اپنے ہی بیٹے اور بیٹی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والے باپ کو جب جج نے سزا سنائی تو بیٹا روتے ہوئے چلایا’’ڈیڈی آئی لو یو‘‘

baita

باپ کا رشتہ ہمیشہ سے ایک مقدس رشتہ رہا ہے، باپ اپنی اولاد کا محافظ کہلاتا ہے لیکن جب محافظ ہی درندہ بن جائے تو ایسے واقعات ہی پیش آتے ہیں جیسا کہ لندن میں ہوا ہے- یہ درندہ صفت باپ اپنی ہی بیٹیوں اور بیٹوں کے ساتھ جنسی درندگی کا مظاہرہ کرتا رہا اس نے نہ صرف بچوں کو جنسی طور پر ایک سے زیادہ بار حراساں کیا بلکہ انہیں مختلف قسم کی سیکس گیمز میں ملوث ہونے پر بھی مجبور کیا۔ان حرکات پر اس ظالم باپ کو زندگی بھر کے لیے جیل بھیج دیا گیا ہے۔عدالت میں موجود جیوری نے تحقیقات کے بعد 50 سالہ شخص کو اپنے 5 بچوں پر جنسی زیادتی کرنے کا مجرم پایا اور عمر قید کی سزا سنائی۔ اس شخص نے بچوں کو بہت چھوٹی عمر یہاں تک کہ 6 سال کی عمر سے ہی ریپ کرنا شروع کر دیا۔ بچوں کو مکمل جہالت کی حالت میں رکھا گیا اور بچوں کی ماں نے اپنا زیادہ تر وقت ٹی وی دیکھنے میں گزارا۔  سب سے بڑی لڑکی جو آٹھ بر جنسی تشدد کا نشانہ بنی نے بتایا کہ اس کا باپ اسے چارپائی سے باندھ کر یا گلے پر چاقو رکھ کر اس کے ساتھ بُری حرکات کرتا رہا۔یہ درندہ صفت شخص اپنی دوسری بیٹیوں کوہراساں کرنے سے قبل اسے ڈرگز خریدنے کے لیے پیسے دیتا تھا۔ جج اینڈریو نے بتایا کہ بچوں کو ہر روز ایک سے زیادہ بار اس بُری حالت سے گزرنا پڑتا تھا۔ جج نے کہا کہ جس طریقے سے اس شخص نے بچوں پر تشدد کیا ہے اسے بیان کرنے میں کسی صورت حد سے تجاوز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ظلم کا سلسلہ بچوں نے سالہا سال سے جاری ہے جو حد درجے ناقابل معافی ہے ۔ جج نے کہا ہے کہ اس سے بچوں کی زندگی تباہ ہو چکی ہے۔ بچوں کی شکایات دل دہلا دینے والی تھیں۔

کورٹ کو بتایا گیا کہ اس شخص نے اپنے تین بچوں کو 7 سال کی عمر میں جنسی تشدد کا نشانہ بنایا اور اپنے بیٹوں کے سامنے 2 بیٹیوں کو بھی جنسی طور پر ہراساں کیا۔ بچوں کے ساتھ اس سلوک کے باوجود ماں نے بچوں کو پیار دینے اور ان کی حفاظت کے لے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔جج کا کہنا تھا کہ اگرچہ بچوں کی ماں پر بھی تشدد کے ثبوت موجود ہیں لیکن ان کا بیٹھ کر ہر وقت ٹی وی دیکھنے اور بچوں کی حفاظت نہ کرنے کا رویہ قابل مذمت ہے۔

گھر کے اندر کتے اور بلیاں پھرتے دکھائی دیتے تھے لیکن کتوں اور بلیوں کو بچوں سے قبل آزاد کرا لیا گیا۔ بچوں کو کم کھانا اور غیر مناسب کپڑے دیے جاتے اور اکثر اوقات بچے ننگے گھومتے دکھائی دیتے۔ باپ نے اپنے ایک بیٹے اور ایک بیٹی کو اس وقت جنسی تشدد کا نشانہ بنانا شروع کیا جب ان کی عمر 6 یا 7 سال تھی۔ یہ ظلم بچے کے ساتھ 4 سال تک اور بچی کے ساتھ 6 سال تک کیا جاتا رہا۔

جب بچوں کو تھوڑی بہت دیکھ بھال کی جانے لگی تب بھی بچوں پر جنسی تشددکا سلسلہ نہیں رکا اور جب بچے گھر سے بھاگنے کے بعد واپس آتے تو انہیں مزید جنسی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا۔ بچوں کے درندہ صفت باپ کو عمر قید کی سزا سنائی گئی اور کم سے کم 14 سال جیل میں رہنے کے بعد وہ رہائی کی اپیل کر سکیں گے۔ کیس کی سنوائی کے دوران بچے ایک کونے میں بیٹھ کر آنسو بھاتے رہے اور جب جیل کی طرف لے جایا گیا تو ایک بچہ اپنے جذبات پر قابو نہ پاتے ہوئے بول اٹھا: بابا آئی لو یو،

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *