کشمیر کی جدو جہدِآزادی

khalid zahid

کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کو اقوامِ عالم عرصہ دراز سے خاموش تماشائی بنی دیکھے جا رہی ہیں۔ پاکستان بھی کسی بہت معصوم بچے کی طرح اس سارے معاملے کو اقوامِ متحدہ کی عدالت میں پہنچا کر بیٹھ گیا ہے اور ان سفاکیوں کی اماجگاہ پر چھوڑ دیا ہے اور اب انتظار کرتے کرتے کشمیریوں کی تین نسلیں اس آگ اور خون حولی کی نظر ہوگئیں ہیں۔ یہ دنیا کا انوکھا انصاف ہے، یہ دنیا کا دہشت گردی کا انوکھا فلسفہ ہے۔ دنیا کہ کسی بھی اسلامی یا غیر اسلامی ملک نے بین الاقوامی ذمہ داری نہیں نبہائی۔ نا ہی کوئی انسانی حقوق کا ادارہ انسانیت سوز مظالم کی روک تھام کیلئے میدان میں نکلا ہو۔ وادی کشمیر کو بھارتی وردی میں ملبوس دہشت گردوں کہ حوالے چھوڑ دیا گیا۔ بلاناغہ اپنے اپنے آرام دہ کمروں میں ٹیلیویژن کہ سامنے بیٹھ کر دکھائے جانے والے مظالم، ستم اور بربریت کہ نظارے دیکھ کر دل پر ہاتھ رکھ لیتے ہیں، ایسا کر کہ ہم اپنے دلوں کو تسلی دیتے  ہیں کہ ہمیں کشمیر سے اور کشمیریوں سے کتنی محبت ہے اور ہمارا دل انکے لئے کتنا غمگین ہو جاتا ہے۔ بس کچھ لمحوں میں چینل تبدیل کیا اور ظلم کی داستانِ رقم کرنے والوں کی رعنائیوں میں مگن ہوگئے۔ہماری مخلصی تو اس بات سے بھی بہت واضح ہوجاتی ہے کہ "کشمیر کی آزادی تک ادھار بند ہے"۔

دشمن اپنی عیاریاں اور شیطانی چالیں تحریکِ آزادی کی ابتداء سے چل رہا ہے۔  1971 میں پاکستان کہ دوٹکڑے کر دئے اور کلمہ گو بھائیوں کہ دلوں میں ایسی نفرتیں پیدا کردیں جس کہ الاؤ میں آج بھی پاکستان سے محبت کرنے والے ہمارے بنگالی بھائی اپنی جانوں کہ نظرانے تختہ دار پر لٹک کر دیتے جا رہے ہیں۔ کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم رز بروز بڑھتے جارہے ہیں۔ بھارت ریاستی دہشت گردی کی مثالیں قائم کرتا جا رہا ہے اور ایک ہم ہیں کہ صفائیوں پر صفائیاں پیش کئے جا رہے ہیں۔

اتحادی افواج افغانستان میں دندناتے ہوئے داخل ہوگئیں اور وہاں کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ ان اتحادی افواج کی بے رحمی کا منہ بولتا ثبوت افغانستان آج کسی آثارِ قدیمہ یا  کھنڈرات کی صورت دیکھائی دیتا ہے۔ مگر دکھ اس بات کا ہے کہ اتحادیوں کو وہ کچھ بھی نہیں مل سکا جس کی تلاش میں سنگلاخ پہاڑوں کو ریت کہ ڈھیروں میں تبدیل کرنا شروع کیا تھا۔ افغانستان کہ بعد توامریکہ اور اسکے اتحادیوں کو تو جیسے خون منہ کو لگ گیا۔ عراق کو تہس نہس کردیا، شام، لیبیا، اردن اور دیگر ممالک پر بھی اپنے ناپاک عزائم مسلط کرنے کی کوششوں میں مصروفِ عمل ہیں۔ کشمیر اور فلسطین کیلئے کوئی اتحاد نہیں بن سکا۔ نہ امریکیوں کا اور نہ کسی ہم مذہب طاقتور ملک کا۔

آگست کا مہینہ جاری ہے، ایک دم سے کشمیر کی تحریکِ آزادی میں بہت زیادہ تیزی نظر آرہی ہے۔ ابھی پاکستان اپنا پوری طرح دھیان کشمیر کہ مسلہ پر مرکوز کرتا ہے کہ "را" ایک بار پھر ہاتھ دیکھا جاتی ہے اور اپنے مقاصد کہ حصول کیلئے کوئٹہ میں ایک انتہائی ہیبت ناک بم دھماکہ ہوجاتا ہے۔ ہر طرف لاشیں، خون اور انسانی عضاء ہر طرف بکھرے پڑے ہیں۔ ہر پاکستانی سوگ میں ہے اگست کہ مہینے میں سبز ہلالی پرچم سنگوں ہے۔

ہمارا دشمن بہت عیار ہے آنےوالے دنوں میں وہ ہمیں ڈائیلاگ کی دعوت دے گا اور ہم لولی پاپ کی مانند اسے پکڑلینگے اور اسکے کہنے پر چلنا شروع کردینگے۔ پھر اپنی کامیابی کی تعریفیں اپنے منہ کرنا شروع کردینگے دوسری طرف ہمارا دشمن زیرِ لب مسکراتا ہوا کچھ اور کلبھوشن ہماری پاک سرزمین کو ناپاک کرنے کیلئے بیھج دیگااور ہم مفاہمت کے مدِ نظر خاموشی سے اسے دیکھتے رہنگے۔

ضربِ عضب کامیابی کہ مراحل طے کرتا جارہا ہے مگر حتمی کامیابی دشمن سے کھلے میدان میں ہی ممکن دیکھائی دے رہی ہے۔ کیونکہ ہماری آستینوں میں چھپ کر بیٹھا ہے اور ایسا بیٹھا ہے کہ ہم سا ہی دکھتا ہے۔ اس لئے پہچاننے اور شناخت کرنے میں بہت مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کا انتہائی حل یہی رہ جاتا ہے کہ ابتک پاکستان کو خفیہ کامیابیاں ہوئی ہیں اس کی مدد سے ان تمام ممالک سے سختی کہ ساتھ معاملات اٹھائے جائیں اور ان سے پوچھ لیا جائے کہ وہ امن سے رہنا چاہتے ہیں یا جنگ کرنا چاہتے ہیں ہم تو درپردہ عرصہ دراز سے حالتِ جنگ میں ہیں۔ اللہ کرے گا تو کشمیر کا مسلہ بھی اسی طرح حل ہوگا۔ 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *