانا چاہتا ہو۔’’کوئی ضمانت ہے تمہارے پاس ۔۔۔؟‘‘
’’جی میری یہاں کوئی واقفیت نہیں سوائے نسیم کے۔۔۔ہم اکٹھے کام کرتے رہے ہیں۔‘‘ مُودی نے اپنے سفارشی نسیم کی طرف دیکھا۔
’’واقفیت سے کام نہیں چلے گا۔۔۔یہ خود یہاں ملازم ہے ۔اپنے باپ یا بھائی کو ساتھ لا سکو تو صبح آ جانا۔۔۔ذرا اعتبار کا معاملہ ہوتا ہے ۔‘‘
’’بڑی مشکل ہے ۔۔۔میں بات کروں گا اُن سے ۔۔۔مگر مجھے اُمید نہیں ہے۔‘‘ اُس نے صاف گوئی سے کام لیا۔
’’دیکھو وہ نہیں آئیں گے تو میرے لئے مشکل ہو گی۔۔۔ صبح اُن کے سامنے ہی تنخواہ کی بات بھی ہو جائے گی۔‘‘
ابھی مُودی دُکان سے تھوڑی دورپہنچا ہو گا کہ نسیم بھاگتا ہوا آیااور چڑھی ہوئی سانسوں کے درمیان میں بولا۔’’یار میں کب سے تمہیں آوازیں دے رہا ہوں مگر تم ہو کہ سنتے ہی نہیں۔ادھر آؤ تمہیں ملک صاحب بلا رہے ہیں۔‘‘
ملک احسان نے مُودی کو جس نوکری کی پیش کش کی۔ اُس کے لئے کسی ضمانت کی ضرورت نہیں تھی۔وہ نوکری اُس کی افتاد طبع کے عین مطابق تھی۔اُسے کسی غلط جگہ پر سچ بولنے کا ڈر تھا اور نہ ہی اُس کی فطری صلا حیتوں کے اظہار پر کوئی قدغن تھی۔ یہاں سے اُسے مار کر نکالے جانے کا بھی ڈر نہیں تھا۔اُس کی تَن خواہ بھی آٹھ ہزار روپے تھی۔تَن خواہ کے علاوہ کچھ اوپر سے بھی آمدنی کا موقع میسر آ سکتا تھا۔اُس کا کام دوپہر دو بجے شروع ہوتا تھا اور رات گیارہ بجے ختم ہوتا تھا۔اس دوران میں دو گھنٹے کا وقفہ بھی تھا۔بلکہ ملک احسان نے کہا تھا کہ گھنٹہ، آدھا گھنٹہ دیر ہو جانے کی رعایت بھی مل سکتی تھی۔علاوہ ازیں روزانہ دو کپ چائے بھی تھی۔اگرچہ کام اُسے پسند تھا،مگر گھر والوں کو اْس کا مذاق اُڑانے کا بہانہ ہاتھ آ سکتا تھا۔اس لئے اُس نے فیصلہ کیا کہ وہ گھر والوں کو اپنے کام کے بارے میں بتائے گا ہی نہیں۔یوں بھی اُنھیں مُودی کے کسی کام سے دلچسپی کیا ہو سکتی تھی؟ہاں اگر حِنا نے پوچھا تو وہ کوئی مناسب بہانہ کر دے گا۔ دوبجے جب انار کلی بازار میں رش شروع ہوتا تھا ،اُسے صرف مکی ماؤس کا ماسک پہن کر اپنی حرکات سے گاہکوں کو متوجہ کرنا تھا۔دُکان میں کیونکہ بچوں کی وارئٹی زیادہ تھی،اس لئے ملک احسان نے یہ راستہ بچوں کو خوش کرنے کے لئے ہی نکالا تھا۔
پہلے دن جب مُودی مکی ماؤس کا ماسک پہن کر کھڑا ہوا تو بہت جھجک رہا تھا ۔لیکن جب اُسے یہ احساس ہوا کہ وہ تو سب دیکھ سکتا ہے ،مگر اُسے کوئی نہ دیکھ سکتا ہے اور نہ پہچان سکتا ہے تو اُس کا اعتماد دو چند ہو گیا۔ماسک میں چہرے اور جسم کو ہوا لگنے کا بندوبست تھا۔ اُس کے لباس میں ایک موٹر لگی ہوئی تھی،جو مسلسل لباس میں ہوا بھرتی رہتی تھی۔ایک تو اس سے اُس کا لباس پھول جاتاتھااور وہ بہت موٹا لگتا تھا اوربچوں کے لئے اس کی وضع قطع بہت دلکش اور جازب ہو جاتی تھی اوربچے اُس کی طرف کھینچے چلے آتے تھے۔ دوئم اُس کے جسم کو باقاعدہ ہوا لگتی رہتی تھی،ورنہ موسمِ بہار ہونے کے باوجود اُس کے بُھرتا ہونے کا پورا پورا اہتمام تھا۔
مکی ماؤس کی وضع قطع میں اُس کے ہاتھوں اور پیروں کی حرکات نہایت ہی مناسب تھیں۔ لگتا تھا وہ جیسے اسی کام کے لئے ہی بنا ہے ۔ جیسے اُس نے اس کام کی کہیں سے تربیت حاصل کی ہے۔وہ تھرکنے لگتا تو اُس کا رقص دیکھنے کے لائق ہوتا ۔ایک موٹا سا بھالو کولہے مٹکاتے ہوئے ہر ایک کو ہنسنے پر مجبور کر دیتا۔
وہ بچوں کے علاوہ خواتین کا بھی پسندیدہ کردار تھا۔ہتھیلی پھیلا کر ہوائی پیار پھینکنا اُس کی خاص ادا تھی۔ ایک بار اُس نے سرکس دیکھی تھی جس میں ایک جوکر خاص طور پر یہ ہوائی پیار ایک انداز سے پھینکتا تھا۔اُس کو دیکھ کر لوگ بہت محظوظ ہوتے تھے۔اُسے یہ کرتب اپنی تمام تر جزئیات کے ساتھ یاد رہ گیا تھا، جو آج اس کے کام آرہا تھا۔اس کے پیار کے جواب میں بچے بھی ویسے ہی اُس کے لئے پیار کا اظہار کرتے جبکہ لڑکیاں اور عورتیں شرما جاتیں۔دودھ کا جلا ،چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے کے مصداق، مُودی نے ملک احسان سے اس کام کی خصوصی اجازت لی تھی کہ کہیں کوئی لڑکی بُرا ہی نہ مان جائے۔ملک احسان نے اُسے اس ایکٹ کی نہ صرف اجازت دی تھی بلکہ اُس کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا تھا ۔’’کسی کی ماں کا سر۔۔۔!کوئی اعتراص کرے گا تو وہ اُس سے خود ہی نمٹ لے گا۔‘‘
ملک احسان نے ایسے ہی مُودی کی طرف داری نہیں کی تھی۔وجہ یہ تھی کہ لڑکیاں شرمانے لجانے کے باوجود ایک بار مُودی کو قریب سے آکر لازماً دیکھتی تھیں۔اس کے ساتھ ساتھ وہ دُکان میں بھی جھانک لیتی تھیں،جہاں اُن کے لباس خاص سلیقے سے ٹنکے ہوتے تھے۔ ملک احسان اور دُکان کے دوسرے ملازمین مُودی کی بے ساختہ حرکتوں کو دیکھ کر ہنسے بِنا نہیں رہ سکتے تھے تو دیگر گاہک کیو نکہ مکی ماؤس کو نظر انداز کر سکتے تھے۔
مکی ماؤس کے حلیے میں مُودی بہت لطف اندوز ہو رہا تھا۔اُس کے بالکل سامنے کیسٹوں کی دُکان تھی۔کیسٹ بیچنے والے کو مُودی کی پسند کا علم تھااور وہ اکثر اونچی آواز میں مُودی کے پسندیدہ گانے لگا دیتا تھا۔اْس لمحے مُودی کا موڈ بن جاتا اور وہ گانے پرباقاعدہ اداکاری کرنا شروع کر دیتا۔اردگرد کے دُکان دار اپنا کام چھوڑ کر مُودی کی طرف متوجہ ہو جاتے۔اُن کو مُودی بلا معاوضہ تفریح مہیا کرنے لگتا ۔کئی ایک ہمسایے دُکان دار اُسے بوتلیں اور شربت بھی بھیج دیتے تھے۔اس کے علاوہ بچے اپنی ماؤں اور بہنوں سے سکے لے کر مُودی کو دیتے اور آئس کریم کے ساتھ گولیاں اور ٹافیاں بھی مُودی کی طرف بڑھا دیتے۔مُودی سکے اور دیگر اشاء لے لیتا ۔اس کی اجازت بھی اُس نے ملک احسان سے لے رکھی تھی۔ایک بار تو حد ہو گئی جب ایک ادھڑ عمرعورت نے اُسے پچاس روپے دے دیئے ۔ عورت نے اُس کے کان میں فرمائش کی کہ وہ اُس کے لئے دعا کرے۔مُودی نے ہنس کر فقیرانہ انداز میں سچ مچ اُس کے لئے دعا کر دی۔’’جا بہن ۔۔۔اللہ تیرے من کی مراد پوری کرے۔‘‘
پھر کمال ہو گیا۔چند دن بعد وہی عورت دوبارہ مُودی کے پاس آئی۔اُس نے پانچ سو روپیہ اُس کے قدموں میں رکھ دیا۔پھر یکدم اُسے گلے لگا کر رونے لگی۔مُودی کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔وہ اس طرح کی صورتحال کے لئے ہر گز تیار نہ تھا۔وہ پوچھتا ہی رہ گیا ۔’’ماں جی ۔۔۔بہن جی ۔۔۔کیا ہوا ۔۔۔؟مجھے کچھ بتایئے تو۔۔۔اے ماں جی ۔۔۔ میں تو کچھ بھی نہیں۔۔۔آپ یہ کیوں کر رہی ہیں؟‘‘
’’نن۔۔۔نہیں شاہ جی ۔۔۔آپ میرا سب کچھ ہیں۔۔۔آپ بھلے کسی پر ظاہر نہ ہوں۔۔۔مجھ پر تو آپ کابھید کھل چکا ۔۔۔مم۔۔۔مجھے۔۔۔مجھے سب۔۔۔‘‘ وہ مسلسل روئے جا رہی تھی۔اُس کے منہ سے الفاظ نہیں نکل رہے تھے۔اس موقعہ پر لوگ جمع ہو گئے۔ارد گرد کے دُکان دار اور راہ چلتے گاہک تماشا دیکھنے رک گئے تھے۔ملک احسان اپنے کاؤنٹر سے اُٹھ کر باہر آگیا اور عورت کو پکڑ کر دُکان میں لے گیا۔کچھ دیر کے لئے مُودی بھی اپنا آپ بھول گیا۔عورت کوئی آدھ گھنٹہ دُکان میں رہی اور جاتے ہوئے مُودی کے پاؤں کو چھو کر چلی گئی۔وہ پانچ سو روپیہ بھی ملک احسان کو دے گئی کہ مُودی کو دے دے۔ رات کو ملک احسان نے مُودی کو بتایا کہ یہ بیچاری بیوہ تھی اور چار بیٹیوں کی ماں تھی۔اس کی بیٹیوں کے رشتے کہیں بھی نہیں ہو رہے تھے۔جب سے اُس نے دعا کی ہے ،دو کے رشتے بڑی اچھی جگہ ہو گئے ہیں۔وہ بیچاری یہ ماننے کے لئے تیار نہیں وہ کوئی عام آدمی ہے۔وہ مُودی کو مذاق کرنے لگا کہ واقعی جب سے وہ آیا ہے ،اُس کے بھی بھاگ جاگ اُٹھے ہیں۔
مُودی گھر آکر حِنا سے اس واقعہ کا تذکرہ کرنا چاہتا تھا مگر نہ کر سکا ۔اُس نے حِنا کو یہ نہیں بتایا تھا کہ وہ مکی ماؤس کا کام کرتا ہے۔لیکن اُس کے لئے یہ بات باعث حیرت تھی۔اُس نے سن تو رکھا تھا کہ دعا کا بھی ایک وقت ہوتا ہے ۔مگر اُس کے منہ سے نکلی ہوئی دعا کی کیا اہمیت تھی؟وہ کیا تھا! اُس کی حیثیت کیا تھی؟کوئی ایک ماہ بعد وہی عورت دوبارہ آ گئی۔ مُودی اُسے دیکھ کر ڈر گیا کہ کہیں اُس کی بیٹیوں کے رشتے تو نہیں ٹوٹ گئے!اگر ایسا ہوا ہے تو اُس کی خیر نہیں ہے ۔وہ کوئی مناسب الفاظ ڈھونڈ رہا تھا کہ دفعتاً عورت قریب ہوئی اور سو روپے کا نوٹ مُودی کی طرف بڑھا کر بولی۔’’شاہ جی ۔۔۔اس بیچاری کے لئے بھی دعا کریں۔۔۔‘‘اُس نے ساتھ آنے والی عورت کی طرف اشارہ کیا۔
’’مگر میں جی ۔۔۔ماں جی۔۔۔آپ کو کوئی غلط فہمی ہو رہی ہے۔‘‘مُودی بدبدا کر رہ گیا۔
عورت اپنے ساتھ آنے والی سے راز دارانہ لہجے میں بولی ۔’’ میں نہ کہتی تھی۔۔۔شاہ جی ظاہر نہیں ہوتے ۔۔۔‘‘
ایک لمحے کے لئے مُودی کے ذہن میں آیا۔ وہ اپنا ماسک اتار پھینکے۔ اُس کو اپنی شکل دکھا ئے۔ یہ میں ہوں، جس کے گھر والے اُسے سب سے نکما سمجھتے ہیں۔وہ اُسے خردماغ،گاؤدی ،احمق اور نامعلوم کیا کیا کہتے ہیں۔ کوئی اُسے منحوس کہتا ہے ،کوئی سبز قدم ۔۔۔سیٹھ امجد اُسے مکروہ کہتا ہے۔ مگر وہ اپنا تماشا نہیں لگانا چاہتا تھا۔اُس نے خاموشی سے سو روپیہ پکڑ لیا اور خدا سے دعا کی ’’یااللہ ۔۔۔اس کی مشکل آسان کر دے۔‘‘وہ دونوں چلی گئیں۔رات کوملک احسان مُودی سے مذاق کرنے لگا کہ اس کام میں اُس کا حصہ بھی رکھے۔مُودی نے ملک احسان سے واضح طور پر کہا کہ کہ کوئی مسئلہ کھڑا نہ ہو جائے۔
ملک احسان ایک جہاں دیدہ انسان تھا ،کہنے لگا۔’’کیا مسئلہ کھڑا ہو جائے گا۔دیکھو اب کو ئی آئے تو پیسے نہ لینا ،بس دعا کر دینا۔۔۔ اگر تم کسی کے دل میں کوئی اُمید جگا دیتے ہو ۔۔۔کسی کو تسلی ہو جاتی تمہاری وجہ سے تو ۔۔۔اس سے بڑی نیکی کون سی ہو گی؟‘‘
****
رمضان شریف کا مہینہ آ گیا تھا۔گاہک عموماً رات کو آنے لگے تھے ۔رمضان میں مُودی کے اوقات کار بھی بدل گئے تھے۔وہ افطاری کے بعد ہی اپنا ماسک پہنتا۔لوگ شام ڈھلے بال بچوں کے ساتھ گھر سے نکلتے ۔کچھ خریداری کے لئے ، کچھ رونق میلہ اور چہل قدمی کے لئے ۔مُودی اپنے کام میں خاصا ماہر ہو گیا تھا۔شریر لڑکے لڑکیوں کا جم گھٹا اُس گردا گرد کھڑا رہتا۔اُس کے پاس اب پیسے بھی جمع ہو گئے تھے۔انسانی فطرت کے مطابق اُس نے اِن کا مصرف بھی تلاش کرنا شروع کر دیا تھا۔ وہ اِن روپوں کو کہاں خرچ کرتا ؟ اُسے وہ دن اچھی طرح یاد تھا جب تن خواہ ملنے پر وہ گھر میں پھل لے گیا تھا ،گھر والوں نے اُس کی بلا جواز ہتک کی تھی۔اُس نے حِنا کا ادھار چُکانا تھا۔ وہ حِنا کو پیسے واپس کرتا تو وہ ہرگز نہ لیتی۔
عید آ رہی تھی۔اُس نے سوچا کہ کیوں نہ وہ حِنا کے لئے کچھ تحائف خرید لے۔اُسے حِنا کی خوشنودی بہت عزیز تھی۔ایک وہی تو تھی جو ہر موقع پر مُودی کی ہمت بندھاتی تھی ۔اُس نے اپنے ارد گرد چیزیں دیکھنا شروع کر دیں۔کلپ،بالیاں،چوڑیاں،کوکے،لاکٹ،سنہری زنجیریاں،انگشتریاں۔۔۔اور ناجانے کیا کیا۔
اُس نے تصور میں یہ چیزیں حِنا کو دیں۔حِنا کی خوشی دیکھ کر اُس کا دل آسودہ ہوا مگر ایک خلش سی باقی رہ گئی۔کوئی خانہ سا دل میں خالی رہ گیا۔دل کا کوئی کونا سُونا پڑا تھا۔اُسے محسوس ہوتا تھا کہ کوئی اور وجود بھی ہے جو اُس کی خوشیوں اور غمیوں میں حصہ دار ہے ۔جس کی دل جوئی اُسے حِنا سے سوا ہے۔جس کی مشکورانہ نظر اُس کی محنتوں کا ثمر ہو سکتی ہے۔
اکیلی حِنا نہیں۔۔۔!!عذرا۔۔۔ہاں عذرا بھی تو ہے ۔خود نہ سہی حِنا کے ہاتھ ہی سہی۔آخر ایک دن اُسے یہ جرأت کرنا ہی تھی ۔ حِنا سے اُس کی کھل کر کبھی بات نہ ہوئی تھی۔لیکن ایک نہ ایک دن اُسے حِنا سے بات کرنا تو تھی ۔وہ دن اِس عید کا دن کیوں نہیں ہو سکتا تھا؟مگر عذرا کی دلداری مُودی کی کب سے منزل ہو گئی تھی ؟نجانے کس گھڑی عذرا کا وجود معتبر ہو گیا تھا؟اُسے معلوم ہی نہ ہو ا کہ کب عذرا نے اُس کے دل میں کوئی مقام حاصل کر لیا ہے۔آج تک براہ راست اُس نے کبھی عذرا سے کوئی بات نہ کی تھی۔ کوئی اشارہ ۔۔۔نہ کوئی کنایہ۔پھر دفعتاً اُس نے یہ فیصلہ کس طرح کر لیا تھا؟
خردماغ مُودی پر وضع داری اور انا پرستی کا بھوت سوار تھا۔خود ساختہ عزت کو بٹہ لگنے کا خوف۔۔۔وہ ایسا آدمی تھا جو خود بخود انا کے خول میں بند ہو جاتا ہے۔اُسے تو یہ ایک پہاڑ معلوم ہوتا تھا۔وہ کس طرح کہہ دے گا، یہ تحفے اُس کے ہیں اور یہ تحفے اُس کی سہیلی عذرا کے ہیں۔اُس کے لئے یہ پہلا تجربہ ہی سہی ۔۔۔مگر اتنا مشکل مرحلہ تھا یہ۔۔۔وہ سوچتے سوچتے بہت دور نکل آتا اور پھر یکدم واپس اُسی جگہ پر پلٹ آتا۔اگر گھر والوں کو پتہ چل گیا تو وہ کتنی شرمندگی سے اُن کا سامنا کرے گا۔وہ تو پہلے ہی اُس کی تذلیل کا کوئی لمحہ جانے نہیں دیتے۔وہ چڑھتے چڑھتے دھم سے کسی بلندی سے نیچے آرہتا۔نو جوانی کے جذبے منہ زور سہی لیکن عقل کے وسوسے جان گسل تھے۔ گاؤدی کو اتنا بھی علم نہیں تھا کہ عشق کا مرحلہ دانائی کے بعد آتا ہے۔جہاں عقل کی سرحدیں ختم ہوتی ہیں،وہاں سے رسوائی کی منہ زوری شروع ہوتی ہے۔
عید آنے میں ابھی بہت دن تھے۔اس دوران میں مُودی کے تخیل نے اُسے بہت خواب دکھائے۔اُس نے بہت سے محفوظ راستے کھوجے۔۔۔’’وہ اپنے خریدے ہوئے تحائف کے جوڑے حِنا کے سامنے رکھ دے گا۔حِنا اُس سے ضرور پوچھے گی کہ ایک تو اُس کے لئے ہے مگر دوسری اُس جیسی اشیاء کس کے لئے ہیں؟ وہ ہلکے سے تبسم کے ساتھ اُلٹا اُس سے سال کر دے گا ۔یہ بھلاکس کے لئے ہو سکتی ہیں۔۔۔؟حِنا کس کا نام لے گی!ممکن ہے پہلے ہی لمحے وہ عذرا کا نام لے یا کتنے ہی ناموں کے بعد بھی عذرا تک نہ پہنچ سکے۔اُس وقت وہ خود ہی راز افشا کر دے گا کہ وہ لڑکی نہیں ہے تمہاری سہیلی ۔۔۔غیر جذباتی سے چہرے والی۔۔۔بیوقوف سی۔۔۔پاگل سی ۔۔۔لانبی سی گردن والی۔۔۔!
’’اچھا۔۔۔!‘‘حِنا تحیر سے اپنی پوری آنکھیں کھول دے گی۔
جس دن دُکان پر نئی وارئٹی کے بہت سے تھری پیس سوٹ آئے تھے،مُودی نے منصوبہ مکمل کر لیا تھا۔نئے کپڑوں میں ایک لباس جس کی قمیص سُرخ رنگ کی زرق برق پھولوں والی تھی اورجو اندھیرے میں بھی لش پش نظر آتی تھی اورجس کے گریبان پر گوٹا کناری لگے ستارے چمکتے تھے اور جس کے کالر جدید ڈئزین کے کنٹراس کپڑے سے بنے تھے اور جس کی پیمائش ملکاؤں کی پشواز جیسی اور فراک چونٹ دار تھی اور جس کی بُنتر میں کمر کے مقام پر سنہرا کمر بند بُناہوا تھااور نظر کو خیرہ کرنے کے باوجود جس کو پہننے والے کے جسمانی خط وخال تلاش کرنے پڑتے تھے اور کھلی مُوری کا پاجامہ چھوٹی سفید دھاری دار کپڑے سے بنا تھا اور جس کی مُوری کا اختتام چاک دار تھا۔۔۔! قیمتی ہونے کے باوجود مُودی کو لباس بہت پسند آیا تھا۔اِن سوٹوں کے علاوہ اُس نے دیگر چیزیں خرید لی تھیں اور فیصلہ کیا تھا کہ یہ لباس وہ چاند رات کو جاتے ہوئے خریدے گا۔اُس نے احتیاطاً سیل مین سے کہہ دیا تھا اُس کے لئے یہ دو سوٹ محفوظ رکھ چھوڑے ۔
چاند رات اُسے دیر سے چھٹی ہونا تھی کیونکہ اُس رات خریداری جوبن پر ہوتی۔لیکن مُودی کو اس کی فکر نہیں تھی۔اُس کی رہائش اس علاقے میں تھی جہاں چاند رات فجر تک لڑکیاں بالیاں ،سکھیاں سہیلیاں،کڑیاں چڑیاں جاگتی تھیں ۔ایک دوسری کے گھر مہندی لگوانے جاتی تھی اور دوسری اُس کی ہم راہی میں تیسری کے گھر جاتی تھی اور تیسری سب کو ساتھ لے کر خالہ کبریٰ کے گھر ڈیرہ ڈالے جابیٹھتی تھی۔جہاں شب بھرایک سرے سے دوسرے سرے تک مہندی کی خوشبوتیرتی تھی اور چہار سو ہنسی ٹھٹھول۔۔۔کھسرپھسر۔۔۔سرگوشیاں۔۔۔تالیاں۔۔۔ٹھٹھے قہقہے۔۔۔گھرکیاں جڑکیاں۔۔۔ معافیاں تلافیاں۔۔۔ ناراضیاں فیاضیاں۔۔۔ماننامنانا۔۔۔شوخیاں طراریاں۔۔۔بھاگم دوڑ۔۔۔قدموں کی دبڑ دبڑ۔۔۔!صبح پو پھٹے تک یہی عالم طاری رہتا تھا۔سویرے سویرے لڑکے بالے اور والدین عید پڑھنے چلے جاتے اور رَت جگے کی ماری نوخیز لڑکیاں سولہ سنگھار کئے زرق برق بھڑکیلے لباس پہنے ایک دوسرے کے گھروں میں میٹھے پکوانوں کے تبادلے شروع کر دیتیں۔
عید کے دن جب عذرا مُودی کی دی ہوئی پوشاک زیب تن کئے ہو گی اور سامنے سے گزرتے ہوئے اُس کے قدم گھڑی بھر کو ٹھٹھک جائیں گے۔۔۔اور ٹھیرے پانیوں کی جھیل میں کوئی تاطم برپا ہو گا اور صبیح گالوں پر کھالی کی گھمن گھیری کچھ زیادہ ہی لرزتی ہوگی اور نچلے ہونٹ کی مانگ کپکپاتی ہو گی اور پیشانی کی سرحدوں والے سنہری بال پسینے سے ماتھے پر چپکتے ہونگے اور لانبی گردن پر تین ریکھائیں گہری سانس لیتی ہونگی اور گردن کی جڑ کے پاس ہنسلی کی ہڈیاں باہم مل کر گڑھا بناتی ہونگی اور وہاں ٹنکا ہوا مکھی کی شکل کا لاکٹ تلائی زنجیری میں پرویاہوا دل کی دھڑکن کے ساتھ کانپتا ہوگا اور ٹھوڑی کا گڑھا تحلیل ہو کر کئی ننھے منے بھنوروں میں تبدیل ہو چکا ہو گا ۔۔۔اِن سب نظاروں اور مظاہروں کے مقابلے میں اُس نے پیسے کمانے میں جو تگ ودو کی ہے وہ کیا وقعت رکھتی تھی؟
مُودی اِنہی خیالوں کی دنیا میں گم رہتا اور اپنا کام کچھ زیادہ ہی جانفشانی سے کرتا ۔اُس کی حرکات دیکھنے والوں کو مسحور کر دیتیں۔مُودی کو جب یہ احساس ہوتا کہ وہ یہ محنت ایک ہستی کے لئے کر رہا ہے جو اُسے بہت عزیز ہے تو اُسے بہت لطف آتا ۔رقص کرتے کرتے اُس کی ٹانگیں تھک جاتیں مگر اس تھکاوٹ میں پہلے کبھی ایسا سرُور نہ تھا۔
چاند رات مُودی کا یہ لطف دوبالا ہو اجاتا تھا۔جیسے تھوڑی دیر میں اُس کی ریاضت ثمر بار ہونے جا رہی تھی۔اُس رات کوئی گیارہ بجے کے قریب جب وہ تھکن سے چُور گرد وپیش سے بیگانہ، دیوانہ وار رقص کر رہا تھا کہ اُسے حِنا اور عذرا دور سے آتی ہوئی دکھائی دیں۔ رقص کرتے کرتے اُس کے پاؤں معاً ٹھٹھک گئے ۔اضطراری انداز میں متحرک اُس کے ہاتھ رک گئے ۔لاشعوی طور پر اُسے لگا جیسے وہ کوئی چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا ہے ۔مگر پھر شعور نے اُسے اپنی تحویل میں لے لیا۔وہ بھلا بدلے ہوئے سوانگ میں اُسے کیسے پہچان سکتی تھیں؟ وہ دونوں شرمائی لجائی ہوئیں اُس کے قریب آئیں اور طائرانہ نظر ڈال کر دُکان میں چلی گئیں۔
چند لمحے بعد نکلتے ہوئے قد اور دلکش نقوش والے دو نوجوان مخالف سمت سے آئے اور بھی دُکان کے اندر چلے گئے۔بظاہر وہ حِنا اور عذرا سے علیٰحدہ اور مخالف راستوں سے آئے تھے مگر مُودی کو سمجھنے میں دیر نہ لگی۔ وہ چاروں اکٹھے ہیں اور یہ سب احتیاطی پیش بندی ہے ۔ مُودی کو اس وقت ہوش آیا جب اُس کے گرد کھڑے بچوں نے اُسے ٹہوکے دینے شروع کر دیئے ۔ لاشعوی طور پر اُس کے تھرکتے ہوئے قدم اور حرکت کرتے ہوئے ہاتھ، جہاں تھے وہیں ساکن ہو گئے تھے۔تماش بینوں کے ٹہوکے دینے سے اُس کے منجمد اعضاء پھر متحرک ہو گئے۔تاہم اُس کی نگاہیں بار بار دُکان کے اندر مرکوز ہوجاتی تھیں۔ نوجوانوں نے مُودی کے وہی پسندیدہ سوٹ خریدے اورعذرا اور حِنا کو تھما دیئے۔دونوں چھوئی موئی بنی جاتی تھیں ۔لیکن اُنھوں نے کپڑے لے لئے اور لجاتی ہوئیں دُکان سے باہرچل دیں۔
مُودی کے رقص کرتے ہوئے قدم پھر جامد ہو گئے تھے۔باہر آ کر عذرا نے ایک نظر مُودی کو دیکھا اور حِنا سے سرگوشی کرتے ہوئے پچاس روپے کا نوٹ مُودی کو پکڑا دیا ۔مُودی نے دیکھا کہ اُس کی ٹھیرے پانیوں والی آنکھوں کی جھیل میں کوئی بہت سے کنکر پھینک کر تلاطم خیز کر گیا ہے اور سپیدگالوں کی گھمن گھیریوں میں کپکپاہٹیں اتر آئی ہیں اور لانبی گردن کی تین ریکھائیں گہری ہو تی جاتی ہیں اور۔۔۔اور۔۔۔ وہ بُت بنا کھڑا تھا ۔اُس نے پچاس کا نوٹ مٹھی میں بھینچ لیا ۔وہ دونوں تھوڑی دور گئی تھیں کہ یکدم مودی کے ساکت اعضاء متحرک ہو گئے۔
اُس لمحے نجانے کیوں اُس کے رقص میں اتنی تیزی آ گئی تھی۔۔۔!!وہ ناچتا رہا ۔۔۔ناچتا رہا ۔۔۔دیوانہ وار اور تیز تر۔۔۔ بے خود ہو کر ۔۔۔اور پھر اتنا تیز کہ اُس کا دَم اُکھڑ گیا ۔۔۔اور وہ ناچتے ناچتے گر پڑا ۔۔۔ارد گرد کھڑے تماشائیوں نے تالیاں بجا بجا کر آسمان سر پر اُٹھا لیا۔۔۔یہ اُس کی اداکاری کی انتہاء تھی۔
وہ کافی دیر تک نہیں اُٹھا ۔۔۔ملک احسان نے دُکان کا کا ؤنٹر چھوڑ دیا اور باہر آکراُس نے مُودی کا ماسک اتاردیا ۔۔۔مُودی کا چہرہ پسینے سے دُھلا پڑا تھا اور پسینے میں نامعلوم کتنے ہی آنسو شامل ہو گئے تھے۔
۔۔۔۔۔۔اوراُس کی مٹھی میں دبا ہوا پچاس روپے کا نوٹ بھی پسینے سے تر بتر تھا۔۔۔۔۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *