تھر پار کر کے بے بس انسان

انعم ماجد احسان

thar

تھر پار کر کے بے بس انسان
ضلع تھر پار کر پاکستان کے صوبہ سندھ کا ایک ضلع ہے ۔ آخری قومی مردم شماری 1998ء کے مطابق اس کی آبادی955,812ہے جس میں سے صرف 4.54فیصد ہی لوگ شہروں میں مقیم ہیں۔ اس کے شمال میں میر پور خاص اور عمر کوٹ کے اضلاع ، مشرق میں بھارت کے بارمیر اور جسلمیر کے اضلاع، مغرب میں بدین اور جنوب میں دن کچھ کا تنازع علاقہ ہے۔
تھر پارکر کے لوگوں کے حالات پاکستان کے دوسرے لوگوں کی نسبت مختلف ہیں ۔ یہاں کے لوگ چھوٹی چھوٹی ضرورتوں کیلئے ترستے ہیں۔ ان لوگوں کی ضروریات کو پورا کرنے والا اور حالات بہتر کرنے والا کوئی نہیں ہے۔
تھر پارکر کا سب سے بڑا مسئلہ غذائی قلت ہے۔ بارشیں کم ہونے کے باعث یہاں غذائی پیداوار نہ ہونے کے برابر ہے۔ کئی کئی دن ان لوگوں کے پیٹ میں کھانے کا لقمہ بھی نہیں جاتا ۔ زیادہ تر لوگ ہری مرچوں کے ساتھ اپنا پیٹ بھرتے ہیں۔ اشیا میسر ہو جائے تو سب سے پہلے بچوں کو کھلاتے ہیں۔
نومولود کی ہلاکت تھر پار کر کا دوسرا بڑا مسئلہ ہے۔ کوئی گھر ایسا نہیں ہے جہاں کوئی موت نہ ہوتی ہو ۔ نو مولود کی ہلاکت کی سب سے بڑی وجہ غذائی قلت ہے۔ ماؤں کی خوراک خود پوری نہیں کر پاتیں جس کے نتیجے میں معصوم بچے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔ ہسپتال کی قلت کی وجہ سے ان بچوں اور ان کی ماؤں کی زندگی بچانا مشکل ہوگیا ۔ لوگ کئی گھنٹوں کا سفر کر کے تھر پار کر کے واحد ہسپتال میں پہنچتے ہیں ۔ کئی لوگ اس سفر سے بچنے کیلئے ہسپتال کا روخ نہیں کرتے، لہذا وہ لوگ علاج سے محروم ہو جاتے ہیں۔
بچوں کی پیدائش میں وقفہ بہت ضروری ہے۔ تھر پارکر کے لوگ اس بات سے لاعلم نظر آتے ہیں ۔ تقریباً ہر سال ہر گھرانے میں بچے جنم لیتے ہیں ، ہر سال پیدائش کی وجہ سے عورتوں کی حالت خراب ہو چکی ہیں۔
عورتوں کی غذا کا کوئی مناسب انتظام نہیں ہے۔ بجلی گیس کی سہولت تو دور کی بات یہاں تو دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں ہے۔ یہاں کے لوگ اپنی زندگی صرف مصیبتوں کا سامنا کرتے ہوئے ہی گزار رہے ہیں۔
تھر پار کر میں بارشوں کی کمی اور زیادتی دونوں بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ویسے تو یہاں بارشیں بہت ہی کم ہوتی ہیں ، یعنی نہ ہونے کے برابر جس کی وجہ سے کوئی فصل یا پھل اُگ نہیں پاتے جس کے نتیجے میں غذا کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اس کے برعکس جب یہاں بارش کی زیادتی ہو جاتی تو بھی لوگوں کو مسئلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ تمام فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں ۔ نتیجہ ایک ہی نکلتا ہے جو کہ ہے غذا کی کمی، لوگوں کے تنکوں سے بنے گھر تباہ ہو جاتے ہیں، پچھلے دنوں جب بارش کی وجہ سے سندھ میں سیلاب آیا تو کئی سانپ نکل آئے جس کی وجہ سے 150لوگوں کو سانپوں نے ڈھسا اور کئی وفات پا گئے۔
تھرپارکر کے کئی مسائل میں سے ایک مسئلہ ہسپتال کی کمی ہے۔ پورے تھر پارکر میں صرف ایک سرکاری ہسپتال موجود ہے جو کہ بہت فاصلے پہ ہے۔ مریضوں کیلئے وہاں جا کر علاج کروانا بہت مشکل ہے ۔ ہسپتال جانے کیلئے سواری کا ملنا اس کا کرایہ ادا کرنا نہایت مشکل ہے۔
لوگ اپنے گاؤں میں رہ کر بیماری سے لر کر گزارا کرنے کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔ اور اگر کوئی ہسپتال کا رخ کر بھی لے تو وہاں کوئی موثر علاج حاصل نہیں ہوتا۔ ڈاکٹروں کی عدم دستیابی اور دوائیوں کی قلت کاسامنا صرف اور صرف تھرپارکر کے لوگوں کو کرنا پڑتا ہے۔ ڈاکٹروں کی عدم توجہ کی وجہ سے کئی بچے اورمائیں زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ ان ہسپتالوں میں سہولت کا فقدان ہے۔ بستروں ، ڈاکٹروں ،نرسوں اور دوایوں کی کمی مریضوں کی زندگی تباہ و برباد کر رہی ہے۔
صاف پانی کی سہولت بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ عورتیں کئی کئی میل کا سفر پیدل طے کر کے کنویں سے پانی لاتی ہیں اور بعض گھرانے کے افراد تو گندے پانی سے اپنی پیاس بجھا لیتے ہیں ۔ مرغی اور گوشت کھانا اب تو صرف ایک خواب بن کر رہ گیا ہے ۔ آخر کب تک تھر پارکر کے لوگ یہ سب برداشت کرتے رہیں گے؟ کیا ان کو اپنا بنیادی حق کبھی حاصل نہیں ہوگا؟ کیا یہاں اموات اسی طرح ہوتی رہیں گیں؟ کیا اسی طرح یہاں بچہ اپنی پہلی سالگرہ بھی نہیں منا پائے گا؟ یہ سب وہ سوال ہیں جن کا جواب صرف اور صرف حکومت کے پاس ہے۔
کئی حکومتیں اقتدار میں آتی ہیں اور اس بات کا دعویٰ کرتی ہیں کہ ہم یہاں کے لوگوں کو ان کا بنیادی حق دیں گے۔ کئی منصوبوں کا افتتاح کیا جاتا ہے، جو کہ صر ف افتتاح تک ہی محدود رہ جاتا ہے۔ اس کو عملی جامہ پہنایا نہیں جاتا ۔ بہت سے سیاستدان تھر پارکر کا دورہ کرتے ہیں اور کچھ وقت کیلئے یہاں کے لوگوں کی قسمت جاگ جاتی ہے کیونکہ ان کو اشیاء خردو نوش مہیا کر دی جاتی ہے جس سے ان کے کچھ ہفتے سکون سے گزر جاتے ہیں ۔ لیکن اس کے بعد پھر اُنہیں حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ہر حکومت کا کام اور فرض ہوتا ہے کہ ملک کی عوام کو سکون اور بنیادی اشیاء فراہم کی جائیں لیکن ہمارے ملک میں ایسا کچھ بھی ہوتا دیکھائی نہیں دیتا۔ منصوبے بنتے ہیں ، افتتاح ہوتا ہے ۔ ٹی وی اور اخبار میں تصویریں آتی ہیں اور وہاں کے لوگوں کو لگتا ہے کہ ہمارے دن تبدیل ہونے والے ہیں لیکن حقیقت صرف اور صرف اس کے مترادف ہی ہوتی ہے۔ ہمار ا میڈیا صرف وقتی طور پر تھر پارکر کے لوگوں کا مسئلہ اُجاگر کرتا ہے اور حکومت بالا کو ان سے آگاہ کرتا ہے اور پھر بعد میں سب بھول جاتے ہیں ۔ ہر انسان کو پورا حق ہے کہ وہ اپنی زندگی سکون، آزادی اور بنیادی سہولتوں کے پورے ہونے کے ساتھ گزارے اور یہ سب مہیاکرنا حکومت کا کام ہے۔
پاکستان کی بدقسمتی یہ ہے کہ حکومت صرف اور صرف اپنی کرسی کو بچانے کیلئے کام اور محنت کرتی ہے اپنے اقتدار کو بچانے میں مصروف رہتی ہے۔ عوام کس حال میں رہ رہی ہے اُس کی کسی کو پرواہ نہیں ہے۔ حکومت کو اپنے مفاد سے باہر نکل کر عوام کا بھی سوچنا ہو گا اور خاص طور پر تھرپارکر کے لوگوں کا وہ سب بھی ہمارے بہن بھائی ہیں۔ ان کی زندگیاں بھی اُتنی ہی قیمتی ہے جتنی باقی عوام کی ۔ خاص طور پر سیاستدان اور ان کے خاندان کی۔
حکومت کو چاہئیے کہ وہ فوراً کوئی اقدام اُٹھائے تھر پارکر کے لوگوں کی بھلائی کیلئے تاکہ وہ اپنی زندگی سکون و اطمینان سے گزار سکیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *