ڈراموں کی تبدیلی

pv

نومبر 1964میں پاکستان ٹیلی ویژن کا آغاز ہوا، طارق عزیز پہلے فنکار تھے جنہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن شروع ہونے کا اعلان کیا ، یہ وہ وقت تھا جب بہت کم گھر ایسے ہوتے تھے جہاں ٹی وی موجود ہوتے تھے، تمام محلہ یا خاندان ایک گھر میں جمع ہو کر با جماعت ٹی وی کے پروگراموں سے لطف اندوز ہوتے تھے ۔ چونکہ ایک ہی چینل شروع ہوا تھا اور مزید پروگرام بنانے کیلئے محنت جاری تھے تو مختصر پروگرام ہی ناظرین کو دکھائے جاتے۔ ہفتہ وار انگریزی اور اُردو فلم دیکھائی جاتی اور ہر شب 9بجے خبروں کے ساتھ نشریات کا اختتام کر دیا جاتا۔
پی ٹی وی کے پہلے اداکار ہونے کا اعزاز قوی خان کو حاصل ہے۔ اس وقت ڈرامہ ریکارڈ نہیں بلکہ براہ راست نشر کیے جاتے تھے ۔ یعنی غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی تھی، کئی دنوں کی ریہرسل اور محنت اس میں شامل ہوتی تھی۔اداکار اپنی پوری محنت اورجوش دیکھاتے یہی وجہ تھی کہ ہمارے ڈرامے ناصرف پاکستان بلکہ بیرون ملک بھی دیکھے جاتے تھے۔
چونکہ شروعات میں بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی ہوا کرتا تھا اور بعد میں اس کی جگہ رنگین ٹی وی نے لے لی تھی تو اس وقت کا مشہور اور یادگار ڈرامہ ’’خدا کی بستی تھا جو کہ ناقابل فراموش بنا۔ اس ڈرامے میں معاشرے کی مسائل کو اُجاگر کیا گیا۔
PTVکے خوبصورت اسکرپٹ ،ڈائیلاگ اور جاندار ایکٹنگ سب کی توجہ اپنی طرف مرکوز کر وا لیتے تھے ۔ سادگی ان ڈراموں کا خاصہ ہوتی تھی، نا صرف ڈرامہ بلکہ پاکستان کی ثقافت اور تہذیب کو بھی خوب بہترین طریقے سے سب کے سامنے پیش کیا گیا۔
فاطمہ ثریا بجیا کے دیکھے ہوئے ڈرامے بھلا کون بھول سکتا ہے جنہوں نے اپنی تحریر کے ذریعے حیدر آباد دکن کی روایات اور رسومات لوگوں تک پہنچائی اور اس کو زندہ رکھا۔
اشفاق احمد کے فلسفہ حیات سے بھرے ڈرامے لوگوں کو زندگی اور اس کی اہمیت سے روشناس کرواتے تھے۔ آج بھی لوگ اشفاق احمد کی تحریر پڑھ کے ان کو اپنی زندگی میں شامل کرتے ہیں۔
آگے بڑھیں تو حسینہ معین جیسی مصنفہ پاکستان کی شان اور عزت بڑھاتی نظرآتی ہیں، ان کے ڈرامہ دھوپ کنارے ہر نسل میں مقبول ہیں راحت کاظمی اور مرینہ خان کی کیمسٹری نے سب کے دل موہ لئے ، اور ساجد حسن کے چٹکے بھی خوب ہوتے تھے۔ پھر وقت آیا’’ ان کہی اورتنہائیاں‘‘ کا جس میں شہناز شیخ کی جاندار ایکٹنگ نے سب کو حیران کر دیا اور یہ سب ڈرامہ لازوال ہو گئے۔
PTVنے ناصرف سنجیدہ ڈرامہ لوگوں تک پہنچائے بلکہ ان میں مزاحیہ پروگرام اور ڈرامے بھی شامل ہیں۔ انور مقصود کے تحریر کردہ مزاحیہ ڈراموں میں آنگن ٹیڑھا ، سٹوڈیو ڈھائی، ہاف پلیٹ اور ان جیسے کئی پروگرام شامل ہیں۔ ان پروگرام کا مقصد صرف لوگوں کو انٹر نیٹ فراہم کرنا نہیں ہوتا تھا بلکہ معاشرے کے مسائل اور تکالیف سے ناظرین کو آگاہ کرنا بھی ہوتا تھا۔
شرم و حیا اور بہترین ڈئیلاگ PTVکے ڈراموں کا اثاثہ رہا ہے۔ بے ہودگی سے پاک ڈرامے لوگوں کے ذہن میں ہمیشہ کیلئے نقش ہو گئے ۔ا س وقت تمام فیملیز(Families)ساتھ مل بیٹھ کر ان ڈراموں سے لطف اندوز ہوا کرتے تھے۔
PTVنے نا صرف اچھے ڈرامہ لوگوں تک پہنچائے بلکہ میوزک اور معلوماتی پروگرام بھی لوگوں کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ نامور گلوکار نے اپنے فنی کریر(Career)کا آغاز PTVاور ریڈیو پاکستان سے کیا، جن میںTufail Niazi، ناہید اختر ، ملکہ پکھراج ،Nayyara Noor وغیرہ شامل ہیں ۔ ان گانوں کی دھن اور الفاظ لوگوں کے دلوں میں سحر گھول دیتے تھے۔
PTVکے ہر ڈرامے میں ’’عورت ‘‘ کا موضوع اُجاگر کیا گیا ، ان ڈراموں میں عورت کو با وقار ، گھریلو اور سادہ دیکھایا گیا۔ تمام ڈرامے حقیقت پر مبنی ہوتے تھے۔ کئی موضوع ایسے ہوتے تھے جن پر بحث نہیں کی جاتی تھی اور خاموشی اختیار کر لی جاتی تھی۔
جہاںPTVنے ناظرین کو بھرپور تفریح فراہم کی وہیں کئی مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑا جس میںTechnical Staffکی کمی اور Setsکی کمی تھی۔ چونکہ Outdoorشوٹنگ کم ہوا کرتی تھی تو ناظرین کو کم جگہوں کے بارے میں جانے کا موقع ملتا تھا۔
ایک ہی Sets کو کچھ ردو بدل کے ساتھ استعمال کیا جاتا تھا ، اور آج بھی PTVکے بعض ڈرامے اُنہیں سیٹ پر شوٹ ہو رہے ہیں۔
کئی نئے فنکار نے اپنی فنی کریئر کا آغاز PTVسے ہی کیا جن میں ہمایوں سعید ، ثانیہ سعید، مشی خان ، عدنان صدیقی ، لیلیٰ زبیری وغیرہ شامل فہرست ہیں۔ آج پاکستان نے میڈیا کی Fieldمیں بہت ترقی کی ہے ۔ نت نئے Privateچینلز کھل رہے ہیں اور لوگوں کو تفریح فراہم کررہے ہیں ۔ لیکن ایک بات قابل ستائش ہے کہ ان چینلز کا مقابلہ جب بھی PTVسے کیا جائے گا۔ PTVکا پلڑاہمیشہ بھاری رہے گا۔ PTVکے مشہور ڈراموں اور پروگراموں میں کچھ یہ بھی شامل ہیں۔
ا۔ انکل عرفی
۲۔ انتظار فرمائیے
۳۔ شہزوری
۴۔ زیب و النساء
۵۔ بندھن
۶۔ مہندی
۷۔ سنہرے دن
2001ء، 2002ء میں Privateچینلز کا آغاز ہوا ، شروع میں یہ چینلز خبریں نشر کیا کرتے تھے ،چونکہ PTVگورنمنٹ کے اندر کام کرتا تھا تو یہ ہمیشہ گورنمنٹ کی پالیسی اور اس کی تعریفیں ہی بیان کرتا تھا، لیکنPrivateچینلز کے آجانے سے حکومت کو سخت تنقید کا سامنہ کرنا پڑا جو کہ آج تک کر رہے ہیں۔
ان Privateچینلز یہ ڈرامہ اور دیگر پروگرام نشر کیے گئے اور کیے جا رہے ہیں ۔ PTVاور Privateچینلز کے ڈرامہ میں زمین آسمان کا فرق دیکھائی دیتا ہے ۔ پہلے کے ڈرامہ ایک ہی سیٹ پر رہ کر شوٹ کیے جاتے تھے مگر اب بیرون ملک جا کر بھی شوٹنگ کی جاتی ہے جس سے لوگوں کو نئی جگہوں کو جاننے کا بھر پور موقع ملتا ہے۔
آج کے ڈرامہ میں ایسے موضوع کا ذکر کیا جاتا ہے جن کو پہلے نظر انداز کر دیا جاتا تھا یا ان پر بات کرنا معیوب سمجھا جاتا تھا اور ان چینلز کا بجٹ بھی بے پناہ زیادہ ہوتا ہے ۔ آج کا ڈرامہ صرف کہانی پر منحصر نہیں کرتا بلکہ اس میں فیشن ، گانے، ناچ بھی شامل کیا جاتا ہے۔ آج کے ڈرامے مکمل تفریح فراہم کر رہے ہیں اور پڑوسی ممالک میں بھی خوب سراہے جا رہے ہیں۔
جہاں ان ڈراموں کا معیار بدلہ وہیں کئی برائیاں بھی معاشرے میں جنم لیتی دیکھائی دیں۔ سب سے پہلے ایسے رشتوں کو فروغ دیا گیا جو کہ بے معنی ہیں یعنی لڑکا اور لڑکی کی دوستی اتنی عام کر کے دیکھائی گئی اور اتنی نزدیکیاں دیکھائی گئی کے نوجوان نسل کو یہ احساس ہونے لگا کہ بس یہی زندگی ہے اور تعلیمی اداروں میں صرف یہی کیا جاتا ہے۔
عورت کو حد سے زیادہ آزاد خیالات کا مالک بنا کر دیکھایا گیا۔ ایکٹنگ کے نام پر مرد اور خواتین فنکار کو بہت قریب دیکھا جاتا ہے کہ کوئی فرد گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر ایسے ڈرامہ نہیں دیکھ سکتا۔
لیکن اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ ان ڈراموں نے ڈرامہ انڈسٹری کا معیار بہت اُونچا کیا ہے۔ جہاں اچھائیاں ہوتی ہیں وہیں پر برائیاں بھی ہوتی ہیں ۔ آج کے ڈرامے نہ صرف کہانی میں آگے ہوتے ہیں بلکہ ان کے گانے اور دھن بھی لوگوں کے دلوں پر راج کرتے ہیں۔ ایک PTVکا دور تھا جب کوئی ڈرامہ آتا تھا تو سڑکیں خالی ہو جاتی تھیں اور پورا دن اس ڈرامے کا انتظار کرتے رہتے تھے ۔ پھر وہ دن غائب ہو گئے۔
پھر 2012ء میں ہم نے ٹی وی پر ایک ایسا ڈرامہ دیکھایا گیاجس نے اُن گزرے ہوئے دنوں کو دوبارہ زندہ کر دیا، وہ ڈرامہ تھا، ’’ہمسفر ‘‘۔ جس کی آخری قسط دیکھنے کیلئے سڑکیں خالی ہوگئی تھیں اور آج بھی اس ڈرامے کی کہانی ، گانا، اداکاری لوگوں کے ذہن میں نقش ہو گئی ہے۔ اسی طرح کئی ڈرامے ایسے بنے جو لوگوں کی توجہ اپنی طرف مرکوز کرانے میں کامیاب رہے ۔ ان ڈراموں میں شامل ہیں۔
ا۔ میری ذات ذرہ بے نشاں
۲۔ قید تنہائی
۳۔ زندگی گلزار ہے
۴۔ دل دیا دہلیز
۵۔ بول میری مچھلی
۶۔ دُرِشہوار

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *