آزادی مبار ک

naeem khan qaisrani

وہ سڑ ک کنا رے کھڑ ے کیکر کے درخت کے نیچے پڑ ی چارپائی پر بیٹھا تھو تھو کر رہا تھا کہ اچانک سامنے والی سڑ ک پر ایک ٹر ک تیز ی سے گزرا ۔ تیز ی سے گز رنے والے ٹر ک کو دیکھ کر غلا م حسین کے ذہن میں خیالا ت کا ایک ایسا ریلہ آیا جو اسے کسی بہت پیچھے ایک زمانے میں لے گیا ۔ نہ چاہتے ہو ئے بھی اس کا سر تکیے پرجا لگا اور وہ انکھیں بند کر کے لیٹ گیا ۔خیال اور خو اب کی مشتر کہ سازش تھی یا عمر کا تقاضاتھا، غلام حسین روشن پور کی گلیو ں میں جا پہنچا ۔ روشن پو ر پنجا ب کا ایک چھو ٹا سا گا ؤ ں تھا اور وہاں صر ف دو گھر مسلما نو ں کے تھے جبکہ باقی تما م گھر سکھو ں کے تھے۔ روشن پو ر میں غلا م حسین کے تین دوست جن میں ایک رنجیت ، دوسر ا بلو ،اور شائد تیسر ے کا نام اسماعیل تھا کے ساتھ شام کے وقت ہر روز گلی ڈنڈہ کھیلتا تھا۔
یہ سارے ہم عمر تھے اور ہم جما عت بھی ،سکو ل کی جماعت میں اس کے اگے بلو بیٹھتا تھا اور پاس بیٹھے رنجیت کے لیے تو غلام حسین کی قلم دوات یا کتا ب چر انا معمو ل کی بات ۔ پھر غلا م حسین اپنے استا د کلد یپ سنگھ کو شکا یت لگا واکے رنجیت کو مار پڑ واتا اور رنجیت مار کھانے کے بعد سکو ل کے باہر اس سے نمٹنے کا اشارہ کر تا لیکن سکول کی چھٹی کے بعد رنجیت کو بدلہ لینے کی کبھی نو بت ہی نہ آتی۔
اکثر گر میوں میں سکو ل کی چھٹی کے بعد یہ تینو ں اسماعیل کے گھر سے دیسی گھی سے چو پڑ ی روٹیاں چر انے کی منصو بہ بند ی سکو ل میں ہی کر تے ، کینو نکہ اس وقت اسما عیل سارے گھر والے گھر کی حویلی میں ایک چھپر تلے سویا کر تے تھے جبکہ دیسی گھی سے چو پڑ ی روٹیاں تو گھر کے اکلوتے کمر ے پرات کے نیچے پڑ ی ہوتی۔منصو بہ بند ی کے مطابق رنجیت مر غا بنتا تھا جبکہ غلا م حسین اس کے اوپر چڑ ھ کر لکڑ ی کے دورازے پر لگی لو ہے کی کنڈ ی کھو لتا، اسی طر ح بلو دیو ار کے کو نے پر کھڑ ے ہو کر نگر انی کے فر ائض سر انجا م دے رہا ہو تا تھا ۔ایک دن خد ا کا کر نا ایسا ہو ا کہ ادھر کنڈ ی کھلی اور ادھر اسماعیل کی ماں کی انکھ کھلی پھر یہ تینو ں ڈر کے ما رے بھا گنے کا سو چ ہی رہے تھے کہ سب گھر والو ں نے پکڑ لیا ۔اعتراف جر م کے بعد اسما عیل کی ما ں ان تینو ں کو بٹھا کر دیسی گھی سے چو پڑ ی روٹیا ں اور لسی گا جگ اگے رکھی اور انہوں نے بڑے مز ے کھانا کھایا۔ وہ دن بھی غلام حسین کو یا د آگیا جب وہ ڈرتے ڈرتے سکو ل گیا تھا کیو نکہ اس دن رنجیت نے اس کی شکایت لگا نی تھی کہ کل شام کو غلا م حسین نے اس کو مارا ۔رنجیت نے تو استا د کو شکا ئت لگا ئی لیکن خلاف معمو ل استا د غلام حسین کو بلا کر پوچھنے اور سز ا دینے کے بجائے رنجیت کی شکا ئت سن کر خامو ش ہو گیا ۔ اگلے پور ے دس دن یو ں ہی استا د مارنے اور پڑ ھا نے کے بجا ئے سارا دن چپ چاپ بیٹھا رہتا ۔ گاؤں کی گلیو ں میں دن کے وقت بھی رات کی خامو شی سی چھا ئی رہتی اور غلام حسین کو اس کے گھر والو ں نے گھر سے باہر نکلنے سے منع کر دیا یو ں سکو ل سے تو جا ن چھو ٹی لیکن بلو ، رنجیت اور اسماعیل سے ملا قات بھی ندار ہو گئی۔ ایک دن شام کو غلام حسین نے دیکھا کہ اس کی ما ں گھر کا ساراساما ن سمیٹ رہی تھی اور اس کی بہن کو ثر بھی ما ں کے ساتھ تھو ڑی سی پر یشان بیٹھی تھی ۔ غلام حسین نے ماں سے پو چھا کہ کیا ہم دلی درگاہ جارہے ہیں ۔
نہیں ہم اپنے وطن جارہے ہیں ماں نے جو اب دیا ۔
غلام حسین نے کہا کہ ہمارا وطن یہی نہیں تو اور کہا ں ہے
یہ سن کر غلام حسین کی ماں چپ ہو جاتی ہے اور اسے گھر سے باہر جانے سے بھی منع کر دیا۔
۔غلام حسین کو کچھ سمجھ نہیں آرہا ہو تاتھاکہ یہ سب کیا ہو رہاتھا۔ پھر اسی رات کو گاؤ ں سے غلا م حسین کے تما م گھر والے اور اسما عئل کے گھر والے دونوں خاندان ساما ن اٹھا کر چل پڑ ے ۔
غلام حسین پید ل چل چل کے تھک گیالیکن رات ختم ہو نے کا نام نہیں ہو ئی۔ جنگلو ں ، قصبو ں ، سڑ کو ں وایر انو ں سے گزرتے گزرتے ان کا قافلہ صبح ہو نے سے ذرا دیر پہلے تھو ڑی دیرکے لیے آرام کر نے کی غر ض ایک خالی مکا ن میں بیٹھ گئے اور غلام حسین کو نیند آگئی۔ اچانک غلا م حسین کی انکھ کھلی تودیکھا کہ ماں کے کپڑ ے پھٹے اور پیٹ میں چھبی ہو ئی چھر ی سے خو ن بہ رہا تھااور اس کی جو ان سال بہن کو ثر غائب تھی۔
پٹھی ہو ئی پر یشان حال نظروں سے ابھی غلام حسین یہ سب ھیر انگی سے دیکھ ہی رہا تھا کہ غلام حسین کے باپ نے اسے کاندھے پر اٹھا یا اور بھا گنا شر وع کر دیا۔ غلام حسین نے پیچھے دیکھا تو تین لو گ کلہاڑیا ں اور ڈنڈے لیے پیچھے آرہے تھے ۔ غلام حسین کا باپ بھاگتے بھاگتے ایک سڑ ک پر پہنچا جہاں ایک ٹر ک اکر ان کے پا س آکر رکا تو دونوں بابیٹا اس ٹر ک پرچڑھنے میں کامیاب ہو گئے ۔
اچانک دادا دادا کی پکا ر سن کر غلام حسین کی انکھ کھلی تو اس نے دیکھا کہ اس کا پو تا وقا ص چھو ٹا سا سبز ہلالی جھنڈ ا اٹھا ئے اس کی چارپائی کے پا س کھڑ ا کہ رہا تھا ہے کہ دادا جان آزاد ی مبارک ، دادا جان آزادی مبارک ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *