سانحہ کو ئٹہ۔۔۔ ذمہ دار کون؟

asghar khan askari

8 اگست کو دہشت گر دوں نے کو ئٹہ میں منوں جان روڈ پر فا ئر نگ کر کے صدر ہائیکورٹ بار بلال انور کاسی کو زخمی کر دیا تھا۔ ان کے زخمی ہو نے کی اطلا ع جب وکلا ء کو ملی تو بڑی تعداد میں وہ سول ہسپتال میں جمع ہو گئے۔ اس دوران ہسپتال میں دھماکہ ہوا جس میں 70 سے زائد افراد شہید اور 100 سے زیادہ زخمی ہو ئے۔اس خون ریز واقعہ کے بعد صدر ، وزیر اعظم،آرمی چیف،صوبائی وزرائے اعلی، گورنرزاور سیاسی جما عتوں کے سر براہوں کے ٹکرز ٹی وی سکرینوں پر چلنا شروع ہو گئے۔ایسے معلوم ہو رہا تھا کہ ٹکرز نہیں بلکہ یہی معزز ہستیاں بندوق لے کر میدان عمل میں دہشت گر دوں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔سول ہسپتال دھما کے کے بعد آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو ئٹہ پہنچے۔ انھوں نے زخمیوں کی عیادت کی۔ساتھ ہی بیان داغ دیا کہ دہشت گر د یہ سب کچھ چین پا کستان اکنامک کوریڈور(سی پیک)نا کام بنا نے کے لئے کر رہے ہیں۔لیکن یہ معقول وجہ نہیں ہے۔آپ کو یاد ہو گا کہ 1979 ء میں پا کستان نے افغانستان میں سابق سوویت یونین کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دیا تھا۔کیا یہ سب کچھ سی پیک کی کا میا بی کے لئے تھا؟جب1992 ء میں ضلع دیر میں صو فی محمد کو جما عت اسلامی سے الگ کر کے تراشا جا رہا تھا ،تو کیا یہ سب کچھ سی پیک کو بچا نے کے لئے تھا؟جب افغانستان میں طالبان کی حکومت کو تسلیم کیا جا رہا تھا ،تو کیا یہ سی پیک کو کا میا بی سے ہمکنار کر نے کے لئے تھا؟جب2001 ء میں امریکہ کا ساتھ دیا گیا تھا،تو کیا یہ سی پیک کو نقصان سے بچا نے کے لئے تھا؟جب سوات میں ملا فضل اللہ کی آبیاری جاری تھی ،تو کیا یہ سی پیک کو محفوظ بنا نے کے لئے تھا؟جب سوات میں فو جی آپریشن کے نتیجے میں 40 لاکھ سے زائد لو گوں کو بے گھر کیا گیا تھا ،تو کیا ان سے سی پیک کو خطر ہ تھا؟کیا قبا ئلی علاقوں میں جاری فوجی آپر یشن سی پیک کی بقا کے لئے ہیں؟لا شوں اور زخمیوں کے بیچ کھڑے ہو کر ایسا بیان دینا کسی بھی فوج کے سربراہ کو زیب نہیں دیتا۔ سول ہسپتال میں دھماکے کے فوری بعد وزیر اعظم نواز شریف بھی کو ئٹہ میں زخمیوں کی عیادت کے لئے پہنچ گئے تھے۔ ایک عدد اعلی سطحی اجلاس کی صدارت کے بعد انھوں نے بیان جاری کیا کہ دہشت گر دوں کی کمر توڑ دی گئی ہے۔آپ کو معلوم ہو گا کہ گز شتہ دور حکومت میں ایک وزیر داخلہ ہوا کر تا تھا۔ نام ان کا رحمان ملک ہے۔ اب بھی پیپلز پا رٹی میں جو ڑ تو ڑ کے ما ہر ما نے جا تے ہیں۔ ان کے دور حکومت میں جب بھی کو ئی دھما کہ ہو جا تا ،تو وہ فوری طور پر بیان جاری کر تے تھے کہ یہ کارروائی طالبان نے کی ہے۔ ساتھ بغیر تفتیش کے یہ بھی فرمان جاری کر تے تھے کہ تا نے با نے وزیر ستان سے مل رہے ہیں۔اسی طر ح خیبر پختون خوا حکومت نے بھی گز شتہ دور میں دو صو بائی وزراء کو اس کام کے لئے مختص کیا تھا۔ایک تھے بشیر احمد بلو ر مر حوم اور دوسرے ہیں میاں افتخار حسین۔جب بھی پشاور میں کو ئی دھما کہ ہو تاتھا تو یہ دونوں فوری طور پرجائے وقوعہ پہنچ جا تے تھے۔لا شوں کے سٹیج پر کھڑے ہو کر کیمر وں کے چکا چوند میں قوم کو یقین دہا نی کراتے تھے ،کہ ہم نے دہشت گر دوں کی کمر توڑ دی ہے۔ساتھ یہ بھی اعلان کر تے تھے کہ آخری دہشت گرد کے خا تمے تک جنگ جاری رہے گی۔نتیجہ کیا نکلا بشیر احمد بلو ر خود کمر توڑ دہشت گر دوں سے مقا بلے میں زندگی ہا ر گئے۔میا ں افتخار حسین کے اکلو تے بیٹے میاں راشد حسین کو ان کمر تو ڑ دہشت گر دوں نے اپنے ہی باپ کے دور حکومت میں قتل کیا۔سا نحہ سو ل ہسپتال پر قومی اسمبلی میں بھی بحث ہوئی۔ جمعیت العلماء اسلام (ف) کے معزز رکن مو لا نا شیرانی نے سوال کیا کہ ہمیں بتا یا جا ئے کہ یہ ملک اسٹیبلشمنٹ کے لئے ہے یا اسٹیبلشمنٹ ملک کے لئے؟ساتھ ہی انھوں نے گڈ اور بیڈ کا بھی پو چھ لیا ۔ پختون خوا ملی عوامی پا رٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے بھی ایوان میں دھواں دار تقریر کی۔ان کا کہنا تھا کہ سب کچھ ہندوستان پر ڈال کر معا ملے کو رفع دفع نہ کیا جا ئے۔ساتھ ہی انھوں نے مطا لبہ کیا کہ ایجنسیوں کو تفتیش کا پا بند بنا کر معلوم کیا جا ئے کہ اس خون ریز واقعہ میں کو ن ملو ث ہے؟جن سے کو تا ہی ہو ئی ہے ان کا احتساب بھی کیا جا ئے۔ یہی مو قف جمعیت العلما ء اسلام (ف) کے قا ئد مو لا نا فضل الرحمان کا تھا۔اگلے روز وفاقی وزیر داخلہ چو ہدری نثار علی خان نے ایجنسیوں کے خلاف قومی اسمبلی میں تقریر کر نے والوں کی خوب کلا س لی۔اپو زیشن نے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ وزیر اعظم نواز شریف خود ان کو منا کر ایوان میں لے آئے۔اس تمام پس منظر کو بیان کر نے کا مقصد صرف ایک ہی ہے، کہ اس سوال کا جواب تلاش کیا جا ئے کہ سا نحہ کو ئٹہ اور اس جیسے دوسرے واقعات کا ذمہ دار کو ن ہے؟جب تک فوج اقتصادی راہداری کے سحر سے با ہر نہیں نکلتی اسی وقت تک وہ دہشت گر دی کے خلاف جاری اس اندرونی جنگ میں کا میا بی حا صل نہیں کر سکتی۔اس لئے کہ دنیا میں اور بھی غم ہیں محبت کے سوا۔اگر محض راہداریوں کو نا کام بنا نے کے لئے دوسرے ملکوں میں دہشت گر دی کرانا ہو تا ،تو امریکہ ایران کو کب کا ہضم کر چکا ہو تا۔ہند وستان اور افغانستان کو ہر گز اجازت نہیں دیتا کہ وہ ایران کے ساتھ سڑکوں کے زریعے منسلک ہو۔حکومت وقت کا فرض ہے کہ وہ اس بات کا ادراک کریں کہ دہشت گر دوں کی کمر اب بھی مضبوط ہے۔ان کو اس با ت کابھی سوچنا ہو گا کہ پو لیس کے بغیر اس اندرونی دہشت گر دی کو ختم کر ناان کے لئے ممکن ہے کہ نہیں؟رہی بات محمود خان اچکزئی کی تو ان کے ساتھ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ وہ پا کستان اور افغانستان کے درمیان بین الاقوامی سر حد کو ما ننے کے لئے تیا ر نہیں ۔ لہذا ان کو ماننا پڑے گا کہ پا کستان اور افغانستان دو الگ ممالک ہیں۔ دونوں کے درمیان ایک سرحد بھی ہے۔اس لئے دونوں ملکوں کے با شندوں پر لا زم ہے کہ وہ قا نونی دستا ویزات لے کر ایک دوسرے کے ملک میں داخل ہو ں۔رہی بات مو لا نا شیرانی اور فضل الر حمان کی تو بات یہ ہے کہ آپ دونوں سے زیادہ بہتر اور کون جا نتا ہے کہ کو ن کس کے لئے ہے؟اس لئے آپ ہی بتا دیں تو بہتر ہو گا کسی اور سے پو چھنے کی ضرورت ہی نہیں۔گڈ اور بیڈیعنی اچھے اور بر ے ،اس کے بارے میں اتنا عرض کر دیتے ہیں، کہ اچھے ہیں یا بر ے آپ کے اداروں سے بھاگ کر ،ورغلا کر یا تیار کر کے بھیجے جا تے ہیں۔اب یہ آپ کو معلوم ہو گا کہ کون اچھے ہیں اور کون برے۔الغرض جب تک فوج ، حکومت وقت اور سیاسی رہنما اپنی ضد اور انا کو قربان نہیں کر تے اسی وقت تک دہشت گر دی کا خاتمہ ممکن نہیں۔ اس لئے میرے خیال میں یہی سا نحہ سول ہسپتال کو ئٹہ کے ذمہ دار ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *