14 اگست اور میں

anwar abbas anwar

پاکستان کی تخلیق اور میری پیدائش میں دس سال کا فرق ہے لیکن میرے اور پاکستان کے درمیان ایک چیز قدر مشترک ہے، چودہ اگست انیس سو ستالیس کو پاکستان دنیا کے نقشے پر ابھرا اور پاکستان کے معرض وجود میںآنے کے تقریبا اکتیس بتیس سال بعد عین اسی روز چودہ اگست انیس سو اکیاسی کو میری شادی رجسٹرڈ ہوئی یعنی میں رشتہ ازواج میں بندھ گیا ،اس پر مسرت موقعہ پر میں نے لکھا تھا کہ ’’
قائد اعظم ملک بنایا اساں اپنا گھر وسایا ،پاکستان زندہ باد قائد اعظم پائندہ باد آپ سوچ رہے ہونگے کہ چودہ اگست کی تاریخ مقرر ہونا محض اتفاق تھا یا کسی سیانے کی تجویز پر یہ تاریخ رکھی گئی میری شادی خانہ آبادی کے لیے چودہ اگست کا تاریخی دن میرے کسی بزرگ سیانے کی تجویز تھی اور نہ ہی محض اتفاق تھا یہ خالصتا میرے کہنے پر طے پایا تھا۔۔۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ میں خود کو کسی نہ کسی حوالے سے پاکستان سے جوڑے رکھنا چاہتا ہوں، دفوران طالب علمی جب میں میٹرک کا طالب علم تھا تو میں نے وفاقی حکومت کے زیر اہتممام قائد اعظم محمد علی جناح بانی پاکستان کی سالگرہ کی صد سالہ تقریبات کے موقعہ پر ہونے والے مقابلہ مضمون نویسی میں حصہ لیا اور مضمون لکھنے کے لیے میں نے موضوع ’’ قیام پاکستان کے بنیادی عوامل‘‘ کا انتخاب کیا تھا، مجھے قیام پاکستان کے لیے جدوجہد کرنے والے تمام افراد سے دلی محبت ،انس اور پیار ہے۔
اس دنیا میں جب میں نے آنکھ کھولی تووقت پاکستان کے دشمن اور سامراج کے ایجنٹ دلال علامہ اقبال اور قائد اعظم کے خواب ، تصور پاکستان اور جدوجہد کو ناکام بنانے کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کا نہ صرف تہیہ کر چکے تھے بلکہ اس پر عمل درآمد بھی ہو چکا تھا پاکستان کے پہلے وزیر اعظم خان لیاقت علی خان کا قتل عام اور وہ بھی راول پنڈی کے کمپنی باغ میں دن دیہاڑے کرکے اپنے ارادوں کو عیاں کر چکے تھے، پاکستان میں جمہوریت کے ناتواں پودے کو تناور درخت بنانے کی کوششیں ہو رہی تھیں، اینگریز کے پروردہ اور بنگال کے معروف میر جعفر کے فرزند اسکندر مرزا پاکستان کی تقدیر کے مالک کا اعزاز حاصل کرکے پاکستان کے پہلے صدر اور آخری گورنرجنرل کا بھی اعزاز پا چکے تھے ۔
جمہوریت کو پاکستان کے عوام کا مقدر بنانے کے لیے انیس سو ستر کے انتخابات میں عوام کے ہجوم بیکراں ( پاکستان پیپلز پارٹی اور اسکے قائد ذوالفقار علی بھٹو ) کا ساتھ دیا ،یہ بھی ایک دلچسپ کہانی ہے سکول میں گرمیوں کی تعطیلات تھیں نانا جان اور نانی جان ( اس میں ماموں صاحبان کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے) سے ملنے گاؤں ہڈیالہ ورکاں گیا ہوا تھا 10 ستمبر بروز جمعرات کو صبح سویرے ہی ضد کر بیٹھا کہ مجھے شرقپور اپنے گھر واپس جانا ہے نانی جان نے بہت سمجھا بجھایا کہ کل ضرور لے چلوں گی لیکن میں اپنی بات پر اڑا رہا کہ جانا ہے تو آج ہی جانا ہے وگرنہ نہیں۔۔۔ نانی جان نے بڑے پیار اور شفقت سے دریافت کیا کہ بیٹا آج شرقپور میں کیا خاص بات ہے؟ میں نے انتہائی معصومانہ انداز میں جواب دیا کہ نانی جان آج ذوالفقار علی بھٹو ہمارے شرقپور آ رہے ہیں اور وہاں جلسے خطاب کریں گے ۔۔۔ نانی دوہترے میں یہ بحث مباحثہ جاری تھا کہ گیارہ بجے بڑے بھائی جان مرحوم ذاکر حسین بھی نانی جان کے ہاں پہنچ گئے نانی جان نے بڑے بھائی کی بلائیں لیں اور گھر والوں کی خیر و خیریت پوچھی اور ساتھ یہ بھی پوچھ لیا کہ آج شرقپور میں کیا خاص ہے تو بڑے بھائی جان نے جواب میں بتایا کہ آج دادا مرحوم کا سالانہ ختم شریف ہے اس لیے میں اسے لینے آیا ہوں۔ اب تو نانی جان نے ہتھیار پھینک دئیے اور مجھے تیار کرنے میں لگ گئیں اور بھائی ذاکر حسین کھانا تناول کرنے کے بعد مجھے ساتھ لیکر شرقپور کے لیے روانہ ہوئے۔
قلعہ ستار شاہ کے ریلوے اسٹیشن سے ٹرین میں سوار ہوئے اور شاہدرہ اسٹیشن پر اترے تو ہر طرف ترنگے جھنڈوں کی بہارآئی ہوئی تھی استقبالی بینرزوں سے سڑکیں اٹی ہوئی تھیں گاڑیوں کے ذریعے بھٹو کے نعرے وج رہے تھے تین ساڑھے تین بجے بڑا اڈا لاریاں شرقپور پر اترے تو وہاں انتخابی جلسہ ہو رہا تھا میں نے بھائی جان کو الوادع کہا اور جلسہ گاہ میں سٹیج کے قریب پہنچ زمین پر بیٹھ گیا اس وقت جلسہ کی صدارت پیر رونق علی شاہ فرما رہے تھے۔ اور لالہ افضال سلیمی ، شیخ مسعود لاہوریا اور دیگر جیالے سٹیج پر چوکڑیاں مار کر بیٹھے ہوئے تھے اور کرسیوں پر میاں محمود علی قصوری، ڈاکٹر غلام حسین (جہلم والے) ڈاکٹر مبشر حسن، غلام مصطفی کھر اور راہنما پیپلز پارٹی براجمان تھے بڑی جوشیلی تقاریر ہو رہی تھیں اور بھٹو ساحب کی آمد کے سلسلے میں عوام کے جم غفیر کے دل گرمائے جا رہے تھے بھٹو ساحب تقریر سے قبل میاں شیر محمد صاحب کے مزار پر حاصری کے لیے گئے ہوئے تھے آئے اور اپنے ،خصوص طرز خطابت سے لوگوں کے دل اور ووٹ موہ کر لے گئے۔
اپنی شادی کے لیے چودہ اگست کی تاریخ مقرر کرنے کے پس پردہ مقاصد میں یہ بھی تھا کہ ملک پر جمہوریتوں کا قبضہ تھا اور ان عوام دشمن اور پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے حریفوں نے عوام کے محبوب قائد بھٹو ساحب کو تختہ دار پر لٹکا دیا تھا اس بات کا دیگر محب وطن اور جمہوریت پسندوں کی طرح مجھے بھی بہت ملال تھا لہذا فیصلہ کیا کہ بارات میں بہت سے جیالے بھی مدعو کیے گے ، بارات روانہ ہوئی تو دلہا ( میں )نے سینے پر پاکستان کا قومی پرچم اور بھٹو صاحب کی تصویر بھی سجائی تاکہ دیکھنے والوں کو معلوم ہو کہ آمریت کے دشمن اور جمہوریت دوست کی بارات جا رہی ہے۔ یہ وہ دور تھا جب جنرل ضیا الحق کی آمریت کا طوطی بول رہا تھا۔ جمہوریت سے پیار اس کے باوجود تھا کہ جمہوریت کے ثمرات ہم تک نہیں پہنچے تھے۔
دنیامیں آنے کے بعد جب میں نے آنکھ کھولی تو پاکستان کو غیر جمہوری اور صدارتی نظام حکومت کی آمجگاہ بنانے کے عمل کا آغاز ہو چکا تھا ملک کا سب سے بڑا منصب سول بیوروکریسی ملٹری بیوروکریسی کے تعاون سے سیاستدانوں سے ہتھیا چکی تھی اور جب میری شادی ہوئی تو اس وقت ملک مکمل ملٹری بیوروکریسی کے قبضہ میں تھا ۔جنرل ضیا الحق ملک کے سیاہ اور سفید کے بلا شرکت غیرے مالک و قابض تھا اس کے جو جی میں آتا کرتا اسکی زبان سے نکلے الفاظ قانون بن جاتے ۔ سیاست پاکستان کے عوام کے لیے شجر ممنوعہ قرار دیدی گئی تھی ہر طرف گھٹن اور تعفن پھیلا ہواتھا 14 اگست 1981 کو شادی کرکے جمہوریت زندہ باد اور پاکستان پائندہ باد کا نعرہ لگا کر غیر جمہوری نظام سے اپنی نفرت کا اظہار کیا اور قائد اعظم ،علامہ اقبال اور دیگر قائدین تحریک پاکستان کو خراج تحسین پیش کیا۔
بارات سسرال پہنچی تو وہاں بارش ایسی کہ اللہ ہو اکبر۔۔۔ شام کو اپنا شریک سفر لیکر گھر پہنچے اللہ کا شکر ادا کیا، چودہ اگست 1981 سے اب تک ہر چودہ اگست کو اس نعرہ کے ساتھ کہ’’ قائد اعظم ملک بنایا اساں اپنا گھر وسایا پاکستان زندہ باد قائد اعظم پائیندہ باد یوم آزادی تسلسل سے مناتا ہوں شادی کی سالگرہ اور پاکستانی کی آزادی کا کیک کاٹا کر خوشیاں دوبالا کی جاتی ہیں قریبی دوست احباب اور عزیز و اقارب کی خاطر تواضع بھی کی جاتی ہے میری اس خوشی میں میرے بچے خصوصا میری بچیاں بہت ساتھ دیتی ہیں۔۔۔ یوم آزادی کے موقعہ پر دی جانے والی توپوں کی سلامی کو میں اپنی شادی کی سلامی تصور کرتا ہوں اور خود پتاخے چلاکر پاکستان کو سلامی دیتا ہوں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *