محبت کے تالے!

Photo Hamed mir

کیا تم جانتے ہو کہ مغرب کی محبتیں یورپ کے تمام اہم شہروں کے تاریخی ورثے کیلئے ایک بہت بڑا خطرہ بن چکی ہیں ؟
ڈاکٹر اینڈرسن کا یہ سوال سن کر میرے منہ سے نکلا ’’کیا مطلب ؟‘‘ اس نے جواب دینے کی بجائے ایک اور سوال داغا اور پوچھا کہ کیا تم نے یورپ کے کسی اہم شہر کے تاریخی پل پر تالے لٹکے ہوئے دیکھے ہیں ؟میں نے جواب میں کہا کہ ہاں پراگ کے مشہور چارلس برج پر لگے ہوئے جنگلوں کے ساتھ میں نے سینکڑوں تالے لٹکے ہوئے دیکھے ہیں ۔یہ سن کر اینڈرسن نے بہت زور سے انگریزی میں کہا ’’یس یو آر رائٹ ‘‘وہ انہی تالوں پر تحقیق کر رہا تھا کیونکہ یہ تالے روم سے لیکر پیرس اور برلن سے لیکر پراگ تک یورپ کے بہت سے تاریخی پلوں کی تباہی کا باعث بن رہے ہیں ۔ اٹلی اور جرمنی میں اہم تاریخی پلوں کے جنگلوں پر تالے لٹکانے والوں کو بھاری جرمانے بھی عائد کئے جا رہے ہیں لیکن تالے لٹکانے کا یہ رجحان ختم ہونے میں نہیں آ رہا ۔ ڈاکٹر اینڈرسن نے پوچھا کہ کیا پاکستان میں پلوں پر تالے لٹکائے جاتے ہیں ؟ میں نے اسے بتایا کہ مجھے پلوں کا تو نہیں پتہ البتہ بزرگوں کے مزاروں پر لوگ دھاگے، تعویذ اور تالے ضرور باندھتے ہیں اور اب سے نہیں سینکڑوں سالوں سے یہ سلسلہ جاری ہے ۔
اینڈرسن نے بڑی سنجیدگی سے کہا کہ پاکستان یا ہندوستان کی آبادی کا بڑا حصہ پڑھا لکھا نہیں ہے لہٰذا اگر یہاں کے لوگ اپنی منتوں اور مرادوں کیلئے کسی مزار پر یا درخت پر کوئی دھاگہ ، تعویذ یا تالہ لٹکائیں تو اسے تو ہم پرستی قرار دیکر نظرانداز کیا جا سکتا ہے لیکن اگر یورپ، امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کے پڑھے لکھے لوگ اپنی محبت کی کامیابی کیلئے بازار سے ایک مضبوط تالہ خریدیں، اس تالے پر مارکر سے عورت اور مرد کے نام لکھیں پھر تالے کو کسی دریا کے پل پر لگے ہوئے جنگلے کے ساتھ لٹکا کر بند کر دیں اور چابی کو چوم کر دریا کے پانی میں پھینک دیں اور یہ سمجھیں کہ اب دونوں محبت کرنیوالے ایک دوسرے سے کبھی جدا نہ ہونگے تو اسے تم کیا کہو گے ؟ میں نے جواب دیا کہ یہ بھی تو ہم پرستی کہلائے گی ۔ اینڈرسن نے قہقہہ لگایا اور پھر سنجیدہ لہجے میں کہنے لگا یہ صرف توہم پرستی نہیں بلکہ مغرب میں بڑھتے ہوئے ذہنی خلفشار، فکری بحران اور عدم تحفظ کے احساس کا ثبوت بھی ہے ۔ مغربی میڈیا اسلام اور مسلمانوں کو ایک بہت بڑے خطرے کے طور پر تو پیش کرتا ہے لیکن یورپ کے تمام بڑے شہروں میں لاکھوں کی تعداد میں لٹکنے والے تالوں پر توجہ نہیں دے رہا جو یہ بتا رہے ہیں کہ یورپ کو اصل خطرہ باہر سے نہیں بلکہ اندر سے ہے ۔ مغربی معاشرہ اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور مغربی معاشرے کی ناکام محبتوں کے بوجھ سے اٹلی، فرانس اور جرمنی سمیت کئی یورپی ممالک کے تاریخی پل لرزنے لگے ہیں ۔ اس نے بتایا کہ فرانس کے مشہور اخبار ’’لی موند‘‘ کے مطابق صرف 2014ء میں پیرس کے پونٹ دیس آرٹس برج پر سات لاکھ تالے لٹکائے گئے اور ان تالوں کے وزن سے پل کے ایک حصے کو شدید نقصان پہنچا لہٰذا 2015ء میں اس پل پر لوہے کے جنگلے ہٹا کر شیشے کی دیواریں لگا دی گئیں تاکہ یہاں آنے والے لوگ اپنی محبت کے بوجھ سے فرانس کے تاریخی ورثے کو نقصان نہ پہنچائیں ۔
ڈاکٹر اینڈرسن کے خیال میں آج کے مغربی معاشرے کا سب سے بڑا المیہ خاندانی نظام کی تباہی ہے جس کے باعث کچھ اخلاقی اقدار ختم ہو چکی ہیں اور جب اخلاقی اقدار کمزور ہو جائیں تو پھر محبتیں بھی پائیدار نہیں رہتیں۔ وہ مجھ سے پوچھ رہا تھا کہ پاکستان میں خاندانی نظام کتنا مضبوط ہے ؟میں نے بتایا کہ ہمارے ہاں خاندانی نظام کافی مضبوط ہے لیکن مغرب کی اندھی تقلید کرنے والے گھرانوں میں یہ نظام کمزور ہو رہا ہے ۔ اس نے کہا کہ اگر آپ لوگ ہماری طرح تعلیم پر زیادہ توجہ دیں، انسانی حقوق کا خیال رکھیں اور دیانتداری سے محنت کریں تو آپ ہم سے آگے نکل سکتے ہیں اور اگر ہم اپنی محبتوں کو تالوں میں بند کرنے کی بجائے خاندانی نظام کو بحال کر لیں تو ہمارے بہت سے مسائل بھی حل ہو سکتے ہیں، ہمیں ایک دوسرے کی برائیاں نہیں بلکہ اچھائیاں اپنانے کی ضرورت ہے ۔
گفتگو کے دوران میں نے اینڈرسن سے پوچھا کہ یورپ میں محبت کے تالوں کا رجحان کب شروع ہوا ؟اس نے بتایا کہ 2006ء میں اٹلی کے ایک ادیب فریڈریکو موسیا کی کتاب ’’ آئی وانٹ یو‘‘ شائع ہوئی جس میں دو محبت کرنے والے روم کے پونتے ملویو برج پر اپنی محبت کی کامیابی کی دعا کرنے کے بعد پل کے جنگلے کے ساتھ تالہ لٹکاتے ہیں اور چابی کو دریا میں پھینک دیتے ہیں۔اس کتاب پر اطالوی زبان میں فلم بھی بنا دی گئی ۔اس کے بعد روم وینس اور فلورنس میں محبت کے تالوں کی وبا پھیل گئی جو فرانس اور جرمنی سے ہوتی ہوئی امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلیا تک پہنچ گئی ہے ۔ڈاکٹر اینڈرسن نے پہلی دفعہ آسٹریلیا کی ایڈیلیڈ یونیورسٹی کے پل پر محبت کے تالے لٹکتے ہوئے دیکھے اور جب تحقیق شروع کی تو پتہ چلا کہ صرف دس سال کے اندر یہ تالے نیویارک کے بروک لین برج اور اٹاوہ کے کورک ٹائون فٹ برج پر بھی نظر آنے لگے ۔وینس اور برلن کے پلوں پر تالے لٹکانے والوں کو تین ہزار یورو جرمانہ کیا جانے لگا لیکن محبت کی ناکامی کے خوف میں مبتلا جوڑے ان جرمانوں سے بے نیاز ہوکر مقامی قانون توڑنے میں مصروف ہیں ۔ڈاکٹر اینڈرسن بنیادی طور پر کمیونی کیشن اسٹڈیز کا استاد ہے لیکن آج کل چیک ری پبلک کی چارلس یونیورسٹی کیلئے مغربی میڈیا کی ترجیحات پر تحقیق کر رہا ہے اور اس تحقیق کے دوران اسے پتہ چلا کہ مغربی میڈیا نے محبت کے تالوں کی ایک بہت بڑی اسٹوری کو نظرانداز کررکھا ہے ۔میں کافی دیر تک سوچتا رہا کہ اینڈرسن محبت کے تالوں کی اسٹوری کو اتنا اہم کیوں سمجھتا ہے؟کیا پچھلے دس سال میں مغرب میں شادیوں کی ناکامی کا خوف واقعی اپنی انتہا تک پہنچ چکا ہے ؟محبت کو تالوں، دھاگوں اور تعویذوں میں بند کرنے کا رجحان ہمارے لئے واقعی بڑی ا سٹوری نہیں کیونکہ ایشیائی ممالک میں ایسی روایتیں بہت پرانی ہیں لیکن مغرب میں اس روایت کے آغاز نے ڈاکٹر اینڈرسن کو چوکنا کر دیا ہے اور وہ پورے مغرب کو خبردار کرنا چاہتا ہے کہ تمہاری محبتوں کی کامیابی کی ضمانت مضبوط تالے نہیں بلکہ صرف اور صرف سچائی اور وفاداری بن سکتی ہے ۔ وہ مغربی میڈیا کو خواب غفلت سے جگانا چاہتا ہے۔اس کا خیال ہے کہ مغربی میڈیا اسلام اور مسلمانوں کو ایک خطرہ بنا کر پیش کرنے کی بجائے مسلمانوں سے کچھ اچھی باتیں سیکھ لے کیونکہ مغرب کو اصل خطرہ اسلام سے نہیں بلکہ اپنی اندرونی ٹوٹ پھوٹ سےہے ۔ اتفاق سے حال ہی میں ایسی کئی انگریزی فلمیں ریلیز ہوئی ہیں جن میں دنیا کو کسی دوسرے سیارے کی مخلوق کے ممکنہ حملوں سے ڈرایا جا رہا ہے یا بھوتوں اور چڑیلوں کو قابو کرنے والے انسانوں کو ہیرو بنا کر پیش کیا جا رہا ہے ۔ ڈاکٹر اینڈرسن بالکل صحیح کہتا ہے کہ مغربی میڈیا اپنے معاشرے کے بہت سے حقیقی مسائل کو نظرانداز کر رہا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میڈیا اپنے معاشرے کے حقیقی مسائل پر کچھ توجہ دے رہا ہے یا نہیں ؟
ایسا لگتا ہے کہ جس طرح مغربی میڈیا میں مسلمانوں کو ایک خطرہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے اسی طرح ہمارے میڈیا میں بھی اپنی بہت سی معاشرتی خامیوں اور برائیوں کو ختم کرنے کی بجائے ان خامیوں کی ذمہ داری مغرب پر ڈال کر اپنے آپ کو معصوم اور مظلوم بنا کر پیش کیا جاتا ہے ۔ ڈاکٹر اینڈرسن جیسے لوگ مغرب میں محبت کے تالوں کے رجحان کو اپنا ایک معاشرتی المیہ سمجھ کر اپنے میڈیا کو اس المیے پر توجہ کی ضرورت کا احساس دلا رہے ہیں ۔ کیا ہمارے میڈیا کو اس قسم کی معاشرتی خامیوں پر توجہ دینے کی ضرورت نہیں ؟ دعا کی ایک اہمیت ہے اور دعا صرف اللہ تعالیٰ سے کی جاتی ہے ۔اسی اللہ نے انسانوں میں محبت کا جذبہ بھی پیدا کیا ہے ۔ محبت خواہ مغرب میں کی جائے یا مشرق میں محبت تالوں کی نہیں صرف وفااور سچائی کی محتاج ہوتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *