حضرت سلیمانؑ کا 100بیویوں کے پاس ایک ہی رات جانا،مولانامودودی ،بخاری کی روایات اورغامدی صاحب !

naeem-baloch1

ایک ای میل کے ذریعے سے یہ سوال پوچھا گیا ہے :’’ مولانا مودودی نے سورۃ صف کی آیت34 کی تشریح میں کم و بیش تمام مفسرین سے اختلاف کر تے ہوئے لکھا ہے کہ یہ قرآن مجید کا ایک انتہائی مشکل مقام ہے جس کی تشریح بہت مشکل ہے لیکن سب سے مشہور تفسیر پر انھوں نے جو اعتراضات فرمائے ہیں ، کیا اس سے وہ منکرِ حدیث ثابت نہیں ہوتے کیونکہ انھوں نے اسے عقل کے خلاف قرار دیا ہے ، سوال یہ کہ آپ کے استاد جاوید احمد غامدی کی اس حوالے کیا رائے ہے؟
ہم پہلے وہ واقعہ خود مولانا مودودی کے الفاظ میں نکل کرتے ہیں جس کی بنیاد پر یہ سوال پوچھا گیا ہے :
’’تیسرا گروہ کہتاہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ایک روز قسم کھائی کہ آج رات میں اپنی ستّر بیویوں کے پاس جاؤں گا اور ہر ایک سے ایک مجاہد فی سبیل اللہ پیدا ہوگا ، مگر یہ بات کہتے ہوئے انہوں نے اِن شاء اللہ نہ کہا۔ اس کا نتیجہ یہ ہواکہ صرف ایک بیوی حاملہ ہوئیں اور ان سے بھی ایک ادھورا بچہ پیدا ہوا جسے دائی نے لاکر حضرت سلیمان علیہ السلام کی کرسی پر ڈال دیا۔ یہ حدیث حضرت ابو ہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے اور اسے بخاری و مسلم اور دوسرے محدثین نے متعدد طریقوں سے نقل کیا ہے۔ خود بخاری میں مختلف مقامات پر یہ روایت جن طریقوں سے نقل کی گئی ہے ان میں سے کسی میں بیویوں کی تعداد ساٹھ (۶۰)بیان کی گئی ہے ، کسی میں ستّر(۷۰) ، کسی میں نوے (۹۰)، کسی میں ننانوے (۹۹)اور کسی میں سو (۱۰۰)جہاں تک اسناد کاتعلق ہے ، ان میں سے اکثر روایات کی سند قوی ہے، اور باعتبارِ روایت اس کی صحت میں کلام نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن حدیث کا مضمون صریح عقل کے خلاف ہے اور پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح ہرگز نہ فرمائی ہوگی جس طرح وہ نقل ہوئی ہے ۔ بلکہ آپ نے غالباً یہودکی یا وہ گوئیوں کا ذکرکرتے ہوئے کسی موقع پر اسے بطور مثال بیان فرمایا ہوگا، اور سامع کو یہ غلط فہمی لاحق ہو گئی کہ اس بات کو حضور خود بطور واقعہ بیان فرما رہے ہیں ۔ایسی روایات کو محض صحتِ سند کے زور پر لوگوں کے حلق سے اُتر وانے کی کوشش کرنا دین کو مضحکہ بنانا ہے۔ ہر شخص خود حساب لگا کر دیکھ سکتاہے کہ جاڑے کی طویل ترین رات میں بھی عشا اور فجر کے درمیان دس گیارہ گھنٹے سے زیادہ وقت نہیں ہوتا ۔ اگر بیویوں کی کم ازکم تعداد ساٹھ (۶۰) ہی مان لی جائے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام اس رات بغیر دم لیے فی گھنٹہ چھ (۶) بیوی  کے حساب سے مسلسل دس گھنٹے یا گیارہ (۱۱) گھنٹے مباشرت کرتے چلے گئے ۔ کیا یہ عملاً ممکن بھی ہے؟ اورکیا یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ حضورؐ نے یہ بات واقعے کے طو ر پر بیان کی ہوگی؟ پھر حدیث میں یہ بات کہیں نہیں بیان کی گئی ہے کہ قرآن مجیدمیں حضرت سلیمان علیہ السلام کی کرسی پر جس جسد کے ڈالے جانے کا ذکر آیا ہے اس سے مراد یہی اُدھورا بچہ ہے اس لیے یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ حضورؐ نے یہ واقعہ اس آیت کی تفسیر کے طور پر بیان فرمایا تھا۔ علاوہ بریں اس بچے کی پیدائش پر حضرت سلیمان علیہ السلام کا استغفار کرنا تو سمجھ میں آتا ہے ، مگر یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ انہوں نے استغفار کے ساتھ یہ دعاکیوں مانگی کہ ’’مجھے وہ بادشاہی دے جو میرے بعد کسی کے لیے سزا وارنہ ہو۔‘‘
اس تفسیر پر کوئی تبصرہ کیے بغیر ہم ایک دوسرے مفسر مولانا امین احسن اصلاحی کی تفسیر بیان کرتے ہیں ، کیونکہ استاد محترم انھی کی تفسیر کوزیر بحث آیت میں درست سمجھتے ہیں ، تفسیر ملاحظہ کریں :
یہ حضرت سلیمانؑ کی انابت(عاجزی ، توبہ ) کا دوسرا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ اس واقعہ کی شکل بھی تفسیر کی کتابوں میں چونکہ بہت بدنما بنا دی گئی ہے اس وجہ سے اس کو بھی پہلے سادہ الفاظ میں سمجھ لیجیے، اس کے بعد الفاظ قرآن پر غور فرمائیے۔
تاریخوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو یہ سخت امتحان پیش آیا کہ دشمنوں نے یورش کر کے ان کے بیشتر علاقے چھین لیے اور باقی علاقوں میں بھی ایسی گڑ بڑ پھیلا دی کہ نظم حکومت عملاً بالکل درہم برہم ہر کر رہ گیا۔ ان کی تاخت سے صرف مرکز بچا جس میں حضرت سلیمان علیہ السلام بالکل مجبور و محصور ہو کر رہ گئے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان تھا لیکن حضرت سلیمان علیہ السلام ایک خدا ترس بادشاہ تھے اس وجہ سے انھوں نے یہ گمان فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کسی غلطی کی سزا دی ہے۔ اس احساس نے ان کے غم کو دوبالا کر دیا اور وہ اس غم اور بے بسی کی حالت میں اپنے تخت حکومت پر ایک جسد بے جان ہو کر رہ گئے۔ اس وقت انھوں نے نہایت تضرع کے ساتھ اپنے رب سے دعا کی کہ اے رب، میرے گناہ معاف کر اور اگرچہ میں تیرے فضل و انعام کا حق دار نہیں رہ گیا ہوں لیکن تو بڑا بخشنے والا ہے، اس وجہ سے میرے عدم استحقاق کے باوجود مجھے ایسی بادشاہی دے جس کے سزاوار اس طرح کے گناہ کے ساتھ دوسرے نہ ہوتے ہیں، نہ ہوں گے۔
حضرت سلیمانؑ کا امتحان: وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْْمَانَ۔ یعنی ہم نے سلیمانؑ کو امتحان میں ڈالا۔ یہ امتحان اللہ تعالیٰ کی سنت ہے۔ ضروری نہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کسی جرم ہی کی سزا کے طور پر امتحان میں ڈالے گئے ہوں۔ امتحان تمام نبیوں اور رسولوں کو پیش آئے ہیں جس سے ان کے صبر یا شکر کی آزمائش ہوئی ہے۔ اسی طرح کے ایک امتحان میں حضرت سلیمان علیہ السلام بھی ڈالے گئے اور چونکہ وہ ایک بادشاہ تھے اس وجہ سے ان کو یہ امتحان ان کی بادشاہی کی راہ سے پیش آیا۔
حضرت سلیمانؑ کے غم و الم اور ان کی بے بسی کی تصویر: وَأَلْقَیْْنَا عَلَی کُرْسِیِّہِ جَسَداً۔ یہ نہایت مختصر لیکن نہایت جامع لفظوں میں اس امتحان کا بیان ہے کہ کہاں تو وہ ایک وسیع الاطراف حکومت کے نہایت طاقت ور اور صاحب اقتدار بادشاہ تھے ( پھر ) ہم نے ان کو ان کے تخت پر ایک بالکل جسد بے جان بنا کر ڈال دیا۔ لفظ جَسَد یہاں بطور کنایہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی بے بسی اور ان کے غم و الم کی تصویر کے لیے استعمال ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی حکومت سمٹ سمٹا کر مرکز تک محدود رہ گئی اور حالات نے ان کو اس قدر بے بس اور غم زدہ بنا دیا کہ گویا صرف جسم رہ گیا، روح غائب ہو گئی۔ غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ ایک بے بس اور غم زدہ بادشاہ کی، جو اپنے مرکز میں محصور ہو کر رہ گیا ہو، اس سے بہتر تصویر نہیں ہو سکتی۔
استاد محترم جاوید احمد غامدی نے اس کا ترجمہ یہ کیا ہے : ہم نے سلیمان کو (ایک اور) آزمایش میں بھی ڈالا تھا اور اُس کے تخت پر ایک دھڑ کی طرح ڈال دیا تھا۔ پھر اُس نے رجوع کیا۔‘‘ وہ تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں : یعنی ایسا بے بس اور غم زدہ بنادیا تھا کہ اُس کے تخت پر گویا صرف ایک جسم پڑا ہوارہ گیا جس میں سے روح نکل گئی تھی۔ یہ اُن حالات کی طرف اشارہ ہے، جب دشمنوں نے یورش کرکے اُن کے بیش تر علاقے چھین لیے اور باقی مقامات پر بھی ایسی گڑبڑ پھیلا دی تھی کہ نظم حکومت بالکل درہم برہم ہو کر رہ گیا تھا۔ تاریخوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان اُس زمانے میں اپنے دارالحکومت میں بالکل محصور و مجبور ہو کر رہ گئے تھے۔ قرآن نے اِس پوری صورت حال کو کمال بلاغت کے ساتھ ایک جملے میں سمیٹ دیا ہے کہ ہم نے سلیمان کو اُس کے تخت پر ایک دھڑ کی طرح ڈال دیا۔
یعنی ایسے حالات میں بھی وہ مایوس نہیں ہوئے،بلکہ یہ خیال کرکے کہ شاید کسی غلطی پر اُن کی پکڑ ہوئی ہے، وہ توبہ و استغفار کے لیے اپنے پروردگار کی طرف متوجہ ہو گئے۔
آخر میں مولانا مودودی صاحب کا ترجمہ ملاحظہ کریں :’’اور سلیمان کو بھی ہم نے آزمایش میں ڈالا اور اس کی کرسی پر ایک جسد لاکرڈال دیا۔ اور پھر اس نے رجوع کیا ۔ ‘‘
ان دونوں ترجموں میں فرق یہ کہ عام مفسرین  ’’جسد ‘‘ سے مراد کوئی ادھورا بچہ یا نقلی سلیمان علیہ السلام لیتے ہیں جبکہ استاد محترم اور ان سے متفق مفسر ین اس سے مراد خود سلیمان علیہ السلام   لیتے ہیں ۔ تفسیر آپ کے سامنے ہے ، عقلِ سلیم بھی آپ رکھتے ہیں ، فیصلہ بھی خود ہی کر لیجیے ، لیکن یہ سوال میرا بھی تمام اہل حدیث ، سلفی اور دشمنان غامدی کے لیے نوٹ کر لیجیے کہ  اگرمودودی صاحب بخاری و مسلم اور دیگر ثقہ‘‘ راویات کو خلاف عقل قرار دے کر رد کر نےکے باوجود ’منکر حدیث ‘ نہیں تو استاد محترم کا کیا قصور ہے ؟ویسے آپ کہہ سکتے ہیں کہ مودودی صاحب نے فی بیوی ہم بستری کا حساب کر کے جو قاطع دلیل دی ہے ، وہ اصلاحی صاحب اور غامدی صاحب نے نہیں دی اس لیے وہ لازماً منکر حدیث ہیں !

حضرت سلیمانؑ کا 100بیویوں کے پاس ایک ہی رات جانا،مولانامودودی ،بخاری کی روایات اورغامدی صاحب !” پر بصرے

  • Tayyab Chaudhry
    اگست 12, 2016 at 8:22 PM
    Permalink

    Ghamdi k pas to bilkul b aql ni hai. Kehta hai k Nimaz na prhny ki koi b sza ni hai.

    Reply
    • اگست 12, 2016 at 11:37 PM
      Permalink

      unhoon ne ye bat dunya meen sza ke lie kaha he , aakhrat k lie nahee. felhal jis aqal ka muzahira aap ke pasadeeda molvi hazrat ne zere behas tafseer me kia hey isi ki batt ker leen to behter he

      Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *